پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معنوی شخصیت کاا یک جائزہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حالت میں ایک زمانہ گزارا،یہاں تک کہ انہی راتوں میں سے ایک رات کو جب آپۖاپنے آرام ضمیر اورخالی ذہن کے ساتھ عبادت میں مشغول تھے ،اچانک اپنے آپ کو ایک دوسری شخصیت میں پایا ۔آپۖکی پوشیدہ باطنی شخصیت ایک آسمانی شخصیت میں تبدیل ہو گئی ،انسانی معاشرے کے ہزاروں سال پہلے کہ افکار کو خرافات سمجھا اور دنیا والوں کی روش اور دین کو اپنی حقیقت پسندانہ نگاہوں سے ظلم وستم کے روپ میں دیکھا ۔دنیا کے ماضی اور مستقبل کو آپس میں جوڑ دیا ،سعادت بشری کی راہ کی تشخیص کردی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ اور کان نے حق وحقیقت کے علاوہ نہ کچھ دیکھا اورنہ کچھ سنا ،آپۖ کی زبان کلام خدا سے پیغام آسمانی اورحکمت وموعظہ کے لئے کھل گئی، اندرونی ضمیر جو تجارت ،لین دین اور روزہ مرہ کی مصلحتوں میں سر گرم تھا ، وہ دل و جان سے دنیااور دنیاوالوں کی اصلاح اور بشر کی ہزاروں سال کی گمراہی اور ظلم وستم کو ختم کرنے پر اتر آیا اور حق وحقیقت کو زندہ کرنے کے لئے تن تنہا قیام کیا اور دنیا کی وحشتناک متحد مخالف طاقتوں کی کوئی پروانہ کی معارف الٰہیہ کوبیان کیا اور کائنات کے تمام حقائق کا سرچشمہ خالق کائنات کی وحدانیت کو سمجھا ۔انسان کے اعلیٰ اخلاق کی بہترین تشریح فر مائی اور ان کے روابط کو کشف اور واضح کیا، جو بیان فرماتے تھے خود دوسروں سے پہلے اس کے قائل ہوتے تھے اور جس چیز کی ترغیب فر ماتے تھے ،پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے ۔شریعت اور احکام ،جو عبادتوں اور پرستشوں کے ایک مجموعہ پر مشتمل ہیں ،وہ خدائے یکتا کی عظمت وکبر یائی کے سامنے بندگی کوایک اچھے انداز میں پیش کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ عدلیہ اور تعزیرات سے متعلق دوسرے قوانین بھی لائے ،کہ جو انسانی معاشرے کے تمام ضروری مسائل کا اطمینان بخش جواب دیتے ہیں ،وہ ایسے قوانین ہیںجو آپس میں مکمل طور پر ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور توحید،انسانی احترام و عالی اخلاق کی بنیاد پر استوارو پائدار ہیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی عبادات ومعاملات پر مشتمل قوانین کا مجموعہ،اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ عالم بشریت میں انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام مسائل موجود ہیں اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ پیش آنے والی گوناگوں ضرورتوں کی تحقیق کر کے تشخیص کا حکم دیتا ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دین کے قوانین کو عالمی اورابدی جانتے ہیں ،یعنی آپۖکا اعتقاد ہے کہ آپۖ کا دین تمام انسانی معاشروں کی دنیوی واخروی ضرورتوں کو ہرزمانے میں پورا کرسکتا ہے ،اور لوگوں کو اپنی سعادت کے لئے اسی روش کو اختیار کرناچاہئے ۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کوعبث اور مطالعہ کے بغیر نہیں فر مایا ہے بلکہ خلقت کی تحقیق اور عالم انسانیت کے مستقبل کی پیشینگوئی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔دوسرے الفاظ میںیہ کہا جائے کہ :اولّاً :اپنے قوانین اورانسان کی جسمی اور روحی خلقت کے درمیان مکمل توافق وہم آھنگی کو واضح کردیا۔ثانیا : مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مسلمانوں کے معاشرے کو پہنچنے والے نقصانات کو مکمل طور پر مدنظر رکھنے کے بعد اپنے دین کے احکام کے ابدی ہونے کا حکم فرمایا ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو پیشنگو ئیاں قطعی دلیلوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں،ان کے مطابق آپۖ نے اپنی رحلت تک کے عمومی حالات کی تشریح فرمائی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان معارف کے اصولوں اور شرائط کوپراکندہ طور پر قرآن مجید میں لوگوں کے لئے تلاوت فرمائی ہیں کہ اس کی حیرت انگیز فصاحت وبلاغت نے عرب دنیا کے فصاحت وبلاغت کے اساتذہ اور ماہروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور دنیا کے دانشمندوں کے افکار کو متحیر کر کے رکھدیا ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کارناموں کو ٢٣ سال کے عرصہ میں انجام دیا ہے کہ جن میں سے ١٣سال جسمانی اذیت ، اور کفار مکہ کی ناقابل برداشت مزاحمتوں میں گزارے اور باقی دس سال بھی جنگ ،لشکر کشی ، کھلم کھلا دشمنوں کے ساتھ بیرونی مقابلہ اور منافقین اور روڑے اٹکانے والوں کے ساتھ اندرونی مقا بلہ اور مسلمانوں کے امورکی باگ ڈور سنبھالنے میں اوران کے عقائد واخلاق واعمال اور ہزاروں دوسری مشکلات کی اصلاح کر نے میں گزارے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پورا راستہ ایک ایسے غیر متزلزل ارادہ سے طے کیا،جو حق کی پیروی اور اسے زندہ کرنے کے لئے تھا ۔آپۖ کی حقیقت پسندانہ نظر صرف حق پر ہو تی تھی اور خلاف حق کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی۔اگرکسی چیز کواپنے منافع کے یا میلانات اور اپنے عمومی جذبات کے موافق پاتے تھے تو ان میں سے جس کو حق جانتے اسے قبول فرماتے اور اسے مسترد نہیں کرتے تھے اورجس کو باطل سمجھتے تھے اسے مسترد کر دیتے اور ہرگزقبول نہیں کرتے تھے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر معمولی معنوی شخصیتاگرہم انصاف سے مذکورہ مطالب پر تھوڑاسا غور وخوص کریں گے ،توکسی شک وشبہہ کے بغیر یہ قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ان حالات اور ماحول میں ایسی شخصیت کا پیدا ہونا معجزہ اور خدائے متعال کی خاص تائید کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔اس لحاظ سے ،خدائے متعال اپنے کلام پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امی ہونے ،یتیمی اور سابقہ مفلسی کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہے ،اور ان کو عطا کی گئی شخصیت کوایک آسمانی معجزہ شمار کرتا ہے اوراسی سے آپۖکی دعوت کی حقانیت کا استدلال کرتا ہے ،چنانچہ فرماتا ہے :(الم یجدک یتیما فآوی ٭و وجدک ضالّا فہدیٰ ٭ و وجدک عائلاً فاغنی ) (ضحی٨٦)”کیا اس نے تم کو یتیم پاکر پناہ نہیں دی ہے ؟اور کیا تم کوگم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا ہے؟اور تم کو تنگ دست پاکر غنی نہیں بنایا ہے؟”(وماکنت تتلوا من قبلہ من کتاب ولا تخطّہ بیمینک ۔۔۔)(عنکبوت٤٨)”اور اے پیغمبر!آپ اس قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھے تھے اورنہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے …”(وان کنتم فی ریب ممّا نزّلناعلی عبدنا فاتو بسورةٍ من مثلہ۔۔۔) (بقرہ٢٣)”اگر تمھیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تواس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آئو. ..”