انبیاء علیہم السلام سے اختلاف کی سنت

220

اس سلسلے میں بہت ہی واضح بیان ، سورئہ انعام کی آن آیتوں میں ملتا ہے :(وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَالِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّاشَیَٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلَیٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْراًوَلَوْشَائَ رَ بُّکَ مَافَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَایَفْتَرُوْنَ۔وَلِتَصْغَیٰ اِلَیْہِ أَفْئِدَ ةُالَّذِ یْنَ لََایُوْمِنُوْنَ بِالآخِرَةِوَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْامَاھُمْ مُقْتَرِفُوْنَ) (١)’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جنات و انسان میں کچھ شیاطین کو ان کا دشمن قرار دے دیا کہ ان میںبعض ،بعض کو دھو کہ دینے کے لئے چکنی چپڑی باتیںبناتے ہیں اوراگر تمہارا خدا چاہ لیتا تویہ ایسا نہ کرسکتے لہٰذا اب آپ انھیں ان کے جھوٹ اورافتراء کے ساتھ چھو ڑدیں اور یہ اسی طرح(مقرر کیا جاچکا ہے)تا کہ جن لو گوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل ان کی(غلط باتوں کی) طرف مائل ہو جا ئیںاور وہ اسے پسند کر لیں تا کہ جو کچھ ان کے ہاتھ کرنا چاہتے ،ان کے ہاتھ آجائے ‘بظاہرآیۂ مبا رکہ سے اس بات کا اظہار ہو تا ہے کہ یہ مسئلہ ایک الٰہی سنّت کے عنوان سے تمام نبیوںاور ان کی امتوں میں جا ری اور ساری رہا ہے کہ جب بھی کو ئی پیغمبر مبعوث ہو تاان کے مقا بلہ میںجنوں اورانسانو ںکے شیطانی گروہ صف آرائی کر تے تھے اور مخا لفت پر اڑ جا تے تھے البتہ وہ یہ مخا لفت اپنے ارادئہ واختیا ر سے کر تے تھے الٰہی مشیت و ارادہ ان کے کا مو ں میں ما نع نہیں ہو تا تھا تا کہ اس طرح سے حق و با طل کے دو نوں راستے آ شکا ر ہوجائیں اور لو گ دو نوں میں سے کسی ایک کا انتخا ب کر لیں۔اگر کو ئی ایسا گرو ہ نہ ہو جو با طل کی تبلیغ کر ے اور لو گو ں کو اس کی طرف دعوت دے تو انسانو ں کی آ زما ئش کے لئے ماحول فر ا ہم نہیں ہو گاجبکہ خدا کی سنتو ں میں سے ایک سنت آزمائش بھی ہے اور بنیادی طور پراس دنیا میں انسان کی خلقت کا مقصدہی اس کا امتحا ن ہے (لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً )اس میں کو ئی شک و شبہ نہیں امتحا ن کا لا زمہ یہ ہے کہ حق و با طل کے دو نو ں راستے کو انسان کے سامنے کھلے ہوںاور ہر ایک کے مخصو ص مبلغ بھی ہوں ۔ حق کا راستہ دکھا نے وا لے پیغمبر اور (قرآن کی رو سے) باطل کی طرف دعوت دینے وا لے شیطا ن صفت انسان اور جنات ۔ معلوم ہوا اس نظامِ احسن میں اس گروہ کا ہو نا بھی ضرو ری ہے ورنہ الٰہی امتحا ن کے لئے کامل ماحول فرا ہم نہ ہو سکے گا ۔شیطان صفت انسانوں کی جانب سے ہمیشہ انبیا ء علیہم السلام کی مخا لفت کے علا وہ اس آیت میں شیاطین کی مخا لفت کے طریقوں کی طرف بھی اشا رہ کیا گیا ہے (یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْ لِ غُرُوْراً) ‘یہ شیا طین آپس میںچکنی چپڑی دل فریب با تیںاور اشارے کر تے ہیں ‘ چنانچہ اگر وحی میں لفظ (یوحی) سے چپکے چپکے خفیہ قسم کی گفتگو مرادہو تو اس کا مصدا قِ تام جنوں کے وہ شیطا نی وسوسے ہوں گے جو غیر محسوس طور پر معصیت کار لو گو ں کے دل و جان میںشعلہ ور ہوجاتے ہیں ۔البتہ یہا ں یہ بھی ممکن ہے کہ عام معنی مد نظر ہو ں اور اس آیت میں (وحی) ہرطرح کی مخفی با ت کو شا مل ہو ۔ اس صورت میں آیت، انسا ن نما شیطا نوں کی کانا پھوسی کو بھی شامل ہو جا ئے گی یعنی وہ تمام خفیہ با تیں جو لو گو ں کو فریب دینے کے لئے آہستہ آہستہ کی جا تی ہیں ۔ بہرحال وحی کا واضح مصداق وہی شیطا نی وسوسے ہیں اس لئے ‘وحی’ اصل میں چپکے چپکے اسرارو رموز میں بات کرنے کو کہتے ہیںاورچو نکہ شیطان کا وسو سہ کھلم کھلا نہیں ہو تا اور انسان اس کی طرف متو جہ بھی نہیں ہوپا تا لہٰذا اس کووحی کہا گیا ہے ۔ اس بنا ء پر وحی کے معنی میں بہت زیادہ وسعت ہے حتی اس میں شیطا نی وسوسے بھی شامل ہیں ۔
…………..١۔سورئہ انعام آیت١١٢۔١١٣۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.