معصوم اماموں کے منصب
یعنی حکومتی معاملات کے اعتبار سے اور ‘اولواالامر’کا عنوان بھی اساسی اور بنیادی طورپر اسی معنی سے مناسبت رکھتاہے اس بناء پر صاحبان امر من جانب اﷲمنصب ولایت و حکو مت پر فائز ہیں اور حکومتی معا ملات میں ان کی اطاعت کرنا واجب ہے
دوسری طرف اسلام میں قضاوت کا منصب حکومت کی فرعوںمیں سے ایک فرع ہے۔پیغمبر اکرم ۖجو لوگوں پر ولایت کے منصب پر فائز تھے آپ قضاوت کے معا ملات بھی انجام دیتے تھے اور آپ قاضیوں کو اس منصب پر تقررکرنے کا حق بھی رکھتے تھے ۔اصولی طور پر اسلام میں قا بل اعتماد قاضی کا انتخاب اور تقرراسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ اس آیت کے مطابق صاحبان امر کے لئے حکومت کامنصب ثابت ہے تو قضاوت کا منصب بھی جو اسی کی ایک فرع ہے وہ بھی اسی کے ضمن میںان کے لئے ثابت ہوجاتاہے ۔صاحبان امر کے منصب قضاوت کے مد نظران کا تیسرا منصب یعنی قرآن کریم کی آیات کی تفسیرمیں بھی ان کے کلام کا معتبر ہونا ثابت ہوجاتاہے۔جو شخص من جانب اﷲمسندقضاوت پر جلوہ افروزہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وحی کے تمام مطالب کو صحیح طریقہ سے سمجھ سکتا ہواور معاشرے اور اسلامی قضاوت سے مربوط قوانین( جن کو قرآن میں تفصیلی طور پر بیان نہ کیا گیا ہے) ان کی صحیح معرفت رکھتاہو۔ اس بناء پر قرآن کریم کی آیات اور پیغمبر اسلام کی سنّت سے ایساشخص امت کے لئے معتبراور حجت ہوگا۔اس وجہ سے اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صاحبان امر من جانب اﷲمنصب حکومت پربھی فائز ہیں اور منصب قضاوت پر بھی اور نیز تفسیر وحی اورسنّت نبوی میں بھی ان کی رائے معتبر ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صاحبان امر کون لوگ ہیں ؟ہم گذشتہ بحثوں میں یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ شیعہ اور سنّی حضرات کی تائیدشدہ روایات کے مطابق صاحبان امر وہی بارہ امام علیہم السلام ہیں ۔اہل سنّت سے نقل ہواہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض اصحاب(منجملہ جابربن عبداﷲانصاری )نے پیغمبر اکرم ۖسے سوال کیاکہ خدااور رسول ۖکی اطاعت کرنے کا مطلب تو سمجھ گئے لیکن یہ فرمائیے کہ اولواالامر سے مراد کون ہیں؟اسی مقام پر پیغمبر اکرم ۖ نے بارہ اماموں کے نا موں کے ساتھ اولواالامر کے عنوان سے انھیںمعین فرمادیا۔البتّہ اگر پیغمبر ۖ اور اولواالامر بذات خود کسی شخص کو معین کردیں تو خداوندعالم کی اطاعت کی بنا پر اس کی اطاعت کرنابھی واجب ہوگی۔جس طرح پیغمبر اکرم ۖ جب بھی کو ئی لشکر اسلام روانہ کر تے تھے تو کسی فوجی افسر کو معین فرماتے تھے توامت پر اس کی اطاعت کرنا واجب ہوجاتی تھی اسی بنیاد پر آپ نے اسامہ کے بارے میں فرمایا :’لَعَنَ اﷲ ُمَنْ تَخَلَّفَ عَنْ جَیْشِ اُسٰامَة ”جس نے بھی اسامہ کے حکم سے سرپیچی کی اس پر خداکی لعنت ہے ‘اس لئے کہ اسامہ کی اطاعت رسول خدا کی اطاعت کی بنا پر واجب قراردی گئی تھی پس جو بھی پیغمبر ۖیااولواالامر کی جانب سے منصوب ہواس کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔ولایت فقیہ کی دلیل بھی اسی سے حا صل ہوتی ہے۔ معصوم امام جو صاحبان امر ہیں انھوں نے غیبت کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاء کو اپنا نائب قرار دیا ہے اور مسلمانوں پر ان کی اطاعت واجب کی ہے اور حتیٰ کہ انھوں نے فرمایا ہے کہ ان (فقہائ)کے قول کو رد کرنا ہمارے قول کو رد کرناہے اور جس نے ہمارے قول کو رد کیا وہ مشرک ہے۔پس اسی بنیا دپر ولی فقیہ کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔یہ مطلب بیان کردینا بھی مناسب ہے کہ اس آیت سے اصل ولایت فقیہ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔یہ حق بات ہے کہ ہم پہلی ہی نظر میں اولواالامرکے مصادیق کو نہیں پہچان سکتے لہٰذا ہمیں اولواالامر کو مشخّص و معین کرنے کے لئے وحی کے مفسر یعنی پیغمبر اکرم ۖکے دامن سے متمسّک ہوناچاہئے جیسا کہ متعدد روا یات کی بنیاد پر آنحضرت ۖ نے معصوم اماموں کا اولواالامر کے عنوان سے تعارف کرایاہے اور ائمہ علیہم السلام نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے۔ حضرت امام محمد باقراور امام صادق کے زمانہ میں بنی امّیہ اور بنی عباس کے درباری علماء ان کی غاصبانہ حکومت کو ثابت کرنے اور اس کی شرعی حیثیت ثابت کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال کیا کرتے تھے ۔جیسا کہ آج بھی بعض مسلم حکمراںاپنی حکو مت کو قا نونی اور شرعی ثابت کر نے کے لئے اسی آیت کا سہا را لیتے ہیں ۔ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے اصحاب کو اسی طرح کے اشخاص سے بحث کرنے کی تعلیم دی تھی۔ اسی تعلیم کی اساس و بنیاد پر اس طرح کے باطل دعوئوں کے جواب میں یہ کہنا چاہئے :کہ جس طرح نماز،زکاة،حج وغیرہ ۔۔۔سے متعلق آیات کے نازل ہونے کے بعد ان آیات کے معانی کو سمجھنے ،ان عبادات کے انجام دینے کے طریقہ کو سمجھنے اور ہر ایک عبادت کے خصوصیات کو جاننے کے لئے پیغمبر اسلام ۖ سے رجوع کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔اسی طرح آیۂ اولواالامر کے بارے میں بھی تمہارا وظیفہ و فریضہ یہ ہے کہ تم رسول خداۖسے رجوع کرو۔جس فعل کو آنحضرت ۖکے چند اصحاب نے عمل کیااور آپ سے سوال کیااورآپ نے بھی ان کے جواب میں اولواالامر کے مصادیق کی تعیین فرمائی اور جہاں وحی کی تفسیر کرنے میںپیغمبر اکرم ۖ کا فر مان حجت ہے، آپ نے اولواالامر کے مصداق کو بارہ معصوم اماموں میں منحصر فرمادیا ہے اور اولواالامر سے خداوندعالم کی مراد بھی وہی بارہ معصوم امام ہیں لہٰذاتمام مسلمانوں پر ان کی اطاعت و پیروی کرنا واجب ہے۔اس بناء پر آیۂ اولواالامر براہ راست ولایت فقیہ پر دلالت نہیں کرتی اگر چہ یہ اصل اپنی جگہ معتبرہے اور فقہا کا ائمہ کی طرف سے منصوب ہونا ثابت ہے۔اگر غیر معصو م کو بھی اولواالامر قرار دیا جائے( جیسا کہ اہل سنّت نےپہلے ایساکیا ) تو اس سے سوء استفادہ کا راستہ صاف ہوجائیگا اور ممکن ہے کہ اس سے اصل ولایت فقیہ کے متعلق بھی خدشہ ہونے لگے۔اولواالامر کے معنی میںتوسیع ہوجانے کے بعدیہ امکان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ فقیہ کو مسلمانوں کا ولی فقیہ ہوناچاہئے اس مطلب پر ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ یہ لازم ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے آشناہو اگرچہ یہ تقلید کی حد تک ہی ہو نہ کہ اجتہادکے ذریعہ ۔نتیجتاً آیۂ اولواالامر سے اصل ولایت فقیہ کا استفادہ کرنا درست نہیں ہے البتہ ولایت فقیہ کی مشروعیت امام معصوم کے منصوب کرنے کی وجہ سے ہے :’۔۔۔والرادعلیہم کالراد علیناوالراد علیناوالراد علی اﷲوھوعلی حد الشرک’ان (فقہائ)کے قول کو رد کرنا ہمارے قول کو رد کرناہے اور جس نے ہمارے قول کو رد کیا اس نے اللہ کے قول کو رد کیا وہ مشرک ہے۔معارف قرآن کے مجموعہ میں سے ‘رہنماکی معرفت ‘کی بحث تمام ہوگئی ہم خداوند قدوس سے معارف قرآن کریم کے تمام حصّوں کے اتمام کے بارے میں مددچاہتے ہیں ۔امید ہے کہ ہم خداوندعالم کی خاص عنایتوں کے ذریعہ اس راہ پرگامزن رہیں گے جس راہ کو اہل بیت علیہم السلام عصمت و طہارت نے ہمیںقرآن اور احکامات کوسمجھنے کے لئے اچھی طرح ہمیں دکھلایاہے۔پہلے ہم قرآن کریم کے معارف صحیح طرح سمجھیںاس کے بعداپنی اوردوسروں کی سعادت و رستگاری کے لئے ان پر عمل کریں ۔