عدد ائمہ اہلبیت (ع)
عدد ائمہ اہلبیت (ع)
75 ۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم سے جمعہ کے دن ” رجم ِاسلمی کی شام“ یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین یونہی قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفاء قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفا ء نہ گذر جائیں جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔( صحیح مسلم 3 / 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 410 / 20869 ، مسند ابویعلی ٰ 6 / 473 / 7429 ۔ آخر الذکر دونوں روایات میں ” یا“ کے بجائے ” اور “ کا ذکر کیا گیا ہے۔
76۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم کو یہ کہتے سناہے کہ امت کے بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سن نہیں سکا تو میرے والد نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہ تھا کہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ (صحیح بخاری 6 /2640 / 6796)۔
77۔جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم کو یہ فرماتے سناہے کہ یہ امر دین یونہی چلتا رہے گا جب تک بارہ افراد کی حکومت رہے گی اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نے سن سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔ ( صحیح مسلم 3 ص 1452 خصال 473 / 27)۔
78۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا اور قریب والے سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ کہا تھا۔( سنن ترمذی 4 ص501 /2223 ، مسند ابن حنبل 7/ 430 / 20995)۔
79۔جابر بن سمرہ ! میں نے رسول اکرم کی زبان سے سنا کہ اسلام بارہ خلفاء تک باعزّت رہے گا، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے فرمایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔( صحیح مسلم 3 ص 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 412 / 20882، سنن ابی داؤد 4 / 106 / 4280 )۔
80۔ ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ رسول اکرم کی خدمت میں تھا جب آپ نے فرمایا کہ میرے امت کے امور درست رہیں گے یہاں تک کہ بارہ خلیفہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سن سکا تو میں نے چچا سے دریافت کیا جو میرے سامنے کھڑے تھے تو انھوں نے بتایا کہ کلھم من قریش فرما یا تھا۔( مستدرک 716 / 6589 ، المعجم الکبیر 22 / 120 / 308 ، تاریخ کبیر 8/ 411 / 5320 ، امالی صدوق(ر) 255 /8)۔
81 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ یہ امر دین تمام نہ ہوگا جب تک بارہ خلیفہ نہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا تو اپنے والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ آپ نے کلھم من قریش فرمایا تھا( تاریخ واسط ص 98 ، خصال ص 1670)۔
82 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اکرم کے پاس تھا جب آپ سے یہ ارشاد سنا کہ میرے بارہ خلیفہ ہوں گے ، اس کے بعد آپ کی آواز دھیمی ہوگئی اور میں نہ سن سکا تو بابا سے دریافت کیا کہ یہ دھیرے سے کیا فرمایا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من بني ھاشم“ فرمایا تھا۔( ینابیع المودة 3 ص 290 ، احقاق الحق 13 ص 30)۔
83 ۔ مسروق کا بیان ہے کہ یہ سب عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے اور وہ قرآن پڑھا رہے تھا کہ ایک شخص نے دریافت کرلیا ” یا ابا عبدالرحمٰان ! کیا آپ نے کبھی حضور سے دریافت کیا ہے کہ اس ا مت میں کتنے خلفاء حکومت کریں گے ! تو ابن مسعود نے کہا کہ جب سے میں عراق سے آیاہوں آج تک کسی نے یہ سوال نہیں کیا لیکن تم نے پوچھ لیا ہے تو سنو ! میں نے حضور سے دریافت کیا تھا تو انھوں نے فرمایا تھا بارہ ۔ جتنے بني اسرائیل کے نقیب تھے۔( مسند ابن حنبل 2 ص 55 / 3781 ، مستدرک 4 ص 546 / 8529)۔
84 ۔ابوسعید نے امام (ع) باقر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ میری اولاد میں بارہ نقیب پیدا ہوں گے جو سب کے سب طیّب و طاہر اور خدا کی طرف سے صاحبان فہم او ر محدّث ہوں گے، ان کا آخری حق کے ساتھ قیام کرنے والا ہوگا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی ۔( کافی 1 ص 534/18)۔
85 ۔ ابن عباس نے ” والسماء ذات البروج“ کی تفسیر میں رسول اکرم سے نقل کیا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ سماء میری ذات ہے اور بروج میرے اہلبیت (ع) اور میری عترت کے ائمہ ہیں جن کے اول علی (ع) ہیں اور آخر مہدی ہوں گے اور کل کے کل 12 ہوں گے ۔(ینابیع المودة 3 ص 254)۔
86۔ امام باقر (ع) نے اپنے والد کے والد کے حوالہ سے امام حسین (ع) سے نقل کیا ہے کہ میں اپنے برادر امام حسن (ع) کے ساتھ جد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہم دونوں کو زانو پر بٹھالیا اور بوسہ دے کر فرمایا کہ میرے ماں باپ قربان ہوجائیں تم جیسے صالح اماموں پر خدا نے تمھیں میری اور علی (ع) و فاطمہ (ع) کی نسل میں منتخب قرار دیا ہے اور اے حسین (ع) تمھارے صلب سے نواماموں کا انتخاب کیا ہے جن میں کانواں قائم ہوگا اور سب کے سب فضل و منزلت میں پیش پروردگار ایک جیسے ہوں گے ۔ (کمال ادین 269 / 12 از ابوحمزہ ثمالی )۔
87 ۔ امام (ع) باقر ہی سے نقل کیا گیا ہے کہ آل محمد کے بارہ امام سب کے سب وہ ہوں گے جن سے ملائکہ باتیں کریں گے اور سب اولاد رسول اور اولاد علی (ع) میں ہوں گے، والدین سے مراد رسول اکرم اور حضرت علی (ع) ہی ہیں۔
( کافی 1 ص 525 ، من لا یحضرہ الفقیہ 4/179 /5406 ، خصال ص 466، عیون اخبار الرضا ص 40 امالی صدوق (ر) 97 ، کمال الدین ص 206 ، ارشاد 2 ص 345 ، کفایة الاثر 69 از انس بن مالک ص 143 ، از امام علی (ع) ص 187 از عائشہ ص 193 از جناب فاطمہ (ع) ص 180 از ام سلمہ ص 244 از اامام باقر (ع) ، اعلام الوریٰ ص 361 ، الغیبة طوسی (ر) ص 92 ، احتجاج طبرسی (ر) 1 ص 169 کامل الزیارات ص 52 ، روضة الواعظین ص 115 ، کتاب سلیم بن قیس الہلالی 2 ص 616 ، الیقین ابن طاؤس ص 244 ، فرائد السمطین 2 ص329 ، بشارة المصطفیٰ ص 192 ، اختصاص ص 233 ، جامع الاخبار ص 61 ، احقاق الحق 2 ص 353 4 ص 103794 ۔ 356 ، 5 ص 493 7 ص 477 ، 13 ص 1 ۔74، 19 ص 628 ، 20 ص 538 ۔
تحقیق احادیث عدد ائمہ (ع)
ان احادیث کا مضمون 75 ء سے 83 ء تک اہل سنت کے مصادر سے نقل کیا گیاہے اور انھیں احادیث کا تذکرہ شیعہ مصادر میں بھی پایا جاتاہے۔ شیخ صدوق (ر) نے خصال میں اس مضمون کی 32 ، احادیث کا تذکرہ کیاہے جس طرح کہ مسند احمد بن حنبل میں جابر بن سمرہ سے تیس روایتیں نقل کی گئی ہیں اور اس طرح اصل مضمون متفق علیہ ہے اور تفصیلات کا اختلاف غالباً سیاسی مقاصد کے تحت پیدا کیا گیاہے۔
# جہاں بعض روایات میں لفظ بعدی حذف کردیا گیاہے۔
# بعض میں لفظ کو امیر سے بدل دیا گیاہے۔
# بعض میں خلیفہ کے بجائے قیّم یا ملک کہا گیاہے۔(معجم کبیر 2 ص 196 / 1794 ،) خصال ص 471 /19۔
# بعض میں قیامت تک اسلام کے مسائل کو بارہ خلفاء سے مربوط کیا گیا ہے اور بعض میں قیامت کا ذکر نکال دیا گیاہے۔
# بعض میں مصالح امت کو خلفاء کی ولایت سے مربوط کیا گیاہے اور بعض میں اس نکتہ کو نظر انداز کردیا گیاہے۔
# بعض روایات میں اسلامی سماج کے جملہ معاملات کو ان حضرات کی ولایت سے متعلق کیا گیاہے اور بعض میں اس کے بیان سے پہلو تہی کی گئی ہے۔
# اور اسطرح مختلف سیاسی حالات نے مختلف طرح کی ترمیم کرادی ہے لیکن مجموعی طورپر دو باتوں پر اتفاق پایا جاتاہے۔
1۔ سرکار دو عالم (ع) نے ان افراد کی تعیین کردی ہے جو ایک طویل مدت تک اسلامی قیادت کی اہلیت رکھتے ہیں۔
2۔ جن ائمہ کی قیادت کو سرکار دو عالم کی تائید حاصل ہے۔ ان کی تعداد بارہ ہے، نہ کم ہے اور نہ زیادہ۔
اور اس طرح روایات شیعہ کو دیکھنے کے بعد یہ حقیقت اور واضح تر ہوجاتی ہے کہ ان حضرات نے ائمہ کے اسماء گرامی اور ان کے جملہ صفات و کمالات کا بھی تذکرہ کیا ہے جس کی وضاحت کا ایک تذکرہ ص 84 سے 87 تک ہوچکاہے اور ایک تذکرہ آئندہ فصل میں کیا جائے گا۔
اس کے بعد اس نکتہ کا اضافہ بھی کیا جاسکتاہے کہ سرکار دو عالم (ع) نے یہ بات حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمائی ہے۔(مسند ابن حنبل 7 ص 405 / 20840)۔
اور میدان عرفات یا منیٰ میں فرمائی ہے یا دونوں جگہ تکرار فرمائی ہے۔(مسند ابن حنبل 7 ص 429 / 20991)۔
اور یہی وہ مواقع ہیں جہاں حدیث ثقلین کا بھی تذکرہ فرمایاہے جو اس بات کی علامت ہے کہ قریش سے مراد یہی ائمہ اہلبیت (ع) ہیں جیسا کہ امیر المؤمنین (ع) نے اپنے خطبہ ص 144 میں فرمایاہے کہ ائمہ قریش بني ہاشم ہی میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ یہ منصب کسی کے لئے نہیں ہے اور نہ کسی قبیلہ میں ایسے صالح حکام پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ روایات میں ان خلفاء کے اوصاف و کمالات کے تذکرہ کا نظر انداز کردینا صرف سیاسی مصالح کی بنیاد پر تھا جس کی وضاحت اس نکتہ سے بھی ہوسکتی ہے کہ بارہ خلفاء ائمہٴ اہلبیت (ع) کے علاوہ اور کسی مقام پر پیدا نہیں ہوئے ہیں اور اگر اس نکتہ کو بحدّ تواتر نقل ہونے والی حدیث ثقلین سے جوڑ دیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے اور مزید ثابت ہوجاتی ہے کہ سرکار دو عالم نے مستقبل کی قیادت کے جملہ علامات اور نشانات کا تذکرہ کردیا تھا اور کسی طرح بھی مسئلہ کو مشتبہہ نہیں رہنے دیا تھا۔
اور بعض علماء محققین نے اس حقیقت کو اس طرح بھی واضح کیا ہے کہ ائمہ قریش سے مراد ” خلفاء راشدین “ کو لیا جائے تو ان کی تعداد بارہ سے کم ہے اور ان میں خلفاء بني امیہ کو جوڑ لیا جائے تو یہ عدد بارہ سے کہیں زیادہ ہوجاتاہے اور ان میں خلافت کی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ سب ظالم اور نالائق تھے اور ایسا انسان خلیفہٴ رسول نہیں ہوسکتاہے۔ اس کے علاوہ ان کا شمار بني ہاشم میں نہیں ہوتاہے اور بعض روایات میں بني ہاشم کی تصریح موجود ہے۔
یہی حال اس وقت ہوگا جب ان خلفاء سے مراد خلفاء بني عباس کو لے لیا جائے کہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ ہے اور ان کے کردار میں بھی ظلم و ستم کی کوئی کم نہیں ہے اور انھوں نے یہ آیت مودت کی کوئی پرواہ کی ہے اور نہ حدیث کساء کی ۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ خلفاء قریش سے مراد صرف ائمہ اہلبیت (ع) ہیں جو اپنے زمانہ میں سب سے اعلم، افضل، اکمل، اورع، اتقی، اکمل و اجمل تھے، نہ نسب میں کوئی ان کا جیسا بلند اور نہ حسب میں کوئی ان سے افضل و برتر، یہ خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقرب اور رسول اکرم سے سب سے زیادہ قریب تر تھے۔
اس حقیقت کی تائید حدیث ثقلین اور دیگر احادیث صحیحہ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ملاصدرا علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ خلفاء قریش کی روایات برادران اہلسنّت کے صحاح اور اصول میں موجود ہے اور ان کی سندیں بھی مذکور ہیں اور ان کے علاوہ و ہ صحاح و مسانید کی روایات بھی ہیں جن میں اس حقیقت کا ذکر کیا گیاہے کہ میرے بعد ائمہ میری عترت سے ہوں گے۔
ان کی تعداد نقباء بني اسرائیل کے برابر ہوگی اور نوحسین (ع) کے صلب سے ہوں گے، جنھیں پروردگار نے میرے علم و فہم کا وارث بنایاہے اور ان کا نواں مہدی ہوگا۔
اور پھر صحاح ستہ میں یہ روایات بھی ہیں کہ مہدی میری عترت میں اولاد فاطمہ (ع) میں ہوگا اور ہ ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور دنیا اس وقت تک فنا نہ ہوگی جب تک عرب میں میرے اہلبیت (ع) میں سے وہ شخص حکومت نہ کرے جس کا نام میرا نام ہوگا۔
یا اگر عمر دنیا میں ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو پروردگار اس دن کو طول دے گا یہاں تک کہ میری نسل سے اس شخص کو بھیج دے جس کا نام میرا نام ہوگا اور ہ ظلم وجور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔
چنانچہ شارح مشکٰوة نے بھی لکھا ہے کہ اس قسم کی روایات سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ خلافت صرف قریش کا حصہ ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتی ہے اور یہ حکم رہتی دنیا تک جاری رہے گا چاہے دو ہی افراد باقی رہ جائیں۔
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی عقل میں فتور اور آنکھ میں اندھاپن نہیں ہے تو وہ اس حقیقت کا بہر حال اعتراف کرے گا کہ رسول اکرم کے بعد ان کے خلفاء یہی بارہ امام ہیں جو سب قریش سے ہیں، انھیں سے دین کا قیام اور اسلام کا استحکام ہے اور یہ عدد اور یہ اوصاف و کمالات ائمہ اثنا عشر کے علاوہ کہیں نہیں پائے جاتے ہیں لہذا یہی سرکار دو عالم کے خلفاء و اولیاء ہیں اور انھیں کا قیام دنیا تک رہنا ضروری ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی ہے۔
اسماء ائمہ اہلبیت (ع)
88۔جابر بن عبداللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ میں جناب فاطمہ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے ایک تختی رکھی تھی جس میں آپ کی اولاد کے اولیاء کے نام درج تھے چنانچہ میں نے کل بارہ نام دیکھے جن میں سے ایک قائم تھا اور تین محمد تھے اور چار علی (ع) ۔( الفقیہ 4 ص 180 / 5408 ، کافی 1 ص 532 /9 ، کمال الدین 269/ 13 ، ارشاد 2 /346 ، فرائد السمطین 2 / 139 ) ان تمام روایات کے راوی ابوالجارود ہیں جنھوں نے امام باقر (ع) سے نقل کیا ہے اور کافی میں چار علی (ع) کے بجائے تین کا ذکر ہے اور یہ اشتباہ ہے یا اس سے مراد اولاد فاطمہ کے علی ہیں کہ وہ بہر حال تین ہی ہیں اگرچہ اس طرح اولاد فاطمہ (ع) کے اولیاء کے اولیاء بارہ نہیں ہیں بلکہ گیارہ ہی ہیں اور ایک مولائے کائنات ہیں واللہ اعلم ۔ جوادی۔
89۔ جابر بن یزید الجعفی کا بیان ہے کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری کی زبان سے سناہے کہ جب آیت اولی الامر نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم نے خدا و رسول کو پہچان بھی لیا اور ان کی اطاعت بھی کی تو یہ اولی الامر کون ہیں جن کی اطاعت کو آپ کی اطاعت کے ساتھ ملادیا گیاہے؟ تو فرمایا کہ جابر ! یہ سب میرے خلفاء اور میرے بعد مسلمانوں کے ائمہ ہیں جن میں سے اول علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہیں، اس کے بعد حسن (ع) پھر حسین (ع) پھر علی (ع) بن الحسین (ع) پھر محمد بن علی (ع) جن کا نام توریت میں باقر (ع) ہے اور اے جابر عنقریب تم ان سے ملاقات کروگے اور جب ملاقات ہوجائے تو میرا سلام کہہ دینا۔ اس کے بعد جعفر (ع) بن محمد (ع) ۔ پھر موسی بن جعفر (ع) ، پھر علی (ع) بن موسی ٰ (ع) ، پھر محمد (ع) بن علی (ع) پھر علی (ع) بن محمد ، پھر حسن (ع) پھر میرا ہمنام و ہم کنیت جو زمین میں خدا کی حجت اور بندگان خدا میں بقیة الله ہوگا یعنی فرزند حسن (ع)بن علی (ع) ، یہی دو ہوگا جسے پروردگار مشرق و مغرب پر فتح عنایت کرے گا اور اپنے شیعوں سے اس طرح غائب رہے گا کہ اس غیبت میں ایمان پر صرف وہی افراد قائم رہ جائیں گے جن کے دل کا پروردگار نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا ہوگا۔(کمال الدین 253 /3، مناقب ابن شہر آشوب 1 ص282 ، کفایة الاثر ص53)۔
90۔ جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ جندل بن جنادہ بن جبیر الیہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک طویل گفتگو کے دوران عرض کی کہ خدا کے رسول ذرا اپنے اوصیاء کے بارے میں باخبر کریں تا کہ میں ان سے متمسک رہ سکوں۔ تو فرمایا کہ میرے اوصیاء بارہ ہوں گے۔ جندل نے عرض کی کہ یہی تو میں نے توریت میں پڑھاہے لیکن ذرا ان کے نام تو ارشاد فرمائیں؟
فرمایا اول سید الاوصیاء ابوالائمہ علی (ع) اس کے بعد ان کے دو فرزند حسن (ع) و حسین (ع) ، دیکھو ان سب متمسک رہنا اور خبردار تمھیں جاہلوں کا جہل دھوکہ میں نہ مبتلا کردے۔ اس کے بعد جب علی بن الحسین (ع) کی ولادت ہوگی تو تمھاری زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور تمھاری آخری غذا دودھ ہوگی۔
جندل نے کہا کہ حضور میں نے توریت میں ایلیا۔ شبر،شبیر پڑھا ہے، یہ تو علی (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) ہوگئے تو ان کے بعد والوں کے اسماء ہیں؟ فرمایا حسین (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) جن کا لقب زین العابدین (ع) ہوگا۔ اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب باقر (ع) ہوگا۔ اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب تقی (ع) و زکی ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند علی (ع) جن کا لقب نقی (ع) اور ہادی (ع) ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند حسن (ع) جن کا لقب عسکری (ع) ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب مہدی (عج) ، قائم (عج) ہوگا، جو پہلے غائب ہوں گے پھر ظہور کریں گے اور ظہور کے بعد ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، خوشا بحال ان کا جو ان کی غیبت میں صبر کرسکیں اور ان کی محبت پر قائم رہ سکیں یہی وہ افراد ہیں جن کے بارے میں پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ حزب اللہ میں اور حزب اللہ کامیاب ہونے والا ہے اور یہی وہ متقین ہیں جو غیبت پر ایمان رکھنے والے ہیں( ینابیع المودة 2 ص 283 /2)۔
91۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک یہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا جسے نعثل کہا جاتا تھا اور اس نے کہا کہ یا محمد میرے دل میں کچھ شبہات ہیں، ان کے بارے میں سوال کرنا چاہتاہوں… ذرا یہ فرمائیے کہ آپ کا وصی کون ہوگا ، اس لئے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتاہے جس طرح ہمارے پیغمبر موسیٰ بن عمران نے یوشع بن نون کو اپنا وصی نامزد کیا تھا۔؟ فرمایا کہ میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہوگا اور ان کے بعد میرے دونوا سے حسن (ع) و حسین (ع) ہوں گے، اس کے بعد صلب حسین (ع) سے نو ائمہ ابرار ہوں گے۔
اس نے کہایا محمد! ذرا ان کے نام بھی ارشاد فرمائیں ؟ فرمایا کہ حسین (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، ان کے بعد ان کے فرزند محمد(ع) ، ان کے بعد ان کے فرزند جعفر (ع)… جعفر (ع) کے بعد ان کے فرزند موسیٰ (ع)… موسیٰ (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، علی (ع) کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) ، محمد (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، علی (ع) کے بعد ان کے فرزند حسن (ع) ، اس کے بعد حجت بن الحسن (ع) یہ کل بارہ امام ہیں جن کا عدد بنياسرائیل کے نقیبوں کے برابر ہے۔
اس نے دریافت کیا کہ ان سب کی جنت میں کیا جگہ ہوگی ؟ فرمایا میرے ساتھ میرے درجہ ہیں۔( فرائد السمطین 2 ص 133 ، 134 / 430)۔
92۔ نضر بن سوید نے عمرو بن ابی المقدام سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) کو میدان عرفات میں دیکھا کہ لوگوں کو بآواز بلند پکاررہے ہیں اور فرمارہے ہیں ایہا الناس ! رسول اکرم قوم کے قائد تھے ، ان کے بعد علی (ع) بن ابی طالب (ع) تھے، اس کے بعد حسن (ع) پھر حسین (ع) پھر علی (ع) بن الحسین (ع) پھر محمد (ع) بن علی (ع) اور پھر میں ہوں اور یہ باتیں چاروں طرف رخ کرکے تین مرتبہ دہرائی۔ ( کافی 1 ص 286 ، عیون اخبار الرضا 1 ص 40 ، الفقیہ 4 ، ص 180 / 5408 ، کمال الدین 1 ص 250 ، 285 ، الغیبتہ النعمانی ص 57، مناقب ابن المغازلی ص 304 ، احقاق الحق 4 ص 83 ، 13 ص 49 ، کفایة الاثر ص 149 ، 150 ، 177 ، 264 300 ، 306۔