قرآن ميں قلب

68

قلب كى لفظ قرآن اور احاديث ميں بہت زيادہ استعمال ہوئي ہے اور اسے ايك خاص اہميت قرار دى گئي ہے_ ليكن يہ خيال نہ كيا جائے كہ قلب سے مراد وہ دل ہے جو انسان كے دائيں جانب واقع ہوا ہے اور اپنى حركت سے خون كو انسان كے تمام بدن ميں پہچاتا ہے اور حيوانى زندگى كو باقى ركھتا ہے يہ اس لئے كہ قرآن مجيد ميں قلب كى لفظ كى طرف ايسى چيزيں منسوب كى گئي ہيں كہ جو اس قلب كے جس صنوبرى سے مناسبت نہيں ركھتيں مثلاً
فہم اور عقل:قرآن فرماتا ہے كہ ‘كيوں زمين كى سير نہيں كرتے تا كہ ايسا دل ركھتے ہوں كہ جس سے تعلق كريں_(59)
عدم تعقل و فہم:قرآن فرماتا ہے كہ ‘ان كے دلوں پر مہر لگادى گئي ہے اور وہ نہيں سمجھتے_’قرآن فرماتا ہے كہ ‘انكے پاس دل موجود ہيں ليكن وہ نہيں سمجھتے اور آنكھيں موجود ہيں
41ليكن وہ نہيں ديكھتے _(60)
ايمان:قرآن فرماتا ہے كہ ‘خداوند عالم نے ان كے دلوں ميں ايمان قرار ديا ہے اور اپنى خاص روح سے ان كى تائيد كى ہے_ ( 61)

كفر و ايمان:قرآن فرماتا ہے_ ‘ جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں ركھتے ان كے دل انكار كرتے ہيں اور تكبر بجالاتے ہيں’_نيز فرماتا ہے_ ‘كافر وہ لوگ ہيں كہ خدا نے ان كے دلوں اور كانوں اور آنكھوں پر مہر ڈال دى ہے اور وہ غافل ہيں _(62)

نفاق:قرآن فرماتا ہے كہ ‘ منافق اس سے ڈرتے ہيں كہ كوئي سورہ خدا كى طرف سے نازل ہوجائے اور جو كچھ وہ دل ميں چھپائے ہوئے ہيں وہ ظاہر ہوجائے (63)_

ہدايت پانا:قرآن ميں ہے كہ ‘جو شخص اللہ پر ايمان لے آئے وہ اس كے دل كو ہدايت كرتا ہے اور خدا تمام چيزوں سے آگاہ ہے _(64)نيز خدا فرماتا ہے كہ ‘گذرے ہوئے لوگوں كے ہلاك كردينے ميں اس شخص كے لئے نصيحت اور تذكرہ ہے جو دل ركھتا ہو يا حقائق كو سنتا ہو اور ان كا شاہد ہو _(65)

اطمينان اور سكون:قرآن ميں ہے كہ ‘متوجہ رہو كہ اللہ كے ذكر اور ياد سے دل آرام حاصل كرتے
42ہيں_(66) اور نيز فرماتاہے _ خدا ہے جس نے سكون كو دل پر نازل كيا ہے تا كہ ان كا ايمان زيادہ ہو_(67)

اضطراب و تحير:خدا قرآن ميں فرماتا ہے ‘فقط وہ لوگ جو اللہ اور قيامت پر ايمان نہيں ركھتے اور انكے دلوں ميں شك اور ترديد ہے وہ تم سے جہاد ميں نہ حاضر ہونے كى اجازت ليتے ہيں اور وہ ہميشہ شك اور ترديد ميں رہيں گے_( 68)

مہربانى اور ترحم:قرآن ميں ہے ‘ ہم نے ان كے دلوں ميں جو عيسى عليہ السلام كى پيروى كرتے ہيں مہربانى اور ترحم قرار ديا ہے_ (69)نيز خدا فرماتا ہے كہ ‘اے پيغمبر خدا ہے جس نے اپنى مدد اور مومنين كے وسيلے سے تيرى تائيد كى ہے اور ان كے دلوں ميں الفت قرار دى ہے _(70)

سخت دل:قرآن ميں خدا فرماتا ہے ‘ اے پيغمبر اگر تو سخت دل اور تند خو ہوتا تو لوگ تيرے ارد گرد سے پراگندہ ہوجاتے _(71)خلاصہ دل قرآن مجيد ميں ايك ممتاز مقام ركھتا ہے او راكثر كام اس كى طرف منسوب كئے جاتے ہيں جيسے ايمان، كفر، نفاق، تعقل، فہم، عدم تعقل، قبول حق، حق كا قبول نہ كرنا_ ہدايت، گمراہى خطاء عہد طہارت_ آلودگي_ رافت و محبت غلظت_ رعب غصہ شك ترديد_ ترحم_ قساوت_ حسرت آرام_ تكبر، حسد، عصيان و نافرماني، لغزش اور دوسرے اس طرح كے كام بھى دل كى طرف منسوب كئے گئے ہيں جب كہ دل جو گوشت كا بنا ہوا ہے اور بائيں جانب واقع ہے وہ ان كاموں كو بجا نہيں لاتا بلكہ يہ كام انسان كے نفس اور روح كے ہوا كرتے ہيں_ لہذا يہ كہنا ہوگا كہ قلب اور دل سے
43مراد وہ مجرد ملكوتى جوہر ہے كہ جس سے انسان كى انسانيت مربوط ہے _ قلب كا مقام قرآن ميں ا تنا عالى اور بلند ہے كہ جب اللہ تعالى سے ارتباط جو وحى كے ذريعے سے انسان كو حاصل ہوتا ہے وہاں قلب كا ذكر كيا جاتا ہے_ خداوند قرآن مجيد ميں پيغمبر عليہ السلام سے فرماتا ہے كہ ‘روح الامين (جبرئيل) نے قرآن كو تيرے قلب پر نازل كيا ہے تا كہ تو لوگوں كو ڈرائے_ نيز خدا فرماتا ہے اے پيغمبر(ص) كہہ دے كہ جو جبرائيل (ع) كا دشمن ہے وہ خدا سے دشمنى كرتا ہے كيونكہ جبرائيل (ع) نے تو قرآن اللہ كے اذن سے تيرے قلب پر نازل كيا ہے_( 72) قلب كا مرتبہ اتنا بلند ہے كہ وہ وحى كے فرشتے كو ديكھتا اور اس كى گفتگو كو سنتا ہے خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘خدا نے اپنے بندے (محمد(ص) ) پر وحى كى ہے اور جو پيغمبر (ص) كے قلب نے مشاہدہ كيا ہے اسے فرشتے نے جھوٹ نہيں بولا_ (73 )

قلب كى صحت و بيماريہمارى زندگى قلب اور روح سے مربوط ہے روح بدن كو كنٹرول كرتى ہے_جسم كے تمام اعضاء اور جوارح اس كے تابع فرمان ہيں تمام كام اور حركات روح سے صادر ہوتے ہيں_ ہمارى سعادت اور بدبختى روح سے مربوط ہے_ قرآن اور احاديث سے مستفاد ہوتا ہے كہ انسان كا جسم كبھى سالم ہوتا ہے اور كبھى بيمار اور اس كى روح بھى كبھى سالم ہوتى ہے اور كبھى بيمار_ خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘جس دن (قيامت) انسان كے لئے مال اور اولاد فائدہ مند نہ ہونگے مگر وہ انسان كہ جو سالم روح كے ساتھ اللہ تعالى كى طرف لوٹے گا_ (74)_نيز ارشاد فرماتا ہے كہ ‘اس ہلاكت اور تباہ كارى ميں تذكرہ ہے جو سالم روح ركھتا ہوگا_ (75) اور فرماتا ہے كہ ‘ بہشت كو نزديك لائينگے جو دور نہ ہوگى يہ بہشت وہى ہے جو تمام ان بندوں كے لئے ہے جو خدا كى طرف اس حالت ميں لوٹ آئے ہيں كہ جنہوں نے اپنے آپ كو گناہوں سے محفوظ ركھا اور خدا نے ان كے لئے اس كا وعدہ كيا ہے
44كہ جو خدا مہربان سے ڈرتا رہا اور خشوع كرنے والى روح كے ساتھ اللہ كى طرف لوٹ آيا ہے_ (76)جيسے كہ آپ نے ملاحظہ كيا ہے كہ ان آيات ميں روح كى سلامت كو دل كى طرف منسوب كيا گيا ہے اور انسان كى اخروى سعادت كو روح سے مربوط قرار ديا ہے كہ جو سالم قلب اور خشوع كرنے والے دل كے ساتھ اللہ تعالى كى طرف لوٹ آيا ہو اور دوسرى جانب خداوند عالم نے بعض والوں يعنى روح كو بيمار بتلايا ہے جيسے خداوند عالم فرماتا ہے كہ ‘منافقين كے دلوں ميں بيمارى ہے كہ خدا ان كى بيمارى كو زيادہ كرتا ہے_ (77) نيز فرماتا ہے كہ ‘وہ لوگ كہ جن كے دلوں ميں بيمارى ہے وہ يہود اور نصارى كى دوستى كرنے ميں جلدى كرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم ڈرتے ہيں كہ ايمان لانے كيوجہ سے مصيبت او گرفتارى موجود نہ ہوجائے (78) _ ان آيات ميں كفر نفاق كفار سے دوستى كو قلب كى بيمارى قرار ديا گيا ہے_ اس طرح كى آيات اور سينكڑوں روايات سے جو پيغمبر (ع) اورائمہ عليہم السلام سے وارد ہوئي ہيں يوں مستفاد ہوتا ہے كہ انسان كى روح اور قلب بھى جسم كى طرح _ سالم اور بيمار ہوا كرتى ہے لہذا كوئي وجہ نظر نہيں آتى كہ دل كى بيمارى كو مجازى معنى پر محمول كيا جائے_خداوند عالم جو روح اور دل كا خالق ہے اور پيغمبر (ص) اور آئمہ عليہم السلام كہ جو انسان شناس ہيں دل او رروح كى بعض بيماريوں كى اطلاع دے رہے ہيں ہم كيوں نہ اس بيمارى كو اس كے حقيقى معنى پر محمول كريں_ وہ حضرات جو واقعى انسان شناس ہيں كفر نفاق حق كو قبول نہ كرنا_ تكبر كينہ پرورى غصہ چغل خورى خيانت خودپسندى خوف برا چاہنا تہمت بدگوئي، غيبت، تندخوئي، ظلم، تباہ كاري، بخل، حرص، عيب جوئي، دروغ گوئي حب مقام رياكارى حيلہ بازي، بدظني، قساوت، ضعف نفس اور دوسرى برى صفات كو انسان كى روح اور قلب كى بيمارى بتلا رہے ہيں پس جو لوگ ان بيماريوں كے ساتھ اس دنيا سے جائيں گے وہ ايك سالم روح و دل خدا كے پاس نہيں جا رہے ہونگے
45تا كہ اس آيت مصداق قرار پاسكيں يوم لاينفع مال و لا بنون الا من اتى اللہ بقلب سليم_دل اور روح كى بيماريوں كو معمولى شمار نہيں كرنا چاہئے بلكہ يہ جسم كى بيماريوں سے كئي گناہ خطرناك ہيں اور ان كا علاج ان سے زيادہ سخت اور مشكل ہے_ جسم كى بيماريوں ميں جسم كے نظام تعادل ميں گڑبڑ ہوا كرتى ہے كہ جس سے درد اور بے چينى اور بسا اوقات كسى عضو ميں نقص آجاتا ہے ليكن پھر بھى وہ محدود ہوتى ہيں اور زيادہ سے زيادہ آخرى عمر تك باقى رہتى ہيں_ ليكن روح كى بيمارى بدبختى اور عذاب اخروى كو بھى ساتھ لاتى ہے اور ايسا عذاب اسے ديا جائيگا جو دل كى گہرائيوں تك جائيگا اور اسے جلا كرركھ دے گا_ جو روح اس دنيا ميں خدا سے غافل ہے اور اللہ تعالى كى نشانيوں كا مشاہدہ نہيں كرتى اور اپنى تمام عمر كو گمراہى اور كفر اور گناہ ميں گذار ديتى ہے در حقيقت وہ روح اندھى اور تاريك ہے وہ اسى اندھے پن اور بے نورى سے قيامت ميں مبعوث ہوگا اور اس كا انجام سوائے دردناك اور سخت زندگى كے اور كچھ نہ ہوگا_خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘ جو ہمارى ياد سے روگردانى كرتے ہيں ان كى زندگى سخت ہوگى اور قيامت كے دن ا ندھے محشور ہونگے وہ قيامت كے دن كہے گا خدايا مجھے كيوں اندھا محشور كيا ہے؟ حالانكہ ميں دنيا ميں تو بينا تھا خداوند عالم اس كے جواب ميں فرمائے گا كہ ميرى نشانياں تيرے سامنے موجود تھيں ليكن تو نے انہيں بھلا ديا اسى لئے آج تمہيں فراموش كرديا گيا ہے _(79)خدا فرماتا ہے ‘ تم زمين ميں كيوں سير نہيں كرتے تا كہ تم ايسے دل ركھتے ہوگے كہ ان سے سمجھتے اور سننے والے كان ركھتے ہوتے يقينا كافروں كى آنكھيں اندھى نہيں بلكہ انكے دل كى آنكھيں اندھى ہيں_ (80)پھر فرماتا ہے ‘ جو شخص اس دنيا ميں اندھى آنكھ ركھتا ہوگا آخرت ميں بھى وہ نابينا اور زيادہ گمراہ ہوگا_ (81)
46خدا فرماتا ہے كہ ‘جس شخص كو خدا ہدايت كرتا ہے وہى ہدايت يافتہ ہے اور جو شخص اپنے (اعمال كى وجہ) سے گمراہ ہوگا اس كے لئے كوئي دوست اور اولياء نہ ہونگے اور قيامت كے دن جب وہ اندھے اور بہرے اور گونگے ان كو ايسے چہروں سے ہم محشور كريں گے_ (82)ممكن ہے كہ اس گفتگو سے تعجب كيا جائے اور كہا جائے كہ اس كا كيا مطلب ہے كہ قيامت كے دن انسان كى باطنى آنكھ آندھى ہوگي؟ كيا ہم اس آنكھ او ركان ظاہرى سے كوئي اور آنكھ كان ركھتے ہيں؟ جواب ميں عرض كيا جائيگا كہ ہاں جس نے انسان كو خلق فرمايا ہے اور جو اللہ كے بندے انسان شناس ہيں انہوں نے خبر دى ہے كہ انسان كى روح اور دل بھى آنكھ كان زبان ركھتى ہے گرچہ يہ آنكھ اور كان اور زبان اس كى روح سے سنخيت ركھتى ہے_ انسان ايك پيچيدہ موجود ہے كہ جو اپنى باطنى ذات ميں ايك مخصوص زندگى ركھتا ہے_ انسان كى روح ايك تنہا مخصوص جہان ہے_ اس كے لئے اسى جہان ميں نور بھى ہے اور صفا اور پاكيزگى بھى اس ميں پليدى اور كدورت بھى اس ميں اس كے لئے بينائي اور شنوائي اور نابينائي بھى ہے ليكن اس جہاں كا نور اور ظلمت عالم دنيا كے نور اور ظلمت كا ہم سنخ نہيں ہے بلكہ اللہ اور قيامت اور نبوت اور قرآن پر ايمان روح انسانى كے لئے نور ہے_خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘ جو لوگ محمد(ص) پر ايمان لے آئے ہيں اور اس كى عزت كرتے ہيں اور اس كى مدد كرتے ہيں انہوں نے اس نور كى جو ان كى ہمراہ ہے پيروى كى ہے يہى لوگ نجات يافتہ اور سعادتمند ہونگے_ (83)خدا فرماتا ہے_ ‘يقينا تمہارى طرف خداوند عالم سے ايك نور اور كتاب مبين نازل كى گئي ہے_( 84) نيز خدا فرماتا ہے كہ ‘ كيا وہ شخص كہ جس كے دل كو خدا نے اسلام كے قبول كرلينے كے لئے كھول ديا ہے اور اس نے اللہ تعالى كى طر ف سے نور كو پاليا ہے وہ دوسروں كے برابر ہے؟ افسوس اور عذاب ہے اس كے لئے كہ جس كا دل اللہ تعالى كے ذكر سے قسى ہوگيا ہے_ ايسے لوگ ايك واضح گمراہى ميں ہونگے_( 85) خداوند عالم
47نے ہميں خبردى ہے كہ قرآن ايمان، اسلام كے احكام اور قوانين تمام كے تمام نور ہيں_ انكى اطاعت اور پيروى كرنا قلب اور روح كو نورانى كرديتے ہيں يقينا يہ اسى دنيا ميں روح كو نورانى كرتے ہيں ليكن اس كا نتيجہ آخرت كے جہان ميں جا ظاہر ہوگا_خداوند عالم نے خبردى ہے كہ كفر نفاق گناہ حق سے روگردانى تاريكى روح كو كثيف كرديتے ہيں ليكن اس كا نتيجہ آخرت كے جہان ميں جا ظاہر ہوگا_ پيغمبروں كو اسى غرض كے لئے مبعوث كيا گيا ہے تا كہ وہ لوگوں كو كفر كى تاريكى سے نكاليں اور ايمان اور نور كے محيط ميں وارد كريں_خداوند عالم فرماتا ہے كہ ‘ ہم نے قرآن كو تم پر نازل كيا ہے تا كہ لوگوں كو تاريكيوں سے نكالے اور نور ميں وارد كرے_( 86)مومنين اسى جہان ميں نور ايمان تزكيہ نفس مكارم اخلاق ياد خدا اور عمل صالح كے ذريعے اپنى روح اور دل كو نورانى كرليتے ہيں اور باطنى آنكھ اور كان سے حقائق كا مشاہدہ كرتے ہيں اور سنتے ہيں_ اس طرح كے لوگ جب اس جہان سے جاتے ہيں تو وہ سراسر نور اور سرور اور زيبا اور خوشنما ہونگے اور آخرت كے جہان ميں اسى نور سے كہ جسے دنيا ميں مہيا كيا ہوگا فائدہ حاصل كريں گے_ خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے كہ ‘ اس دن كو ياد كرو جب مومن مرد عورت كا نور انكے آگے اور دائيں جانب كو روشن كئے ہوگا (اور ان سے كہا جائيگا) كہ آج تمہارے لئے خوشخبرى ايسى بہشت ہے كہ جس كى نہريں درختوں كے نيچے سے جارى ہيں اور تم ہميشہ كے لئے يہاں رہوگے اور يہ ايك بہت بڑى سعادت اور خوشبختى ہے_ (87)درست ہے كہ آخرت كے جہان كے نور كو اسى دنيا سے حاصل كيا جانا ہوتا ہے اسى لئے تو كافر اور منافق آخرت كے جہان ميں نور نہيں ركھتے ہونگے_قرآن ميں آيا ہے كہ ‘اس دن كو ياد كرو جب منافق مرد اور عورت مومنين سے كہيں گے كہ تھوڑى سے مہلت دو تا كہ ہم تمہارے نور سے استفادہ كرليں ان سے
48كہا جائيگا كہ اگر ہوسكتا ہے تو دنيا ميں واپس چلے جاؤ اور اپنے لئے نور كو حاصل كرو _(88)

قلب روح احاديث ميںدين كے رہبروں اور حقيقى انسان كو پہچاننے والوں نے انسان كى روح اور قلب كے بارے بہت عمدہ اور مفيد مطالب بتلائے ہيں كہ ان ميں سے بعض كى طرف يہاں اشارہ كيا جاتا ہے كہ بعض احاديث كى بناپر قلب اور روح كو تين گروہ ميں تقسيم كيا گيا ہے_ امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہيں كہ ‘ہم تين طرح كے قلب ركھتے ہيں_ پہلى نوع_ ٹيڑھا قلب جو كسى خير اور نيكى كے كاموں كو درك نہيں كرتا اور يہ كافر كا قلب ہے_ دوسرى نوع وہ قلب ہے كہ جس ميں ايك سياہ نقطہ موجود ہے يہ وہ قلب ہے كہ جس ميں نيكى اور برائي كے درميان ہميشہ جنگ و جدال ہوتى ہے ان دو ميں سے جو زيادہ قوى ہوگا وہ اس قلب پر غلبہ حاصل كريگا_ تيسرى نوع قلب مفتوح ہے اس قلب ميں چراغ جل رہا ہے جو كبھى نہيں بجھتا اور يہ مومن كا قلب ہے_ (89)امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے پدر بزرگوار سے نقل كيا ہے كہ ‘آپ نے فرمايا كہ قلب كے لئے گناہ سے كوئي چيز بدتر نہيں ہے_ قلب گناہ كا سامنا كرتا ہے اور اس سے مقابلہ كرتا ہے يہاں تك كہ گناہ قلب پر غالب آجاتا ہے اور وہ قلب كو ان اور ٹيڑہا كرديتا ہے _ (90)اور امام سجاد عليہ السلام نے ايك حديث ميں فرمايا ہے كہ ‘ انسان كى چار آنكھيں ہيں اپنى دو ظاہرى آنكھوں سے دين اور دنيا كے امور كو ديكھتا ہے اور اپنى دو باطنى آنكھوں سے ان امور كو ديكھتا ہے جو آخرت سے مربوط ہيں جب اللہ كسى بندے كى بھلائي چاہتا ہے تو اس كے قلب كى دو باطنى آنكھوں كو كھول ديتا ہے تا كہ اس كے ذريعے غيب كے جہان اور آخرت كے امر كا مشاہدہ كرسكے اور اگر خدا اس كى خير كا
49ارادہ نہ كرے تو اس كے قلب كو اس كى اپنى حالت پر چھوڑ ديتا ہے _ (91)امام صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ قلب كے دو كان ہيں ايمان كى روح آہستہ سے اسے كار خير كى دعوت ديتى ہے اور شيطن آہستہ سے اسے برے كاموں كى دعوت ديتا ہے جو بھى ان ميں سے دوسرے پر غالب آجائے وہ قلب كو اپنے لئے مخصوص كرليتا ہے_ (92)امام صادق عليہ السلام نے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے نقل كيا ہے كہ ‘آپ (ص) نے فرمايا كہ سب سے بدترين اندھاپن قلب كا اندھا پن ہے_ (93)امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ انسان كے قلب ميں ايك سفيد واضح نقطہ ہوتا ہے اگر گناہ كا ارتكاب كرلے تو اس كے قلب ميں سياہ نقطہ پيدا ہوجاتا ہے اگر اس كے بعد توبہ كرلے تو وہ سياہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور اگر گناہ كرنے پر اصرار كرے تو وہ سياہ نقطہ آہستہ سے بڑھنے لگ جاتا ہے يہاں تك كہ وہ اس سفيد نقطے كو گھير ليتا ہے اس حالت ميں پھر اس قلب كا مالك انسان نيكيوں كى طرف رجوع نہيں كرتا اور اس پر يہ آيت صادق آجاتى ہے كہ ان كے اعمال نے ان كے قلوب پرغلبہ حاصل كرليا ہے اور انہيں تاريك كرديا ہے_ (94)اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ جس ميں تقوى اور خوف خدا كم ہو اس كا قلب او ردل مرجاتا ہے اور جس كا دل مرجائے وہ جہنم ميں داخل ہوگا _ (95)حضرت اميرعليہ السلام نے اپنے فرزند كو وصيت ميں فرمايا كہ ‘اے فرزند فقر اور نادارى ايك مصيبت اور بيمارى ہے اور اس سے سخت بيمارى جسم كى بيمارى ہے اور دل كى بيمارى جسم كى بيمارى سے بھى زيادہ سخت ہے_ مال كى وسعت اللہ تعالى كى ايك نعمت ہے اس سے افضل بدن كا سالم رہنا ہے اور اس سے افضل دل كا تقوى ہے_ (96)رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے_ كہ ‘ حضرت داود پيغمبر (ع) نے اللہ تعالى كى درگاہ ميں عرض كيا خدايا تمام بادشاہوں كے خزانے ميں تيرا خزانہ كہاں ہے؟
50اللہ تعالى نے جواب ميں فرمايا كہ ميرا ايك خزانہ ہے جو عرش سے بڑا اور كرسى سے وسيع تر اور بہشت سے زيادہ خوشبودار اور تمام ملكوت سے زيادہ خوبصورت ہے اس خزانہ كى زمين معرفت اور اس كا آسمان ايمان_اس كا سورج شوق اور اس كا چاند محبت اور اس كے ستارے خدا كى طرف توجہات اس كا بادل عقل اس كى بارش رحمت اس كا ميوہ اطاعت اور ثمرہ حكمت ہے_ ميرے خزانے كے چار دروازے ہيں پہلا علم، دوسرا عقل، تيسرا صبر، چوتھا رضايت، جان لے كہ ميرا خزانہ ميرے مومن بندوں كا قلب اور دل ہے_( 97)اللہ تعالى كے ان بندوں كے جو قلب اور دل اور روح كو پہنچانتے ہيں ان احاديث ميں بہت مفيد مطالب بيان فرمائے ہيں كہ كچھ كى طرف ہم يہاں اشارہ كرتے ہيں_

قلب كافركافر كے دل كے متعلق كہا گيا ہے كہ وہ الٹا اور ٹيڑہا ہے اس ميں كوئي بھلائي نہيں ہے_ اس طرح كا دل اپنى اصلى فطرت سے ہٹ چكا ہے اور عالم بالا كى طرف نگاہ نہيں كرتا وہ صرف دنياوى امور كو ديكھتا ہے اسى لئے وہ خدا اور آخرت كے جہاں كا مشاہدہ نہيں كرتا اس كے بارے نيكى اور خوبى كا تصور نہيں كيا جاسكتا كيونكہ نيك كام اس صورت ميں درجہ كمال اور قرب الہى تك پہنچتے ہيں جب وہ رضا الہى كے لئے انجام ديئےائيں ليكن كافر نے اپنے دل كو الٹا كرديا ہے تا كہ وہ خدا كو نہ ديكھ سكے وہ اپنے تمام كاموں سے سوائے دنيا كے اور كوئي غرض نہيں ركھتا وہ صرف دنيا تك رسائي چاہتا ہے نہ خدا كا قرب_ اس طرح كا دل گرچہ اصلى فطرت والى آنكھ ركھتا تھا ليكن اس نے اپنى آنكھ كو اندھا كر ركھا ہے_ كيونكہ وہ واضح ترين حقيقت وجود خدا جو تمام جہاں كا خالق ہے كا مشاہدہ نہيں كرتا وہ اس دنيا ميں اندھا ہے اور آخرت ميں بھى اندھا ہوگا_ اس نے اس دنيا ميں امور دنيا سے دل لگا ركھا ہے اور آخرت ميں بھى اس كے لئے
51امور دنيا سے ہى وابستگى باقى رہے گى ليكن وہ اسے وہاں حاصل نہ ہوں گے اور وہ اس كے فراق كى آگ ميں جلتا رہے گا_ اس قسم كے دل ميں ايمان كا نور نہيں چمكتا اور وہ بالكل ہى تاريك رہتا ہے_2_ كافر كے دل مقابل مومن كامل كا دل ہے_ مومن كے دل كا دروازہ عالم بالا اور عالم غيب كى طرف كھلا ہوا ہوتا ہے ايمان كا چراغ اس ميں جلتا ہوا ہوتا ہے اور كبھى نہيں بجھتا_ اس كے دل كى دونوں آنكھيں ديكھ رہى ہوتى ہيں اور عالم غيب اور اخروى امور كو ان سے مشاہدہ كرتا ہے_ اس طرح كا دل ہميشہ ہميشہ كمال اور جمال اور خير محض يعنى خداوند تعالى كى طرف متوجہ رہتا ہے اور اس كا تقرب چاہتا ہے وہ خدا كو چاہتا ہے اور مكارم اخلاق اور اعمال صالح كے ذريعے ذات الہى كى طرف حركت كرتا رہتا ہے_ اس قسم كا دل عرش اور كرسى سے زيادہ وسيع اور بہشت سے زيادہ خوبصورت ہوتا ہے اور يہ قدرت ركھتا ہے كہ اللہ تعالى كا مركز انوار الہى اور خزانہ الہى قرار پائے_ اس طرح كے دل كى زمين اللہ كى معرفت اور اس كا آسمان اللہ پر ايمان اور اس كا سورج لقاء الہى كا شوق اور اس كا چاند اللہ كى محبت_ مومن كے دل ميں عقل كى حكومت ہوتى ہے اور رحمت الہى كى بارش كو اپنى طرف جذب كرليتا ہے كہ جس كا ميوہ عبادت ہے اس طرح كے دل ميں خدا اور اس كے فرشتوں كے سوا اور كوئي چيز موجود نہيں ہوتي_ايسا دل تمام كا تمام نور ا ور سرور اور شوق اور رونق اور صفا والا ہوتا ہے اور آخرت كے جہان ميں بھى اسى حالت ميں محشور ہوگا_ (ايسے دل والے كو مبارك ہو)3_ مومن كا دل جب كبھى گناہ سے آلودہ ہوجاتا ہے تو ايسے مومن كا دل بالكل تاريك اور بند نہيں رہتا بلكہ ايمان كے نور سے روشن ہوجاتا ہے اور كمال الہى اور تابش رحمت كے لئے كھل جاتا ہے ليكن گناہ كے بجالانے سے اس كے دل پر ايك سياہ نقطہ موجود ہوجاتا ہے اور اسى طريق سے شيطن اس ميں راستہ پاليتا ہے_ اس كے دل
52كى آنكھ اندھى نہيں ہوتى ليكن گناہ كى وجہ سے بيمار ہوگئي ہے اور اندھے پن كى طرف آگئي ہے_ اس طرح كے دل ميں فرشتے بھى راستے پاليتے ہيں اور شيطن بھي_ فرشتے ايمان كے دروازے سے اس ميں وارد ہوتے ہيں اور اسے نيكى كى طرف دعوت ديتے ہيں شيطن اس سياہ نقطہ كے ذريعے سے نفوذ پيدا كرتا ہے اور اسے برائي كى دعوت ديتا ہے_ شيطن اور فرشتے اس طرح كے دل ميں ہميشہ جنگ اور جدال ميں ہوتے ہيں_ فرشتے چاہتے ہيں كہ تمام دل پر نيك اعمال كے ذريعے چھاجائيں اور شيطن كو وہاں سے خارج كرديں اور شيطن بھى كوشش كرتا ہے كہ گناہ كے بجالانے سے دل كو تاريك بلكہ تاريك تر كردے اور فرشتوں كو وہاں سے باہر نكال دے اور پورے دل كو اپنے قبضے ميں لے لے اور ايمان كے دروازے كو بالكل بند كردے_ يہ دونوں ہميشہ ايك دوسرے كو دكھيلنے پر لگے رہتے ہيں اور پھر ان ميں كون كامياب ہوتا ہے اور اس كى كاميابى كتنى مقدار ہوتى ہے_ انسان كى باطنى زندگى اور اخروى زندگى كا انجام اسى سے وابستہ ہوتا ہے يہ وہ مقام ہے كہ جہاں نفس كيساتھ جہاد كرنا ضرورى ہوجاتا ہے كہ جس كى تفصيل بيان كى جائيگي_

قسى القلبانسان كى روح اور دل ابتداء ميں نورانيت اور صفاء اور مہربانى اور ترحم ركھتے ہيں_ انسان كا دل دوسروں كے دكھ اور درد يہاں تك كہ حيوانات كے دكھ اور درد سے بھى رنج كا احساس كرتا ہے اسے بہت پسند ہوتا ہے كہ دوسرے آرام اور اچھى زندگى بسر كريں اور دوسروں پر احسان كرنے سے لذت حاصل كرتا ہے اور اپنى پاك فطرت سے خدا كى طرف متوجہ ہوتا ہے اور عبادت اور دعا راز و نياز اور نيك اعمال كے بجالانے سے لذت حاصل كرتا ہے اور گناہوں كے ارتكاب سے فوراً متاثر اور پشيمان ہوجاتا ہے_ اگر اس نے فطرت كے تقاضے كو قبول كرليا اور اس كے مطابق عمل كيا تو
53دن بدن اس كے صفا قلب اورنورانيت اور مہربان ہونے ميں اضافہ ہوتا جاتا ہے_عبادت اور دعا كے نتيجے ميں دن بدن عبادت اور دعا اور خدا سے انس و محبت ميں زيادہ علاقمند ہوتا جاتا ہے_ اور اگر اس نے اپنے اندرونى اور باطنى خواہشات كو نظرانداز كيا اور اس كے مخالف عمل كيا تو آہستہ آہستہ وہ پاك احساسات نقصان كى طرف جانا شروع كرديتے ہيں يہاں تك كہ ممكن ہے وہ بالكل ختم اور نابود ہوجائيں_ اگر اس نے دوسروں كے درد كے موارد كو ديكھا اور ان كے خلاف اپنے رد عمل كا مظاہرہ نہ كيا تو آہستہ آہستہ ان سے مانوس ہوجاتا ہے اور ان كے ديكھنے سے معمولى سا اثر بھى نہيں ليتا بلكہ ہوسكتا ہے كہ ايسے مقام تك پہنچ جائے كہ دوسروں كے فقر اور فاقہ اور ذلت و خوارى بلكہ ان كے قيد و بند اور مصائب سے لذت حاصل كرنا شروع كردے_ انسان ابتداء ميں گناہ كرنے پر پشيمان اور ناخوش ہوتا ہے ليكن اگر ايك دفعہ گناہ كا ارتكاب كرليا تو دوسرى دفعہ گناہ كرنے پر تيار ہوجاتا ہے اور اسى طرح دوسرى دفعہ گناہ كے بعد تيسرى دفعہ گناہ كرنے كے لئے حاضر ہوجاتا ہے اور گناہ كرنے كے اصرار پر ايك ايسے مقام تك پہنچ جاتا ہے كہ پھر گناہ كرنے سے پيشمانى كا احساس تو بجائے خود بلكہ گناہ كرنے كو اپنى كاميابى اور خوشى قرار ديتا ہے_ ايسے انسانوں كے اس طرح كے دل سياہ اور الٹے ہوچكے ہوتے ہيں اور قرآن اور احاديث كى زبان ميں انہيں قسى القلب كہا جاتا ہے شيطين نے ايسے دلوں پر قبضہ كرليا ہوتا ہے اور اللہ تعالى كے مقرب فرشتوں كو وہاں سے نكال ديا ہوتا ہے_ اس كے نجات كے دروازے اس طرح بند ہوجاتے ہيں كہ اس كے لئے توبہ كرنے كى اميد بھى نہيں كى جاسكتي_خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘جب ہمارى مصيبت ان پر وارد ہوتى ہے تو توبہ اور زارى كيوں نہيں كرتے؟ ان كے دلوں پر قساوت طارى ہوچكى ہے اور شيطان نے ان كے برے كردار كو ان كى آنكھوں ميں خوشنما بناديا ہے_ (98)نيز خدا فرماتا ہے_ ‘ افسوس ہے ان دلوں پر كہ جنہيں ياد خدا سے قساوت نے گھير ركھا ہے ايسے لوگ ايك واضح گمراہى ہيں پڑے ہوئے ہيں_(99)
54امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ہر مومن كے دل ميں ايك سفيد نقطہ ہوتا ہے اگر اس نے گناہ كا ارتكاب كيا اور دوبارہ اس گناہ كو بجالايا تو ايك سياہ نقطہ اس ميں پيدا ہوجاتا ہے اور اگر اس نے گناہ كرنے پر اصرار كيا تو وہ سياہ نقطہ آہستہ سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے يہاں تك كہ اس دل كے سفيد نقطہ كو بالكل ختم كرديتا ہے اس وقت ايسے دل والا آدمى كبھى بھى اللہ تعالى كى طرف متوجہ نہيں ہوتا اور يہى خداوند عالم كے اس فرمان سے كہ ان كے كردار نے ان كے دلوں كو چھپا ركھا ہے مراد ہے_ (100)اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ انسان كے آنسو قساوت قلب كى وجہ سے خشك ہوجاتے ہيں اور قلب ميں قساوت گناہون كے اثر كيوجہ سے ہوتى ہے_ (101)رسول خدا نے فرمايا ہے ‘ چار چيزيں انسان ميں قساوت قلب كى علامتيں ہيں_ آنسوں كا خشك ہوجانا_ قساوت قلب_ روزى كے طلب كرنے ميں زيادہ حريص ہونا_اور گناہوں پر اصرار كرنا_ (102)امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں_ ‘ اے ميرے خدا ميں دل كے سخت ہوجانے سے آپ سے شكايت كرتا ہوں ايسا دل جو وسواس سے ہميشہ تغيرپذير ہے اور آلودگى اور خشم سے جڑا ہوا ہے_ ميں آپ سے ايسى آنكھ سے شكايت كرتا ہوں جو تيرے خوف سے نہيں روتى اور اس كى طرف متوجہ ہے جو اسے خوش ركھتى ہے_ (103)پس جو انسان قلب كى سلامتى اور اپنى سعادت سے علاقمند ہے اس كو گناہ كے ارتكاب سے خواہ گناہ صفيرہ ہى كيوں نہ ہو بہت زيادہ پرہيز كرنى چاہئے_ اور ہميشہ اپنى روح كو نيك كاموں عبادت دعا اور خدا سے راز و نياز مہربانى احسان اور دوسروں كى مدد مظلوموں اور محروموں كى حمايت اور خيرخواہى نيك كاموں ميں مدد عدالت خواہى اور عدالت برپا كرنے ميں مشغول ركھے تا كہ آہستہ آہستہ نيك اعمال بجالانے كى عادت پيدا كرے اور باطنى صفا اور نورانيت كو حاصل كرلے تا كہ اس كى روح ملائكہ كا مركز قرار پائے_

55قلب كے طبيب اور معالجپہلے بيان ہوچكا ہے كہ دل اور روح بھى جسم كى طرح سالم ہوا كرتا ہے اور بيمار_ انسان كى اخروى سعادت اس سے مربوط ہے كہ انسان سالم روح كے ساتھ اس دنيا سے جائے_ ہمارے لئے ضرورى ہے كہ روح كى سلامتى اور بيماريوں سے واقف ہوں_ان بيماريوں كى علامات كو پہچانيں تا كہ روح كى مختلف بيماريوں سے مطلع ہوں ان بيماريوں كے اسباب اور علل كو پہچانيں تا كہ ان بيماريوں كو روك سكيں كيا ان بيماريوں كى پہچان ميں ہم خود كافى معلومات ركھتے ہيں يا ان كى پہچان ميں پيغمبروں كے محتاج ہيں_ اس ميں كسى شك كى گنجائشے نہيں كہ ہم روح كى خلقت اور اس كے اسرار اور رموز سے جو اس موجود ملكوتى ميںركھے گئے كافى معلومات نہيں ركھتے_قاعدتا ہم اپنى روحانى اور باطنى زندگى سے بے خبر ہيں_ نفسانى بيماريوں كے اسباب كو اچھى طرح نہيں جانتے اور ان بيماريوں كى علامتوں كى بھى اچھى طرح تشخيص نہيں كرسكتے اور ان مختلف بيماريوں كا علاج اور توڑ بھى نہيں جانتے اسى لئے پيغمبروں كے وجود كى طرف محتاج ہيں تا كہ وہ ہميں اس كے طريق كار كى ہدايت اور رہبرى كريں_ پيغمبر روح كے معالج اور ان بيماريوں كے علاج كے جاننے والے ہوتے ہيں_ اور اللہ تعالى كى تائيد اور الہامات سے روح كے درد اور اس كے علاج كو خوب جانتے ہيں وہ انسان شناسى كى درسگاہ ميں بذريعہ وحى انسان شناس بنے ہيں اور اس ملكوتى وجود كے اسرار اور رموز سے اچھى طرح مطلع اور آگاہ ہيں_ وہ صراط مستقيم اور اللہ كى طرف سير و سلوك كو خوب پہچانتے ہيں اور انحراف كے اسباب اور عوامل سے واقف ہيں اسى لئے وہ انسان كى اس سخت راستے كو طے كرنے ميں مدد كرتے ہيں اور انحراف اور كجروى سے روكتے ہيں_ جى ہاں پيغمبر اللہ كى طرف سے معالج ہيں كہ تاريخ انساني
56ميں انہوں نے انسان كى خدمت انجام دى ہے اور ان كى ايسى خدمات كئي درجہ زيادہ بدن كے معالجين سے بڑھ كر كى ہے پيغمبروں نے جوہر ملكوتى ورح كو كشف كرتے ہوئے انسانوں كو اس كى پہچان كرائي ہے اور ان كى انسانى شخصيت كو زندہ كيا ہے_ پيغمبر(ص) تھے كہ جنہوں نے انسانوں كا مكارم اخلاق اور معارف اور معنويات سے روشناس كيا ہے اور قرب الہى كے راستے اور سيرو سلوك كى نشاندہى كى ہے_ پيغمبر تھے كہ جنہوں نے انسان كو خدا اور جہان غيب سے آشنا اور واقف كيا ہے اور انسان كے تزكيہ نفس اور تہذيب كے پرورش كرنے ميں كوشش اور تلاش كى ہے_ اگر انسان ميں معنويت محبت اور عطوفت اور مكارم اخلاق اور اچھى صفات موجود ہيں تو يہ اللہ كے بھيجے ہوئے معالجين كى دائمى اور متصل كوشش بالخصوص خاتم پيغمبر عليہ السلام كى دائمى كوشش كى بركت سے ہيں واقعا پيغمبر اللہ تعالى كے صحيح اور ممتاز بشريت كے معالج ہيں اسى لئے احاديث ميں ان كى عنوان طبيب اور معالج كے عنوان سے پہچان كرائي گئي ہے_امير المومنين عليہ السلام پيغمبر گرامى كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ ‘ محمد(ص) چلتا پھر تا طبيب ہے كہ ہميشہ انسانى روحوں كى طبابت كرنے ميں كوشان تھا اور بيماريوں كے علاج كے لئے مرہم فراہم كر ركھى تھى اور اسے مناسب مورد ميں كام ميں لاتا تھا_ اندھى روح اور بہرے كان گنگى زبان كو شفا ديتے تھے_ اور داؤوں كو انسانوں پر استعمال كرتے تھے جو حيرت اور غفلت ميں غرق اور تھے ان انسانوں كو جو حكمت اور علم كے نور سے استفادہ نہيں كرتے تھے اور حقائق اور معارف الہى كے ناشناس تھے اسى لئے تو ايسے انسان حيوانات سے بھى بدتر زندگى بسر كرتے تھے_(104)قرآن كو روح كے لئے شفاء دينى والى دواء بيان كيا گيا ہے_خدا ارشاد فرماتا ہے كہ ‘ اللہ كى طرف سے موعظہ نازل ہوا ہے اور وہ قلب يعنى روح كے درد كے لئے شفا ہے_(105)نيز خدا فرماتا ہے كہ ‘ قرآن ميں ہم نے بعض ايسى چيزيں نازل كى ہيں جو مومنين
57كے لئے شفاء اور رحمت ہيں_(106)امير المومنين عليہ السلام قرآن كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ ‘قرآن كو سيكھو كہ وہ بہترين كلام ہے اس كى بات ميں خوب غور كرو كہ عقل كى بارش روح كو زندہ كرتى ہے اور قرآن كے نور سے شفاء حاصل كرو كہ وہ دلوں كو يعنى روحوں كو شفا بخشتا ہے_(107)ايك اور جگہ فرماتے ہيں كہ ‘ جو شخص قرآن ركھتا ہو وہ كسى دوسرى چيز كا محتاج نہ ہوگاہ اور جو شخص قرآن سے محروم ہوگاہ كبھى غنى نہ ہوگا_ قرآن كے واسطے سے اپنے روح كى بيماريوں كا علاج كرو اور مصائب كے ساتھے مٹھ بھيڑ ميں اس سے مدد لو كيونكہ قرآن بزرگترين بيمارى كفر اور نفاق اور گمراہى سے شفا ديتا ہے_(108)جى ہاں قرآن ميں آيا ہے كہ پيغمبر اسلام نفوس كے طبيب ہيں_ ہمارے درد اور اس كے علاج كو خوب جانتا ہے اور ايسے قرآن كو لايا ہے جو ہمارے باطنى درد كے لئے شفا ديتے كا ضابطہ ہے اور ہميں ايسا قرآن ديا ہے_ اس كے علاوہ كئي اقسام كى باطنى بيماريوں اور ان كے علاج پيغمبر عليہ السلام اور ائمہ اطہار نے واضح كيا ہے اور وہ حديث كى شكل ميں ہمارے لئے باقى موجود ہيں لہذا اگر ہميں اپنے آپ كے لئے روح كى سعادت اور سلامتى مطلوب ہے تو ہميں قرآن اور احاديث سے استفادہ كرنا چاہئے اور اپنى روح كى سعادت اور سلامتى مطلوب ہے تو ہميں قرآن اور احاديث سے استفادہ كرنا چاہئے اور اپنى روح كى سعادت اور سلامتى كے طريق علاج كى مراعات كرنى چاہئے اور قرآن اور پيغمبر(ص) اور ائمہ اطہارعليہم السلام كى راہنمايى ميں اپنى روح كى بيماريوں كو پہچاننا چاہئے اور ان كى علاج كے لئے كوشش اور سعى كرنى چاہئے اور اگر ہم اس امر حياتى اور انسان ساز ميں كوتاہى كريں گے تو ايك بہت بڑے نقصان كے متحمل ہونگے كہ جس كا نتيجہ ہميں آخرت كے جہان ميں واضح اور روشن ہوگا_

تكميل اور تہذيب نفسپہلے بتاتا جا چكا ہے كہ روح كى پرورش اور تربيت ہمارے لئے سب سے زيادہ
58ضرورى ہے كيونكہ دنيا اور آخرت كى سعادت اسى سے مربوط ہے اور پيغمبر عليہم السلام بھى اسى غرض كى تكميل كے لئے مبعوث ہوئے ہيں_ روح كى تربيت اور خودسازى دو مرحلوں ميں انجام دينى ہوگي_پہلا مرحلہ: روح كى برائيوں سے پاك كرنا يعنى روح كو برے اخلاق سے صاف كرنا اور گناہوں سے پرہيز كرنا اس مرحلہ كا نام تصفيہ اور تخليہ ركھنا گيا ہے_دوسرا مرحلہ: روح كى تحصيل علم اور معارف حقہ فضائل اور مكارم اخلاق اور اعمال صالحہ كے ذريعے تبريت اور تكميل كرنا اس مرحلہ كا نام تحليہ ركھا گيا ہے يعنى روح كى پرورش اور تكميل اور اسے زينت دينا_
انسان كو انسان بنانے كے لئے دونوں مرحلوں كى ضرورت ہوتى ہے اس واسطے كہ اگر روح كى زمين برائيوں سے پاك اور منزہ نہ ہوئي تو وہ علوم اور معارف حقہ مكارم اخلاق اعمال صالح تربيت كى قابليت پيدا نہيں كرے گاہ وہ روح جو ناپاك اور شيطان كا مركز ہو كس طرح انوار الہى كى تابش كا مركز بن سكے گا؟ اللہ تعالى كے مقرب فرشتے كس طرح ايسى روح كى طرف آسكيں گے؟ اور پھر اگر ايمان اور معرفت اور فضائل اخلاق اور اعمال صالح نہ ہوئے تو روح كس ذريعے سے تربيت پا كر تكامل حاصل كرسكے گي_ لہذا انسان كو انسان بنانے كے لئے دونوں مرحلوں كو انجام ديا جائے ايك طرف روح كو پاك كيا جائے تو دوسرى طرف نيك اعمال كو اس ميں كاشت كيا جائے _ شيطن كو اس سے نكالا جائے اور فرشتے كو داخل كيا جائے غير خدا كو اس سے نكالا جائے اور اشراقات الہى اور افاضات كو اس كے لئے جذب كيا جائے يہ دونوں مرحلے لازم اور ملزم ہيں يوں نہيں ہو سكتا كہ روح كے تصفيہ كے لئے كوشش كى جائے اور نيك اعمال كو بجا لانے كو بعد ميں ڈالا جائے جس طرح يہ نہيں ہو سكتا كہ باطنى امور كى اہميت كو نظر انداز كيا جائے اور نيك اعمال بجالانے ميں مشغول ہوا جائے بلكہ يہ دونوں ايك ہى زمانے ميں بجا لائے جانے چاہئيں برائيوں اور برے اخلاق كو ترك كر دينا انسان كو اچھائيوں كے بجالانے كى طرف بلاتا ہے اور نيك اعمال كا بالانا بھى گناہوں اور برے اخلاق كے ترك كر دينے كا موجب ہوتا ہے ۔
59_ افلم يسيروا فى الارض فتكون لہم قلوب يعقلون بہا_ حج/ 46_60_ لہم قلوب لا يفقہون بما و لہم اعين لايبصرون بہا_ اعراف/ 179_61_ اولئك كتب فى قلوبہم الايمان و ايّدہم بروح منہ_ مجادلہ/ 22_62_ و طبع على قلوبہم فہم لا يفقہون_ توبہ/ 78_

31063_ يحذر المنافقون ان تنزّل عليہم سورة تنبئہم بما فى قلوبہم_ توبہ/ 64_64_ و من يؤمن باللہ يہد قلبہ و اللہ بكل شيء عليم_ تغابن/ 11_65_ انّ فى ذالك لذكرى لمن كان لہ قلب او القى السمع و ہو شہيد_ ق/ 37_66_ الا بذكر اللہ تطمئن القلوب_ رعد/ 28_67_ ہو الذى انزل السكينة فى قلوب المؤمنين ليزدادوا ايماناً_ فتح/ 4_68_ انما يستا ذنك الذين لا يؤمنون باللہ و اليوم الاخر و ارتابت قلوبہم فہم فى ريبہم يترددون_ توبہ/ 45_69_ و جعلنا فى قلوب الذين اتّبعوہ را فة و رحمة_ حديد/ 27_70_ ہو الذى ايّدك بنصرہ و بالمؤمنين و الّف بين قلوبہم_ انفال/ 63_71_ و لو كنت فظاً غليظ القلب لا نفضّوا من حولك_ آل عمران/ 159_72_ نزل بہ الروح الامين على قلبك لتكون من المنذرين_ شعرا/ 194_73_ فاوحى الى عبدہ ما اوحى ما كذب الفؤاد ما را ي_ نجم/ 11_74_ يوم لا ينفع مال و لا بنون الا من اتى اللہ بقلب سليم_ شعرا/ 89_75_ انّ فى ذالك لذكرى لمن كانہ لہ قلب_ ق/ 37_76_ و ازلفت الجنة للمتقين غير بعيد_ ہذا ما توعدون لكل اوّاب حفيظ_ من خشى الرحمان بالغيب و جاء بقلب منيب_ ق/ 31_ 33_77_ فى قلوبہم مرض فزادہم اللہ مرضاً_ بقرہ/ 10_78_ فترى الذين فى قلوبہم مرض يسارعون فيہم يقولون نخشى ان تصيبنا دائرة_ مائدہ/ 52_79_ و من اعرض عن ذكرى فانّ لہ معيشة ضنكا و نحشرہ يوم القيامة اعمي_ قال لم حشرتنى اعمى و قد كنت بصيراً قال كذالك اتتك آياتنا فنسيتہا و كذالك اليوم تنسي_ طہ/ 125_80_ افلم يسيروا فى الارض فتكون لہم قلوب يعقلون بہا و آذان يسمعون بہا فانہا لا تعمى الابصار و لكن تعمى القلوب التى فى الصدور_ حج/ 46_81_ و من كان فى ہذہ اعمى فہو فى الاخرة اعمى و اضلّ سبيلاً_ اسرائ/ 72_82_ و من يہدى اللہ فہو المہتدى و من يضلل فلن تجد لہم اولياء من دونہ و نحشرہم يوم القيامة على وجوہم عمياً و بكماً و صمّاً_ اسرائ/ 97_83_ فالذين آمنوا بہ و عزّروہ و نصروہ و اتّبعوا النور الذى معہ اولئك ہم المفلحون_ اعراف/ 157_84_ قد جائكم من اللہ نور و كتاب مبين_ مائدہ/ 15_

31185_ افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فہو على نور من ربہ، فويل للقاسية قلوبہم من ذكر اللہ اولئك فى ضلال مبين_ زمر/ 22_86_ كتاب انزلناہ اليك لتخرج الناس من الظلمات الى النور_ ابراہيم/ 1_87_ يوم ترى المؤمنين و المؤمنات يسعى نورہم بين ايديہم و بايمانہم بشراكم اليوم جنات تجرى من تحتہا الانہار خالدين فيہا ذالك ہو الفوز العظيم_ حديد/ 12_88_ يوم يقول المنافقون و المنافقات للذين آمنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا ورائكم فالتمسوا نوراً_ حديد/ 13_89_ عن ابى جعفر عليہ السلام قال: القلوب ثلاثة: قلب منكوس لايعثر على شيء من الخير و ہو قلب الكافر و قلب فيہ نكتة سوادء فالخير و الشر يعتلجان، فما كان منہ اقوى غلب عليہ، و قلب مفتوح فيہ مصباح يزہر فلا يطفا نورہ الى يوم القيامة و ہو قلب المؤمن_ بحار/ ج 70 ص 51_90_ عن ابى عبداللہ عليہ السلام قال: كان ابى يقول: ما من شء افسد للقلب من الخطيئة، انّ القلب ليواقع الخطيئة فما تزال حتى تغلب عليہ فيصير اسفلہ اعلاوہ و اعلاہ اسفلہ_ بحار/ ج 70 ص 54_91_ عن على بن الحسين عليہ السلام فى حديث طويل يقول فيہ: الا انّ للعبد اربع اعين: عينان يبصر بہما امر دينہ و دنياہ، و عينان يبصر بہما امر آخرتہ_ فاذا اراد الہ بعبد خيراً فتح ليہ العينين اللتين فى قلبہ فابصر بہما الغيب و امر آخرتہ و اذا اراد بہ غير ذالك ترك القلب بما فيہ_ بحار/ ج 70ص 53_92_ عن ابيعبداللہ عليہ السلام قال: ان للقلب اذنين، روح الايمان يسارّہ بالخير و الشيطان يسارّہ بالشر فايّہما ظہر على صاحبہ غلبہ_ بحار/ ج 70 ص 53_93_ عن الصادق عليہ السلام قال: قال رسو ل اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: شرّ العمى وعمى القلب_ بحار/ ج 70 ص 51_94_ عن ابى جعفر عليہ السلام قال: ما من عبدا الّا و فى قلبہ نكتة بيضاء فاذا اذنب ذنباً خرج فى النكتة نكتة سواء _ فان تاب ذہب ذالك السوائ، و ان تمادى فى الذنوب زاد ذالك السواد حتى يغطّى البياض، فا ذا غطّى البياض لم يرجع صاحبہ الى خير ابداً و ہو قول اللہ تعالي: كلّا بل ران على قلوبہم ما كانوا يكسبون_ كافى / ج 2 ص 273_95_ قال على عليہ السلام: و من قلّ ورعہ مات قلبہ و من مات قلبہ دخل النار_ نہج البلاغة_96_ فيما اوصى بہ امير المؤمنين عليہ السلام ابنہ، قال: يا بنى انّ البلاء الفاقة و اشدّ من ذالك مرض البدن و اشدّ من ذالك مرض القلب_ و ان من النعم سمة المال و افضل من ذالك صحة البدن و افضل من ذالك تقوى القلوب_ بحارالانوار/ ج 70 ص 51_

31297_ انس بن مالك قال قال رسو ل اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: ناجى داود ربّہ فقال الہى لكلّ ملك خزانة فاين خزانتك؟ قال جلّ جلالہ: لى خزينة اعظم من العرش و اوسع من الكرسى و اطيب من الجنة و ازين من الملكوت_ ارضہا المعرفة و سمائہا الايمان و شمسہا الشوق و قمرہا المحبّة و نجومہا الخواطر و سحابہا العقل و مطرہا الحرمة و اثمارہا الطاعة و ثمرہا الحكمة_ و لہا اربعة ابواب: العلم و الحلم و الصبر و الرضا_ الا وہى القلب_ بحار الانوار/ ج 70 ص 59_98_ فلو لا اذ جائہم با سنا تضرّعوا و لكن قست قلوبہم و زيّن لہم الشيطان ما كانوا يعمولن_ انعام 43_99_فويل للقاسية قلوبہم من ذكر اللہ اولئك فى ضلال مبين_ زمر/ 22_100_ عن ابى جعفر عليہ السلام قال: ما من عبد مؤمن الّا و فى قلبہ نكتة بيضاء فان اذنب و ثنّى خرج من تلك النكتة سواد فان تمادى فى الذنوب اتسع ذالك السواد حتى يغطى البياض فاذا غطّى البياض لم يرجع صاحبہ الى خير ابداً و ہو قول اللہ ‘ كلّا بل ران على قلوبہم ما كانوا يكسبون، بحار/ ج 73 ص 361_101_ قال اميرالمؤمنين عليہ السلام: ما جفّت الدموع الّا لقسوة القلوب و ما قست القلوب الّا لكثرة الذنوب_ بحار/ ج 73 ص 354_102_ قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ : من علامات الشقائ: جمود العين و قسوة القلب و شدة الحرص فى طلب الرزق و الا صرار على الذنب_ بحارالانوار/ ج 73 ص 349_103_ قال على بن الحسين(ع) فى دعائہ: الہى اليك اشكو قلباً قاسياً، مع الوسواس متقلباً و بالرين و الطبع متلبسا و عيناً عن ابكاء من خوفك جامدة و الى ما تسرہا طامحہ_ بحار/ ج 94ص 143_104_ طبيب دوّارہ بطبّہ قد احكم مراہمہ و احمى مواسمہ يضع من ذالك حيث الحاجة اليہ، من قلوب عمى و آذان صمّ و السنة بكم_ متّبع بدوائہ مواضع الغفلة و مواطن الحيرة لم يستضيثوا باضواء الحكمة و لم يقد حوابزناد العلوم الثاقبة، فہم فى ذالك كالانعام السائمة و الصخور القاسية نہج البلاعہ/ خطبہ 108_105_ قد جائتكم موعظة من ربكم و شفاء لما فى الصدور_ يونس/ 57_106_ و ننزّل من القرآن ما ہو شفاء و رحمة للمؤمنين_ اسرائ/ 82_107_ قال على عليہ السلام: و تعلّموا القرآن فانّہ احسن الحديث و تفقّہوا فيہ فانّہ ربيع القلوب و استشفوا بنورہ فانہ شفاء الصدور_ نہج البلاغہ/ خطبہ 110_108_ قال على عليہ السلام: و اعلموا انّہ ليس على احد بعد القرآن من فاقة و لا لاحد قبل القرآن من غني، فاستشفوہ من اودائكم و استعينوا بہ على لا وائكم فانہ فيہ شفاء من اكبر الداء و ہو الكفر و الغيّ و الضلال_ نہج البلاغہ/ خطبہ 176_

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.