الہي وعدہ بہرصورت پورا ہوگا

277

بسم اللہ الرحمن الرحیم
«قُلْ مَن كَانَ فِي الضَّلَالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضْعَفُ جُندًا»«وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا»[1]
کہئے جو بھی گمراہی میں مبتلا ہے خدا اس کو اس وقت تک مہلت دے گا جب کا انہيں وعدہ ديا گياہے يا عذاب یا قیامت کو دیکھیں گے ۔پھر بہت جلد یہ جان لیں گے کہ کس کی جگہ بدتر ہے اورکس کی سپاہ کمزورہے ۔جن لوگوں نے ہدایت پائی ہے خداوندعالم ان کی ہدایت میں اضافہ کردے گا اور ہمیشہ باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے خدا کے نزدیک ا جر و ثواب اور بخير انجام کے اعتبار سے سب سے بہترين ہيں ۔
آيت کي تفسیر:
یہ آیت ستمگروں کو خبر دار کرنے کے لئے ہے کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ مادی امکانات اور مال و دولت خدا کی رحمت ہے ؛ کیا معلوم یہی عذاب کی دلیل ہو۔ جو شخص بھی اپنی گمراہی پر مصر ہے، خدا نے اسے مہلت دی ہے اور اس کے لئے زندگی کو آراستہ کیا ہے یہاں تک کہ وعدے کا وقت پہنچ جائے اور وہ اپنی آنکھوں سے خود عذاب کو ديکھے۔ اس دن وہ سب لوگ محسوس کریں گے کہ کس کا مقام بدتر ہے اور کس کا لشکر کمزورترين ہے۔
بہرحال کچھ لوگ گمراہی میں غرق ہو کر اور اپنی راہ ضلالت پر مصررہ کر، ھدایت کی صلاحیت کو اپنے وجود سے ختم کردیتے ہیں۔ خدا کی مادی نعمتیں ان کے لئے آخرت کے عذاب کا سبب بنيں گی ؛کیونکہ یہ چیزیں ان کی بيشتر غفلت ،غرور اور سرکشی کا سبب ہونگي اور وہ خدا کو فراموش کربيٹھیں گے،لہذا بجائے اس کے کہ یہ نعمتیں ان کی سعادت کا سبب قرار پائيں، ان کے فساد اور ظلم کا سبب قرار پائيں گي۔
ان کے مقابلے میں وہ افراد ہيں جو خدا کی جانب سے ہدایت کو قبول کرتے ہیں اورحق و حقيقت کے راستے پر گامزن ہیں۔ ان کے نیک کام ہميشہ باقی رہیں گے اور انکے یہ اعمال و آثار خدا کے نزدیک بے حدثواب اور بہتر انجام کا سبب ہیں ۔
آيت کي تاویل:
روایات میں اس آیت کے دوسرے معنی کی جانب اشارہ ہوا ہے، جیسا کہ امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ:
«اَمّا قُولہ (حَتّي اِذا رَأوا ما يُوعَدُون) فَھُوَ خُروجُ القائِم عليہ السلام وھُوَ الساعَۃُ فَسَيَعلمُونَ ذلک اليومَ وما نَزَلَ بِھِم مِنَ اللہِ عَلي يَدَي قَائِمہ، فَذلک قُولہ «مَن ھُوَ شرٌّ مَکاناً» يعني عِند القائم«وَاَضْعَفُ جنداً».
قُلتُ: قُولُہ«وَيَزيدُ اللہُ الّذِينَ اھتَدَوا ھُدًي»؟ قَالَ: يَزيدُھُمْ ذلِکَ اليَوم ھُدّي علي ھُدي ًبِاتِّباعِھِم القائِمُ حَيثُ لايَجحَدُونَہُ وَلا يُنکِرُونَہ»[2]
خدا کا یہ فرمان:«حتی اذا راوا … »وہ حضرت قائم (عج)کے خروج کے وقت ہے۔ پھر وہ بہت جلد اس دن کو دیکھیں گے اور خدا کی جانب سے جو کچھ بھی قائم کے ہاتھوں پر ہوگا وہ اسے دیکھیں گے۔ خدا کا یہ فرمان: «من ھو شر مکاناً» یعنی وقت ظہور قائم اور «واضَعَفُ جنداً» ميں نے پوچھا: «يزيد اللہ … » سے کيا مراد ہے؟ خداوندعالم ان کی پیروی کرنے کی وجہ سے ان کي ہدایت میں اضافہ کردے گا ،کیونکہ وہ حضرت قائم (عج)کو رد نہیں کرتے اور ان کے منکر نہیں ہیں۔
امام نقي علیہ السلام ایک طویل روایت کے ضمن میں اسی مطلب کی جانب اشارہ فرما رہے ہیں:
«قُلتُ: ﴿حَتّي اِذَا رَأَؤا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِراً وَأقَلُّ عَدَداً﴾يعني بذلک القائم وَاَنصارَهُ»[3]
پوچھاگيا :اس آیت (حتی اذا…) سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: يہاں مراد حضرت امام مہدی (عج) اور ان کے ناصر ين ہيں۔
ان احادیث کے مطابق آیت کا ایک مصداق« ظہور کا زمانہ» ہے جو کہ نااہل افراد کے لئے سختی اور عذاب کے ہمراہ ہوگا اور اہل حق کے لئے نصرت و مدد کے ہمراہ ہوگانيز اہل ایمان کے لئے کہ جو خدا کی ہدایت پر گامزن ہیں؛ مزید ہدایت کا سبب بنے گا۔
چندنکات:
(۱)امام مہدی(عج) کا قیام، خدا کے اس وعدےکي تجلي ہے جس میں مومنین کا لشکرکفار کي سياہ پر کامیاب ہوگا۔
(۲)امام مہدی(عج)کا ظہور و قیام ،اچانک ہوگا وہ ايسا قيام ہوگا جواپنے ہمراہ دنیا پرستوں کی نابودی اور ہلاکت رکھتا ہوگا،؛ لہذا ہم پر لازم ہے کہ دنیا پرستوں کی صفوں سے خود کو جدا رکھیں اور اہل حق کے ساتھ رہيں۔
(۳)امام مہدی (عج)کے ظہور کے بعد حق کی تجلی اس طرح ہوگی کہ مسلسل ہدایت لوگوں کو فیض یاب کرے گی۔ البتہ اس ہدایت سے وہ شخص فیضیاب ہوسکتا ہے جس نے اپنے اندر قابلیت پیدا کی ہو گی اور پہلا قدم خود اٹھا چکا ہوگا «ذلک الکتاب لاريب فيہ ھديً للمتقين»[4] بس لازم ہے کہ پہلے انسان خود قدم بڑھائے۔
(۴)۔ہدايت کا حصول ،اتباع کے ساتھ مخلوط ہے جس کی اتباع مکمل ہوگي وہ اتني ہي زيادہ ہدايت سے بہرہ مند ہوگا۔ البتہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کس حد تک اپنے امام زمان کی شناخت و معرفت رکھتا ہے ۔
[1] ۔مريم،آيات ٧٥و٧٦.
[2] ۔کافي، ج١،ص٤٣١، ح٩٠.
[3] ۔وہي مآخذ، ص٤٣٢، ص٩١.
[4] ۔بقرہ،آيہ٢.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.