اسلام کے پھلے مھاجرین

217

پیغمبراکرم نے اس چھوٹے سے گروہ کی حفاظت اور مسلمانوں کے لئے حجاز سے باھر قیام گاہ مھیاکرنے کے لئے انھیں ہجرت کا حکم دے دیا اور اس مقصد کےلئے حبشہ کو منتخب فرمایا اور کھا کہ وھاں ایک نیک دل بادشاہ ھے جو ظلم وستم کرنے سے اجتناب کرتا ھے ۔ تم وھاں چلے جاؤ یھاں تک کہ خداوند تعالیٰ کوئی مناسب موقع ھمیں عطافرمائے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد نجاشی سے تھی (نجاشی ایک عام نام تھا جیسے “کسریٰ” جو حبشہ کے تمام بادشاهوں کا خاص لقب تھا لیکن اس نجاشی کا اصل نام جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ھم عصر تھا اصحمہ تھا جو کہ حبشہ کی زبان میں عطیہ وبخشش کے معنی میں ھے )۔مسلمانوں میں سے گیارہ مرداور چار عورتیں حبشہ جانے کے لئے تیار هوئے اور ایک چھوٹی سی کشتی کرایہ پر لے کر بحری راستے سے حبشہ جانے کے لئے روانہ هوگئے ۔یہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب کا واقعہ ھے ۔کچھ زیادہ عرصہ نھیں گزراتھا کہ جناب جعفر بن ابوطالب بھی مسلمانوںکے ایک دوسرے گروہ کے ساتھ حبشہ چلے گئے ۔ اب اس اسلامی جمعیت میں ۸۲مردوں علاوہ کافی تعداد میں عورتیںاور بچے بھی تھے ۔

مشرکین ،مھاجرین کی تعقیب میںاس ہجرت کی بنیادبت پرستوں کے لئے سخت تکلیف دہ تھی کیونکہ دہ اچھی طرح سے دیکھ رھے تھے کہ کچھ زیادہ عرصہ نھیں گزرے گا کہ وہ لوگ جو تدریجاً اسلام کو قبول کرچکے ھیں اور حبشہ کی سرزمین امن وامان کی طرف چلے گئے ھیں ، مسلمانوں کی ایک طاقتور جماعت کی صورت اختیار کرلیں گے یہ حیثیت ختم کرنے کے لئے انهوں نے کام کرنا شروع کردیا اس مقصد کے لئے انهوں نے جوانوں میں سے دوهوشیار، فعال، حیلہ باز اور عیار جوانوں یعنی عمروبن عاص اور عمارہ بن ولید کا انتخاب کیا بہت سے ہدیے دے کر ان کو حبشہ کی طرف روانہ کیا گیا ،ان دونوں نے کشتی میں بیٹھ کر شراب پی اور ایک دوسرے سے لڑپڑے لیکن آخرکار وہ اپنی سازش کو روبہ عمل لانے کے لئے سرزمین حبشہ میں داخل هوگئے ۔ ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد وہ نجاشی کے دربار میں پہنچ گئے ،دربار میں باریاب هونے سے پھلے انهوں نے نجاشی کے درباریوں کو بہت قیمتی ہدیے دے کران کو اپنا موافق بنایا تھا اور ان سے اپنی طرفداری اور تائید کرنے کا وعدہ لے لیا تھا ۔” عمروعاص ” نے اپنی گفتگو شروع کی اور نجاشی سے اس طرح ھمکلام هوا:ھم سرداران مکہ کے بھیجے هوئے ھیں ھمارے درمیان کچھ کم عقل جوانوں نے مخالفت کا علم بلند کیا ھے اور وہ اپنے بزرگوںکے دین سے پھر گئے ھیں،اور ھمارے خداؤں کو برابھلا کہتے ھیں ،انهوں نے فتنہ وفساد برپا کردیا ھے لوگوں میں نفاق کا بیچ بودیا ھے ،آپ کی سرزمین کی آزادی سے انهوں نے غلط فائدہ اٹھایا ھے اور انهوں نے یھاں آکر پناہ لے لی ھے ، ھمیں اس بات کا خوف ھے کہ وہ یھاں بھی خلل اندازی نہ کریں بہتریہ ھے کہ آپ انھیں ھمارے سپرد کردیں تاکہ ھم انھیں اپنی جگہ واپس لے جائیں ۔یہ کہہ کر ان لوگوں نے وہ ہدئیے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے پیش کیے ۔نجاشی نے کھا : جب تک میں اپنی حکومت میں پناہ لینے والوں کے نمائندوں سے نہ مل لوں اس سلسلے میں کوئی بات نھیں کرسکتا اور چونکہ یہ ایک مذھبی بحث ھے لہٰذا ضروری ھے کہ تمھاری موجودگی میںمذھبی نمائندوں کوبھی ایک جلسہ میں دعوت دی جائے ۔

جعفربن ابی طالب مھاجرین کے بہترین خطیبچنانچہ دوسرے دن ایک اھم جلسہ منعقد هوا، اس میں نجاشی کے مصاحبین اور عیسائی علماء کی ایک جماعت شریک تھی جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے موجود تھے اور قریش کے نمائندے بھی حاضر هوئے نجاشی نے قریش کے نمائندوں کی باتیں سننے کے بعد جناب جعفر کی طرف رخ کیا اور ان سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظربیان کریں جناب جعفرا دائے احترام کے بعد اس طرح گویا هوئے : پھلے ان سے پوچھیے کہ کیا ھم ان کے بھاگے هوئے غلاموں میں سے ھیں ؟عمرو نے کھا :نھیں بلکہ آپ آزاد ھیں ۔جعفر: ان سے یہ بھی پوچھئے کہ کیا ان کا کوئی قرض ھمارے ذمہ ھے کہ جس کا وہ ھم سے مطالبہ کرتے ھیں ؟عمرو : نھیں ھمارا آپ سے ایسا کوئی مطالبہ نھیں ھے ۔جعفر: کیا ھم نے تمھارا کوئی خون بھایا ھے کہ جس کا ھم سے بدلہ لینا چاہتے هو ؟عمرو:نھیں ایسا کچھ نھیں ھے؟جعفر: تو پھر تم ھم سے کیا چاہتے هو ؟تم نے ھم پر اتنی سختیاں کیں اور اتنی تکلیفیں پہنچائیں اور ھم تمھاری سرزمین سے جو سراسر مرکز ظلم وجور تھی باھر نکل آئے ھیں ۔اس کے بعد جناب جعفر نے نجاشی کی طرف رخ کیا اور کھا : ھم جاھل اور نادان تھے، بت پرستی کرتے تھے ،مردار کا گوشت کھاتے تھے ، طرح طرح کے برے اور شرمناک کام انجام دیتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے ، اپنے ھمسایوں سے براسلوک کرتے تھے اور ھمارے طاقتور کمزوروں کے حقوق ہڑپ کرجاتے تھے ۔ لیکن خدا وند تعالیٰ نے ھمارے درمیان ایک پیغمبر کو معبوث فرمایا، جس نے ھمیں حکم دیا کہ ھم خدا کا کوئی مثل اورشریک نہ بنائیں اور فحشاء ومنکر، ظلم وستم اور قماربازی ترک کردیں ھمیں حکم دیا کہ ھم نماز پڑھیں ، زکوٰةادا کریں ، عدل واحسان سے کام لیں اور اپنے وابستگان کی مدد کریں ۔نجاشی نے کھا : عیسیٰ مسیح علیہ السلام بھی انھی چیزوں کے لئے مبعوث هوئے تھے ۔اس کے بعد اس نے جناب جعفر سے پوچھا: ان آیات میں سے جو تمھارے پیغمبر پر نازل هوئی ھیں کچھ تھمیں یاد ھیں ۔جعفرنے کھا : جی ھاں : اور پھر انهوں نے سورہ ٴمریم کی تلاوت شروع کردی ،اس سورہ کی ایسی ھلادینے والی آیات کے ذریعہ جو مسیح علیہ السلام اور ان کی ماں کو ھر قسم کی نارو اتھمتوں سے پاک قراردیتی ھیں ، جناب جعفر کے حسن انتخاب نے عجیب وغریب اثر کیا یھاں تک کہ مسیحی علماء کی آنکھوں سے فرط شوق میں آنسو بہنے لگے اور نجاشی نے پکار کر کھا : خدا کی قسم : ان آیات میں حقیقت کی نشانیاں نمایاں ھیں۔جب عمرنے چاھا کہ اب یھاں کوئی بات کرے اور مسلمانوں کو اس کے سپرد کرنے کی درخواست کرے ، نجاشی نے ھاتھ بلند کیا اور زور سے عمرو کے منہ پر مارا اور کھا: خاموش رهو، خدا کی قسم ! اگر ان لوگوں کی مذمت میں اس سے زیادہ کوئی بات کی تو میں تجھے سزادوں گا ،یہ کہہ کر مامورین حکومت کی طرف رخ کیا اور پکار کر کھا : ان کے ہدیے ان کو واپس کردو اور انھیں حبشہ کی سرزمین سے باھر نکال دو جناب جعفر اور ان کے ساتھیوں سے کھا : تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسر کرو ۔اس واقعہ نے جھاں جعفر اور ان کے ساتھیوں سے کھا تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسرکرو۔[29]اس واقعہ نے جھاں حبشہ کے کچھ لوگوں پر اسلام شناسی کے سلسلے میں گھرا تبلیغی اثر کیا وھاں یہ واقعہ اس بات کا بھی سبب بنا کہ مکے کے مسلمان اس کو ایک اطمینان بخش جائے پناہ شمارکریں اور نئے مسلمان هونے والوں کو اس دن کے انتظارمیں کہ جب وہ کافی قدرت و طاقت حاصل کریں ،وھاں پر بھیجتے رھیں ۔
فتح خیبرکی زیادہ خوشی ھے یا جعفرکے پلٹنے کیکئی سال گزر گئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی ہجرت فرماگئے اور اسلام روزبروز ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا،عہدنامہ حدیبیہ لکھا گیا اور پیغمبر اکرم فتح خیبرکی طرف متوجہ هوئے اس وقت جب کہ مسلمان یهودیوں کے سب سے بڑے اور خطر ناک مرکز کے لوٹنے کی وجہ سے اتنے خوش تھے کہ پھولے نھیں سماتے تھے، دور سے انهوں نے ایک مجمع کو لشکر اسلام کی طرف آتے هوئے دیکھا ،تھوڑی ھی دیر گزری تھی کہ معلوم هواکہ یہ وھی مھاجرین حبشہ ھیں ، جو آغوش وطن میں پلٹ کر آرھے ھیں ،جب کہ دشمنوں کی بڑی بڑی طاقتیںد م توڑچکی ھیں اور اسلام کا پودا اپنی جڑیںکافی پھیلا چکا ھے ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب جعفراور مھا جرین حبشہ کو دیکھ کر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:”میں نھیں جانتا کہ مجھے خیبر کے فتح هونے کی زیادہ خوشی ھے یا جعفر کے پلٹ آنے کی “کہتے ھیں کہ مسلمانوں کے علاوہ شامیوں میں سے آٹھ افراد کہ جن میں ایک مسیحی راھب بھی تھا اور ان کا اسلام کی طرف شدید میلان پیدا هوگیا تھاپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضرهو ئے اور انهوں نے سورہٴ یٰسین کی کچھ آیات سننے کے بعد رونا شروع کردیا اور مسلمان هوگئے اور کہنے لگے کہ یہ آیات مسیح علیہ السلام کی سچی تعلیمات سے کس قدر مشابہت رکھتی ھیں ۔اس روایت کے مطابق جو تفسیر المنار، میں سعید بن جبیر سے منقول ھے نجاشی نے اپنے یارو انصار میں سے تیس بہترین افراد کوپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دین اسلام کے ساتھ اظھار عقیدت کے لئے مدینہ بھیجا تھا اور یہ وھی تھے جو سورہٴ یٰسین کی آیات سن کر روپڑے تھے اور اسلام قبول کرلیا تھا۔
[29] بہت سے مفسرین نے نقل کیا ھے کہ سورہٴ مائدہ آیات ۸۲تا۸۶ نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل هوئی ھیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.