عورت کے بارے میں اسلام کا نظریہ

403

اسلام نے پوری طاقت کے ساتھ ان افکار کی مخالفت کی اورعورت کے لئے حسب ذیل حقوق مقررفرمائے :١۔عورت ایک حقیقی انسان ہے اورانسان کے نرومادہ جوڑے سے پیداکی گئی ہے اورانسان کی ذاتی خصوصیات کی حامل ہے اورانسانیت کے مفہوم میں مرد کو اس پر کوئی امتیاز حاصل نہیںہے۔خدائے متعال اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے :(یایّہا النّٰاس اِنّاخلقنکم من ذکرٍوانثی …) (حجرات١٣)
‘انسانو!ہم نے تم کوایک مرداورایک عورت سے پیداکیاہے …’کئی دوسری آیتوں میں فرماتا ہے :(بعضکم من بعض) (آل عمران ١٩٥)’تم سب ہم جنس ہو ‘٢۔عورت،مرد کے مانندمعاشرہ کاعضو ہے اورقانونی شخصیت کی مالک ہے ۔ًًً٣۔عورت چونکہ فطری رشتہ دارہے اسلئے سرکاری اورقانونی طورپربھی رشتہ دار ہے ۔٤۔بیٹی ،اولادہے جس طرح بیٹااولادہے،اسلئے بیٹیاں ،بیٹوںکی طرح اولادہیں ،اس لحاظ سے عورت بھی مرد کی طرح اپنے سببی اور نسبی رشتہ داروں جیسے باپ اورماں سے میراث پاتی ہے ۔٥۔عورت فکری آزادی کی مالک ہے اوراپنی زندگی میں ہرقسم کا فیصلہ کرسکتی ہے اورشر عی حدود میں اپنی مرضی کے مطابق اپنے لئے شوہرمنتخب کرسکتی ہے اور باپ یاشوہرکی ولایت اورسر پرستی میںرہے بغیر آزادی کے ساتھ زندگی گزارسکتی ہے اورہر جائز پیشہ کو منتخب کرسکتی ہے ۔عورت عمل کے میدان میں مستقل ہے اوراس کاکام اورکوشش محترم ہے اور وہ مالک بن سکتی ہے اوراپنی دولت وثروت کو مرد کی سر پرستی اورمداخلت کے بغیرتصرف کرسکتی ہے اوراپنے انفرادی واجتماعی مال اورحقوق کادفاع کرسکتی ہے اور دوسروں کے حق میں یاخلاف گواہی دے سکتی ہے ۔وہ جنسی آمیزش کے مسئلہ کے علاوہ (جس میں ازدواجی زندگی کے معاہدہ کے مطابق اپنے شوہر کی اطاعت کرناضروری ہے )اپنے شوہر کے لئے کوئی دوسرا کام انجام دے تو وہ قابل قدر ہے۔٦۔مرد کو عورت پر حکم چلانے اورظلم کرنے کا کوئی حق نہیںہے اور ہرظلم جومردوں کے بارے میں مقدمہ چلا کرقابل سزا ہے وہ عورتوں کے بارے میں بھی مقدمہ چلانے اورسزا دینے کے قابل ہے۔٧۔عورت معنوی دینی شخصیت کی مالک ہے اوراخروی سعادت سے محروم نہیں ہے ،وہ وایسی نہیں ہے جیساکہ اکثرادیان اورمذاہب عورت کو ایک شیطان کے مانند،رحمت خداوندی سے مایوس تصور کرتے ہیں ۔
خدائے متعال اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے :(من عمل صٰلحاً من ذکر او انثی و ہو مؤمن فلنحیینَّہ حیٰوة طیّبة ولنجزینَّہم اجرہم باَحسنِ ماکانوا یعملون ) (نحل٩٧)’جوشخص بھی نیک عمل کرے گاوہ مرد ہو یاعورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطاکریں گے اورانھیں ان اعمال سے بہترجزادیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے ہیں'(…انّی لااضیع عملَ عامل منکم من ذکر اوانثی …)(آل عمران ١٩٥)’میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کے عمل کوضائع نہیں کروں گا چاہے وہ مرد ہو یاعورت…’درج ذیل آیہ شریفہ کے مطابق ممکن ہے ایک عورت تقوی اوردین کی بدولت ہزاروں مردوں پرامتیاز اور فوقیت حاصل کرے :(یایّہا النّاس انّا خلقٰنکم من ذکر وانثی وجعلنٰکم شعوباً وقبائل لتعارفوا انَّ اکرمکم عند اللّٰہ اتقٰکم …) (حجرات ١٣)’انسانو! ہم نے تم کو ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیاہے اورپھر تم میں شاخیں اورقبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جوزیادہ پرہیز گار ہے …’
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.