حصول علم
تہذیب اخلاقانسان،اپنے خداداد ضمیر سے پسندیدہ اخلاق کی قدرو قیمت کو سمجھتا ہے اور اسکی انفرادی واجتماعی اہمیت کو جان لیتاہے ۔لہذا انسانی معاشرے میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جوپسندیدہ اخلاق کی تعر یف اور پسندیدہ اخلاق رکھنے والے شخص کااحترام نہ کرے ۔جواہمیت انسان پسندیدہ اخلاق کو دیتاہے وہ محتاج تعارف وبیان نہیںہے اوراسلام میں اخلاق کے بارے میں جووسیع احکام بیان ہوئے ہیں وہ سب واضح ہیں ۔خدائے متعال فرماتا ہے :(ونفس وماسوّٰ ہا٭فَلہَمَہافجورَہاوتقوٰہا٭قد افلح من زکّٰہا٭وقد خاب من دسّٰھٰا) ( شمس٧۔١٠)”اورنفس کی قسم اور ا س خداکی قسم جسں نے اسے درست کیاہے ٠پھر بدی اور تقویٰ کی ہدایت دی ہے ٠بیشک وہ کامیاب ہوگیاجس نے نفس کوپاکیزہ بنالیا٠اوروہ نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیاہے ”
حصول علمپسندیدہ معنوی صفات میں سے ایک علم ہے اورعالم کی جاہل پر فضیلت وبرتری اظہر من الشمس ہے ۔جو چیز انسان کودوسرے حیوانات سے جدا کرتی ہے ،بیشک وہ عقل کی طاقت اور علم کا زیور ہے۔دوسرے حیوانات میں سے ہر ایک اپنی خاص بنا وٹ کے مطابق ناقابل تغیر فطرت رکھتاہے اور یکساں صورت میں اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اس کی زندگی میں ہرگزکسی قسم کی ترقی اور بلندی کی کوئی امید نہیں پائی جاتی .وہ اپنے اور دوسروں کے لئے کوئی نیا باب نہیں کھول سکتے ہیں یہ صرف انسان ہے جوعقل کی طاقت سے،ہرروز اپنے گزشتہ معلومات میں جدید معلومات کااضافہ کرتاہے اور طبیعت اورمادرای طبیعت کے قوانین کوکشف کرکے ہرزمانہ میں اپنی مادی اور معنوی زندگی کو تازگی اوررونق بخشتا ہے،اپنے ماضی کے ادوار پرنظرڈال کراپنے اوردوسروں کے مستقبل کی بنیاد ڈالتا ہے ۔اسلام نے علم حاصل کرنے کے سلسلہ میں اس قدرتاکید کی ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :”علم حاصل کرناہرمسلمان پر واجب ہے ”(١)”علم حاصل کرو،اگرچہ چین میں بھی ہو”(٢)…………..١۔اصول کافی ،ج١،ص٣٠۔٢۔نہج الفصاحہ،ح٣٢٤،ص٦٣۔”گہوارہ سے قبر تک علم حاصل کر نیکی کو شش کرو”(١)اسلام،خلقت کے اسرار کوجاننے اورآسمانوں،زمین ،انسان کی فطرت،تاریخ وملل اور اپنے اسلاف کے آثار(فلسفہ ،علوم ریاضی وطبیعی وغیرہ)کے بارے میں غور وخوض کرنے کی بہت تاکید کرتا ہے اور اسی طرح اخلاقی اورشرعی مسائل (اسلامی اخلاق و قوانین )اور صنائع کے اقسام ۔جو انسان کی زندگی کو منظّم کرتے ہیں۔کو سیکھنے کی اسلام بہت ترغیب دیتااور تاکید کرتا ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں علم کی اہمیت اس قدر ہے کہ جنگ بدر میں جب کفار کی ایک جماعت مسلمانوں کے ہاتھوں اسیرہوگئی، توآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسیروں میں سے ہر فرد زیادہ ر قومات ادا کرکے آزاد ہوسکتاہے ،لیکن اسیروں میں جو افراد تعلیم یافتہ تھے وہ یہ رقومات ادا کرنے سے اس شرط پر متثنیٰ قرار دیئے گئے کہ ان میں سے ہر ایک دس جوان مسلمانوں کو لکھناپڑھنا سکھائے ۔
اسلام کی نظرمیں طالب علم کی اہمیتہر مقصد تک پہنچنے کے لئے سعی وکوشش کی اہمیت خوداس مقصدکی اہمیت کے برابر ہوتی ہے اور چونکہ ہرانسان اپنی خداداد فطرت سے عالم بشریت میں علم ودانش کو ہر چیز سے بالا تر جانتا ہے ،لہذا طالب علم کی قدرو قیمت بالا ترین قدرو قیمت ہوگی اس چیز کے پیش نظر کہ اسلام ایسادین ہے کہ جو فطرت کی بنیادوں پر مستحکم واستوار ہے لہذا ا بلاشبہہ طالب علم کی سب سے زیادہ قدروقیمت کا قائل ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:…………..١۔نہج الفصاحہ،ح٣٢٧،ص٦٤۔”جو علم حاصل کرنے کی راہ میں ہو ،وہ خداکا محبوب ہے ”(١)ا س کے باوجود کہ جہاد،دین کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے اور اگر پیغمبر ۖیا امام حکم جہاد دیدیں توعام مسلمانوں کا جنگ میں شریک ہونا ضروری ہوجاتا ہے ،لیکن جو لوگ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ اس حکم سے مستثیٰ اور معاف ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ہمیشہ علمی مراکزمیں تعلیم حاصل کرنے میں مشغول رہنا چاہئے ۔خدائے متعال فرماتا ہے :(وما کان المؤمنون لینفروا کآفّةً فلولا نفر من کلّ فرقة منہم طائفة لیتفقَّہوا فی الدّین ولینذروا قو مہم اذا رجعواالیہم لعلّہم یحذرون) (توبہ١٢٢)”صاحبان ایمان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ سب کے سب جہاد کے لئے نکل پڑیں تو ہر گروہ میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نہیں نکلتی ہے کہ دین کا علم حاصل کرے اورپھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تواسے عذاب الہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسطرح ڈرنے لگیں ۔”
معلم اورمربی کی اہمیتعلم اور طالب علم کے بارے میں مذکورہ بیان سے اسلام میں معلم کی بھی اہمیت واضح ہوجا تی ہے ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”من تعلّمت منہ حر فا صرت لہ عبدا”(٢)…………..١۔بحارالانوار،(ج١ ص١٧٨،ح٦٠)٢۔عوالی اللئانی ،ج١،ص٢٩٢،ح١٩٣۔”جومجھے ایک کلمہ تعلیم دیدے میں خود کواس کا بندہ قراردوں گا”حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :”لوگوں کے تین گروہ ہیں :پہلا:عالم ربانی دوسرا:جواپنی اوردوسروں کی نجات کے لئے علم حاصل کرتا ہے ۔تیسرا:وہ لوگ جو عقل ودانش سے عاری ہوتے ہیں ان لوگوں کی مثال اس مکھی کی سی ہے جو جانوروں کے سروصورت پربیٹھتی ہے اورہواکے چلنے پر ادھر ادھر اڑتی ہے یاجہاں سے بھی بدبو آتی ہے اسکی طرف دوڑتی ہے” ۔
معلم اور شاگرد کا فریضہقرآن مجید،علم ودانش کو انسان کی حقیقی زندگی جانتا ہے ،کیونکہ اگر علم نہ ہوتاتوانسان اورجمادات اورمردوں میں کوئی فرق نہ ہوتا۔اس بناپر،طالب علم کو چاہئے کہ اپنے معلم کو زندگی کا مرکز تصور کرے تاکہ تدریجاًاپنی حقیقی زندگی کواس سے حاصل کرسکے ،اس لحاظ سے اسے یہ تصورکرناچاہئے کہ اس کے تو سط سے اسے زندگی ملی ہے اس لئے اس کی عزت وتعظیم میں کوتاہی نہ کرے اوراگر تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں اس کی طرف سے اگر سختی بھی دکھائی دے تو اس کی زندگی اورموت کے بعد اس کے احترام میں کوتاہی نہ کرے ۔اسی طرح معلّم کوبھی اپنے آپ کواپنے شاگرد کی زندگی کا ذمہ دار سمجھنا چاہئے اورجب تک اسے ایک زندہ انسان اور فخرومباہات کے درجہ تک نہ پہنچا دے اس وقت تھکن محسوس نہ کرے اورآرام سے نہ بیٹھے۔اگرکبھی اس کاشاگرد تعلیم وتربیت حاصل کرنے میں کوتاہی کرے تواستاد کاحوصلہ پست نہیں ہونا چاہئے ،اگر وہ تعلیم وتربیت میں ترقی کا مظاہرہ کرے تواس کی ہمت افزائی کرنی چاہئے،اگرلاپروائی کرے تواس کی حوصلہ افزائی کر کے اس میں شوق پیدا کرنا چاہئے اور شاگرد کے جذ بات کوہرگز اپنے طرزعمل سے مجروح نہ کرے ۔