اولی الامر کی شان

257

  دو اعتبا ر سے آ یۂ شریفہ اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ آیۂ شریفہ میں جن اولی الا مرکا ذکر ہے ان کی مطلق طو رپراطاعت…………..١۔سو رئہ احزاب آیت ٦۔٢۔سورئہ نساء آیت ٥٩۔وا جب ہے :ایک تو اس لحاظ سے کہ ”اَطِیْعُوْ ا ” مطلق طو ر پرکہا ہے اور دوسرے اس لحا ظ سے کہ اولی الا مر کی اطاعت کا حکم ،رسو ل کی اطا عت سے جڑی ہوئی ہے اور دونو ں کی اطا عت خدا وند متعا ل کی اطاعت سے وابستہ ہے۔ تو معلو م ہو ا کہ ان او لی الامر کے اوامر و نوا ہی کی مطلق طو ر پر اطا عت ہو نا چا ہئے ۔ اگر یہ افراد معصیت سے محفوظ نہ ہو تے اور ان افراد کے با رے میں معصیت کا احتمال پایا جا تا تو ممکن تھا کہ ان کے اوا مر و نوا ہی بھی معصیت سے مربو ط ہو ں اور خدا وند عا لم کے امر و نہی کی مخالفت کا با عث بنیں تو اس صورت میں یہ صحیح نہیں تھا کہ خدا کی اطا عت بھی واجب ہو اور ان کی اطاعت بھی وا جب ہو۔” اَطِیْعُوْا اﷲَ ” کا تقاضاء یہ ہے کہ جس چیز کا خدا نے حکم دیا ہے اس کی اطا عت کرو اگر چہ دوسرے اس کے خلاف کیوں نہ حکم دیں اور ”اطیعوا الرسول واولی الامر”کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی مطلق طو ر پر اطا عت واجب ہو اب اگر خدا وند عالم کے حکم کے خلاف ہوتوبھی اس کے مطلق ہو نے کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی اطاعت وا جب ہے توایسی صورت میں لا زم آئیگا کہ ہمارے لئے ایک ہی وقت میںدومتناقض امرواجب ہوںمثال کے طو رپراگر(العیاذ با للہ) پیغمبر اکرم ۖکسی گنا ہ کا حکم صا در فر ما تے تو ”اطیعو ااﷲ”کا تقاضاتھاکہ اس گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور ”اطیعو االرسول ”کا تقاضا ہوتاکہ نبی کی بات مانیں یعنی ایک ہی مسئلہ میں دو متضاد فرائض ہوجاتے !پتہ چلا کہ آیت میں اس چیز کی ضمانت ہے کہ رسول اور اولی الامر کے اوامر کبھی بھی خداوندعالم کے اوامر کے خلاف نہیں ہوسکتے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوںمعصوم ہیں اور یہ خود اس چیز کی ضمانت ہے کہ یہ بزرگان کبھی بھی حکم الٰہی کے خلاف امرو نہی نہیں کرسکتے ممکن ہے کوئی یہ فکر کر بیٹھے کہ اس اطلاق کو بھی مقید کیا جاسکتا ہے ۔یعنی ”اَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَ اُوْلیَ الامْرِمِنْکُمْ” اس معنی میں مقید یا تخصیص کے قابل ہے کہ ”اطیعواالرسول الافیما خالف اﷲ”اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے قرآن میں بہت سے مطلق اور عام احکام ہیں جن کی دوسری عقلی یانقلی دلیلوں کے ذریعہ تخصیص یا تقیید کی گئی ہے،ہمارے پاس دلیل نقلی ہے ”لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق ”جو تخصیص کا کام کرتی ہے دلیل عقلی بھی ،وہ محکم قرینہ ہے کہ کسی بھی صورت میں خداوند عالم کی مخالفت جائز نہیں ہے معلوم ہواکہ یہ عقلی اور نقلی دلیل آیت کے اطلاق کو مقیدکرتی ہے ان کے معصوم ہونے پر دلالت نہیں کرتی ۔لیکن یہ بات ذہن کی پیداوار ہے یعنی کبھی کبھی ہم اپنے ذہن میں اس طرح کاقاعدہ فرض کرلیتے ہیں کہ ہاں عام قابل تخصیص ہے اور مطلق قابل تقییدہے لیکن جب ہم الگ سے بعض عام اور خاص پر نگاہ ڈالتے ہیںتو دیکھتے ہیں کہ وہ تخصیص اور تقید کو قبول نہیں کرتے اور اگر ان پر تخصیص یا تقیید کا حکم جاری کیاجائے تووہ عرف عام میں قبیح اور مستہجن ہے ۔علم فقہ میںایسے بہت سے موارد ہیں جہاں ہمارے فقہا ء یہ فرماتے ہیں کہ”مامن عام الاوقد خص”لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ بعض عام کے لئے تخصیص کی گنجائش نہیں ہے یعنی عرف عام میں کلام کا مفہوم ایسی عمومیت رکھتا ہے کہ اگر اس پر تخصیص لگا ئی جا ئے تو اس کو متناقض خیال کرتے ہیں مخصّص نہیںمانتے اور یہاں اسی طرح کی صورت ہے مثال کے طور پر آیہ شریفہ میں خدافرماتاہے :(وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاذْنِ اللَّہِ)اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی پیغمبر فرمائیں اسکی اطاعت کرنی چاہئے بعد میں اگرکہاجا ئے کہ (لا تطع الر سول فیھاخالف امراللَّہ)”یعنی اﷲ کے حکم کے خلاف جو حکم دے اس میں رسول کی اطاعت نہ کرو ” تو عرف عام میں ان دو نوں بیانوں میں تناقص ہے یعنی آیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی امر میں رسول کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے ۔ اسکے علاوہ قرآن کریم کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اہم موارد میں جہاںشک و شبہ کا اندیشہ ہو اگر ان میں تخصیص و تقیید کی ضرورت ہو تو صاف طور پر بیان کردیتا ہے ۔ اس طرح کے بہت سے مقامات جہاں اس سے کم اہمیت کے مسائل ہیں جب قرآن کریم دیکھتا ہے کہ ممکن ہے حکم عام سے غلط مطلب نکال لیا جائے تو وضاحت کے لئے تقیید کردیتا ہے ۔ مثال کے طور پر والدین سے نیکی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے 🙁 وَقَضَیٰ رَبُّکَ اَلَّاتَعْبُدُوااِلَّااِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔۔۔)(١)”اور تمہارے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اسکے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔۔۔”۔یہاں چونکہ یہ شبہہ ہو تا ہے کہ اگر والدین کہیں کہ فلا ں کام انجام نہ دو یا فلا ں گنا ہ کر و تو اس صو رت میں ہمارا کیا فریضہ ہے ؟تو خدا وند عالم فر ماتا ہے :(وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِی مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْم فَلاَ تُطِعْھُمَا۔۔۔) (٢)”اوراگروہ کسی کو میرا شریک بنانے پرمجبور کریں جسکا تمھیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا۔۔۔” اب ایک ایسے مسئلہ میں جہاںیہ احتمال ہو کہ اولی الا مر ہو نے کے اعتبار سے کہیں کوئی غلط فا ئدہ نہ اٹھا ئے اور…………..١۔ سورئہ اسراء آیت٢٣۔٢۔سورئہ عنکبو ت آیت ٨۔اپنے ذاتی نظریات لو گو ں پر نہ لاد دے(کیو نکہ یہ عام سی چیز ہے کہ جب بھی کسی نا اہل کے ہاتھ میں حکو مت آجاتی ہے وہ اپنے نظر یا ت لو گو ں پر لاد دیتا ہے اور اپنے مفادات حا صل کر نے کے چکر میں لگا رہتا ہے ) اس طرح کے حالات میں قر آ ن کریم مطلق طو ر پر فر ماتا ہے : (اَطِیْعُوْاالر سول و اُوْلِی الْاَ مْرِ مِنْکُمْ )اور اس میں کوئی قیدو شرط بیان نہیں فرمائی یہ طریقہ قرآن کریم کے اندازبیان سے بالکل بعیدہے مطلب اتنا واضح و روشن ہے کہ ”فخر رازی”(جن کو بعض نے”امام المشککین” کے لقب سے یاد کیا ہے )اعتراف کرتے ہیں کہ یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے البتہ اولی الامر کی مطابقت اور مصادیق معین کرنے میں غلطی کر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں : ”اولی الامر سے مراد کسی بھی اسلامی معاشرہ کے اہل حل و عقد ہیں اوریہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع حجت ہے اور جہاں بھی اہل حل وعقد کسی بات پر اجماع کر لیں تو ان کی نظرغلطی و خطا سے محفوظ ہے (١) بہر حال قرآن کریم نے اس امت کے جن افراد کو اولی الامر کہا ہے ان کی عصمت پراس آیہ کریمہ کو دلیل کے عنوان سے پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے مصادیق معین کرنے کے سلسلے میںتمام احکام کی تفصیل کی طرح پیغمبر اکر م ۖ سے پوچھناچاہئے ۔ائمہ اطہار علیہم السلام کے زمانہ میں کبھی کبھی مخالفین اس طرح کے شبہے ایجاد کیا کرتے تھے کہ اگر تم یہ عقیدہ رکھتے ہوکہ بارہ امام خداکی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں اوران کی اطاعت واجب ہے اور ان کا مقام تمام لوگوں سے بلند و بالا ہے تو ان میں سے کسی کا نام قرآن کریم میں کیوں نہیں آیا؟ ہمارے آج کے دور میں بھی اس طرح کے عا میانہ شبہے پیدا کئے جاتے ہیں متعدد روایتیں اس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس طرح کے شبہات رائج تھے۔ حضرات نے اس کے جواب کا طریقہ بتایا ہے: قرآن کریم میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے لیکن کیا نماز کی رکعتوں کی تعداد بھی معین کی گئی ہے ؟ تو اس بارے میں عوام کا فریضہ کیا ہے ؟رکعتوں کی تعداد کس سے پو چھیں گے ؟کیا پیغمبر اکرم ۖسے سوال کرنے کے علاوہ ان کا کوئی اور فریضہ تھا ؟!اس بار ے میں قرآن کریم فرماتا ہے:(وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ )(٢)”اور آپ کی طرف بھی ذکر کو(قرآن )نازل کیا ہے تاکہ وہ احکام واضح کردیں جو لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں اور شاید وہ غور وفکر کریں ”۔…………..١۔مزید تفصیل کے لئے ملا حظہ فر مائیں ”تفسیر المیزان ”علامہ طبا طبائی نیز الامامت والولایت فی القرآن الکریم’ ‘۔٢۔ سورئہ نحل آیت٤٤۔پیغمبر اکرم ۖ کا کام احکام کی تفصیل بیان کرنا ہے اسی طرح زکوٰةدینے کا حکم نازل ہواکیا قرآن کریم میں ہے کہ ہرچالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰة ادا کرنی چاہئے ؟یہ حکم روایت میں آیاہے اور پیغمبر اکرم ۖ نے بیان فرمایا ہے ،حج کا حکم نازل ہواتو کیا قرآن کریم میں طواف کے بارے میں بیان ہواہے کہ طواف میں سات چکّر لگانا چاہئے ؟ لوگوں نے کہاں سے سیکھا؟کیا پیغمبر اکرم ۖ کے فرمان کے علاوہ کہیں اورسے ملا ہے ؟اس آیت کے با رے میں بھی سب سے اولیٰ اور سب سے زیادہ جاننے والے مفسراور حامل قرآن ،یعنی حضرت رسول اکرم ۖنے اولی الامر کا تعین کر دیا ہے جب آپ سے سوال کیا گیا توحضور ۖنے بارہ اماموں کا تعین فرمادیااور میں عرض کر چکا ہوںکہ اہل سنت کی روایات میں بھی آیاہے؛ انھوں نے ”جابربن عبداﷲانصاری ”سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضور ۖنے بارہ اماموں کو معین و مشخصّ فرمایا ہے ۔اس بناء پر اولی الامر کومعین ومشخّص کرنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم ۖکے قول کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ہم کو ان کی بات ماننا چا ہئے اور اس کے مطابق روایتیں بھی موجودہیں اور اس بارے میں ہمارے لئے ذرہبھی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کے ثبوت میںیہ آیت پیش کی جاتی ہے :(اِنَّمَایُرِیْدُاللَّہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا)(١)”(اے اہل بیت )خدا تو بس یہ چا ہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح کی )برا ئی سے دور رکھے اور جو پا ک و پا کیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاک و پا کیزہ رکھے ”۔اس آیہ شریفہ سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ خداوندعالم نے اس آیت میں ”اہل بیت ” کے نام سے ایک گروہ کو خطاب فرمایاہے اورحصر کے طورپر کہاہے کہ خدانے تو بس تم کو پاک رکھنے کا ارادہ کرلیاہے ۔یقیناًیہ ارادہ اور فیصلہ اس گروہ سے مخصوص ہے اور خداوندعالم نے جوعام انسانوں کے پاک کرنے کااعلان کیا ہے اس سے مختلف ہے وہ تشریعی ارادہ ہے جس کا واقع ہونا لازم نہیں ہے خداوند عالم غسل اوروضو کے حکم کے ساتھ فرماتا ہے :(یُرِیْدُ اﷲِ لِیُطَھِّرَکُمْ)خداوند عالم تم کو وضو اور غسل کے ذریعہ سے پاک کرناچاہتاہے یہ تشریعی ارادہ ہے اور متحقق ہونے کی ضمانت نہیں رکھتا ۔اب اگر جو طہارت اس آیت میں بیان کی گئی وہی طہارت ہو جو ارادۂ تشریعی کے تحت ہے تووہ ایک خاص…………..١۔سورئہ احزاب آیت ٣٣۔گروہ سے مخصوص نہیں ہے ،خداوندعالم کا تشریعی ارادہ تمام انسانوں کی طہارت سے تعلق رکھتا ہے لیکن یہ ارادہ جو ایک خاص گروہ سے مخصوص ہے تکوینی ارادہ ہے جو متحقق ہونے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ معلوم ہواکہ خداوندعالم نے اس امت میں وہ لوگ کہ جن کو ”اہل بیت علیہم السلام”ہونے کا شرف حاصل ہے ان کی نسبت تکوینی ارادہ فرمایا ہے کہ یہ افراد طاہرر ہیں اور مطلق طور پر ان میں یقیناًطہارت متحقّق ہوگی اور ”یطھرکم تطھیرا ”کی تکراراُن کی تطہیر میں مبالغہ پر دلالت کرتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.