دینِ اسلام حصہ ہفتم

188

 

دینِ اسلام

 

 

 
 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

 

 
 

"اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامْ"۔

 

 

 
 

میں نے عرض کیا کہ مطلق مساوات کا نعرہ غلط ہے۔ آنکھ بند کرکے یہ کہنا کہ اسلام مساوات کا علمبردار ہے، یہ درست نہیں ہے۔ نہ ازروئے عقل ، نہ ازروئے قرآن، نہ ازروئے سیرتِ رسول و آلِ رسول۔ مگر کوئی کہے کہ پھر کیا یہ بات بالکل غلط ہے کہ اسلام دین مساوات ہے؟ ایک معنی سے اسلام دین مساوات ہے، جس معنی سے اسلام دین مساوات ہے، وہ یہ ہے کہ جو غلط اقدارِ امتیاز قرار دی گئی تھیں، نوعِ انسانی میں بلندی و پستی کی، جو غلط معیار مقرر کرلئے گئے تھے، ان اقدار کو اور ان معیاروں کو جو دنیا نے مقرر کئے تھے، اسلام نے مٹایا ، انہیں ختم کیا اور ان کے مقابلہ میں مساوات کا عَلَم بلند کیا۔اُن کے مقابلہ میں مساوات کا عَلَم بلند کرکے پھر اپنی جانب سے وجوہِ امتیاز مقرر کیں۔ اب جو اسلام کے مقرر کردہ وجوہِ امتیاز ہیں، اُن کے مقابلہ میں مساوات کا نعرہ غلط اور جو جاہلیت کے وجوہِ امتیاز تھے، ان کے مقابلہ میں مساوات کا نعرہ صحیح۔

 

 

 
 

اب دنیا والوں نے کس کس حیثیت سے امتیازات مقرر کئے تھے، اونچ نیچ کے، درجے مقرر کئے تھے، وہ فقط افسانہٴ ماضی نہیں ہیں بلکہ حال میں بھی اُس کے بقایا آثار زندہ موجود ہیں جن کا ہر کوئی مطالعہ کرسکتا ہے۔ایک دولت کے لحاظ سے بلندی اور غربت کے لحاظ سے پستی۔ جو صاحب ِ دولت ہے، وہ بلند اور جو تہی دست ہے، وہ پست۔ یہاں تک کہ اُس کے لئے اس وقت محاورہ تھا اور نہ جانے چودہ سو برس کے انقلابات کے بعد بھی وہ کس چور دروازے سے ہمارے ہاں بھی چھپا ہوا رہا اور آج تک ہے۔ وہ یہ کہ بڑے آدمی جب کہتے ہیں تو مراد اس سے دولت مند ہوتے ہیں۔ فلاں صاحب بڑے آدمی ہیں یعنی دولت مند ہیں۔ تو یہ محاورہ قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغمبر کے مقابلہ میں مشرکین جاہلیت کی آواز تھی۔ بالکل یہی محاورہ استعمال کرتے تھے۔ قرآن کی آیت ہے:

 

 

 
 

"لَوْلَااُنْزِلَ ھٰذَالْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم"۔

 

 

 
 

"یہ قرآن مکہ یا مدینہ کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اُترا؟ "

 

 

 
 

یہ مکہ اور مدینہ میں نے رواداری میں غلط کہہ دیا۔ دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اُترا؟ یہاں مکہ اور مدینہ نہیں ہیں، مکہ اور طائف کا علاقہ مکے کے قریب بڑا زرخیز تھا، اس لئے وہاں لکھ پتی اور کروڑ پتی لوگ کثرت سے موجود تھے۔ تو یہ لوگ کہتے تھے کہ آخر یہ قرآن یعنی قرآن کے معنی میں تو نہیں ہوتا، لیکن جس پر اُتارا جاتا ، وہ کوئی بڑا آدمی ہوتا۔ اس میں کیا مضمر ہے؟ یعنی اگر کسی بڑے آدمی پر قرآن اُترتا، وہ دعوائے رسالت کرتا۔تو ہماری عادت ہی ہے بڑے آدمیوں کے سامنے سرجھکانا۔ ہمیں ماننا آسان ہوجاتا۔ لیکن خالق نے

 

 

 
 

بھی قرآن اُتارا تو قبیلہ بنی ہاشم کے ایک یتیم پر جس کے باپ کا انتقال دادا کے سامنے ہوگیا تو وہ خاندانی وراثت سے بھی محروم ہوگیا۔ایسے کو منتخب کیا قرآن اُتارنے کیلئے۔

 

 

 
 

بس اب یہاں قرآن مجید کی ایک اور آیت آپ کو یاد دلاؤں کہ اُس کے مقابلہ میں اللہ کو کہنا تھا کہ اے پیغمبر! آپ بڑے آدمی ہیں، یہ کیا کہتے ہیں کہ کسی بڑے آدمی پر کیوں ہیں اُتارا؟ نہیں، بڑے آدمی آپ ہیں۔ ہم نے بڑے ہی آدمی پر اُتارا ہے۔ لیکن رسول کو بھی اگر یہ کہاجاتا کہ آپ بڑے آدمی ہیں تو یہ ذہنیت درست نہ ہوتی کہ آدمی بڑا ہوتا ہے یا کردار؟

 

 

 
 

تویہ جناب دولت غربت ایک معیارِبلندی اور پستی کادوسرا معیار ذات او رنسل۔ اونچی نسل میں جو پید اہوا، وہ اونچا ہے اور نیچی نسل میں جو پیدا ہو، وہ نیچا ہے۔ یہ آپ کے پاس کے ملک میں جاہ وجلال کے ساتھ ہمیشہ رہا کہ چار طبقے مستقل بلندی و پستی میں تقسیم شدہ ہوگئے کہ جو برہمن ہے، وہ اونچا ہے۔ پھر اُس کے بعد وہ ہے سپہ گری کا فن جو جانتا ہے، جس کے ہاں سپہ گری ہوتی رہی ہے، وہ دوسرے درجے پر ہے۔ پھر تیسرے درجے پر وہ ہے جو لکھنے پڑھنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ چوتھے درجے پر بیچارے کاشتکار، وہ مزدور، یہ سب اور مختلف پیشے کرنے والے۔ تو ذات کے اعتبار سے بلندی و پستی دو چیزیں۔تیسری چیز رنگت کے لحاظ سے۔

 

 

 
 

یہ متمدن دنیا یورپ کی، وہاں گورے اونچے ہیں اور کالے نیچے ہیں اور وہ بھی ایک محاورہ ہے گورے کالے کا جو اُن کے ہاں ہے۔ وہ گورا ہے۔ ہمارے ہاں کا گورابھی ہو تو کالا ہے۔ تو جناب! وہ گورے اور کالے ، وہ دنیا کی لاکھ کانفرنسوں کے باوجود بھی موجود ہے دنیا میں۔ یہاں تک کہ ایک ہوٹل میں گورے اور کالے کھانا نہیں کھا سکتے۔ ایک سکول میں کالے اور گورے پڑھ نہیں سکتے، یہاں تک کہ وہ جو آجکل تمدنی تہذیب کا گویا مرکز مانا جاتا ہے، امریکہ، اور وہاں تھوڑے ہی عرصہ کی بات ہے کہ ایک سکول کو جلادیا گیا،اس لئے کہ وہاں کالے طالب علم داخل ہوگئے تھے۔ تو وہ سکول کو ہی آگ لگا دی گئی۔ وہ ایک صدر بیچارہ حامیِ حقوق ہوگیا تھا، اُسے گولی مار دی گئی۔ تو معلوم یہ ہوا کہ یہ رنگت کے لحاظ سے بلندی پستی ، یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔

 

 

 
 

کسی ملک والوں نے بڑے نسلی افتخار سے اپنے کو کہہ دیا کہ ہم سورج کی اولاد ہیں۔ وہ سورج کی اولاد ہوگئے۔ ہٹلر کا فلسفہ بھی یہی تھا کہ جرمن قوم دنیا میں حکومت کرنے کیلئے پید اہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جتنے اور ہیں، وہ محکوم بننے کیلئے پیدا ہوئے ہیں، خلق ہوئے ہیں۔ تو یہ رنگت کے، نسل کے اعتبار سے بھی، کوئی نسل کے اعتبار سے بھی، تو کہیں وہ ایک ہوجاتا ہے، کہیں دو آتشہ ہوجاتا ہے۔تو وہ بلندی و پستی تقسیم ہوگئی ان چیزوں میں۔ اب ان سب میں جو مشترک خرابی ہے، وہ میں عرض کردوں۔ مشترک خرابی ان سب میں یہ ہے کہ بلندی و پستی کے معیار انسانی ارادہ و اختیار کی حدود سے باہر مقرر کئے گئے ہیں۔ یعنی جو اُن کی ذات میں پیدا ہوا، وہ اپنے اختیار سے کسی ذات کو منتخب نہیں کرسکتا تھا۔ اس ذات میں پیدا ہونا غیر اختیاری بات تھی ۔ جس کی جو رنگت ہے، وہ اپنے اختیار کی بات نہیں ہے۔ گورا اپنے اختیار سے اپنے کو کالا نہیں کرسکتا۔ کالا اپنے اختیار سے اپنے کو گورا نہیں بناسکتا۔ دولت غربت بھی نظامِ دنیا کے ماتحت، تہی دست ہر ایک قادر نہیں ہے کہ دولت مند بن جائے۔ تو معیارِ بلندی و پستی کے حدود اختیار سے باہر قرار دئیے جاتے ہیں یا اس کو میں ایک عام فہم لفظ میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ گویا بلندی و پستی فطرت کے جوئے سے ہوتی ہے۔ بس نصیبوں سے جو پیدا ہوگیا، اونچے خاندان میں تو گویا قرعہٴ فال بلند پڑ گیا اور جو پست

 

 

 
 

خاندان میں پیدا ہوا تو قرعہٴ فال پستی اُس کے اوپر پڑ گیا۔ تو اختیاری چیز نہیں ہے۔ اب جب بلندی و پستی اختیاری نہ رہی تو ایک عقلی چیز یہ ہے کہ اصلاحِ عمل کیلئے دونوں چیزیں زہر ہیں۔ ایک پورا بھروسہ کامیابی پر اور ایک پوری مایوسی۔

 

 

 
 

کامیابی سے مثال کے طور پرطالب علموں کی زندگی ہے کہ ایک لڑکا ہے بہت اچھا، محنتی ، صاحب ِ صلاحیت ہے مگر کسی وجہ سے اس کو یقین ہوگیا ہے کہ میں بہرحال فیل ہوجاؤں گا۔کسی تعصب کی وجہ سے کچھ ماسٹر صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے، کچھ وہاں کے ماحول کے ناسازگار ہوجانے سے، بہرحال اُسے یقین ہوگیا ہے کہ میں فیل ہوجاؤں گا۔ تو اب وہ کیوں محنت کرے؟ وہ سمجھتا ہے کہ محنت کروں گا ، تب بھی فیل ہوجاؤں گا، محنت نہ کروں گا ، تب بھی فیل ہوجاؤں گا۔ تو اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ راتوں کی نیند بے چین کرے؟ اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ زحمت و مشقت سے کتابوں کو تیار کرے؟ وہ سمجھتا ہے کہ میری قسمت میں تو ناکام ہی ہونا ہے۔

 

 

 
 

ایک وہ ہے جسے کسی وجہ سے یقین ہوگیا کہ میں تو کامیاب ہوکر رہوں گا۔ وہ بھی کچھ ماحول وغیرہ سے اس کا تعلق ہے، کچھ اس کی خصوصیت ایسی ہے کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ فیل ہوجائے۔ یہ بھی محنت کیوں کرے؟ ارے یہ تو اطمینان کی نیند سوئے، تب بھی پاس ہوگا تو کیوں بے چین کرے اپنی نیند؟

 

 

 
 

ایک محنت نہ کرے گا بے ضرورت سمجھ کر، ایک محنت نہ کرے گا بیکار سمجھ کر۔ بس یونہی اگر بلندی و پستی کا بٹوارہ غیر اختیاری اعتبار سے ہوا تو پھر جو بلند خاندان میں پیدا ہوایا اُس رنگت والا ہے جو اونچا ہے، وہ اپنے کو سدھارنے کی کوشش کیوں کرے؟ وہ تو سمجھتا ہے کہ میں چاہے جیسا ہوں، مگر اونچا ہوں۔ اور جو نیچی ذات میں پیدا ہوا ہے، یا اس رنگت کا ہے، کالا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں تو بہرحال ناکام ہوں۔ لہٰذا وہ اصلاحِ عمل کی فکر کیوں کرے؟پڑھے لکھے کیوں؟ ضبط ِنفس کیوں کرے؟اپنے کو اچھے اخلاق سے آراستہ کیوں کرے؟ وہ تو کہتا ہے کہ جتنے بھی جتن کروں، نیچے ہی رہوں گا، اونچا نہیں ہوسکتا۔ اسے اطمینان ہے کہ میں اونچا ہوں، نیچا نہیں ہوسکتا۔ اسے مایوسیِ کامل ہے کہ میں نیچا ہوں ، اونچا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اصلاحِ عمل کے جذبے دونوں کے ختم ہوگئے ۔ اسلام نے کہا:

 

 

 
 

"اَ لْاِیْمَانُ نِصْفَانِ نِصْفُ خَوْفٌ وَنِصْفُ رَجَاءٌ"۔

 

 

 
 

"ایمان کے برابر کے دو ٹکڑے ہیں، خوف اور اُمید"۔

 

 

 
 

یقین کامل کرنا کہ بس ہم نجات پاجائیں گے ، یہ بھی خدا کو ناپسند ہے۔ بالکل نا اُمید ہوجانا کہ ہم سوائے دوزخ کے کہیں جاہی نہیں سکتے، یہ بھی خد ا کو ناپسند ہے۔ اگر سمجھ لیا کہ بہرحال جنت ہمارے دم قدم سے لگی ہوئی ہے، تو کیوں اعمالِ صالحہ میں محنت کرے گا؟ کیوں نیند بے چین کرکے صبح کی نماز پڑھے گا؟ کیوں خواہشاتِ نفس کو روکے اور لذائذ کو مطلق العنانی کے ساتھ حاصل نہ کرے؟ اُسے یقین ہے کہ چاہے میں جو کروں، جنت میرے دم قدم کو لگی ہوئی ہے۔

 

 

 
 

تو معلوم ہوا کہ یہ تصور کرنا یا کسی شخص کا یہ تصور پیدا کروانا کہ تم بہرحال جنت میں جاؤ گے، یہ مقصد ِالٰہی کی دشمنی ہے اور وعظ کے معنی عموماً لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اس نے کہنا شروع کیا ، ارے بھئی! دوزخ ہے۔ یہ تمہاری بد اعمالیاں دوزخ کے سوا کہیں نہیں لے جاسکتیں۔ تو اگر اُس نے روز روز یہ ہی کہا او رمجمع کو دوزخ کا یقین دلا دیا تو جو نماز پڑھتا تھا، وہ بھی چھوڑ دے گا کہ پڑھوں تب بھی دوزخ میں جاؤں گا، نہ پڑھوں ، تب بھی دوزخ میں جاؤں گا۔ جتنا کارِخیر جوکربھی رہا تھا، وہ چھوڑ دے گا کہ فائدہ ہی کیا ہے، جب دوزخ یقینی ہوگئی؟

 

 

 
 

معلوم ہوا کہ وہ بھی دشمنی ، یہ بھی دشمنی۔ دورِ سابق کے انبیاء میں بعض میں ایک نمایاں پہلو تھا کیونکہ عبوری دور ہوتا ہے، اس کو میں روزمرہ کی مثال میں یوں پیش کرتا ہوں کہ جب بچے لکھنا شروع کرتے ہیں تو اُن کو تختی لکھ کر دی جاتی ہے کہ ایسا لکھو۔ اس میں خوشخطی کے اصول ہیں۔ کسی خوشنویس سے تختی لکھوائی جاتی ہے۔ اس کو سرِمشق کہتے ہیں جس کو دیکھ دیکھ کر وہ مشق کریں۔ تو اس میں اُصول ہے کہ الف اتنے نقطوں کا اور ب اتنے قدوقامت کی اور جیم کا حلقہ ایسا ہونا چاہئے۔ تو ہر حرف اپنے پورے کمال پر ہے۔ لیکن جس وقت پر کہ مشق ہوگئی ، اب آگے پڑھا ، اب ملا ملا کر حرف لکھوانا شروع کئے کہ لکھو، اب دو حرف مل گئے تو کیا ہوا کہ جیم کا سر رہ گیا، دھڑ غائب ہوگیا۔ ب کا قد رہ گیا، سر غائب ہوگیا۔ اس طرح فرض کیجئے کہ ق کو ا سے ملادیا تو ق کا سر رہ گیا، پیٹ چلا گیا تو ہر حرف کٹ گیا۔ مگر معیارِ تعلیم اونچا ہوگیا۔

 

 

 
 

بس یہیں گزشتہ دور کے انبیاء تھے کہ عبوری دور کیلئے آئے تھے۔ اس لئے کسی نے یہ نمونہ پیش کردیا کہ دیکھو، عمر بھر شادی نہیں کرتے یعنی ضبط ِنفس کی ایک مثالِ کامل پیش کردی۔ مگر وہ تعلیم خود بتارہی ہے کہ یہ ابتدائی دور کی تعلیم ہے۔ یہ دائمی نہیں ہے۔ تو عبوری دور کے جو انبیاء تھے، ان انبیاء میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی پروہ پہلو غالب ہے، کسی پر یہ۔

 

 

 
 

حضرت یحییٰ رات دن رورہے ہیں ، انہیں خوفِ الٰہی کا احساس پیدا کروانا ہے۔ جنابِ عیسیٰ بشارت دے رہے ہیں۔ روایت میں ہے کہ دونوں حقیقی خالہ زاد بھائی تو تھے ہی۔ تو جنابِ یحییٰ سے ملاقات ہوئی جنابِ عیسیٰ کی تو جنابِ یحییٰ نے ان سے کہا کہ واہ واہ! آپ کو تو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے دوزخ پیدا ہی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔آپ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے بہشت نہیں پیدا کی۔

 

 

 
 

آپ نے دیکھا کہ وہ بھی ایک جزو کی مشق کروارہے ہیں، یہ بھی ایک جزو کی مشق کروا رہے ہیں۔ اب جو آیا نظامِ تعلیم کو اونچا بنانے کیلئے، اس کے برابر کے دو لقب ہوگئے"بَشِیْراً وَنَذِیْراً"، بشارت دینے والا اور انذارکرنے والا۔بشارت ہے اُمید کا سرمایہ فراہم کرنے کیلئے، انذار ہے خوف کامحرک پید اکرنے کیلئے۔ تب ایمان کے دونوں جزوحاصل ہوں گے، نصف خوف و نصف رجا۔آدھا ایمان خوف ہے اور آدھا ایمان اُمیدہے۔ یہ اُمید و بیم ، یہی کامل ایمان ہے۔ اب کوئی تعلیم ایسی جو اعتمادِ کامل پیدا کردے یا مایوسیِ کامل پیدا کردے، غلط ہوگی۔ تو اس سب میں یہ خرابی ہے اور پھر عقلی طور پر بھی دیکھئے کہ دولت کو معیار سمجھا بلندی کا۔ تو سبب ِ بلندی جو شے ہوتی ہے، وہ خود آدمی سے اونچی ہوتی ہے۔ کسی بڑے باپ کا بیٹا ہونے کا فخر وہی کرتا ہے جو خود اس منزل پر نہ ہو۔ وہ یونہی تعارف کرواتاہے کہ فلاں صاحب کا میں بیٹا ہوں۔ اگر وہ خود کچھ ہو تو یہ تعارف نہ کرواتا۔

 

 

 
 

اب جو شخص اپنے آپ پر فخر کرتا ہے کہ میں صاحب ِ دولت ہوں یا دوسرے اُسے اونچا کہتے ہیں، تو یہ بڑا ہے، اس لئے کہ صاحب ِ دولت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دولت کو انسانیت سے اونچی شے سمجھتے ہیں۔ تو اگر دولت کو سبب ِفخر سمجھیں تو اصل دولت تو جمادات ہیں۔ارے وہ ٹھوکروں میں آنے والے پتھر، سنگ ِ خارا ہیں، وہی حقیقت کے لحاظ سے سونا چاندی اور یاقوت ہیں۔ یہ تو رنگ ساز کی بات ہے کہ جیسا رنگ جسے دے دیا، ویسی اُس کی قیمت ہوگئی۔ تو اگر دولت کی فراوانی پر کسی نے اپنے آپ کو بلند سمجھا تو اس کے معنی ہیں کہ پتھروں

 

 

 
 

کے ڈھیر کے جمع ہوجانے کو اپنے لئے سبب ِفضیلت سمجھا۔تو اسے اسلام نے مٹایا ہے۔ دولت چھینی نہیں مگر دولت کی قدر گھٹا دی۔

 

 

 
 

اس کیلئے بس سیرتِ رسول کا ایک واقعہ پیش کرکے آگے بڑھوں گا کیونکہ ابھی بہت کچھ عرض کرنا ہے کہ حضور! جو رسول کا دربار تھا، جہاں خاص جوبھی آیا بیٹھ گیا۔ اب رئیسوں کی ذہنیت جو ہوتی ہے، وہ ہر دَور کے رئیسوں کی ہوتی ہے۔ تو نجد میں بہت رئیس ہوتے تھے۔ تو یہ جب آتے تھے تو اب کئی کئی دفعہ آکے دیکھتے تھے کہ محفل ہمارے بیٹھنے کے لائق کس وقت ہے؟اور زیادہ تر پیغمبر کے قریب پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے لوگ۔ تو اب وہ کہتے ہیں ، اس وقت محل نہیں ہے ہمارے جانے کا۔ اب ایک وقت اتفاق سے موقع مل گیا، دیکھا کہ رسول کا پہلو خالی ہے۔ کوئی وہاں ایسا آدمی نہیں دیکھا تو وہ سمجھے کہ ہاں! یہ وقت بہت اچھا ہے۔ اب پیغمبر خدا کی خدمت میں آکر باتیں کرنے لگے۔ بہت چپکے چپکے، جیسے ہم بڑے مقربین میں ہیں۔ اتنی دیر میں ایک اورصحابی آگیا۔ اب ظاہر ہے کہ ان کے بیٹھنے سے وہ جگہ بھر تو نہیں گئی تھی۔وہ اس دربار کا عادی ہے۔ لہٰذا وہ آکر بلاتکلف اُن کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ اب زبان سے تو کچھ نہیں کہا ، اب نفسیاتی طور پر دیکھئے گا کہ یہ عمل ہوا ہوگا، لاشعوری طور پر یا نہیں کہ زبان سے کہا تو کچھ نہیں لیکن اپنے دامانِ قبا کو ذرا سا سمیٹ لیا اور رسول کی نگاہِ مواخذہ نے اس خفیف عمل کی گرفت کی۔ ارشاد فرمایا:

 

 

 
 

"یہ تم نے کیا کیا؟"

 

 

 
 

اب ہاتھ جوڑکر : جی میں نے کیا ہی کیا ہے؟ کچھ نہیں، کچھ نہیں۔میں نے کیا ؟

 

 

 
 

فرمایا: نہیں، میں نے محسوس کیا، میں نے دیکھا کہ تم نے کیا کیا؟ یہ تم نے اپنادامن کیوں سمیٹا؟کیا اس دامن کے ذریعے سے اس کی غربت تم میں آجاتی اور تمہاری دولت کچھ اُس کے پاس چلی جاتی؟

 

 

 
 

اب ظاہر ہے کہ اس کا جواب کوئی نہیں تھا۔ تو ممکن ہے واقعی ضمیر شرمندہ ہوا ہو۔ کہا : حضور! خطا ہوئی۔ اب اس کے کفارے میں مَیں اپنی آدھی دولت اپنے اس بھائی کو دیتا ہوں۔اب رسول کے چہرے پر آثارِ غضب تھے۔ ایک دم سے لبوں پر تبسم آگیا۔ اب نتیجہ بعد میں بتاؤں گا ۔میں کہتا ہوں کہ دیکھئے یہ ہے خود اختیاریٴ اشتراکیت۔ ضمیر کی تحریک سے شریک بناؤ دوسرے کو۔

 

 

 
 

اُس نے کہا کہ میں اپنی آدھی دولت اسے دیتا ہوں۔ رسول کے لبوں پر تبسم آیا اور اب اس صحابی کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ بھئی! انہوں نے ذرا سا ایک عمل کردیا تھا تو وہ شرمندہ ہیں اس پر۔ گویا رسول ان کی طرف سے معذرت کررہے ہیں۔ یہ اس پر شرمندہ ہیں اور اس کے کفارے میں یہ اپنی آدھی دولت تمہیں دے رہے ہیں۔ اُس نے کہا: حضور! شکریے کے ساتھ واپس۔ پھر حضرت مسکرائے اور ارشاد فرمایا: کیوں؟ میں نے جبر نہیں کیا ہے۔ میں نے تو تحریک بھی زبانی نہیں کی ہے۔ وہ خودسے دے رہے ہیں تو انکار کیوں کررہے ہو؟ کہا: حضور! اندیشہ ہے کہ یہی ذہنیت پیدا نہ ہوجائے۔

 

 

 
 

اس کے بعد ذات کے سوال۔ وہ بھی میں نے کہا کہ عقلی طور پر ذات میں پیدا ہونا کوئی اختیاری چیز نہیں ہے۔ لہٰذا وہ بلندی و پستی کا پیش خدا معیار نہیں ہوسکتا۔ اونچی ذات والے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے کردار کے لحاظ سے بھی اونچا کرے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا خاندانی فخر جو ہے، وہ پستی سے بدل جائے گا اور رنگت ، وہ بھی غیر اختیاری چیز ہے، وہ اللہ نے جورنگ عطا کردیا۔ پیغمبر اسلام نے دونوں کو سمو

 

 

 
 

کر ملک اور قوم ونسل کو سمو کر اعلان فرمایا اور اب اس کی تمہید میں ذرا سا عرض کرنا ہے کہ آجکل تو سربراہانِ مملکت خیر سگالی کے دورے بہت کرتے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ میں جو صاحب ِ اقتدار ہوتا تھا، وہ قطب کی طرح ایک جگہ بیٹھتا تھا اور اب نہیں۔

 

 

 
 

وضع یہی ہے، بلندی یہی ہے۔ ادھر گئے وہ ، ادھر آئے وہ۔ یہ سب ہوتا رہتا ہے داخل خارج۔ تو جو بھی سربراہِ مملکت جہاں جائے گا، وہ وہاں یہ کہے گا کہ ہمارے اس ملک سے اتنے قدیم تعلقات ہیں، اتنے روابط ہیں۔ اب اس ملک میں کیا ضرورت ہے کہ دوسرے ملک کا بھی ذکر کیا جائے۔ جب اُس ملک میں جائیں گے تو وہاں بھی یہی کہیں گے۔ اُس دن اِ س ملک کا خیال نہیں آئے گا۔ عام طور پر تقاضائے بلاغت کہہ سکتے ہیں کہ یہی ہے کہ محل کے اعتبار سے آدمی بات کرے۔ جہاں گئے، ویسی بات کرے۔ اب میں آپ کو سیرتِ محمد مصطفےٰ کی رفعت و بلندی کھاؤں کہ اگر حضرت ملک ایران کا کوئی دورہ فرماتے، وہی جیسے بڑے آدمی دورہ کیا کرتے تھے،کوئی حضرت تشریف لے گئے ہوتے کسی دفعہ ایران میں اور ایران کی سرزمین پر پہنچ کر یہ اعلان فرماتے تو جو معنوی بلندی اُس کی ہے، جو عقلی بلندی ہے، وہ اپنی جگہ پر رہتی مگر محل کے اعتبار سے اس میں یہ بلندی پیدا نہ ہوتی کہ ملک عرب میں بیٹھ کر، مسجد نبوی میں تشریف فرماہوکر، خاندانی عربوں کے احاطے میں رہ کر اور بنی ہاشم اور قریش ، وہ بھی گردوپیش میں موجود اس مجمع میں اور پھر ایک جزو تمہیدی طور پر عرض کرتا ہوں کہ اقلیت کا کوئی تصور ہوتا ہے؟

 

 

 
 

ارے جناب! ہمارے ہاں ایک وقت میں مسلمانوں کا تناسب کہاجاتا تھا ۱۴ فیصد۔ یوپی میں خصوصیت سے ۱۴ فیصد۔ ارے فیصد ۱۴ ہے تو کچھ تو ہے۔ لیکن اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ تمام ملک عرب میں ایران کا ایک عدد سلمان فارسی، تمام صحابہ کرام میں روم کا نمائندہ ایک عدد سہیل رومی، حبش کا نمائندہ مثلاً ایک بلالِ حبشی۔ یہ کوئی اقلیت ہوتی ہے؟ پورے ملک میں ایک آدمی کو کہیں اقلیت کہتے ہیں؟ وہ شمار ہی میں نہیں آتا۔اب اتنی بڑی اکثریت یعنی کل جمہورِ عرب اور قریش اور ان میں بھی بنی ہاشم ، ان سب کے مجمع میں بیٹھ کر اور منبر سے اعلان ہورہا ہے:

 

 

 
 

"لَافَخْرَالْعَرَبِیٍّ عَلٰی غَیْرَالْعَرَبِیٍّ وَلَالِلْقَرْشِیِّ عَلٰی غَیْرِالْقَرْشِیِّ کُلّکُم اَوْلَادُ آدَمَ"۔

 

 

 
 

"کوئی فخر نہیں ہے عرب کو غیر عرب پر"۔

 

 

 
 

ارے دنیا بھول جاتی عرب تو یاد رکھتے اسے۔ کہاجارہا ہے کہ" کوئی فخر نہیں ہے عرب کو غیر عرب پر او رنہ قریشی کو غیر قریشی پر۔ تم سب آدم کی اولا دہو "۔

 

 

 
 

اور دوسری جگہ کہا، اب رنگت کیلئے:

 

 

 
 

"بُعِثْتُ اِلٰی الْاَحْمَرِوَالْاَ سْوَدِ"۔

 

 

 
 

میرے ہاں یہ تفریق نہیں ہے گورے کو لال کہتے تھے، اُس سفیدی میں سرخی ہوتی ہے غالب۔میں لال اور کالے سب کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔ یعنی یہ رنگت میرے لئے کوئی چیز نہیں ۔ تو اب آپ نے دیکھا کہ جو غلط اقدارِ مساوات تھیں، اُن کو مٹا کر مساوات قائم کی۔ اب ان سب کی دوڑ ہے ایمان اور عملِ صالح میں۔ اگر کالا بڑھ جائے تو وہ افضل ہوجائے گا ۔اگر گورا بڑھ جائے تو وہ افضل ہوجائے گا۔اگر غیر قریشی بڑھ جائے تو وہ افضل ہوجائے گا۔ ان سب کو دعوت دی گئی ہے۔مساوات یہ ہے کہ امتحانِ داخلہ میں کوئی رنگ وغیرہ کی قید نہیں ہے۔ اب بلندی ہوگی تو امتحان کے بعد ہوگی۔

 

 

 
 

اس کو اپنے عمل سے نبھایا اور دوسروں کے اوپر کیا یہ چیز بار نہیں تھی؟ بار تو تھی کہ کیا کریں؟اب"اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ"پڑھ دیا ہے۔ اس وقت کیا معلوم تھا کہ یہ سب سہنا پڑے گا؟ بار ہورہا ہے قدم قدم پر۔ بلالِ حبشی کو موٴذن بنادیتے ہیں۔ خاندانی عربوں پر بہت گراں ہے۔ اب چونکہ بہت دفعہ سن چکے ہیں اس زبان سے کہ گورا کالاکچھ نہیں ہے،تو یہ کہہ تو سکتے نہیں کہ یہ حبشی ہے، یہ کالا ہے۔ سوچ کر گویا رسول کے معیارِ ذہن کے مطابق (سیاست دانی اسی کا نام ہے)ایک وجہ تراشتے ہیں۔ گویا صریحی پہلو رسول کو بتاتے ہیں (اسی سے معرفت ِ رسول ظاہر ہے) کہتے ہیں :

 

 

 
 

یا رسول اللہ!آپ نے بلال کو موٴذن بنا دیا؟

 

 

 
 

ہاں! پھر کیا ہوا؟

 

 

 
 

حضور! وہ تو شین صاف نہیں کہہ کہتے۔"اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ"کو"اَسْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ"کہتے ہیں۔ اور میں کہتا ہوں ، ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں لکھنوٴ میں کم سے کم یہ محاورہ ہے کہ فلاں شخص کا" شین" اور" ق" صحیح ہے یعنی یہ گویا تمدن اور تہذیب کی بڑی نشانی ہے شہریت کی۔ دیہاتوں میں موٴمنین ہیں، سادات ہیں مگر وہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شاہد علی کو ساہد علی کہیں گے اور ایسے ہی قا سم کو کاسم کہیں گے۔ تو بڑی مشکل سے شین اور قاف صحیح ہوتا ہے۔ تو جو ڈھونڈ کے نکالا تھا، کوئی غلط بات نہیں تھی اور پیغمبر نے بھی جھٹلایا نہیں۔ یہ نہیں کہا کہ نہیں، تم غلط کہتے ہو۔یہ نہیں فرمایا ، مگر اب کیا کیا جائے کہ یہ فرمادیا:

 

 

 
 

"سِیْنُ بِلالٍ شِیْنٌ عِنْدَاللّٰہِ"۔

 

 

 
 

"بلال کا سین اللہ کے ہاں شین ہے"۔

 

 

 
 

بات یہ ہے کہ ہم ان کانوں سے سنتے ہیں تو جو اس زبان سے لفظ نکلتا ہے، وہ سمجھتے ہیں اور جس کو سننے کیلئے کانوں کی ضرورت نہیں، وہ دل کی صدا سے سنتا ہے۔اب فلسفہ موٴذن بنانے کا بھی عرض کردوں ، بیچ میں ایک پہلو کی طرف مجمع کی توجہ دلاؤں ، میں کہتا ہوں ، ذرا دیکھئے کہ ایک موٴذن کے انتخاب میں رائے عامہ پر بھروسہ نہیں ہوتا۔اب اصل موضوع کے لحاظ سے پیغمبر کے عمل کا فلسفہ عرض کروں،جتنا میں سمجھا ہوں،یاد رکھئے کہ امامِ مسجد کو وہی دیکھے گا جو مسجد کے اندر جائے گا او رموٴذن کی صدا وہ بھی سنے گا جو راہ گزر سے جائے گا۔ تو یہ بلال کو موٴذن قرار دینا نہیں ہے، یہ مساواتِ اسلامی کا ایک علم ہے جو نصب کیاجارہا ہے۔

 

 

 
 

اس کے بعد سب سے زیادہ پست جماعت اس وقت سمجھی جاتی تھی غلام اور کنیزوں کی۔ ان کو تواَثَاثُ الْبَیْت میں داخل سمجھا جاتا تھا۔ حقوقِ انسانیت اُن کیلئے کچھ تھے ہی نہیں۔ تو جیسے وہاں دولت کی چھینا نہیں مگر دولت کی قدر گھٹا کر ذہنیت بدلی۔ اسی طرح اس وقت کے حالات ایسے نہیں تھے ، غلامی اور کنیزی کو ختم نہیں کیا، اسباب فراہم کئے کہ زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل ہوتی جائے اور اس کے ساتھ ذہنیت کی تعمیر کی۔ وہ بیٹی جس کی تعظیم کو کھڑے ہوتے ہیں، پہلے جو اس کو شوہر کے گھر بھیجا تو کوئی خادمہ بھی ساتھ نہیں تھی۔ لہٰذا وہ خاتونِ جنت ، وہ ملکہٴ دین و دنیا ، وہ اپنے گھر میں خود جھاڑو دیتیں، خود کھاناپکاتیں ، خود چکی پیستیں، سب کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتیں۔کیا رسول کے پہلو میں وہ دل نہ تھا جو ہر باپ کے دل میں ہوتا ہے؟

 

 

 
 

ارے اصحاب کبھی ضرورت کے تحت گھر کے اندر آئے ہیں او رسیدہ ضرورت کے تحت وہ چکی کو چھوڑ کر ہٹ گئی ہیں تو انہوں نے اس چکی کی لکڑی کو، جس کو پکڑ کر گردش دی جاتی ہے، اس کانام مجھے معلوم نہیں ہے، اس لکڑی میں خون کے قطرے دیکھئے ہیں ۔ جابر بن عبداللہ انصاری جو روتے ہوئے رسول کے پاس گئے ، کہا: کیوں رورہے ہو؟کہا کہ میں لکڑی میں لہو دیکھا ہے۔ تو وہ ایک دفعہ آئے تو لکڑی میں انہوں نے دیکھ لیا اور پیغمبر خدا جو آتے تھے تو کبھی وہ ہاتھ انہوں نے نہیں دیکھے اور اگر جابر کی آنکھوں سے آنسو بہے ، اس خون کو دیکھ کر تو رسول، جو روز اس خون کو ہاتھوں پر دیکھتے تھے، تو کیا ان کے دل سے اتنے ہی قطرے لہو کے نہیں ٹپکتے تھے۔ مگر نہیں، جذبات کے تقاضے اور ہیں، فرائض کے تقاضے اور ہیں۔جانتے ہیں، میری بیٹی! میں اس کو من جانب اللہ سند دوں گا"خاتون جنت"۔

 

 

 
 

تو قیامت تک تو میری ماننے والی ہر خاتون تو ایسی نہیں ہے کہ اُسے خادمہ مل سکے۔ لہٰذا اگر کوئی فاطمہ کو اپنی بی بی سمجھنے والی ، فاطمہ کو اپنی شہزادی ماننے والی ، وہ اپنے گھر میں جھاڑو دے تو ذِلّت محسوس نہ کرے، فخر محسوس کرے کہ ہم وہ خدمت انجام دے رہے ہیں جو ہماری بی بی پاک انجام دیتی تھیں۔ اگر چکی بھی پیسے تو اس سے احساسِ حقارت نہ کرے۔سمجھے کہ یہ تو نمونہ ہے ہماری بی بی نے چھوڑا ہے۔ بہت عرصہ تک یہی کیفیت رہی۔مقصد حاصل ہوگیا کہ گھر کا کام ان کی شان کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن اب کہیں سے مالِ غنیمت میں کچھ کنیزیں بھی آئیں اور وہ اصحاب میں تقسیم کی جارہی تھیں۔ یہاں کنیزوں کی تقسیم کے معنی ہوتے تھے ذمہ دارِ پرورش قرار دینا۔ تو روایت بتاتی ہے کہ حضرت امیر نے گھر میںآ کر فرمایا حضرت فاطمہ زہرا سے کہ تمہارے والد بزرگوار کے پاس کنیزیں آئی ہیں اور مختلف صحابہ کو دے رہے ہیں۔ تو جتنا سب کو حق ہے، اُتنا تو تمہیں بھی ہے۔ لہٰذا اپنے والد بزرگوار کے پاس جاکر خواہش کرو کہ ایک کنیز تمہارے سپرد کردیں ۔ شوہر کے کہنے سے گئیں اور اب جن الفاظ میں کہا ہو، وہ روایت نے نہیں بتایا۔

 

 

 
 

میں تو سمجھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ دکھادئیے ہوں گے۔ یہی کافی ہے ۔ بہرحال خواہش پیش کی۔ خواہش ناروا نہیں تھی مگر پیغمبر خدا کو پھر اپنی بیٹی کے ذہن کو بلند سے بلند معیار پر لے جانا تھا۔ تو جب بیٹی نے خواہش کی تو تب فرمایا: بیٹی! ہاں ٹھیک ہے۔مطالبہ تمہارا صحیح ہے مگر تم خود بتاؤ کہ کنیز لو گی یا ایک تسبیح ایسی سکھا دوں جو آسمان کے ملائکہ کو بہت پسند ہے۔ لیجئے! فاطمہ سمجھیں کہ میں معرضِ امتحان میں آگئی۔ کہنے لگیں کہ بابا! تسبیح سکھا دیجئے۔ اب وہ تسبیح ، وہ تمہید کے بعد بتائی ہوگی۔ بہت طولانی دعا ہوگی۔ وہ دعا اب بحمد للہ اکثر افراد ہر نماز کی تعقیبات میں پڑھتے ہیں۔ چونتیس(۳۴) مرتبہ اللہ اکبر،تینتیس(۳۳) مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس(۳۳) مرتبہ سبحان اللہ۔اس لئے شیعہ سنی سب کے ہاں اس کا نام تسبیح فاطمہ زہرا ہے۔

 

 

 
 

اب آئیں گھرپر خوش خوش۔ شوہر نے پوچھا: کیوں! کنیز لے آئیں؟ ارے کہا: کنیز تو نہیں، اس سے بہتر ایک چیز لے آئی۔ کہا: مجھے رسول نے یہ تعلیم کیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی جیسے خوش ہوگئے۔ مگر پھر کچھ دن کے بعد اب بلا طلب فاطمہ زہرا کو ایک کنیز عطا فرمائی اور وہ کنیز ہے کہ دنیا کی صاحب ِ اقتدار خواتین کا نام ہمیں یاد نہیں مگر اس کنیز کا نام ہمارے لوحِ دل پر نقش ہے۔ وہ کون؟ جنابِ فضہ۔

 

 

 
 

اور اپنے الفاظ میں یہ کہتا ہوں کہ جب فضہ کا ہاتھ دیا سیدہ عالم کے ہاتھ میں تو اس کے ساتھ ہدایت فرمائی : دیکھو! یہ کنیز تو تمہارے سپرد کررہا ہوں مگر گھر کا پوراکام فضہ پر نہ ڈال دینا۔ اب بھی جب کنیز مل گئی ہے تو گھر کے کام سے تم بے تعلق نہ ہونا۔ گھر کا پورا کام فضہ پر نہ ڈالنا۔ اب جو اصل واقعہ ہے،وہ مجالس کے فیض سے آپ کو معلوم ہی ہے۔ ذہن میں آگیا ہوگا۔ لیکن فرض کیجئے کہ معلوم نہ ہوتا۔ اب یہ ہمارے سامنے چند برس اُدھر کی بات ہے جو یہ قانون ہوا کہ ہفتے میں ایک دن دوکانیں بند ہوں۔ ہفتے میں ایک دن کارخانے بند ہوں۔ جب پوچھا کہ کیوں ہے؟ کوئی گہرا فلسفہ کسی نے نہیں بیان کیا ۔ یہ کہ نوکروں کو ایک دن آرام کا وقت ملے ۔

 

 

 
 

اب بالکل کوئی غیر ہو اگر، وہ جو واقعہ سے ناواقف ہو، وہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اگر میں اس انقلاب کے اس اصلاح ہونے کے بعد ، کسی سٹیج سے یہ کہتا کہ دنیا کو چودہ سو برس کے بعد آج یہ احساس ہوا اور ہمارے رسول نے جب کنیز دی ہے، فاطمہ کے سپرد کی ہے، تو اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ دیکھو! ہفتے میں کم از کم ایک دن ضرور فضہ کو آرام دینا۔ اگر ہفتے کے ایک دن کی بات ہوتی تو میں فخریہ پیش کرسکتا تھا،

 

 

 
 

چہ جائیکہ ہفتے میں ایک دن کیسا برابر کی تقسیم۔

 

 

 
 

فرماتے ہیں : دیکھو! ایک دن گھر کا کام تم کرنا، ایک دن فضہ سے لینا۔ اس کے معنی ہیں کہ چودہ سو برس کی ترقی کے بعد بھی دنیائے تہذیب ابھی پیغمبر خدا کی تعلیم سے بہت درجہ پیچھے ہے اور اب سیدہ عالم فضہ کو لئے ہوئے گھر پر آئیں اور جو رسول نے بتایا، اُس کے مطابق عمل کیا۔ اب خانہٴ عرب میں پلنگ نہیں ہوتے تھے۔مگر محاورے کے طور پر کہتا ہوں کہ ایک فضہ اطمینان سے پلنگ پر بیٹھتیں اور

 

 

 
 

مخدومہ عالم کھانا تیار کرکے لگاکے کنیز کے آگے پیش کرتیں۔ایک دن فاطمہ زہرا مصروفِ عبادت رہتیں اور اس دن فضہ کھانا پکا کے رکھتیں۔

 

 

 
 

اب ایک جانے پہچانے واقعے کی طرف آپ کا ذہن منتقل کروں۔ میں کہتا ہوں کہ اُدھر سے اس اصول کے ٹوٹنے کا مجھے علم نہیں۔ یعنی کئی دن مسلسل فضہ نے کھانا پکایا ہو۔ اس کا ضعیف سے ضعیف روایت میں کوئی ثبوت نہیں لیکن اُس طرف سے اس اصول کے ٹوٹنے کا مجھے علم ہے۔ وہ ھَلْ اَتٰی والے تینوں دن فضہ گھر میں موجود ہیں۔یہ جزوِ روایت ہے، جن لوگوں نے روٹیاں دی تھیں، ان میں فضہبھی ہیں جن کی شان میں سورئہ ھَلْ اَتٰی اُتری ہے، ان میں فضہ بھی ہیں۔ تو فضہ گھر میں موجود ہیں لیکن روٹیاں تینوں دن حضرت فاطمہ زہرا کے ہاتھ کی ہیں۔

 

 

 
 

میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ وہ بھی روزوں میں شریک ہوئی تھیں، تو سیدہ عالم نے کہہ دیا کہ فضہ! تم روزے سے ہو، لہٰذا تمہارے حصے کے دن میں بھی ہم ہی پکا دیں گے۔میں نے کہا: ادھر سے کہیں نہیں،غلط روایت بھی نہیں اور اُدھر سے ہمارے سامنے روایت موجود ، ثبوت موجود۔ بس اب اصول عرض کردوں عقلی طور پر کہ جب یہ برابر کی تقسیم ہے تو جس دن کام اُن کے ذمہ ہے، اُس دن آرام اِن کا حق ہے۔ جس دن کام ان کے ذمہ ہے، اُس دن آرام اُن کا حق ہے۔

 

 

 
 

یاد رکھئے کہ اگر فضہ سے کئی دن لے لئے جائیں تو یہ دوسرے کے حق پر قبضہ ہے۔ وہ ظلم ہوتا ہے اور خود کئی دن کام کردیا، یہ اپنے حق کا دے دینا ہے۔ وہ عین ایثار ہے۔

 

 

 
 

حضرت امیرالموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام اپنے غلام قنبر کو ساتھ لئے ہوئے بازار میں جاتے ہیں ۔ دو پیرہن خریدتے ہیں۔ ایک سات درہم کا، ایک پانچ درہم کا۔ فرق ہی کیا تھا ؟ دو درہم۔ پھر بھی کچھ فرق تو ہے۔جو سات درہم کا پیرہن ہے، وہ قنبر کو دیتے ہیں او ر جو پانچ درہم کا ہے، وہ خود زیب جسم فرماتے ہیں۔ قنبر عرض کرتے ہیں: مولا ! وہ ذرا بہتر ہے، وہ آپ اپنے لئے رکھئے۔

 

 

 
 

تو میں مشترک جلسوں میں کہا کرتا ہوں، جس میں غیر مسلم بھی ہوں کہ ہم میں سے کوئی آدمی ایک تو ایسا کرتا ہی کیوں اور اگر کوئی لیڈر قسم کا آدمی ایسا کرتا بھی تو جونہی قنبر نے سوال کیا تھا، وہ اپنی مصلحانہ حیثیت پر لیکچر دے دیتا ۔ وہ کہتا : اے قنبر! میں چاہتا ہوں کہ غلامی کے معیار کو اونچا کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ تفریق کو ختم کروں۔ حالانکہ مقصود امیرالموٴمنین کا یہی تھا لیکن قنبر کے جواب میں یہ تقریر کردی جاتی تو اس جواب میں خود عدم مساوات مضمر تھی۔قنبر کو احساسِ غلامی ہوجاتا ۔ اس لئے قنبر کے جواب میں یہ نہیں کہا ۔ ویسا کہا جو اپنے بچوں سے کہا جاتا ہے:

 

 

 
 

"ارے! تم نوعمر ہو، تمہیں وہ اچھا معلوم ہوگا۔ میر اکیا ہے؟ میں یہ پہن لوں گا"۔

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.