قبروں پر عمارت و عبادت کی جگہ قرار دینا

380

انبیاء علیہم السلام کی قبروں پر عمارت بنانے اوران کو عبادت کی جگہ قرار دینے سے متعلق بحث
انبیاء علیہم السلام کی قبروں کے اوپر تعمیرات کے بارے میں اصل حقائق ہدیہ ناظرین کرنے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ چند روایات کی روشنی میں اس مسئلے کا حل پیش خدمت ہے جن میں سب سے اہم یہ ہیں:
حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے۔اس وقت آپ نے فرمایا:
تم میں سے کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں کسی بت کو بغیر توڑے نہ چھوڑے کسی قبر کو ہموار کئے بغیر نہ چھوڑے اور کسی تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑے؟
ایک شخص نے کہا:
یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔
پس وہ گیا لیکن وہ شخص اہل مدینہ سے ڈر کر حضور(ص) کے پاس واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت علی(ع) نے عرض کیا:
اے رسول خدا مجھے اجازت دیجئے میں جاتا ہوں۔
فرمایا:جاؤ۔
پس علی چلے گئے۔ پھر واپس آئے اور عرض کیا:
یا رسول اللہ! میں نے کسی بت کو توڑے بغیر نہیں چھوڑا، کسی قبر کو ہموار کئے بغیر نہیں چھوڑا اور کسی تصویر کو مٹائے بغیر نہیں چھوڑا۔
احادیث کی کتب میں اس حدیث کا باربار تذکرہ ہواہے۔۱  ہم نے یہاں الفاظ کے لحاظ سے سب سے کامل روایت کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
درج بالا حدیث پر تبصرہ
ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کی۔ وہاں خود بھی روئے اور ارد گرد موجود افراد کو بھی رُلایا۔ آپ کی والدہ کا انتقال مدینہ منورہ میں اس وقت ہوا جب آپ کا سن مبارک چھ سال تھا۔ بنا بریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چالیس سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ بعد اپنی والدہ کی قبر مبارک کی زیارت سے اس وقت مشرب ہوئے جب آپ نے مدینہ کو ہجرت کی تھی اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی والدہ کی قبر کا نشان اس وقت واضح تھا وگرنہ ان کی قبر کا پتہ ہی نہ چلتا۔
اگر اسلام قبروں کو ہموار کرنے کا حکم دیتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت اپنی ماں کی قبر ڈھانے کا حکم کیوں نہیں دیا؟
ثانیاً: یہ کہ جب مدینہ کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے پہل مصعب بن عمیر کو ان کے ہاں بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی وہ تعلیمات سکھائے جو اس وقت تک نازل ہوئی تھیں۔ پھر جب وہ حج کے لئے آئے تو وہاں کے مسلمان عقبہ کے مقام پر آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت چھپ کر کی۔ آپ کی ہجرت تک ان کے درمیان اسلام اچھی طرح نہیں پھیلا تھا۔ آپ کی ہجرت سے کم از کم تین دن بعد حضرت علی  بھی مدینہ چلے آئے۔ اس کے بعد مدینہ میں آپ کے ورود کا واقعہ مشہور و معروف ہے۔
بنی نضیر، بنی قینقاع اور نبی قریظہ کے یہودیوں سے معاہدے کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتدریج مدینہ میں اپنی حکومت کا دائرہ وسیع کرتے گئے اور تمام اہل مدینہ تدریجاً دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ بنا بریں آپ نے ایک ایسے حاکم کی طرح جس کے کسی امر کی حکم عدولی ممکن نہ ہو حضرت علی مرتضیٰ(ع) کو تشییع جنازہ کے دوران بتوں کو توڑنے، قبروں کو ہموار کرنے اور تصاویر کو مٹانے کے لئے مدینہ جانے کا حکم کب دیا؟ اس کے علاوہ اس روایت کے مضمون کے مطابق تشییع جنازہ کے دوران پہلا شخص مدینہ گیا اور ناکام واپس آیا۔ پھر آپ نے حضرت علی(ع) کو بھیجا جبکہ لوگ ابھی تشییع جنازہ میں مشغول تھے۔ اب آپ فرمائیے کہ مذکورہ بالا زیر بحث روایت کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے؟
ثالثاً:باقی ماندہ حدیث میں یہ مذکور ہے کہ حضرت علی نے ابو الھیاج اسدی سے فرمایا:
میں تجھے اس کام کے لئے روانہ کرتا ہوں جس کام کے لئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا۔ آپ(ص) نے مجھے ہر قبر کو ہموار کرنے اور ہر بت کو نابود کرنے کا حکم دیا ہے۔ ,2
ظاہر ہے کہ امام کا ابو الہیاج اسدی کو مذکورہ کام کے لئے بھیجنا آپ کے دور خلافت میں ہی ہو سکتا ہے۔ بنا بریں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ(ع) نے ابو الھیاج اسدی کو کب روانہ کیا؟ کیا اسلامی فتوحات اور ابوبکر، عمرو عثمانکے دور کے بعد اپنے زمانہ ٴ خلافت میں یا اس سے پہلے ؟ آپ نے ابو الھیاج کو کس علاقے کی طرف بھیجا؟
یاد رہے کہ مذکورہ دونوں حدیثوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام نے بلاد شرک میں مشرکین کی قبروں کو مٹانے کا حکم دیا تھا نہ کہ مسلمانوں کی قبروں کو منہدم کرنے کا۔
بعض لوگ اس روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ رسول کریم(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا:
خدایا میری قبر کو بت قرار نہ دے۔ خدا کی لعنت ہو ان لوگوں پر جو اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد قرار دیتے ہیں۔,3
ایک دوسری روایت میں آپ(ص) نے انبیاء کی قبور کو مساجد قرار دینے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا:
خدا یہودیوں کو ہلاک کرے جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو مساجد قرار دیا۔4
اس حدیث پر تبصرہ
جب بنی اسرائیل مصر سے کوچ کر گئے اور انہوں نے سمندر پار کر لیا پھر چٹیل میدان سے گزر کر فلسطین پہنچ گئے تو ان کو عبادت کے لئے بیت المقدس مل گیا۔ ان کے لئے بیت المقدس کے علاوہ عبادت کی اور کوئی جگہ نہ تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جو بر سر اقتدار بھی تھے کے دور میں ان کے لئے ایک دربار بنایا گیا جسے ہیکل سلیمانی اکا نام دیا جاتا ہے۔ پس اس وقت انبیاء کی قبریں ہی کہا تھیں جنہیں وہ مساجد قرار دیتے۔ نیز بیت المقدس اور فلسطین مسلمانوں کے زیر نظر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے قبل عربوں کے زیر نظر تھے۔ ان کے باقی ابنیاء میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ، اور موسیٰ بن عمران کی قبریں باقی رہتی ہیں جن کے بارے میں نہ ہم نے دیکھا ہے نہ سنا ہے اور نہ ہی کسی کتاب میں مذکور ہے کہ یہودیوں نے ان دونوں کو بت قرار دیا ہو اور اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ انہوں نے کسی قبر کو بت قرار دیا تھا تو قبر کا احترام اور قبر کی زیارت کا اس سے کیا تعلق؟ کیونکہ قبر کو بت قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح کعبے کی جانب نماز پڑھتے ہیں اسی طرح اس قبر کی طرف رخ کیا جائے۔ بنا بریں این کجا و آن کجا؟
جو کچھ ہم اب تک بیان کر چکے ہیں اور آئندہ بیان کریں گے ان میں ہمارا شک اور اعتراض نعوذ باللہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہیں ہے بلکہ جھگڑا ان احادیث
کے راویوں میں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سہو و نسیان اور غلطی سے مبرا قرار نہیں دیا۔
قبور انبیاء علیہم السلام کو عبادت کی جگہ بنانے کے جواز میں دلائل
جو لوگ قبور انبیاء علیہم السلام کو عبادت کی جگہ قرار دینے کو جائز سمجھتے ہیں وہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ کعبہ کے اردگرد طواف کرنے والے حجر اسماعیل (ع) کے ارد گرد طواف کرتے ہیں اور اس کی دیواروں کو چھوتے ہیں جبکہ اس میں حضرت اسماعیل(ع) اور جناب حاجرہ سلام اللہ علیہا کی قبریں ہیں چنانچہ ابن سعد نے اپنی کتاب الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے:
جب اسماعیل(ع) بیس سال کے ہوئے تو ان کی والدہ جناب ہاجرہ  نوے سال کی عمر میں رحلت کر گئیں۔ پس اسماعیل  نے ہاجرہ  کو حجر میں دفن کیا۔ جب اسماعیل  اپنے والد کے بعد وفات پا گئے تو کعبے کے پہلو میں حجر میں اپنی والدہ کے ساتھ دفن ہوئے۔ اس کے بعد ایک اور روایت مرقوم ہے کہ اسماعیل  کی قبر مبارک پر نالے کے نیچے رکن اور بیت کے درمیان واقع ہے۔,5
ابو بکر الفقیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
اپنی قوم سے بھاگنے والا ہر نبی کعبے کی طرف بھاگتا تھا اور اس میں تا دمِ مرگ عبادت کرتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ ھود(ع) ،شعیب(ع) اور صالح(ع) پیغمبر کی قبریں زمزم اور مقام کے درمیان واقع ہیں۔
کعبہ میں تین سو ابنیاء علیہم السلام کی قبریں موجود ہیں اور رکن یمانی اور رکن سعود کے درمیان ستر انبیاء علہیم السلام مدفوں ہیں۔,6
بہت سے ادلہ میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ارشاد خداوندی ہے:
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہمَ مُصَلًّی۔,7
کہ مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ۔
نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی جو اصحاب کہف کے بارے میں ہے اس سلسلے کی ایک زبردست دلیل ہے:
قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا۔,8
جنہوں نے ان کے بارے میں غلبہ حاصل کیا وہ کہنے لگے: ہم ان کے غار پر ضرور ایک مسجد بناتے ہیں۔
بنابریں قبروں کی تعمیر کے بارے میں ”احادیث کا اختلاف“ بلکہ بالفاظ مناسب یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ” احادیث کو سمجھنے میں اختلاف“ دراصل اس مسئلے کا سبب بنا ہے۔
اس کے بعد اب ہم میت پر رونے کے بارے میں اختلاف نظر اور اس کی علت پر روشنی ڈالیں گے۔
 
حوالہ جات
۱        مسند امام احمد ج۱ صفحہ ۸۷،۸۹،۹۶،۱۱،۱۱۱،۱۲۸،۳۸،۱۳۹،۱۴۵،۱۵۰، مسند الطیالسی حدیث نمبر ۹۶ صفحہ ۱۵۵ طبع دکن۔
2 ملاحظہ ہو۔ مسند امام احمد ج ۱ صفحہ ۸۹،۹۶
3 مسند الامام احمد ج۲ صفحہ ۲۴۶
4 مسند الامام احمد ج۲ صفحہ ۲۸۵
5        طبقات ابن سعد ج۱ صفحہ ۲۵ طبع اوربا
6        مختصر کتاب البلدان تالیف ابربکر احمد بن الفقیہ الھمدانی صفحہ ۱۷ طبع لیدن۔
7        سورة بقرةآیت ۱۲۵
8        سورة کہف آیت ۲۱
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.