انسانی فطرت

ہماری بحث کے متعلق دو سوال اٹھائے گئے ہیں پہلے ہم ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں پھر اصل گفتگو کو جاری رکھیں گے

670

ہماری بحث کے متعلق دو سوال اٹھائے گئے ہیں پہلے ہم ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں پھر اصل گفتگو کو جاری رکھیں گے:پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن نے جو معاملات نوع انسان کی زبان سے بیان کئے ہیں کیا فطری ہیں یا نہیں؟ مثلاً قرآن مجید فرماتا ہے:و یقول الانسان اذا مامت لسوف اخرج حیا(مریم ۶۶)”اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مر جاؤں گا تو پھر جلد ہی مجھے زندہ نکال لیا جائے گا۔”کیا اس آیت سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ قیامت پر اعتقاد فطری ہے؟مجموعی طور پر یہ ایک اچھا سوال ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا گہری نظر سے جائزہ لیا جانا چاہئے اور یہ دیکھا جانا چاہئے کہ قرآن کریم نے نوع انسانی کی زبان سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ انسان کے فطری امور کا ترجمان ہے یا نہیں؟ بہرحال مجموعی طور پر یہ سوال قابل بحث اور اہم ہے۔ ضروری ہے کہ اس ضمن میں آنے والی تمام آیات کو یکجا کیا جائے لیکن خاص طور پر مذکورہ آیت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتداء میں یہ دیکھنا ہو گا کہ یقول الانسان نوع انسان کی زبان سے ہے یا پھر کسی خاص انسان کی طرف اشارہ ہے۔ مجھے اچھی طرح سے تو یاد نہیں لیکن احتمال یہ ہے کہ آیت کا شان نزول ایک خاص واقعے سے متعلق ہے۔ (صاحب مجمع البیان لکھتے ہیں کہ “نزل قولہ: ویقول الانسان” مذکورہ آیات ابی بن خلف جمعی اور بعض کے مطابق ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے) یعنی کسی ایک انسان نے یہ بات کی ہے۔ قرآن تعجب اور انکار کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ دیکھو یہ انسان ایسی بات کر رہا ہے! اگر یوں ہو تو پھر ایسا کہنا بنی نوع انسان کا ترجمان نہیں بلکہ کسی ایک شخص کا قول ہو گا۔ ثانیاً یہ کہ قیامت پر اعتقاد کا فطری ہونا یا نہ ہونا اس بات کے ساتھ وابستہ ہے کہ ہم قیامت پر اعتقاد کو کس صورت میں بیان کرتے ہیں؟ کبھی ہو سکتا ہے کہ ہم اس مسئلے کو اس شکل میں بیان کریں جس میں خود قرآن اپنی اکثر آیات میں بیان کرتا ہے۔ قیامت کا جو معنی اور مفہوم قرآن بیان کرتا ہے وہ اللہ کی طرف بازگشت ہے انا للہ و انا الیہ راجعوناگر قیامت کا مفہوم یہ ہو تو پھر جواب مثبت ہے یعنی ہاں قیامت پر ایمان فطری ہے۔لیکن عموماً اس امر کو ایک ناقص صورت میں بیان کیا جاتا ہے جس میں اس کا حقیقی مفہوم بیان نہیں ہوتا۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ایک کاریگر کوئی چیز بناتا ہے پھر اسے توڑ دیتا ہے یا ضائع کر دیتا ہے اور دوسری مرتبہ پھر سے بنانا چاہتا ہے اسے بھی گویا ایسے ہی کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں جس شخص کی بات نقل کی گئی ہے اس کا تصور بھی ایسا ہی تھا اس کے سامنے قیامت اور معاد کا حقیقی تصور نہ تھا اس نے سن رکھا تھا کہ قیامت میں لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے مگر اس نے اس زندگی کو دنیا کی طرف بازگشت خیال کیا۔ اکثر لوگوں کا خیال ایسا ہی ہے وہ اسے خدا کی طرف بازگشت نہیں سمجھتے اگر قیامت کے بارے میں ہمارا تصور یہ ہو کہ یہ اسی دنیا کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے تو معاد پر اعتقاد یقینی طور پر فطری نہیں لیکن قیامت کے بارے میں ہمارا تصور حقیقت میں اللہ کی طرف بازگشت ہو تو پھر یہ ایسا امر ہو گا جو خدا اور انسان کے درمیان ہر رابطے سے متعلق ہے۔ اس امر کے بارے میں متعلقہ مقام پر بحث کریں گے کہ یہ فطری ہے۔کیا اپنے آپ میں کسی چیز کا پانا اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کے وجود میں فطرت کی موجودگی۔اس بات کے لئے اپنے آپ میں فطری جبلت کا پانا کافی ہے یا کسی اور استدلال کی ضرورت ہے کیونکہ پہلی صورت میں اغراض خواہشات نفسانی اور جبلتوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اصطلاحی و لفظی فرق پر انحصار کافی نہیں ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ فطرت اور جبلت کے درمیان حد فاضل کیا ہے اور کیا یہ باہمی افہام و تفہیم کا نتیجہ ہے (مثلاً شعوری اور غیر شعوری کی صورت میں تقسیم) یا پھر کیا یہ ایک حقیقی امر ہے؟در اصل یہ دو سوال ہیں جو ایک دوسرے کے تسلسل میں ہیں۔ کہتے ہیں کہ آیا ایک امر کے فطری ہونے کے اثبات کے لئے یہ کافی ہے کہ ہم اسے اپنے وجود میں پائیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہم کسی چیز کے فطری ہونے کے بارے میں بحث نہیں کر رہے نہ ہی کسی چیز ہونے کی علامات بیان کر رہے ہیں اس مسئلے کے بارے میں ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ دوسرے بالفرض اگر ایسا ہو بھی تو یہ کوئی عجیب چیز نہیں ہے کہ کوئی امر ہمارے نزدیک فطری ہو اور اس کے فطری ہونے پر دلیل یہ ہو کہ اس کے فطری ہونے کو ہم اپنے آپ میں محسوس کریں۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ہمارے نزدیک کچھ مسلم الثبوت دعوؤں “کلیات اولیہ” کا ایک سلسلہ ہے جسے ہم کہتے ہیں “کل جزو” سے بڑا ہوتا ہے اور “جزو” کا اپنے “کل” کے برابر یا اس سے بڑا ہونا محال ہے۔ اس بات کے اثبات کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مسلم الثبوت بات “کلیہ” ہے اگر کوئی یہ کہے کہ اس کے مسلم الثبوت ہونے پر کیا دلیل ہے؟ یعنی خود تو یہ بات مسلم الثبوت ہے لیکن اس کا مسلم الثبوت ہونا مفروضہ ہے یا دعویٰ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ کہ یہ بات مسلم الثبوت ہے بذات خود ثابت شدہ ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ اس دعوے کا مسلم الثبوت ہونا ثابت نہیں بلکہ یہ ایک مفروضہ اور قیاس ہے تو پھر اس کے لئے دلیل پیش کرنا ضروری ہے پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ خود ہماری دلیل کیسی ہے؟ مفروضہ ہے یا مسلم الثبوت دلیل ہے؟ اگر فرض کریں کہ ہماری دلیل قیاسی اور مفروضہ ہے تو پھر اس کے لئے بھی دلیل کی ضرورت ہو گی۔ اب اس دلیل کے لئے لائی جانے والی دلیل کو دیکھنا ہو گا کہ وہ مفروضہ ہے یا مسلم الثبوت ہے۔ اگر آخرکار ہم ایک ایسے دعوے پر پہنچ جائیں جو مسلم الثبوت ہو تو پھر یہ درست ہے لیکن اگر یہ اصول مسلم الثبوت نہ ہو تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ ہمارے پاس نہ مفروضہ ہے نہ مسلم الثبوت دعویٰ یعنی جب کوئی بات مسلم الثبوت نہ ہو تو ہم اس کے بارے میں استدلال پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اس صورت میں ہمارا استدلال ایک قیاسی اور فرضی امر پر ہو گا یعنی اس کی بنیاد ایک مجہول “نامعلوم” امر پر ہو گی۔ اگر ہم چاہیں کہ ایک مجہول “نامعلوم” چیز کے لئے مفروضہ کو دلیل بنا کر پیش کریں یعنی امر مجہول کے لئے دلیل بھی امر مجہول ہو تو یہ ایسے ہی ہے کہ ایک صفر کے ساتھ ایک صفر کا اضافہ کر دیا جائے کہ بجائے خود لاحاصل ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔پس یہ بات عجیب نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہم فطری امور کے ایک سلسلے کے حامل ہیں اور ان کے فطری ہونے کو خود اپنے آپ میں پاتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں کوئی دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس مسئلے کے بارے میں بعد میں مزید وضاحت کی جائے گی۔اس سوال کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ اس صورت میں “جبلت”، غریزہ خواہش اور ان کے مانند دیگر امور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔اتفاق کی بات ہے کہ ہم نے پہلے جو بحث کی تھی وہ لغوی تھی یعنی ہماری گفتگو کا محور یہ تھا کہ لفظ “فطرت” جو پہلے قرآن مجید میں اور پھر علماء کی اصطلاحات میں استعمال ہوا ہے اس سے کیا مراد لی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی شخص ان مسائل فطری کا نام “غریزہ”، “جبلت” رکھ دے لیکن یہ نام رکھنے سے کیا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ بحث تو اسی جبلی یا فطری امر کی ماہیت و حقیقت کے بارے میں ہے۔ اب آپ چاہے اس کا نام “غریزہ”، “جبلت” رکھ لیں یا “فطرت”۔ ہماری بحث کا محور الفاظ نہیں ہیں ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے کہ لفظ “فطرت”، لفظ “غریزہ” یا “جبلت” سے مختلف ہے یا نہیں۔ بحث تو اس بارے میں ہے کہ وہ چیز جسے انسانیت (Humanity) کا نام دیا جاتا ہے اور جسے “انسانی خصوصیات” کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے وہ کسبی ہے یا غیر کسبی؟ (الفاظ سے سروکار نہ ہونے سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے مدعا میں الفاظ کا کوئی کردار نہیں اگرچہ ہمیں الفاظ کی بھی ضرورت ہے) اور کیا یہ خصوصیات بیرونی ہیں اور انسان پر مسلط کی گئی ہیں یا خود انسان کی ذات سے پھوٹی ہیں؟ ہماری بحث اس کے بارے میں ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیات فطری ہیں یعنی انسان کی ذات سے پھوٹتی ہیں اور انسان ایک ایسا موجود ہے کہ اس کے وجود کی گہرائی میں ان خصوصیات کا بیج بویا گیا ہے اب اگر آپ اس کا نام “غریزہ”، “جبلت” رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں۔ یہ پھر ایک لغوی بحث ہو جائے گی ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عام طور پر ایسے موقع پر لفظ “غریزہ”، “جبلت” کا اطلاق نہیں کیا جاتا نیز عام طور پر حیوانوں کے لئے لفظ “فطرت” استعمال نہیں کیا جاتا لیکن اگر کوئی حیوانوں کے لئے لفظ فطرت استعمال کرنا چاہتا ہے تو کرے پس ہماری بحث کوئی لغوی بحث نہیں ہے۔اس اعتبار سے کہ جو کہا جاتا ہے کہ انسان میں جو کچھ ہے وہ شعوری ہے اور حیوان میں جو کچھ ہے غیر شعور ہے۔ اس بارے میں کوئی بحث نہیں ہے کہ اس طرح کا فرق بھی موجود ہے پس اس بات کو ہمارے لئے اعتراض کی بنیاد نہیں بننا چاہئے۔ اب ہم اپنے موضوع سخن کے بارے میں گفتگو جاری رکھتے ہیں:
انسان پراسرار ترین موجودکائنات کے موجودات میں سے انسان سے بڑھ کر کوئی موجود تفسیر و تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ ہم یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فلسفے میں جن موضوعات پر بحث کی جاتی ہے یعنی دنیا کے تمام فلسفے جن کے بارے میں بحث کرتے ہیں وہ “خدا”، “کائنات” “انسان” ہیں بعض “کائنات” کے بارے میں زیادہ تر بحث کرتے ہیں اور بعض انسان کے بارے میں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجزائے عالم میں انسان کو کیا خصوصیت اور کیا امتیاز حاصل ہے کہ ہم نے کائنات اور انسان کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے؟ کیا انسان کائنات سے جدا ہے؟ہاں! انسان کائنات کا جزو ہے لیکن دیگر تمام اجزاء سے بہت مختلف ہے یا یوں کہئے اس میں ایسی ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ جو کائنات کی دیگر اکائیوں اور اجزاء سے زیادہ توحید و تفسیر کی محتاج ہیں۔ دھات بھی ایک چیز ہے لوہا سونا چاندی اور پودے کائنات کے اجزاء ہیں لیکن یہ اس قدر تفصیل و توضیح کے محتاج نہیں کہ ضروری ہو جائے کہ ان کے لئے بہت سے مفروضے قائم کرنے پڑیں اور بہت سے نظریات و آراء پیدا ہو جائیں اور ان کی شناخت کے لئے طرح طرح کے مسائل درپیش ہوں لہٰذا اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کا دعویٰ ہے کہ موجودات عالم میں سے انسان پراسرار ترین موجود ہے۔الیکسز کارل نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان اس نے “انسان پراسرار موجود” یا “مجہول موجود” (الانسان ذالک المجہول) رکھا ہے۔ خوب نام ہے کہ تعجب ہے کہ خود انسان نے بہت سی چیزوں کو پہچانا ہے اور اپنے سے بہت دور کی چیزوں کو اس نے شناخت کر لیا ہے اور اب وہ ان کے بارے میں اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے لئے اب ان چیزوں کے بارے میں کچھ مجہول نہیں ہے لیکن موجودات میں سے جو اس کے نزدیک ترین ہے یعنی خود اپنی ذات یعنی انسان کہ جو سب کو پہچاننے والا ہے اس کے بارے میں اس کے اسرار و رموز اور مجہولات بہت زیادہ ہیں۔انسان کے بارے میں مجہولات میں سے ایک یہی ہے انسان کی فطرت کا مسئلہ ہے جس کے دو حصے ہیں ایک شناخت فہم اور دریافت سے متعلق ہے اور دوسرا خواہش اور رغبت سے متعلق ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.