فدک

325

لہٰذا پیغمبر نے یہ ساری زمینیں اپنی بیٹی حضرت فاطمة الزھرا سلام اللہ علیھا کوعنایت فرمادیں۔ یہ ایسی حقیقت ھے جسے بہت سے شیعہ اور اھل سنت مفسرین نے تصریح کے ساتھ تحریر کیا ھے۔منجملہ دیگر مفسرین کے تفسیر درالمنثور میں ابن عباسۻ سے مروی ھے کہ جس وقت آیت (فات ذاالقربیٰ حقہ)[111] نازل هوئی تو پیغمبر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو فدک عنایت فرمایا:کتا ب کنزالعمال جو مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی گئی ھے،میں صلہ رحم کے عنوان کے ماتحت ابو سعید خدری سے منقول ھے کہ جس وقت مذکورہ بالاآیت نازل هوئی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ سلام اللہ علیھا کو طلب کیا اور فرمایا:” یا فاطمة لکِ فدک””اے فاطمہ(ع) فدک تیری ملکیت ھے”۔حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو تحریرکیا ھے۔ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی نہج البلاغہ کی شرح میں داستان فدک تفصیل کے ساتھ بیان کی ھے اور اسی طرح بہت سے دیگر مورخین نے بھی،لیکن وہ افراد جو اس اقتصادی قوت کو حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے قبضہ میں رہنے دینا اپنی سیاسی قوت کے لئے مضر سمجھتے تھے،انهوں نے مصصم ارادہ کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے یاور وانصار کو ھر لحاظ سے کمزور اور گوشہ نشیں کردیں۔ حدیث مجهول(نحن معاشر الانبیاء ولا نورث) کے بھانے انهوں نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور باوجود یکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا قانونی طور پر اس پر متصرف تھیں اور کوئی شخص “ذوالید”(جس کے قبضہ میں مال هو)سے گواہ کا مطالبہ نھیں کرتا،جناب سیدہ سلام اللہ علیھا سے گواہ طلب کیے گئے ۔ بی بی نے گواہ پیش کیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود انھیں فدک عطا فرمایا ھے لیکن انهوں نے ان تمام چیزوں کی کوئی پرواہ نھیں کی۔بعد میں آنے والے خلفاء میں سے جو کوئی اھلبیت (ع) سے محبت کا اظھار کرتا تو وہ فدک انھیں لوٹا دیتا لیکن زیادہ دیر نہ گزرتی کہ دوسرا خلیفہ اسے چھین لیتا اور دوبارہ اس پر قبضہ کرلیتا ۔ خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس بارھا یہ اقدام کرتے رھے ۔واقعہ فدک اور اس سے تعلق رکھنے والے مختلف النوع حوادث جو صدر اسلام میں اور بعد کے ادوار میں پیش آئے،زیادہ دردناک اورغم انگیز ھیں اور وہ تاریخ اسلام کا ایک عبرت انگیز حصہ بھی ھیں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ کا متقاضی ھے تا کہ تاریخ اسلام کے مختلف حوادث نگاهوں کے سامنے آسکیں۔قابل توجہ بات یہ ھے کہ اھل سنت کے نامور محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری نے اپنی مشهور و معروف کتاب “صحیح مسلم” میں جناب فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کا خلیفہ اول سے فدک کے مطالبہ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ھے، اور جناب عائشہ کی زبانی نقل کیا ھے کہ جناب فاطمہ کو جب خلیفہ اول نے فدک نھیں دیا تو بی بی ان سے ناراض هوگئی اور آخر عمر ان سے کوئی گفتگو نھیں کی۔(صحیح مسلم،کتاب جھاد ج۳ص۱۳۸۰حدیث ۵۲)”نحن معاشر الانبیاء لا نورث”اھل سنت کی مختلف کتابوں میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف منسوب ایک حدیث موجود ھے جو اس طرح کے مضمون پر مشتمل ھے:”نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناہ صدقة””ھم پیغمبر لوگ اپنی میراث نھیں چھوڑتے جو ھم سے رہ جائے اسے راہ خدا میں صدقے کے طور پر خرچ کردیا جائے”۔اور بعض کتابوں میں “لا نورث”کا جملہ نھیں ھے بلکہ”ما ترکناہ صدقة”کی صورت میں نقل کیا گیا ھے ۔اس روایت کی سند عام طور پر ابوبکر تک جا کر ختم هوجاتی ھے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد مسلمانوں کی زمام امور اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ اور جب حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا یا پیغمبر اکرم کی بعض بیویوں نے ان سے پیغمبر کی میراث کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس حدیث کا سھارا لےکر انھیں میراث سے محروم کردیا۔اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (جلد ۳ کتاب الجھاد والسیر ۔ص۔۱۳۷۹)میں ،بخاری نے جزو ہشتم کتاب الفرائض کے صفحہ ۱۸۵۔پر اور اسی طرح بعض دیگر افراد نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ھے۔یہ بات قابل توجہ ھے کہ مذکورہ کتابوں میں سے بخاری میں بی بی عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ھے:فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور جناب عباس بن عبد المطلب (رسول کی وفات کے بعد )ابو بکر کے پاس آئے اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت انھوں نے اپنی فدک کی اراضی اور خیبر سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا تو ابو بکر نے کھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ھے کہ آپ نے فرمایا۔”ھم میراث میں کوئی چیز نھیں چھوڑتے،جو کچھ ھم سے رہ جائے وہ صدقہ هوتا ھے”۔جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا نے جب یہ سنا تو نا راض هو کر وھاں سے واپس آگئیں اور مرتے دم تک ان سے بات نھیں کی۔البتہ یہ حدیث مختلف لحاظ سے تجزیہ و تحلیل کے قابل ھے لیکن اس تفسیر میں ھم چند ایک نکات بیان کریں گے:۱۔یہ حدیث،قرآنی متن کے مخالف ھے اور اس اصول اور کلیہ قاعدہ کی رو سے نا قابل اعتبار ھے کہ جو بھی حدیث کتاب اللہ کے مطابق نہ هو اس پر اعتبار نھیں کرنا چاھیے اور ایسی حدیث کو پیغمبر اسلام یا دیگر معصومین علیھم السلام کا قول سمجھ کر قبول نھیں کیا جا سکتا۔ھم قرآنی آیات میں پڑھتے ھیں کہ حضرت سلیمان(ع) جناب داؤد (ع) کے وارث بنے اورآیت کا ظاھر مطلق ھے کہ جس میں اموال بھی شامل ھیں۔ جناب یحییٰ(ع) اور زکریا (ع) کے بارے میں ھے:”یرثنی ویرث من اٰل یعقوب”[112]”خداوندا! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے”۔حضرت”زکریا(ع)”کے بارے میں تو بہت سے مفسرین نے مالی وراثت پر زور دیا ھے۔اس کے علاوہ قرآن مجیدمیں”وراثت”کی آیات کا ظاھر بھی عمومی ھے کہ جو بلا استثناء سب کے لئے ھے۔شاید یھی وجہ ھے کہ اھل سنت کے مشهور عالم علامہ قرطبی نے مجبور هوکر اس حدیث کو غالب اور اکثر فعل کی حیثیت سے قبول کیا ھے نہ کہ عمومی کلیہ کے طور پر اور اس کے لئے یہ مثال دی ھے کہ عرب ایک جملہ کہتے ھیں:”انا معشرالعرب اقری الناس للضیف”۔ھم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ کر مھمان نوازھیں (حالانکہ یہ کوئی عمومی حکم نھیں ھے)۔لیکن ظاھر ھے کہ یہ بات اس حدیث کی اھمیت کی نفی کررھی ھے کیونکہ حضرت سلیمان(ع) اور یحییٰ(ع) کے بارے میں اس قسم کا عذر قبول کرلئے تو پھر دوسرے کے لئے بھی یہ قطعی نھیں رہ جاتی۔۲۔مندرجہ بالا روایت ان کے خلاف ھے جن سے معلوم هوتا هو کہ ابو بکر نے جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو فدک واپس لوٹا نے کا پختہ ارادہ کر کیا تھا لیکن دوسرے لوگ اس میںحائل هوگئے تھے چنانچہ سیرت حلبی میں ھے:فاطمہ بنت رسول ،ابو بکر کے پاس اس وقت آئیں جب وہ منبر پر تھے ۔ انھوں نے کھا:”اے ابو بکر! کیا یہ چیز قرآن میں ھے کہ تمھاری بیٹی تمھاری وراث بنے لیکن میں اپنے باپ کی میراث نہ لوں”؟یہ سن کر ابو بکر رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری هوگئے پھر وہ منبر سے نیچے اترے اور فدک کی واپسی کا پروانہ فاطمہ کو لکھ دیا۔ اسی اثناء میں عمر آگئے ۔ پوچھا یہ کیا ھے؟انھوں نے کھاکہ میں نے یہ تحریر لکھ دی ھے تا کہ فاطمہ کو ان کے باپ سے ملنے والی وراثت واپس لوٹا دوں!عمر نے کھا: اگرآپ یہ کام کریں گے تو پھر دشمنوں کے ساتھ جنگی اخراجات کھاں سے پورے کریں گے؟جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیا هوا ھے ۔ یہ کھا اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کردیا۔[113]یہ کیونکر ممکن ھے کہ پیغمبر اکرم نے تو صریحی طور پر ممانعت کی هو اور ابو بکر اس کی مخالفت کی جراٴت کریں؟اور پھر عمر نے جنگی اخراجات کا تو سھارا لیا لیکن پیغمبر اکرم کی حدیث پیش نھیں کی۔مندرجہ بالا روایت پر اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم هوگاکہ یھاں پر پیغمبر اسلام کی طرف سے ممانعت کا سوال نھیں تھا۔ بلکہ سیاسی مسائل آڑے تھے اور ایسے موقع پر معتزلی عالم ابن ابی الحدید کی گفتگو یادآجاتی ھے۔ وہ کہتے ھیں:میںنے اپنے استاد” علی بن فارقی” سے پوچھا کہ کیا فاطمہ اپنے دعویٰ میں سچی تھیں ؟ تو انھوں نے کھا جی ھاں ! پھر میں نے پوچھا تو ابوبکر انھیں سچا اور بر حق بھی سمجھتے تھے ۔اس موقع پر میرے استاد نے معنی خیز تبسم کے ساتھ نھایت ھی لطیف اور پیارا جواب دیا حالانکہ انکی مذاق کی عادت نھیں تھی،انھوں نے کھا:اگر وہ آج انھیں صرف ان کے دعویٰ کی بناء پر ھی فدک دےدیتے تو پھر نہ تو ان کے لئے کسی عذر کی گنجائش باقی رہتی اور نہ ھی ان سے موافقت کا امکان”۔[114]۳۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک مشهور حدیث ھے جسے شیعہ اور سنی سب نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ھے،حدیث یہ ھے: “العلماء ورثة الانبیاء”۔ “علماء انبیاء کے وارث هوتے ھیں”۔نیز یہ قول بھی آنحضرت ھی سے منقول ھے: “ان الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولا درھماً”۔ “انبیاء اپنی میراث میں نہ تودینار چھوڑتے ھیں اور نہ ھی درھم”۔ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے یوں معلوم هوتا ھے کہ آپ کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ بات باور کرائیں کہ انبیاء کے لئے سرمایہ افتخار ان کا علم ھے اور اھم ترین چیز جو وہ یادگارکے طور پر چھوڑ جاتے ھیں ان کا ہدایت و راہنمائی کا پروگرام ھے اور جو لوگ علم و دانش سے زیادہ بھرہ مند هوں گے وھی انبیاء کے اصلی وارث هوں گے۔ بجائے اس کے کہ ان کی مال پر نگاہ هو اور اسے یادگار کے طور پر چھوڑجائیں ۔ اس کے بعد اس حدیث کے نقل بہ معنی کردیا گیا اور اس کی غلط تعبیریں کی گئیں اور شاید”ماترکناہ صدقة” والے جملے کا بعض روایات میںاس پر اضافہ کردیا گیا۔
———————[111] سورہٴ روم آیت ۳۸۔[112] سورہٴ مریم آیت ۶.[113] سیرہٴ حلبی ج۳/ص۳۶۱۔[114] شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید جلد۔۱۶۔ص۔۲۸۴۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.