انصار کا اجتماع

393

بسم اللہ الرحمن الرحیم
«وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُواْ الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُواْ يَأْتِ بِكُمُ اللّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»[1]
ہر شخص کے لئے قبلہ ہے جس کی جانب رخ کرکے وہ عبادت کرتا ہے بس نیکی انجام دینے کی طرف سبقت اختیار کرو، تم جہاں کہیں ہو خدا تم سب کو اپنی جانب پلٹاتا ہے، درحقیقت خدا تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے ۔
آيت کي تفسير:
یہ آیت بہت اہم اور عجیب واقعہ سے تعلق رکھتی ہے کہ جس میں قبلہ کی تبديلي کا حکم ديا گيا ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ ابتدا میں بیت المقدس تھا اور وہ اس کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے تھے،یہانتک کہ ہجرت کے پہلے سال تبدیلی قبلہ کا حکم آیا اور مومنین پر واجب ہوگیا کہ خانہ کعبہ کی جانب رخ کریں اور نماز پڑھیں ۔ یہ حکم یہودیوں کے لئے بہت سخت گزرا اور انہوں نے قبلہ کي تبديلي پر شور و غل مچایا!اللہ تعالی نے ان کے جواب میں ایک بہترین اور اہم قانون کی جانب اشارہ کیا کہ ہر گروہ کے لئے خدا کی طرف سے خاص قبلہ اور جہت ہے کہ وہ اس کی جانب رخ کرے ۔
قبلہ کی بحث دین کے اصلی ارکان (جیسے توحید اور معاد) سے متعلق نہیں ہے کہ قابل تغییر نہ ہو، بلکہ اس کے فروعات میں سے ہے لہذا بر بنائے مصلحت اسکی تبدیلی ممکن ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ ان فروعی امور پر لایعنی بحث اور گفتگو کے بجائے نیکیوں کی جانب توجہ کریں اور انہيں انجام دينے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کریں ؛کیونکہ جو چیز ان کے لئے باقی رہ جائے گی اور ان کے کمال کا سبب ہے ،یہی بہترین اعمال ہیں۔
انسانوں کو معلوم ہونا چاہے کہ وہ جہاں بھی ہو ں، خدا ان کو حاضر کرے گا اور یقینی طور پر ان سے سوال ہوگا ۔ایسا نہیں ہے کہ بدکار اور اچھے افراد برابر ہوں اور ان کے اعمال کا حساب نہ لیا جائے۔ پروردگار عالم قادر مطلق ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے لہذا لوگوں کو جمع کرنا ان سے سوال کرنا اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اس کی قدرت سے خارج نہیں ہے۔
آيت کي تاویل:
آیت کے ظاہری الفاظ میں قیامت کبری کے وجود ، صحرا ئےمحشر میں لوگوں کے اجتماع اور عدل الہی کے قائم ہونے کی بات ہوئی ہے؛ لیکن بہت سی روایات میں جملہ « اَيْنَما تَکُونُوا يَأت بکم اللہ جميعاً» حضرت امام مہدی (عج))کے اصحاب سے تاویل ہوا ہے۔ کلینی (رہ) روضہ کافی میں اس طرح نقل کرتے ہیں :
«عَنْ اَبي جَعْفَر عليہ السلام فِيْ قُولِ اللہ عزّوجلَّ: «فَاسْتَبِقُواْ الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُواْ يَأْتِ بِكُمُ اللّهُ جَمِيعًا»قَالَ: الخَيراتُ اَلوِلايَۃ وَقَولُہ تَبارَکَ وَتَعالي: «أَيْنَ مَا تَكُونُواْ يَأْتِ بِكُمُ اللّهُ جَمِيعًا» يَعنِي اَصحابَ القائم الثَلاثمِائہ والبضعۃَ عَشَر رَجُلاً، قال: وَھُمْ وَاللہِّ الاُمۃُ المَعدُودَۃُ قَال: يَجتَمِعُونَ وَاللہِ فِيْ سَاعَۃِ وَاحِدَۃٍ قُزعُ کَقَزعٍ الخَريفِ »[2]
امام باقر عليہ السلام سے اللہ تعالی کے اس فرمان «فاستبقوا…»سے متعلق سوال کیا گيا تو حضرت (ع) نے فرمایا : خیرات سے مراد ولایت ہے اور اللہ کا فرمان« اینما تکونو…» سے مراد قائم کے اصحاب ہیں کہ جو ۳۱۳ ہوں گے ۔خدا کی قسم« امت معدودہ» سے مراد يہي افراد ہيں جو (امام کے پاس) ایک ساعت میں جمع ہو جائیں گے ،جیسے خزاں کے بادلوں ٹکرے ،جو تیز ہوا سے جمع ہو جاتے ہيں۔ [3]
چند نکات:اس آیت پر توجہ اور امام کی جانب سے اس کي تشريح نہایت اہم نکات کو بیان کرتي ہے :
(۱)جیسا کہ ہر مذہب کے لئے ایک قبلہ مخصوص ہے کہ وہ اس کی جانب رخ کرکے عبادت کریں، اس طرح ہر زمانے کے لوگوں کے لئے بھی لازم ہے کہ ان کا ایک امام ہو تاکہ لوگ اسے اپنامحور قرار دیں اور اس کی جانب رخ کریں ۔
(۲)جیسا کہ قبلے کو معین کرنے کا اختیار خدا کے لئے مخصوص ہے، اسی طرح رہبر و امام کو منتخب کرنے کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔
(۳)جیسا کہ لوگوں کا وظیفہ ہے کہ نیکیوں کی جانب حرکت کریں ،اچھے کاموں کے انجام دينے اور روح کی طہارت کے ساتھ کمال کے درجات تک پہنچیں؛اسی طرح لوگوں کے لئے لازم ہے کہ وہ امام کی جانب حرکت کریں، ان کی معرفت حاصل کریں اور اپنے وجود کو ان کی اطاعت کے رنگ میں ڈھال لیں نیز ان کی خواہش اور ارادے کے مطابق عمل کریں۔
(۴)۔جس طرح نیکیوں کی انجام دہی کے لئے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہےاور انسان کو چاہئے کہ نيکي کو خاص جگہ پر محدود نہ کرےنیز یہ بھي فکر نہ کرے کہ نیکیوں کو انجام دینے سے جو خاص نتیجہ حاصل ہوتا ہے، وہ خاص جگہ کي بناء پر ہے؛ امام (عج)کے ناصروں نے غیبت کے زمانے اپنے لئے کوئی خاص جگہ یا مقام معین نہیں کیا ہے ؛ بلکہ وہ جہاں پر بھی ہیں،اپنے وظائف کو بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں تاکہ مکمل طور پر امام کي رضايت کے مطابق کام انجام پائے۔زمانہ ظہور میں ناصروں کا یہ اجتماع اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہي ان لوگوں کو امام مہدی عليہ السلام کے ظہور کے وقت ان کے سامنے حاضر کرے گا۔
(۵)جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ نیکیوں کی جانب حرکت کرنے کے لئے کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ نیک عمل کی انجام دہی ہر زمانے میں ممکن ہے؛ امام مہدی عليہ السلام کے انصار بھی کسی خاص زمانے سے محدود نہیں ہیں، بلکہ ہر زمانے کے لوگ ان کے ناصروں میں شامل ہوسکتے ہیں ۔
(۶)جیسا کہ اللہ تعالي قادر ہے کہ مردہ انسانوں کے بکھرے ہوئے جسموں کو ایک دن میں جمع کردے گا ،اسی طرح وہ اس بات پر بھي قادر ہے کہ امام زمان (عج) کے ناصروں کو ایک دن میں جمع کردے۔
[1] ۔بقرہ، آيہ ١٤٨.
[2] ۔کافي، ج٨، ص٣١٣،ح٤٨٧.
[3] ۔يہي تعبير دوسري کتابوں ميں بھي بيان ہوئي ہے،مثال کے طور پر کتاب الغيبہ، شيخ طوسي، الغيبۃ نعماني، کمال الدين و تمام النعمۃ صدوق و… .
 
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.