ابولھب کی دشمنی

202

ابولھب کی دشمنی
اس کانام ” عبدالعزی” (عزی بت کا بندہ ) اور اس کی کنیت “ابولھب” تھی۔ اس کے لیے اس کنیت کا انتخاب شاید اس وجہ سے تھا کہ اس کا چھرہ سرخ اور بھڑکتا هوا تھا، چونکہ لغت میں لھب آگ کے شعلہ کے معنی میں ھے ۔وہ اور اس کی بیوی “ام جمیل”جو ابوسفیان کی بہن تھی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نھایت بدزبان اور سخت ترین دشمنوں میں سے تھے ۔”طارق محارق ” نامی ایک شخص کہتاھے : میں ” ذی المجاز ” کے بازار میں تھا ۔[21]اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھا جو پکار پکار کر کہہ رھا تھا: اے لوگو: لاالہ الا اللہ کا اقرار کر لو تو نجات پاجاؤگے ۔ اور اس کے پیچھے پیچھے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس کے پاؤں کے پچھلے حصہ پرپتھر مارتاجاتاھے جس کی وجہ سے اس کے پاؤں سے خون جاری تھا اوروہ چلا چلا کر کہہ رھاتھا ۔اے لوگو! یہ جھوٹاھے اس کی بات نہ ماننا “۔میں نے پوچھا کہ یہ جوان کون ھے ؟ تو لوگوں نے بتایا :” یہ محمد، ، صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھے جس کا گمان یہ ھے کہ وہ پیغمبر ھے اور یہ بوڑھا اس کا چچا ابولھب ھے جو جو اس کو جھوٹا سمجھتا ھے ۔”ربیع بن عباد” کہتا ھے : میں اپنے باپ کے ساتھ تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھاکہ وہ قبائل عرب کے پاس جاتے اور ھر ایک کو پکار کر کہتے : میں تمھاری طرف خدا کا بھیجا هوا رسول هوں : تم خدائے یگانہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ ۔جب وہ اپنی بات سے فارغ هوجاتاتو ایک خوبرو بھینگا آدمی جو ان کے پیچھے پیچھے تھا، پکارکرکہتا : اے فلاں قبیلے : یہ شخص یہ چاہتاھے کہ تم لات وعزی بت اور اپنے ھم پیمان جنوں کو چھوڑدو اور اس کی بدعت وضلالت کی پیروی کرنے لگ جاؤاس کی نہ سننا، اور اس کی پیروی نہ کرنا “۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ھے ؟ تو انهوں نے بتایا کہ یہ ” اس کا چچا ابولھب ھے “۔
ابولھب پیغمبر کا پیچھا کرتارھاجب مکہ سے باھر کے لوگوں کا کوئی گروہ اس شھر میں داخل هوتا تھا تو وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کی رشتہ داری اور سن وسال کے لحاظ سے بڑاهونے کی بناپر ابولھب کے پاس جاتاتھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں تحقیق کرتا تھا وہ جواب دیتا تھا: محمد ایک جادوگر ھے ،وہ بھی پیغمبر سے ملاقات کئے بغیر ھی لوٹ جاتے اسی اثناء میں ایک ایسا گروہ آیا جنهوں نے یہ کھا کہ ھم تو اسے دیکھے بغیر واپس نھیں جائیں گے ابولھب نے کھا : “ھم مسلسل اس کے جنون کا علاج کررھے ھیں : وہ ھلاک هوجائے “۔وہ اکثر مواقع پر سایہ کی طرح پیغمبر کے پیچھے لگارہتا تھا اور کسی خرابی سے فروگذاشت نہ کرتا تھا خصوصاً اس کی زبان بہت ھی گندی اور آلودہ هوتی تھی اور وہ رکیک اورچبھنے والی باتیں کیا کرتا تھا اور شاید اسی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سب دشمنوں کا سرغنہ شمار هوتا تھا اسی بناء پر قرآن کریم اس پر اور اس کی بیوی ام جمیل پر ایسی صراحت اور سختی کے ساتھ تنقید کررھاھے وھی ایک اکیلا ایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اکرم سے بنی ھاشم کی حمایت کے عہد وپیمان پر دستخط نھیں کئے تھے اور اس نے آپ کے دشمنوں کی صف میں رہتے هوئے دشمنوں کے عہد وپیمان میں شرکت کی تھی۔
ابو لھب کے ھاتھ کٹ جائیں”ابن عباس “سے نقل هوا ھے کہ جس وقت آیہٴ”ونذر عشیرتک الاقربین”۔نازل هوئی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار کرنے اور اسلام کی دعوت دینے پر مامور هوئے،تو پیغمبرکوہ صفا پرآئے اور پکار کر کھا”یا صباحاہ”(یہ جملہ عرب اس وقت کہتے تھے جب ان پر دشمن کی طرف سے غفلت کی حالت میں حملہ هو جاتا تھاتا کہ سب کو با خبر کردیں اور وہ مقابلہ کے لیے کھڑے هو جائیں،لہٰذا کوئی شخص”یا صباحاہ”کہہ کر آواز دیتا تھا”صباح”کے لفظ کا انتخاب اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ عام طور پر غفلت کی حالت میں حملے صبح کے دقت کیے جاتے تھے۔مکہ کے لوگوں نے جب یہ صدا سنی تو انهوں نے کھا کہ یہ کون ھے جو فریاد کررھا ھے۔کھا گیا کہ یہ”محمد” صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھیں۔ کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے قبائل عرب کو ان کے نام کے ساتھ پکارا۔ آپ کی آواز پر سب کے سب جمع هوگئے تو آپ نے ان سے فرما یا:”مجھے بتلاؤ! اگر میں تمھیں یہ خبر دوں کہ دشمن کے سوار اس پھاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنے والے ھیں،تو کیا تم میری بات کی تصدیق کروگے”۔انهوں نے جواب دیا:”ھم نے آپ سے کبھی بھی جھوٹ نھیں سنا”۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”انی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید”۔”میں تمھیں خدا کے شدید عذاب سے ڈراتا هوں”۔(“میں تمھیںتوحیدکا اقرار کرنے او ربتوں کو ترک کرنے کی دعوت دیتا هوں”)جب ابو لھب نے یہ بات سنی تو اس نے کھا:”تبالک!اٴما جمعتنا الا لھذا؟!”۔تو ھلاک هو جائے! کیا تو نے ھمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا ھے”؟اس مو قع پر یہ سورہ نازل هوا :<تبت یداا بی لھب وتب۔>[22]اے ابو لھب! تو ھی ھلاک هو اور تیرے ھاتھ ٹوٹیں،تو ھی زیاں کار اور ھلاک هونے والاھے،اس کے مال وثروت نے اور جو کچھ اس نے کمایا ھے اس نے، اسے ھر گز کوئی فائدہ نھیں دیا اور وہ اسے عذاب الٰھی سے نھیں بچائے گا”۔اس تعبیر سے معلوم هوتا ھے کہ وہ ایک دولت مند مغرور شخص تھا جواپنی اسلام دشمن کوششوں کے لئے اپنے مال ودولت پر بھروسہ کرتاتھا۔بعدمیں قرآن مزیے کہتا ھے،”وہ جلدی ھی اس آگ میں داخل هوگا جس کے شعلے بھڑکنے والے ھیں”۔[23]اگر اس کا نام “ابو لھب”ھے تو اس کے لئے عذاب بھی”بو لھب”ھے یعنی اس کے لئے بھڑگتے هوئے آگ کے شعلہ ھیں۔ایندھن اٹھائے هوئےقرآن کریم نے اس کے بعد اس کی بیوی “ام جمیل ” کی کیفیت بیان کرتے هوئے فرمایاھے :”اس کی بیوی بھی جہنم کی بھڑکتی هوئی آگ میں داخل هوگی ، جو اپنے د وش پر ایندھن اٹھاتی ھے”۔ [24]”اور اس کی گردن میں خرماکی چھال کی رسی یا گردن بند ھے “۔[25]”فی جیدھا حبل من مسد””مسد” (بروزن حسد) اس رسی کے معنی میں ھے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ھے ۔ بعض نے یہ کھا ھے کہ “مسد” وہ رسی ھے جو جہنم میں اس کی گردن میں ڈالیںگے جس میں کھجور کے پتوں جیسی سختی هوگی اور اس میں آگ کی حرارت اور لوھے کی سنگینی هوگی ۔بعض نے یہ بھی کھا ھے کہ چونکہ بڑے لوگوں کی عورتیں اپنی شخصیت کو آلات وزیورات خصوصا ًگردن کے قیمتی زیورات سے زینت دینے میں خاص بات سمجھتی ھیں ،لہٰذا خدا قیامت میں اس مضراوروخود پسند عورت کی تحقیر کے لیے لیف خرما کا ایک گردن بند اس کی گردن میں ڈال دے گایا یہ اصلا اس کی تحقیر سے کنایہ ھے ۔بعض نے یہ بھی کھا ھے کہ اس تعبیر کے بیان کرنے کا سبب یہ ھے کہ ” ام جمیل ” کے پاس جواھرات کا ایک بہت ھی قیمتی گردن بند تھااور اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اسے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دشمنی میں خرچ کرے گی لہٰذا اس کے اس کام کے بدلے میں خدا نے بھی اس کے لئے ایسا عذاب مقرر کردیا ھے ۔
ابولھب کاعبرت ناک انجامروایات میں آیا ھے کہ جنگ”بدر”اور سخت شکست کے بعد ،جو مشرکین قریش کو اٹھانی پڑی تھی ، ابولھب نے جوخود میدان جنگ میں شریک نھیں هوا تھا ،ابوسفیان کے واپس آنے پر اس ماجرے کے بارے میںسوال کیا،ابو سفیان کے قریش کے لشکر کی شکست اور سرکوبی کی کیفیت بیان کی، اس کے بعد اس نے مزید کھا :خدا کی قسم ھم نے اس جنگ میں آسمان وزمین کے درمیان ایسے سوار دیکھے ھیں جو محمد کی مدد کے لیے آئے تھے ۔اس موقع پر” عباس ” کے ایک غلام “ابورافع “نے کھا :میں وھاں بیٹھاهوا تھا ،میں نے اپنے ھاتھ بلند کیے اور کھا کہ وہ آسمانی فرشتے تھے ۔اس سے ابولھب بھڑک اٹھا اور اس نے ایک زوردار تھپڑمیرے منہ پر دے مارا ، مجھے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مجھے پیٹے چلے جارھا تھا وھاں عباس کی بیوی”ام الفضل” بھی موجود تھی اس نے ایک چھڑی اٹھائی اور ابولھب کے سرپر دے ماری اور کھا :”کیا تونے اس کمزور آدمی کو اکیلاسمجھا ھے ؟”ابولھب کا سرپھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا سات دن کے بعد اس کے بدن میں بدبو پیدا هوگئی ، اس کی جلد میں طاعون کی شکل کے دانے نکل آئے اور وہ اسی بیماری سے واصل جہنم هوگیا ۔اس کے بدن سے اتنی بدبو آرھی تھی کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرات نھیں کرتے تھے وہ اسے مکہ سے باھر لے گئے اور دور سے اس پر پانی ڈالا اور اس کے بعد اس کے اوپر پتھر پھینکے یھاں تک کہ اس کا بدن پتھروں اور مٹی کے نیچے چھپ گیا ۔
————[21] ذی المجار عرفات کے نزدیک مکہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ھے ۔[22] سورہ مسد آیت۱ تا ۲۔[23] سورہٴ مسدآیت۳۔[24] سورہ مسد آیت ۴ ۔[25] سورہ مسد آیت ۴۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.