بعثت کا ھد ف
بعثت کا ھد فجس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ ۖ کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ‘اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت’ حضور ۖ کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ‘ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے’جناب آدم ـ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت ۖ تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔
عبا د تجناب ام سلمیٰ فرماتی ہیں :’ایک شب، حضور ۖ میرے گھر تشریف فرماتھے، میں نے آدھی رات کے بعد آپ ۖ کے بستر مبارک کو خالی دیکھا، میں نے تلاش کرنے کے بعد دیکھا کہ آپ ۖ تاریکی میں کھڑے ہو ئے ہیں، دست مبارک عرش کی جانب بلند ہیں، چشم مبارک سے اشکوں کی برسات ہو رہی ہے اور دعا فر مارہے ہیں کہ ‘پروردگار! جو نعمتیں تونے مجھے عطا کی ہیں انھیں مجھ سے واپس نہ لینا ، میرے دشمنوں کوخوش نہ ہونے دینا، جن بلائوں سے مجھے نجات دے چکا ہے ان میں دوبارہ گرفتار نہ کرنا، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی تنہا نہ چھوڑنا’ میں نے حضور ۖ سے کہا یا رسول اللہ ۖ! آپ تو پہلے ہی سے بخشش شدہ ہیں ، حضور ۖ نے فرمایا : ‘ نہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے کہ جو خدا وند عالم کا محتاج نہ ہو اور اس سے بے نیاز ہو ، حضرت یونس ـ کو خدا وند عالم نے صرف ایک لمحہ کے لئے تنہا چھوڑ دیا تھا تو آپ ـ شکم ماہی (مچھلی کے پیٹ )میں زندانی ہو گئے’حضور ۖ کی نماز شب ہم کو یہ درس دیتی ہے کہ امت کے رہبر کو آرام طلب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کا پورا وجود محنت وزحمت کے سمندر میں غرق رہنا چاہیئے، آپ ۖنے مولا علی ـ کو نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے،آپ ۖ نے مکرر تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ‘علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل’ یعنی ! اے علی تم پر لازم ہے کہ نماز شب بجا لائو، نماز شب ضرور بجا لائو ،نماز شب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔
سا د گیایک روز آپ ۖ نے مولا علی ـ کو بارہ درہم دیئے اور فرمایا: ‘میرے لئے ایک لباس خرید کر لے آئو’ حضرت علی ـ بازار گئے اور بارہ درہم کا لباس خرید کر لے آئے ، حضور ۖ نے لباس کو دیکھا اور علی ـ سے فرمایا: ‘اے علی ـ اگر اس لباس سے سستا لباس مل جاتا تو بہتر تھا اگر ابھی دوکاندار موجود ہو تو یہ لباس واپس کردو’ علی ـ دوبارہ بازار گئے اور لباس واپس کردیا اور بارہ درہم واپس لاکر آپ ۖ کے حوالہ کر دیئے۔حضرت ۖ مولاعلی ـ کو اپنے ہمراہ لے کر بازار کی جانب روانہ ہوئے، راستہ میں ایک کنیز پر نظر پڑی کہ جو گریہ کر رہی تھی، آپ ۖ نے سبب دریافت کیا تو کنیز نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے چار درہم دیئے تھے کہ کچھ سامان خرید کر لے جائوں لیکن وہ چار درہم گم ہو گئے، اب گھر واپس جائوں تو کس طرح؟آپ ۖ نے اپنے بارہ درہموں میںسے چار درہم اس کنیز کو عطا کئے کہ وہ سامان خرید کر لے جائے اور بازار پہونچکر چار درہم کا لباس خریدا، لباس لے کر بازار سے واپس آرہے تھے تو ایک برہنہ تن انسان پر نظر پڑ گئی، آپ ۖنے وہ لباس اس برہنہ تن کو بخش دیا اور پھر بازار کی جانب چلے، بازار پہونچکر باقی بچے ہوئے چار درہموں کا لباس خریدا ، لباس لیکر بیت الشرف کا قصد تھا کہ دوبارہ پھر وہی کنیز نظر آگئی جو پہلے ملی تھی، آپ ۖ نے دریافت کیا کہ اب کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کافی دیر ہو چکی ہے، میں ڈر رہی ہوں کہ کیسے جائوں،آقا کی سرزنش سے کیسے بچوں؟حضور ۖ کنیز کے ہمراہ اس کے گھر تک تشریف لے گئے، اس کنیز کے آقا نے جب یہ دیکھا کہ میری کنیز ، سرکار رسالت ۖ کی حفاظت میں آئی ہے تو اس نے کنیز کو معاف کردیا اور اسے آزاد کردیا، آپ ۖ نے فرمایا:’ کتنی برکت تھی ان بارہ درہموں میں کہ دو برہنہ تن انسانوں کو لباس پہنا دیا اور ایک کنیز کو آزاد کردیا’دور حاضر میں ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم ۖ مزین تھے، دور حاضر تو کیا خود حضور ۖ کے دور میں، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانا دشوار ہے، آپ ۖ کے دور میں تو بعض بدو عرب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھ سمجھتے تھے، واقعاََ اگر آج کے امراء ورئوسا بھی اس سیرت کو اپنائیں تو ہماری کشتی حیات، (دین اسلام اور شریعت کے مطابق)منزل مقصود سے ہمکنار ہوجائے۔
مہمان نوازیایک روز حضور ۖ کی خدمت میں آپ ۖکے دو رضاعی بھائی بہن یکے بعد دیگرے آئے، آپ ۖ نے بہن کا حترام زیادہ کیا اور بھائی کا احترام کم کیا، بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ ۖ نے جواب میں فرمایا: ‘چونکہ، جتنا احترام اپنے ماں باپ کا یہ بہن کرتی ہے اتنا احترام بھائی نہیں کرتا لہٰذا میں بھی بہن کا زیادہ احترام کرتا ہوں’
دلسوزیکشاف الحقائق، مصحف ناطق، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ‘ایک روز آپ ۖ نے نماز ظہر کی آخری دو رکعتیں بہت جلدی جلدی ادا کیں، لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ۖ! آخر ایسا کیوں؟کیا کام درپیش ہے؟ حضور ۖ نے فرمایا: ‘کیا تم بچہ کے رونے کی آواز نہیں سن رہے ہو؟’اللہ اکبر……..نماز جیسی عبادت، جس میں خضوع و خشوع شرط ہے، آپ ۖ نے بغیر مستحبات کے انجام دی اور یہ سمجھا دیا کہ دیکھو…..بچہ کو بہلانا خضوع و خشوع والی نماز سے بھی افضل ہے۔
اھل خانہ کے ساتھہجناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں :کبھی کبھی حضور ۖ ، خدیجہ کو بہت اچھی طرح یاد فرماتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے ، میں نے ایک روزحضور ۖ سے کہا : یا رسول اللہ ۖ! خدا نے آپ کو خدیجہ سے بہتر بیوی(دوشیزہ) عطا کی ہے، انھیں بھول جائیئے وہ تو بڑھیا تھیں۔حضور ۖنے فرمایا: خدا کی قسم ایسا نہیں ہے ، خدیجہ جیسی کوئی بیوی نہیں ہو سکتی (چاہے وہ دوشیزہ ہو یا کھلونوں سے کھیلنے والی اور ناچ گانے کی شوقین) جس وقت پورا معاشرہ کافر تھا ، اس عالم میں یہ تنہا خاتون تھی جو مجھ پر ایمان لائی تھی اور میری مدد گار ثابت ہوئی تھی ، میری نسل تو خدیجہ سے ہی چلی ہے (ایسی دوشیزہ کا کیا فائدہ جو ماں بننے کو ترس جائے)جناب خدیجہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ یہ وہ خاتون تھیں کہ جنھوں نے اپنا رشتہ خود حضور ۖ کی خدمت میں بھیجا تھا اوردیگر رشتوں سے انکار کر دیا تھا جب کہ وہ لوگ خود اپنے رشتے لے کر آئے تھے(بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے غرور میں چلی ہیں جناب خدیجہ سے ہمسری کرنے، بڑے باپ کی بیٹی ہونگی تو اپنے گھر کی ، یہاں تمھارا دیہ نہیں جلے گا تم جیسی ہزار دوشیزہ وباکرہ لڑکیوں سے یہ بڑھیا اچھی ہے)
تبلیغآپ ۖ نے تین سال تک پوشیدہ طور پر تبلیغ کی یہاں تک کہ حکم خدا وندی نازل ہوا (فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین)یعنی اے رسول! جن کاموں پر تمھیں مامور کیا گیا ہے انھیں آشکار کردو اور مشرکین سے پرہیز کرو(ان پر بھروسہ نہ کرو) ہم تمھیں ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔حضور ۖ کوہ صفا کے دامن میں خانۂ کعبہ کے کنارے تشریف لائے اور اعلان عام کردیا اور فرمایا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرلوگے تو دنیاوی حکومت و عزت اور آخرت، سب تمھارا ہے لیکن لوگوں نے آپ ۖ کا مذاق اڑایا اور جناب ابوطالب ـ کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے نو جوانوں کو گمراہ کر رہا ہے، اس سے پو چھئے کہ وہ کیاچاہتا ہے؟ اگر اسے دولت چاہیئے تو ہم دولت دینے کو تیار ہیں، اگر عورت درکار ہے تو ہم عورت دینے کو تیار ہیں، اگر منزلت کا خواہاںہے تو منزلت بھی دیدیں گے، جناب ابوطالبـ نے یہ بات رسول اسلام ۖکو بتائی، رسول اسلام ۖ نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر آفتاب اور دوسرے ہاتھ پر ماہتاب رکھ دیں تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں آسکتا، کفار نے جناب ابو طالبـ سے چاہا کہ محمد ۖ کو ان کے حوالے کردیں لیکن جناب ابوطالب ـنے قبول نہیں کیا۔اس عمل کے ذریعہ حضور سرور کائنات ۖ نے ہمیں تبلیغ کا طریقۂ کار بتایا ہے کہ تبلیغ کتنی اہم شئی کا نام ہے؟ تبلیغ چند ڈالر کے عوض اپنے نفس کو بیچ دینے کا نام تبلیغ نہیں ہے بلکہ اگر چاند سورج بھی دے دیئے جائیں تو اس کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیئے چونکہ اسی سے دین و شریعت کی ترویج ہوتی ہے، بار الٰہا ہمیں حضور ۖ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرما۔