جنگ بدر
جنگ بدر[41]جنگ بدرکی ابتداء یھاں سے هوئی کہ مکہ والوں کا ایک اھم تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جارھا تھا اس قافلے کو مدینہ کی طرف سے گزرنا تھا اھل مکہ کا سردار ابوسفیان قافلہ کا سالار تھا اس کے پاس ہزار دینار کا مال تجارت تھا پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس عظیم قافلے کی طرف تیزی سے کوچ کا حکم دیا کہ جس کے پاس دشمن کا ایک بڑا سرمایہ تھا تاکہ اس سرمائے کو ضبط کرکے دشمن کی اقتصادی قوت کو سخت ضرب لگائی جائے تاکہ اس کا نقصان دشمن کی فوج کو پہنچے ۔[42]بھرحال ایک طرف ابوسفیان کو مدینہ میں اس کے ذریعے اس امر کی اطلاع مل گئی اور دوسری طرف اس نے اھل مکہ کو صورت حال کی اطلاع کے لئے ایک تیز رفتار قاصد روانہ کردیا کیونکہ شام کی طرف جاتے هوئے بھی اسے اس تجارتی قافلہ کی راہ میں رکاوٹ کا اندیشہ تھا ۔قاصد ،ابوسفیان کی نصیحت کے مطابق اس حالت میں مکہ میں داخل هوا کہ اس نے اپنے اونٹ کی ناک کوچیر دیا تھا اس کے کان کاٹ دیئے تھے ، خون ھیجان انگیز طریقہ سے اونٹ سے بہہ رھا تھا ،قاصد نے اپنی قمیض کو دونوں طرف سے پھاڑدیا تھا اونٹ کی پشت کی طرف منہ کرکے بیٹھا هوا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے ، مکہ میں داخل هوتے ھی اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا :اے کا میاب وکامران لوگو! اپنے قافلے کی خبر لو، اپنے کارواں کی مدد کرو ۔ لیکن مجھے امید نھیں کہ تم وقت پر پہنچ سکو ، محمد اور تمھارے دین سے نکل جانے والے افراد قافلے پر حملے کے لئے نکل چکے ھیں ۔اس موقع پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا ایک عجیب وغریب خواب تھا مکہ میں زبان زد خاص وعام تھا اور لوگوں کے ھیجان میںاضافہ کرھا تھا ۔ خواب کا ماجرایہ تھا کہ عاتکہ نے تین روزقبل خواب میں دیکھاکہ :ایک شخص پکاررھا ھے کہ لوگو! اپنی قتل گاہ کی طرف جلدی چلو، اس کے بعد وہ منادی کوہ ابوقیس کی چوٹی پر چڑھ گیا اس نے پتھر کی ایک بڑی چٹان کو حرکت دی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ هوگئی اور اس کا ایک ایک ٹکڑا قریش کے ایک ایک گھرمیں جاپڑا اور مکہ کے درے سے خون کا سیلاب جاری هوگیا ۔عاتکہ وحشت زدہ هوکر خواب سے بیدار هوئی اور اپنے بھائی عباس کو سنایا ۔ اس طرح خواب لوگوں تک پہنچاتو وہ وحشت وپریشانی میں ڈوب گئے ۔ ابوجھل نے خواب سنا تو بولا : یہ عورت دوسرا پیغمبر ھے جو اولادعبدالمطلب میں ظاھر هوا ھے لات وعزیٰ کی قسم ھم تین دن کی مھلت دیتے ھیں اگر اتنے عرصے میں اس خواب کی تعبیر ظاھر نہ هوئی تو ھم آپس میں ایک تحریر لکھ کر اس پر دستخط کریں گے کہ بنی ھاشم قبائل عرب میں سے سب سے زیادہ جھوٹے ھیں تیسرا دن هوا تو ابوسفیان کا قاصد آپہنچا ، اس کی پکار نے تمام اھل مکہ کو ھلاکو رکھ دیا۔اور چونکہ تمام اھل مکہ کا اس قافلے میں حصہ تھا سب فوراً جمع هوگئے ابوجھل کی کمان میں ایک لشکر تیار هوا ، اس میں ۵۰ ۹جنگجو تھے جن میں سے بعض انکے بڑے اور مشهور سردار اور بھادر تھے ۷۰۰اونٹ تھے اور ۱۰۰گھوڑے تھے لشکر مدینہ کی طرف روانہ هوگیا ۔دوسری طرف چونکہ ابو سفیان مسلمانوں سے بچ کر نکلنا چاہتاتھا ،لہٰذا اس نے راستہ بدل دیا اور مکہ کی طرف روانہ هو گیا۔
۳۱۳وفادار ساتھیپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۳۱۳ افراد کے ساتھ جن میں تقریباً تمام مجاہدین اسلام تھے سرزمین بدرکے پاس پہنچ گئے تھے یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستے میں ھے یھاں آپ کو قریش کے لشکر کی روانگی کی خبر ملی اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ کیا ابوسفیان کے قافلہ کا تعاقب کیا جائے اور قافلہ کے مال پر قبضہ کیا جائے یا لشکر کے مقابلے کے لئے تیار هواجائے؟ ایک گروہ نے دشمن کے لشکر کامقابلہ کرنے کو ترجیح دی جب کہ دوسرے گروہ نے اس تجویز کو ناپسند کیا اور قافلہ کے تعاقب کو ترجیح دی ،ان کی دلیل یہ تھی کہ ھم مدینہ سے مکہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے ارادہ سے نھیں نکلے تھے اور ھم نے اس لشکر کے مقابلے کے لئے جنگی تیاری نھیں کی تھی جب کہ وہ ھماری طرف پوری تیاری سے آرھا ھے ۔اس اختلاف رائے اور تردد میں اس وقت اضافہ هوگیا جب انھیں معلوم تھاکہ دشمن کی تعداد مسلمانوں سے تقریبا تین گنا ھے اور ان کا سازوسامان بھی مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ھے، ان تمام باتوں کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھلے گروہ کے نظریے کو پسند فرمایا اور حکم دیا کہ دشمن کی فوج پر حملہ کی تیاری کی جائے ۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے هوئے تودشمن کو یقین نہ آیا کہ مسلمان اس قدر کم تعداد اور سازو سامان کے ساتھ میدان میں آئے هوں گے ،ان کا خیال تھا کہ سپاہ اسلام کا اھم حصہ کسی مقام پر چھپاهوا ھے تاکہ وہ غفلت میں کسی وقت ان پر حملہ کردے لہٰذا انهوں نے ایک شخص کو تحقیقات کے لئے بھیجا، انھیں جلدی معلوم هوگیا کہ مسلمانوں کی جمعیت یھی ھے جسے وہ دیکھ رھے ھیں ۔دوسری طرف جیسا کہ ھم نے کھا ھے مسلمانوںکاایک گروہ وحشت وخوف میں غرق تھا اس کا اصرار تھا کہ اتنی بڑی فوج جس سے مسلمانوں کا کوئی موازنہ نھیں ، خلاف مصلحت ھے، لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدا کے وعدہ سے انھیں جوش دلایا اور انھیں جنگ پر اُبھارا، آپ نے فرمایا :کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ دوگرو هوں میں سے ایک پر تمھیں کا میابی حاصل هوگی قریش کے قافلہ پر یا لشکر قریش پراور خداکے وعدہ کے خلاف نھیں هوسکتا۔خدا کی قسم ابوجھل اور کئی سرداران قریش کے لوگوں کی قتل گاہ کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رھا هوں ۔اس کے بعد آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بدر کے کنوئیں کے قریب پڑاؤ ڈالیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھلے سے خواب میں اس جنگ کا منظر دیکھا تھا، آپ نے د یکھا کہ دشمن کی ایک قلیل سی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں آئی ھے، یہ در اصل کامیابی کی ایک بشارت تھی آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں کے سامنے بیان کردیا، یہ بات مسلمانوں کے میدان بدر کی طرف پیش روی کے لئے ان کے جذبہ اور عزم کی تقویت کا باعث بنی۔البتہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ خواب صحیح دیکھا تھا کیونکہ دشمن کی قوت اور تعداد اگرچہ ظاھراً بہت زیادہ تھی لیکن باطناً کم، ضعیف اور ناتواں تھی، ھم جانتے ھیں کہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر کا پھلو رکھتے ھیں، اور ایک صحیح خواب میں کسی مسئلے کا باطنی چھرہ آشکار هوتا ھے۔
قریش کا ایک ہزار کا لشکراس ہنگامے میں ابوسفیان اپنا قافلہ خطرے کے علاقے سے نکال لے گیا ۔اصل راستے سے ہٹ کردریائے احمر کے ساحل کی طرف سے وہ تیزی سے مکہ پہنچ گیا ۔ اس کے ایک قاصدکے ذریعے لشکر کو پیغام بھیجا:خدانے تمھارا قافلہ بچالیا ھے میرا خیال ھے کہ ان حالات میں محمد کامقابلہ کرنا ضروری نھیں کیونکہ اس کے اتنے دشمن ھیں جو اس کا حساب چکالیں گے ۔لشکر کے کمانڈرابوجھل نے اس تجویز کو قبول نہ کیا ، اس نے اپنے بتوں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی کہ نہ صرف ان کا مقابلہ کریں گے بلکہ مدینہ کے اندر تک ان کا تعاقب کریں گے یا انھیں قیدکرلیں گے اور مکہ میں لے آئیں گے تاکہ اس کامیابی کا شھرہ تمام قبائل عرب کے کانوں تک پہنچ جائے ۔ آخر کارلشکر قریش بھی مقام بدر تک آپہنچا، انهوں نے اپنے غلام کوپانی لانے کے لئے کنویں کی طرف بھیجے ،اصحاب پیغمبر نے انھیں پکڑلیا اور ان سے حالات معلوم کرنے کے لئے انھیں خدمت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں لے آئے حضرت نے ان سے پوچھا تم کون هو ؟ انهوں نے کھا : ھم قریش کے غلام ھیں ، فرمایا: لشکر کی تعداد کیا ھے ؟ انهوں نے کھا : ھمیں اس کا پتہ نھیں، فرمایا : ھرروز کتنے اونٹ کھانے کے لئے نحرکرتے ھیں ؟ انهوں نے کھا : نو سے دس تک، فرمایا: ان کی تعداد ۹سوسے لے کر ایک ہزار تک ھے (ایک اونٹ ایک سو فوجی جوانوںکی خواراک ھے ) ۔ماحول پُر ھیبت اور وحشت ناک تھا لشکر قریش کے پاس فراواں جنگی سازوسامان تھا ۔ یھاں تک کہ حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ گانے بجانے والی عورتوں کو بھی ساتھ لائے تھے ۔ اپنے سامنے ایسے حریف کو دیکھ رھے تھے کہ انھیں یقین نھیں آتا تھا کہ ان حالات میں وہ میدان جنگ میں قدم رکھے گا۔
مسلمانو! فرشتے تمھاری مدد کریں گےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دیکھ رھے تھے کہ ممکن ھے آپ کے اصحاب خوف ووحشت کی وجہ سے رات میں آرام سے سونہ سکیں اور پھر کل دن کو تھکے هوئے جسم اور روح کے ساتھ دشمن کے مقابل هوں لہٰذا خدا کے وعدے کے مطابق ان سے فرمایا:تمھاری تعداد کم هوتو اس کا غم نہ کر، آسمانی فرشتوں کی ایک عظیم جماعت تمھاری مدد کے لئے آئے گی، آپ نے انھیں خدائی وعدے کے مطابق اگلے روز فتح کی پوری تسلی دے کر مطمئن کردیا اور وہ رات آرام سے سوگئے۔دوسری مشکل جس سے مجاہدین کو پریشانی تھی وہ میدان بدر کی کیفیت تھی ،ان کی طرف زمین نرم تھی اور اس میں پاؤں دھنس جاتے تھے اسی رات یہ هوا کہ خوب بارش هوئی ،اس کے پانی سے مجاہدین نے وضو کیا ، غسل کیا اور تازہ دم هوگئے ان کے نیچے کی زمین بھی اس سے سخت هوگئی ،تعجب کی بات یہ ھے کہ دشمن کی طرف اتنی زیادہ بارش هوئی کہ وہ پریشان هوگئے ۔دشمن کے لشکر گاہ سے مسلمان جاسوسوں کی طرف سے ایک نئی خبر موصول هوئی اور جلد ھی مسلمانوں میں پھیل گئی ، خبریہ تھی کہ فوج قریش اپنے ان تمام وسائل کے باوجود خو فزدہ ھے گویا وحشت کا ایک لشکر خدا نے ان کے دلوں کی سرزمین پر اتار دیا تھا ،اگلے روز چھوٹا سا اسلامی لشکر بڑے ولولے کے ساتھ دشمن کے سامنے صف آراء هوا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھلے انھیں صلح کی تجویز پیش کی تاکہ عذر اور بھانہ باقی نہ رھے، آپ نے ایک نمائندے کے ھاتھ پیغام بھیجا کہ میں نھیں چاہتا کہ تم وہ پھلا گروہ بن جاؤ کہ جس پر ھم حملہ آور هوں ، بعض سردار ان قریش چاہتے تھے یہ صلح کا ھاتھ جوان کی طرف بڑھایا گیا ھے اسے تھام لیں اور صلح کرلیں، لیکن پھر ابوجھل مانع هوا۔
ستر قتل ستر اسیرآخرکار جنگ شروع هوئی ،اس زمانے کے طریقے کے مطابق پھلے ایک کے مقابلے میں ایک نکلا ،ادھر لشکر اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا حمزہ اور حضرت علی علیہ السلام جوجو ان ترین افراد تھے میدان میں نکلے، مجاہدین اسلام میں سے چند اور بھادر بھی اس جنگ میں شریک هوئے ،ان جوانوں نے اپنے حریفوں کے پیکر پر سخت ضربیں لگائیں اور کاری وار کئے اور ان کے قدم اکھاڑدیئے ،دشمن کا جذبہ اور کمزور پڑگیا ،یہ دیکھا تو ابوجھل نے عمومی حملے کا حکم دے دیا ۔ابوجھل پھلے ھی حکم دے چکا تھا کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے جو اھل مدینہ میں سے ھیں انھیں قتل کردو ، مھاجرین مکہ کو اسیر کرلو مقصدیہ تھا کہ ایک طرح کے پر وپیگنڈا کے لئے انھیں مکہ لے جائیں ۔یہ لمحات بڑے حساس تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جمعیت کی کثرت پر نظر نہ کریں اور صرف اپنے مد مقابل پر نگاہ رکھیں دانتوں کو ایک دوسرے پررکھ کر پیسیں ، باتیں کم کریں ، خدا سے مدد طلب کریں ، حکم پیغمبر سے کھیں رتی بھر سرتابی نہ کریں اور مکمل کامیابی کی امید رکھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دست دعا آسمان کی طرف بلند کئے اور عرض کیا : “پالنے والے! اگر یہ لوگ قتل هوگئے تو پھر تیری عبادت کوئی نھیں کرے گا”۔دشمن کے لشکر کی سمت میں سخت هوا چل رھی تھی اور مسلمان هوا کی طرف پشت کرکے ان پر حملے کررھے تھے ۔ ان کی استقامت ، پامردی اور دلاوری نے قریش کا ناطقہ بندکردیا ابوجھل سمیت دشمن کے ستر آدمی قتل هوگئے ان کی لاشیں خاک وخون میں غلطاں پڑی تھیں سترا فراد مسلمانوں کے ھاتھوں قید هوگئے مسلمانوں کے بہت کم افراد شھید هوئے ۔اس طرح مسلمانوں کی پھلی مسلح جنگ طاقتور دشمن کے خلاف غیر متوقع کامیابی کے ساتھ اختتام پذیزر هوئی ۔جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں ۷۷مھاجر تھے اور دوسو چھتیس (۲۳۶) انصار، مھاجرین کا پرچم حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھ میں تھا، اور انصار کا پرچم بردار” سعد بن عبادہ” تھے، اس عظیم معرکہ کے لئے ان کے پاس صرف ۷۰ اونٹ دو گھوڑے، ۶زرھیں اور آٹھ تلواریں تھیں، دوسری طرف دشمن کی فوج ہزار افراد سے متجاوز تھی، اس کے پاس کافی ووافی اسلحہ تھا اور ایک سو گھوڑے تھے، اس جنگ۲۲مسلمان شھید هوئے ان میں چودہ مھاجر او ر۸انصار تھے، دشمن کے ستر(۷۰) افراد مارے گئے اور ستر ھی قیدی هوئے، اس طرح مسلمانوں کو فتح نصیب هوئی اور یوں مکمل کامرانی کے ساتھ وہ مدینہ کی طرف پلٹ گئے۔واقعاً یہ عجیب و غریب بات تھی کہ تواریخ کے مطابق مسلمانوں کے چھوٹے سے لشکر کے مقابلہ میں قریش کی طاقتور فوج نفسیاتی طور پر اس قدر شکست خودرہ هوچکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ مسلمانوں سے جنگ کرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل میں سوچتے کہ یہ عام انسان نھیں ھیں، بعض کہتے ھیں کہ یہ موت کو اپنے اونٹوں پر لادکر مدینہ سے تمھارے لئے سوغات لائے ھیں۔”سعدبن معاذانصاری “نمائندہ کے طور پر خدمت پیغمبر میں حاضر هوئے اور عرض کرنے لگے :میرے ماں پاپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول ! ھم آپ پر ایمان لائے ھیں اور ھم نے آپ کی نبوت کی گواھی دی ھے کہ جو کچھ آپ کہتے ھیںخدا کی طرف سے ھے، آپ جو بھی حکم دینا چاھیں دیجئے اور ھمارے مال میں سے جو کچھ آپ چاھیں لے لیں، خدا کی قسم اگر آپ ھمیں حکم دیں کہ اس دریا ( دریائے احمر کی طرف اشارہ کرتے هوئے ،جووھاں سے قریب تھا ) میںکود پڑو تو ھم کو د پڑیں گے ھماری یہ آرزو ھے کہ خدا ھمیں توفیق دے کہ ایسی خدمت کریں جو آپ کی آنکھ کی روشنی کا باعث هو۔روز بدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:زمین سے مٹی اور سنگریزوں کی ایک مٹھی بھر کے مجھے دیدو۔حضرت علی علیہ السلام نے ایسا ھی کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے مشرکین کی طرف پھینک دیا اور فرمایا:”شاہت الوجوہ”(تمھارے منھ قبیح اور سیاہ هوجائیں)لکھا ھے کہ معجزانہ طور پر گرد و غبار اور سنگریزے دشمن کی آنکھوں میں جا پڑے اور سب وحشت زدہ هوگئے۔
مجاہدین کی تشویقابن عباسۻ سے منقول ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنگ بدر کے روز مجاہدین اسلام کی تشویق کے لئے کچھ انعامات مقررکیے مثلاً فرمایا کہ جو فلاں دشمن کو قید کر کے میرے پاس لائے گا اُسے یہ انعام دوں گا ان میں پھلے ھی روح ایمان وجھاد موجود تھی اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ هو اکہ جوان سپاھی بڑے افتخار سے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے اور اپنے مقصد کی طرف لپکے بوڑھے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجودرھے جب جنگ ختم هوئی تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات کے لئے بارگاہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف بڑھے، بوڑھے ان سے کہنے لگے کہ اس میں ھمارا بھی حصہ ھے کیونکہ ھم تمھارے لئے پناہ اور سھارے کاکام کررھے تھے اور تمھارے لئے جوش وخروش کا باعث تھے اگر تمھارا معاملہ سخت هوجاتاھے تو تمھیں پیچھے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ھماری طرف آتے اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تو میں میں بھی هوگئی اور انهوں نے جنگی غنائم کے بارے میں بحث کی ۔اس اثناء میں سورہٴ انفال کی پھلی آیت نازل هوئی جس میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا کہ غنائم کا تعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ھے وہ جیسے چاھیں انھیں تقسیم فرمائیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی مساوی طور پر سب سپاھیوں میں غنائم تقسیم کردیئے اور برادران دینی میں صلح ومصالحت کا حکم دیا ۔
جنگ کا خاتمہ اور اسیروں کا واقعہجنگ بدر کے خاتمہ پر جب جنگی قیدی بنالئے گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ حکم دیاکہ قیدیوں میں سے دو خطر ناک افراد عقبہ اور نضر کو قتل کردیاجائے تو اس پر انصار گھبراگئے کہ کھیں ایسا نہ هو کہ یہ حکم تمام قیدیوں کے متعلق جاری هوجائے اور وہ فدیہ لینے سے محروم هوجائیں ) لہٰذا انهوں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا : ھم نے سترآدمیوں کو قتل کیا ھے اور سترھی کو قیدی بنایا ھے اور یہ آپ کے قبیلے میں سے آپ ھی کے قیدی ھیں ،یہ ھمیں بخش دیجئے تاکہ ھم ان کی آزادی کے بدلے فدیہ لے سکیں ۔(رسول اللہ اس کے لئے وحی آسمانی کے منتظر تھے ) اس موقع پروحی الٰھی نازل هوئی اورقیدیوں کی آزادی کے بدلے فدیہ لینے کی اجازت دیدی گئی ۔اسیروں کی آزادی کے لئے زیادہ سے زیادہ چار ہزار درھم اور کم سے کم ایک ہزار درھم معین کی گئی، یہ بات قریش کے کانوں تک پهونچی تو انھوں نے ایک ایک کے بدلے معین شدہ رقم بھیج کرا سیروں کو آزاد کرالیا۔تعجب کی بات یہ ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا داماد ابوالعاص بھی ان قیدیوں میں تھا ،رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی یعنی زینب جو ابولعاص کی بیوی تھی نے وہ گلو بند جو جناب خدیجہۺ نے ان کی شاد ی کے وقت انھیںدیا تھا فدیہ کے طور پررسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیجا،جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ گلو بند پر پڑی تو جناب خدیجہۻ جیسی فداکار اور مجاہدہ خاتون کی یاد یں ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم هوگئیں ،آپ نے فرمایا:خدا کی رحمت هو خدیجہۺ پر ،یہ وہ گلو بند ھے جو اس نے میری بیٹی زینب کو جھیز میں دیا تھا(اور بعض دوسری روایات کے مطابق جناب خدیجہۺ کے احترام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گلو بند قبول کرنے سے احرازکیا اور حقوق مسلمین کو پیش نظر کرتے هوئے اس میںان کی موافقت حاصل کی)۔اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوالعاص کو اس شرط پر آزاد کردیا کہ وہ زینب کو (جو اسلام سے پھلے ابوالعاص کی زوجیت میں تھیں )مدینہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیج دے ، اس نے بھی اس شرط کو قبول کرلیا او ربعد میں اسے پورا بھی کیا۔
آنحضرت کے چچا عباس کا اسلام قبول کرناانصار کے کچھ آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اجازت چاھی کہ آپ کے چچا عباس جو قیدیوں میں تھے ان سے آپ کے احترام میں فدیہ نہ لیا جائے لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”خداکی قسم اس کے ایک درھم سے بھی صرف نظر نہ کرو”( اگر فدیہ لینا خدائی قانون ھے تو اسے سب پر جاری هونا چاہئے ،یھاں تک کہ میرے چچا پر بھی اس کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نھیں ھے۔)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عباسۻ کی طرف متوجہ هوئے اور فرمایا: اپنی طرف سے او راپنے بھتیجے ( عقیل بن ابی طالب) کی طرف سے آپ کو فدیہ ادا کرنا چاہئے۔عباسۻ ( جو مال سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے ) کہنے لگے: اے محمد! کیا تم چاہتے هو کہ مجھے ایسا فقیر او رمحتاج کردو کہ میں اھل قریش کے سامنے اپنا ھاتھ پھیلاؤں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اس مال میںسے فدیہ ادا کریں جو آپ نے اپنی بیوی ام الفضل کے پاس رکھا تھا اور اس سے کھا تھا کہ اگر میں میدان جنگ میں مارا جاؤں تو اس مال کو اپنے اور اپنی اولاد کے مصارف کے لئے سمجھنا۔عباس یہ بات سن کر بہت متعجب هوئے اور کہنے لگے: آپ کو یہ بات کس نے بتائی ( حالانکہ یہ تو بالکل محرمانہ تھی )؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جبرئیل نے، خدا کی طرف سے۔عباسۻ بولے : اس کی قسم کہ جس کی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قسم کھاتا ھے کہ میرے اور میری بیوی کے علاوہ اس راز سے کوئی آگاہ نہ تھا۔اس کے بعد وہ پکار اٹھے: “اشھد انک رسول اللہ”( یعنی میں گواھی دیتا هوں کہ آپ اللہ کے رسول ھیں)اور یوں وہ مسلمان هوگئے۔آزادی کے بعد بدر کے تمام قیدی مکہ لوٹ گئے لیکن عباس، عقیل اور نوفل مدینہ ھی میں رہ گئے کیونکہ انهوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔عباسۻ کے اسلام لانے کے بارے میںبعض تواریخ میںھے کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ مکہ کی طرف پلٹ گئے تھے اور خط کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سازش سے باخبر کیا کرتے تھے ، پھر ۸ سے پھلے فتح مکہ کے سال مدینہ کی طرف ہجرت کر آئے۔
————————–[41] واقعہ جنگ بدر سورہ انفال آیات ۵ تا ۱۸کے ذیل میں بیان هوئی ھے ۔[42] پیغمبراور ان کے اصحاب ایسا کرنے کا حق رکھتے تھے کیونکہ مسلمان مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے آئے تو اھل مکہ نے ان کے بہت سے اموال پر قبضہ کرلیا تھا جس سے مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہٰذا وہ حق رکھتے تھے کہ اس نقصان کی تلافی کریں ۔اس سے قطع نظر بھی اھل مکہ نے گذشتہ تیرہ برس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں سے جو سلوک روارکھا اس سے بات ثابت هوچکی تھی وہ مسلمانوں کو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے کے لئے کوئی موقع ھاتھ سے نھیں گنوائیں گے یھاں تک کہ وہ خودپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے پر تل گئے تھے ایسا دشمن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہجرت مدینہ کی وجہ سے بے کار نھیں بیٹھ سکتا تھا واضح تھا کہ وہ قاطع ترین ضرب لگانے کے لئے اپنی قوت مجتمع کرتا پس عقل ومنطق کا تقاضا تھا کہ پیش بندی کے طورپر ان کے تجارتی قافلے کو گھیر کر اس کے اتنے بڑے سرمائے کو ضبط کرلیا جاتا تاکہ اس پر ضرب پڑے اور اپنی فوجی اور اقتصادی بنیاد مضبوط کی جاتی ایسے اقدامات آج بھی اور گذشتہ ادوار میں بھی عام دنیا میں فوجی طریق کار کا حصہ رھے ھیں ،جولوگ ان پھلوؤں کو نظر اندازکرکے قافلے کی طرف پیغمبر کی پیش قدمی کو ایک طرح کی غارت گری کے طور پر پیش کرنا چاہتے ھیں یاتو وہ حالات سے آگاہ نھیں اور اسلام کے تاریخی مسائل کی بنیادوں سے بے خبر ھیں اور یا ان کے کچھ مخصوص مقاصد ھیں جن کے تحت وہ واقعات وحقائق کو توڑمروڑکر پیش کرتے ھیں ۔
جنگ خیبر کا واقعہ