خلفائے ثلاثہ کی خلافت اور امیر المومنین ـ کا طریقۂ کار

279

دوسرے لفظوں میں، چونکہ حضرت علی پیغمبر کے سب سے قریبی رشتہ دار اور داماد تھے اورعلم و دانش کے اعتبار سے سب سے بلند تھے اور عدالت کے اجراء کرنے اور سیاست سے باخبر اور حکومت چلانے میں مہارت وغیرہ کی وجہ سے پیغمبر کے تمام صحابہ سے افضل تھے اس لئے بہتر تھا کہ امت آپ کو خلافت کے لئے منتخب کرتی، لیکن چونکہ امت کے سرداروں نے ان کے علاوہ دوسروں کو منتخب کیا تھا اسی لئے امام نے اس طرح شکوہکیا ہے: میں خلافت و ولایت کے لئے دوسروں سے زیادہ سزاوار ہوں۔وہ حق جس کا امام ہمیشہ یاتذکرہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جس دن سے پیغمبر کا انتقال ہوا ہے اسی دن سے مجھے لوگوںنے اس حق سے محروم کردیا ہے وہ شرعی حق نہیں تھا جو صاحب شریعت کی طرف سے انھیں دیا گیا تھاکہ دوسروں کوان پر مقدم کرنا شریعت کے قوانین کی مخالفت کرنا تھا. بلکہ یہ حق ایک فطری حق تھا اور ہر شخص پر لازم تھا کہ بہترین فرد کے ہوتے ہوئے دوسروں کو منتخب نہ کریں اور امت کی باگ ڈور کو امت کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے صاحب بصیرت اور لیاقت رکھنے والے کے سپرد کرے لیکن اگر کوئی گروہ مصلحت کی وجہ سے اس فطری قانون کی پیروی نہ کرے اور اس کام کواس شخص کے حوالے کردے جو علم، قدرت اور روحی و جسمی اعتبار سے کم مرتبہ رکھتا ہو توایسی صورت میں جو شخص ان تمام امور میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان سے گلہ و شکوہ کرے اور کہے:”فَوَ اللّٰہِ مَازِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّی مُستأَثَراً عَلیّ مُنْذ أن قَبْض اللّٰہُ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلہِ وَسَلَّمْ حَتّٰی یَوْمَ النّٰاسِ ہٰذَا”(١)______________________(١) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ٥خدا کی قسم ، جس دن خدا نے پیغمبر کی روح کو قبض کیا اس دن سے آج تک میں اپنے حق سے محروم رہا ہوں۔امام علیہ السلام نے یہ گلہ اس وقت کیا جب طلحہ و زبیر نے آپ سے لڑنے کے لئے پرچم کو بلند کیا تھا اور بصرہ کو اپنا مورچہ بنایا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ شارحین نہج البلاغہ نے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خلافت کے لئے حضرت علی کی شائستگی ، ذاتی تھی ،یہ ان کی خام خیالی ہے اور امام کی باتوں کو ذاتی شائستگی پر حمل نہیں کر سکتے کیونکہ ذاتی شائستگی خلفاء پر آپ کی سخت تنقید کی مجوز نہیں بن سکتی اس لئے کہاولاً: امام نے اپنی تقریر میں بعض موقعوں پر پیغمبر اسلام کی وصیت پر تکیہ کیا ہے ، مثلاً جب آپ خاندان نبوت کا تعارف کراتے ہیں تو فرماتے ہیں:”ہم موضعُ سرِّہُ و ملجأ امرِہ و عِیبةُ علمِہ و موئِلُ حکمِہ و کہوفُ کتبِہ و جبالُ دینِہ… لایقاسُ بآلِ محمدٍصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم من ہذہ الامة احد… ہم أساسُ الدینِ و عمادُ الیقینِ الیہم یفیئُ الغالی و بہم یلحقُ التالی. و لہم خصائصُ حقِ الولایة و فیہم الوصیةُ و الوراثة”(١)خاندان نبوت پیغمبر کے رازدار اوران کے فرمان کی پناہ گاہ ، ان کے علم و حکمت کا منبع و مخزن ان کی کتاب کی حفاظت کرنے والے، اور ان کے مذہب کو مستحکم کرنے والے ہیں، امت میں سے کسی شخص کا بھی قیاس ان سے نہیں کرسکتے. وہ دین کی اساس اور ایمان و یقین کے ستون ہیں راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پناہ لینے والے ان سے ملحق ہوتے ہیں اور امامت کی خصوصیات (علوم و معارف اور دوسرے تمام شرائط امامت) ان کے پاس ہیں اور پیغمبر کی وصیت ان کے بارے میں ہے اور یہی لوگ پیغمبر کے وارث ہیں۔اس جملے سے کہ پیغمبر کی وصیت ان لوگوں کے بارے میں ہے امام کی مراد کیاہے؟لفظ ولایت پر غور کرنے کے بعد ”ولہم خصائص الولایة” واضح ہوتا ہے کہ وصیت سے مراد______________________(١) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ٢ان لوگوں کے لئے خلافت کی وصیت اور ولایت کی سفارش ہے جو غدیر کے دن اور دوسرے دنوں میں بطور واضح بیان ہوئے ہیں۔ثانیاً: لیاقت و صلاحیت اور شائستگی ہی صرف حق کو ثابت نہیں کرتی جب تک کہ دوسرے شرائط بھی موجود نہ ہوں. مثلاً لوگوں کا انتخاب کرنا جب کہ امام نے اپنے بیان میں اپنے حق کے متعلق کہا ہے اور کہا کہ پیغمبر کے بعد ان کا حق پامال کیا گیا. دوسرے لفظوں میںیوں کہوں کہ اسلام میں رہبری کی مشکلکا حل اگر مشورہ، مذاکرہ، یا عمومی افکار ہو تو ایسی صورت میں وہ شخص (جو گرچہ تمام جہتوں سے دوسروں پر فضیلت و برتری رکھتا ہے) اگر ایسے مقام و منصب کے لئے منتخب نہ ہو تو اپنے کو صاحب حق نہیں کہہ سکتا تاکہ لوگوں کے تجاوز کو ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرے اور جواس کی جگہ پر منتخب ہوا ہے اس پر اعتراض کرے. جب کہ تمام خطبوں میں امام علیہ السلام کا لہجہ اس کے برخلاف ہے، وہ اپنے کو اس خلافت کا مکمل حقدار سمجھتے تھے اور اس پر تجاوز کرنے کو اپنے اوپر ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرتے تھے اور قریش کو اپنے حق کا غاصب بتایا، چنانچہ آپ نے فرمایا: بار الہا! قریش کے مقابلے میں اور جن لوگوں نے ان کی مدد کی ہے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما،کیونکہ ان لوگوںنے مجھ سے قطع تعلق کیا ہے اور میرے عظیم منصب کو حقیر سمجھا ہے اور ان لوگوں نے آپس میں یہ طے کیاہے کہ خلافت کے سلسلے میں جو کہ میرا حق ہے جنگ کریں۔(١)کیا ایسے تند جملوں کوذاتی شائستگی کے حوالے سے توجیہ کرسکتے ہیں؟ اگر مسئلہ خلافت عمومی افکار اور بزرگ اصحاب سے رجوع کر کے حل کیا جاسکتا تو کس طرح امام علی علیہ السلام فرماتے کہ ”وہ لوگ میرے مسلّم حق کے بارے میں مجھ سے لڑائی و جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے”؟جس وقت صفین میں حضرت علی اور معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: قریش نے آپ کو کس طرح سے مقام خلافت سے دور کر دیا جب کہ آپ ان تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے؟امام اس کے بے وقت سوال سے ناراض ہوگئے لیکن نرمی اور ملایمت سے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا:______________________(١) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ١٦٧، ”اللہم انی استعینک علی قریش…””ایک گروہ نے بخل سے کام لیا اور ایک گروہ نے چشم پوشی کی اور ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا خدا ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے”(١)واقعہ سقیفہ گزرنے کے بعد ایک دن ابوعبیدہ بن جراح نے امام سے کہا: اے ابوطالب کے بیٹے،تم خلافت کو کتنا محبوب رکھتے ہو اوراس کے حریص ہو. امام نے اس کے جواب میں کہا: خدا کی قسم تم ہم سے زیادہ خلافت کے لالچی ہو، جب کہ لیاقت اور شرائط کے اعتبار سے اس سے بہت دور ہو اور میں اس سے بہت نزدیک ہوں میں اپنے حق کو طلب کر رہا ہوں . اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان مانع ہو رہے ہو. او رمجھے میرے حق سے روک رہے ہو”(٢)یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے کہ خلفاء کی خلافت پراس طرح کی تنقیدوں کو ذاتی لیاقت و شائستگی سے توجیہ کریں. یہ تمام بیانات او رتعبیریں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ امام ـ خلافت کو اپنا حقیقی حق سمجھتے تھے. اور اپنے سے ہر طرح کے انحراف کو حق سے انحراف جانتے تھے، اور ایسا حق نص اور تعیین الہی کے علاوہ کسی کے لئے ثابت نہیں ہے۔اس طرح کی تعبیروں کواصلحیت اور اولویت سے بھی تفسیرنہیں کر سکتے ،اور جن لوگوں نے امام کے کلام کی اس طریقے سے تفسیر کی ہے وہ اپنے غلط نظریے کوبھی صحیح سمجھتے ہیں۔البتہ بعض موقعوں پر امام نے اپنی لیاقت و شائستگی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور مسئلہ نص کو نظرانداز کیا ہے مثلاً آپ فرماتے ہیں:جب ”پیغمبر کی روح قبض ہوئی تو ان کا سر میرے سینے پر تھا میں نے انھیں غسل دیا. اور فرشتے میری مدد کر رہے تھے گھر کے اطراف سے نالہ و فریاد کی آوازیں بلند تھیں ،فرشتے گروہ بہ گروہ زمین پر آتے تھے اور نماز جنازہ پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے اور میں ان کی آوازوں کو سنتا تھاپس کون شخص مجھ سے پیغمبر کی زندگی او رموت میں ان کی جانشینی و خلافت کے لئے مجھ سے زیادہشائستہ ہے؟(٣)______________________(١) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ١٧٥(٢) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ١٦٧(٣) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ١٩٢خطبہ شقشقیہ جو آپ کا مشہور خطبہ ہے حضرت اپنی لیاقت و شائستگی کو لوگوں کے سامنے یوں پیش کرتے ہیں:”اما واللّہِ لقد تقمصَّہا ابنُ ابی قحافہ و انہ لیعلمُ ان محلی منہا محلُ القطبِ من الرّحی ینحدرُ عنی السیلُ و لایرقی الیَّ الطیر…”(١)خدا کی قسم! ابوقحافہ کے بیٹے نے خلافت کو لباس کی طرح سے اپنے بدن پر پہن لیا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ خلافت کی چکی میرے اردگرد چل رہی ہے ہمارے کوہسار وجود سے بہت سے علوم کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور کسی کی فکر بھی ہماری کمترین فکر تک نہیں پہونچ سکتی۔بعض موقعوں پر آپ قرابت و رشتہ داری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ ”و نحن الاعلون نسباً و الاشدون برسول اللہ نوطاً”(٢) ہمارا نسب سب سے بلند ہے اور رسول خدا سے ہم بہت قریب ہیں۔البتہ امام علیہ السلام نے جو یہاں پر پیغمبر سے رشتہ داری کو بیان کیا ہے وہ صرف اہل سقیفہ کے مقابلے میں ہے چونکہ ان لوگوں نے پیغمبر کے ساتھ اپنی رشتہ داری کو بیان کیا تھا اسی وجہ سے امام علیہ السلام جب ان کے طریقہ کار سے آگاہ ہوئے تو ان کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:”اِحْتَجُّوْا بِالشَّجَرَةِ وَ اَضٰاعُوْا الثَّمَرَةِ”(٣)(انہوں نے شجرہ سے تو استدلال کیا ہے مگر پھل کو ضایع کردیاہے ۔مترجم)______________________(١) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ٣(٢) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ١٥٧(٣) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ٦٤

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.