بحث امامت و خلافت سے مربوط اصطلاحات
بحث امامت و خلافت سے مربوط اصطلاحات
امامت و خلافت کی بحث کا دار و مدار مندرجہ ذیل سات اصطلاحات پر ہے:
الف: شوریٰ
ب: بیعت
ج: خلیفہ
د:امیرالمومنین
ھ:امام
و: اولوالامر اور امر
ز: وصی اور وصیت
ذیل میں ہم ان اصطلاحات میں سے ہر ایک کی تعریف بیان کریں گے۔
الف۔ شوریٰ
عربی زبان میں ” المشاور “، ” المشاورة “، ” المشورة “ سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کا ایک دوسرے کی طرف رجو ع کر کے رائے معلوم کرنا۔
چنانچہ کہا جاتے ہے شاور یعنی فلاں نے فلاں شخص کی رائے معلوم کر لی نیز اشار علیہ بالرأی یا یشیر یعنی اسے رائے دی یا رائے دیتا ہے۔
یہیں سے ہم
وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ۱
اور اپنے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں۔
کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ جب ہم لوگ کسی مسئلے میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں: صار ھذا الشی ء شوری بینھم۔ یہ چیز ان کے درمیان مشورے کا موضوع بن گئی۔ ۲
اس لفظ اور اس کے مشتقات کے معانی قرآن حکیم، احادیث شریفہ اور مسلمانوں کے ہاں وہی ہیں جو عربی زبان میں پہلے سے تھے۔ یعنی قرآن و حدیث اور مسلمانوں نے ان کے لغوی معانی کو تبدیل نہیں کیا۔ البتہ ہماری بحث اسلامی نقطہ نظر سے شوری اور مشاورت کی شرعی حیثیت
اور ان کے حکم کے بارے میں ہے۔
ب۔ بیعت
عربی زبان میں بیعت سے مراد ہے: الصفقة علٰی ایجاب البیع۔ خرید، فروخت اور سودا طے پانے پر ہاتھ ملانا یا ہاتھ پر ہاتھ مارنا۔ 3 چنانچہ تصافقوا سے مراد ہے۔ تبایعوا(آپس میں سودا کیا)۔4 یہ تھے عربی زبان میں بیعت کے لغوی معنی۔
رہی عہد اور حلف کی بات تو واضح ہو کہ عرب مختلف طریقوں سے عہد و پیمان باندھتے تھے۔ مثال کے طور پر وہ طریقہ جو بنی عبد مناف نے کعبے کی تولیت، سقایت حجاج اور مکہ کی سیادت سے مربوط دیگر امور میں اختلاف پر نبی عبدالدار سے جنگ کے فیصلے کے وقت اپنایا تھا۔
ابن اسحاق کی روایت ہے:
عبدمناف کی اولاد نے خوشبو سے لبالب ایک ظرف لا کر مسجد الحرام میں کعبے کے پاس رکھا۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اس میں ڈبویا۔ اس طریقے سے انہوں نے اور ان کے حلیفوں نے آپس میں پیمان کیا۔ پھر اپنے ہاتھوں سے کعبہ کو مس کیا تاکہ اپنے عہد کو مزید پکا کریں۔ اسی لئے ”مطیبین“ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ 5
ابن اسحاق نے کعبے کی تجدید کے بارے میں ایک اور روایت نقل کی ہے اس کے مطابق جب کعبے کی عمارت (دوران تعمیر) رکن کے مقام پر پہنچی تو جھگڑا ہو گیا۔ ہر قبیلے کی کوشش تھی کہ وہ اسے اٹھا کر اس کے مقام پر رکھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپس میں بحث و گفتگو کی۔ عہد و پیمان باندھے اور جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔ بنی عبدالدار خون سے لبریز ظرف لے آئے۔ پھر انہوں نے اور بنی عدی بن کعب بن لوی نے کٹ مرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ اس خون کے برتن میں ڈبوئے۔ اسی لئے ان کو لعقة الدم (خون چاٹنے والے) کہا گیاہے۔ 6
بیعت کا اسلام میں تصور
بیعت یعنی ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔ عربی زبان میں سودا پکا ہونے کی علامت تھی۔ پھر اسلامی معاشرے میں یہ عمل بیعت کرنے والے کی طرف سے بیعت لینے والے کے ساتھ اس کی اطاعت کے عہد کی علامت بن گیا۔ چنانچہ بایعہ علیہ مبایعة سے مراد ہے عاھدہ علیہ معاھدہ۔ یعنی فلاں چیز کا اس سے عہد و پیمان کیا۔
قرآن کریم میں ذیل کی آیت میں بیعت کا ذکر ہوا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ ط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہج وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللهَ فَسَیُئْوتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ 7
بتحقیق وہ لوگ جو آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ کی بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، پس جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ عہد شکنی کرتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے تو اللہ عنقریب اسے اجر عظیم دے گا۔
یہاں ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے تین واقعات ذکر کرتے ہیں۔ جن میں آپ(ص) نے مسلمانوں سے بیعت لی تھی۔
پہلی بیعت
اسلام کی سب سے پہلی بیعت عقبہ کی پہلی بیعت ہے جس کے بارے میں حضرت عبادہبن صامت کہتے ہیں کہ حج کے ایام میں انصار کے بارہ افراد جو مدینہ میں مسلمان ہو چکے تھے حج کے لئے آئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے عورتوں والی بیعت لی۔ یہ ہمارے اوپر جہاد واجب ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ہم نے اس بات کی بیعت کی:
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ چوری نہیں کریں گے۔ زنا نہیں کریں گے۔ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ اپنے تئیں بہتان نہیں گھڑیں گے۔ نیک کاموں میں اس کی حکم عدولی نہیں کریں گے۔
(فرمایا)
اگر تم اس عہد پر عملدرامد کرو گے تو تمہارے لئے جنت ہے اور اگر تم نے اس میں سے کسی قسم کی کوتاہی کی اور دنیا میں تمہیں اس کی سزا مل گئی تو یہی اس کا کفارہ ہے۔ اگر تم نے اس کو یوم قیامت تک چھپائے رکھا تو تمہارا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرے گا۔اگر وہ چاہے تو عذاب دے گا اور اگر چاہے تو بخش دے گا۔ 8
اس بیعت کو بیعت عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے۔
دوسری بیعت
جو عقبہ کی دوسری اور نسبتاً بڑی بیعت ہے۔ حضرت کعببن مالک روایت کرتے ہیں کہ ہم مدینہ سے حج کے لئے نکلے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپس میں طے کیا کہ ایام تشریق کے درمیانی عرصے میں عقبہ (ایک گھاٹی) میں ملاقات کریں گے۔ رات کی ایک تہائی گزرنے کے بعد ہم چھپ چھپا کر کھسکتے ہوئے نکلے اور گھاٹی کے قریب درے میں جمع ہو گئے۔ ہم تہتر افراد تھے اور دو عورتیں تھیں۔ تب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے ساتھ آپ(ص) کے چچا عباستھے۔ آپ نے گفتگو کرتے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور اسلام کی طرف ترغیب دلائی۔ پھر فرمایا:
میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم تین چیزوں سے اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور ان چیزوں سے میری بھی حفاظت کرو گے۔
پس براءبن معرور نے آپ(ص) کا ہاتھ پکڑا اور عرض کیا:
جی ہاں قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث کیا ہے۔ ہم ضرور آپ(ص) کی حفاظت کریں گے ان چیزوں سے جن سے ہم اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم سے بیعت لیجئے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخدا ہم جنگ جو ہیں۔
اس وقت ابو الہیثم بن تیہان نے کہا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اور لوگوں کے درمیان روابط ہیں اور ہم نے ان کو توڑنا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہ اقدام کریں اور پھر جب آپ(ص) کو غلبہ حاصل ہو تو آپ(ص) ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کے پاس چلے جائیں۔
یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:
بل الدم الدم والھدم الھدم۔
بلکہ تمہارا خون میرا خون ہے اور تمہاری عزت میری عزت ہے۔
آپ نے فرمایا:
تم لوگ اپنے درمیان سے بارہ نمائندے (نقیب) چن کر مجھے دو تاکہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنی قوم کی سرپرستی کریں۔
ان لوگوں نے بارہ نقیب چن کر دئیے۔ نو(۹) افراد خزرج سے اور تین افراد اوس قبیلے سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کے حواریوں کی طرح اپنی بساط کے مطابق اپنی قوم کے سرپرست ہو اور میں اپنی قوم (مسلمانوں) کا سرپرست ہوں۔
وہ بولے: ٹھیک ہے۔
اس بات میں اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کس نے بیعت کی ہے؟ اسعد بن زرارہ نے یا ابوالہیثم بن تیہان نے۔9
بیعت رضوان یا بیعت شجرہ
۷ھ ئمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو عمرہ کے لئے چلنے کو کہا۔ آپ(ص) کے ساتھ ایک ہزار تین سو یا ایک ہزار چھ سو افراد نکلے۔ آپ(ص) کے ساتھ ستر(۷۰) قربانی کے جانور تھے۔ آپ(ص) نے فرمایا۔ میں اسلحہ ساتھ نہیں لے جاؤں گا۔ میں تو صرف عمرے کے لئے جا رہا ہوں۔ پھر انہوں نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا اور چلے یہاں تک کہ حدیبیہ پہنچ گئے جو مکہ سے نو میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ خبر اہل مکہ کو پہنچی تو خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے آس پاس کے اطاعت گزار قبائل کو کوچ کا حکم دیا اور دو سو سوار خالد بن ولید یا عکرمہ بن ابی جہل کی سرکردگی میں پہلے روانہ کئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تیار ہو گئے اور فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت کا حکم دیا ہے۔
لوگ آپ(ص) کے پاس آ کر اس بات کی بیعت کرنے لگے کہ وہ کبھی نہیں بھاگیں گے اور آپ(ص) نے موت پر بیعت لی۔ قریش نے مذاکرات کے لئے ایک وفد بھیجا۔ جب انہوں نے وہ حالت دیکھی تو خوفزدہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کر لی۔ 10
یہ تھیں عہد رسول(ص) میں ہونے والی بیعتوں کی تین اقسام۔
پہلی بیعت : اسلام پر بیعت
دوسری بیعت: حکومت اسلامی کے قیام پر بیعت
تیسری بیعت: جہاد پر بیعت
یاد رہے کہ تیسری بیعت، دوسری بیعت کی تجدید تھی کیونکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو عمرہ کے لئے سفر کرنے کی دعوت دی تھی بعد میں عمرہ جہاد کی صورت اختیار کر گیا۔ نئی صورت حال اس مقصد سے ہم آہنگ نہ تھی جس کے لئے انہیں کوچ کرنے کا حکم ہوا تھا جس کے لئے وہ نکلے تھے۔ گویا یہ صورتحال اس مقصد سے ہماہنگ نہ تھی جس پر ان کے ساتھ عہد و پیمان ہوا تھا۔ اس لئے ایک نئے اقدام کے لئے بیعت کی ضرورت پڑی جو کارگر ثابت ہوئی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ مرعوب ہو گئے اور مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو گیا۔
ہم اس بحث کا اختتام چھ روایتوں سے کرتے ہیں جو امام کی اطاعت اور بیعت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔
۱۔ ابن عمرکا بیان ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس بات پر کرتے تھے کہ ہم سن کر عمل کریں گے۔ پھر آپ فرماتے تھے کہ جہاں تک تم میں سکت ہو۔ 11
۲۔ ایک روایت میں حضرت علی(ع) نے فرمایا۔ ما استطعتم۔ یعنی اپنی استطاعت کے مطابق۔ 12
۳۔ ایک روایت میں ہے: جریر نے کہا کہ (رسول اللہ (ص) نے) فرمایا: کہو جہاں تک میرے بس میں ہو۔
۴۔ ہرماس بن زیاد سے مروی ہے کہ اس نے کہا: جب میں لڑکا تھا تب میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے میری بیعت قبول نہ کی۔
ابن عمرکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مسلمان مرد پر واجب ہے کہ وہ سنے اور اطاعت کرے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا ناپسند مگر یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔ اس صورت میں سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں۔ 13
۵۔ ابن مسعودسے منقول ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میرے بعد تمہارے امور کی باگ ڈور ایسے لوگ سنبھالیں گے جو سنت کے چراغ کو بجھائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے اور نماز کو اس کے اوقات سے موخر کر دیں گے۔
میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول(ص) اگر میرا ان لوگوں سے واسطہ پڑ جائے تو میں کیا کروں؟
فرمایا:
اے ابن ام عبد کے بیٹے کیا تم مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ تجھے کیا کرنا چاہیے؟ جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی کسی قسم کی اطاعت نہ کی جائے۔ 14
۶۔ حضرت عبادہبن صامت ایک طویل حدیث کے آخر میں نقل کرتے ہیں۔ اللہ
تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی کسی قسم کی اطاعت نہیں ہو سکتی پس اپنے رب کی نافرمانی نہ کرو۔
ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اپنے رب کے راستے سے نہ ہٹو۔ 15
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں بیعت کا مطالعہ کرنے سے ہمارے لئے واضح ہوا کہ بیعت کے تین ارکان ہیں۔
الف: بیعت کرنے والا۔
ب: بیعت لینے والا۔
ج۔ جس کام کی انجام دہی کے لئے عہد و پیمان لیا جاتا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے بیعت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس مقصد کو سمجھا جائے جس کی انجام دہی کے لئے اطاعت مطلوب ہوتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں موجود کیفیت کے مطابق بیعت لینے والے کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے کا ہاتھ مارنے سے معاہدہ ہو جاتا ہے۔ بنابریں بیعت ایک شرعی اصطلاح ہے۔ البتہ اسلام نے جس بیعت کی اجازت دی ہے اس کی شرائط آج بھی بہت سے مسلمانوں کے لئے غیر واضح ہیں۔ چنانچہ ہم عرضکرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیعت اس وقت صحیح ہے جب اس میں درج ذیل تین شرائط موجود ہوں:
۱۔ بیعت کرنے والا، بیعت کا اہل ہو اور بیعت اختیاری ہو۔
۲۔ جس کی بیعت کی جائے وہ بیعت کا اہل ہو۔
۳۔ بیعت ایسے مقصد کے لئے ہو جس کی انجام دہی جائز ہے۔
درج بالا بیانات کی روشنی میں بچے اور دیوانے کی بیعت صحیح نہیں ہو گی کیونکہ یہ دونوں احکام شرع کے پابند (مکلف) نہیں ہیں۔ اسی طرح جبری بیعت بھی کالعدم ہے۔ کیونکہ بیعت بھی خرید و فروخت اور تجارت کی طرح ہے۔ جس طرح کسی کا مال زبردستی چھین کر قیمت دینے سے تجارت یا خرید و فروخت نہیں ہو سکتی اسی طرح زبردستی اور تلوار کی نوک پر لی گئی بیعت کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ایسے شخص کی بیعت بھی صحیح نہیں جو اعلانیہ گناہ کرتا ہو۔ نیز کسی گناہ کی انجام دہی کے لئے بھی بیعت درست نہیں۔ بنا بریں بیعت ایک شرعی اصطلاح ہے اور بیعت اسلامی نقطہ نگاہ سے مخصوص احکامات کی حامل ہے۔
ج۔ عربی زبان میں خلافت اور خلیفہ سے مراد
خلافت کے لغوی معنی ہیں کسی اور کی نیابت، اور خلیفہ سے مراد ہے وہ شخص جو دوسرے کے نیابت کرے یا اس کی جگہ سنبھالے۔ 16 ایک اور تعریف کی رو سے خلیفہ اسے کہتے ہیں جو کسی کے بعد اس کی جگہ لے اور اس کے مقام کو سنبھالے۔
قرآن حکیم میں خلیفہ کے لفظ کو اسی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔
یٰدَاودُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ۔
اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔
نیز اس حدیث رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی یہی معنی مراد ہے:
خدایا! میرے خلفاء پر رحم فرما۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کے خلفاء کون ہیں؟
فرمایا:
وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیث و سنت کو نقل کریں گے۔
حضرت ابوبکر کے عہد میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ ابن اثیر ” نہایة اللغة “ میں کہتے ہیں کہ ابوبکرکے پاس ایک اعرابی آیا اور پوچھا:
کیا آپ خلیفہ رسول خدا (ص) ہیں؟
کہا:
نہیں۔
اس نے پوچھا:
پھر آپ کون ہیں؟
انہوں نے کہا:
انا الخالفة بعدہ۔میں رسول(ص)کے بعد کا خالفہ ہوں۔
ابن اثیر کہتے ہیں۔ ”الخالفة“ سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی استطاعت نہ ہو اور جس میں کوئی خوبی نہ ہو۔ اس وضاحت کے بعد ابن اثیر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ابوبکرنے یہ بات تواضع کے طور پر کہی تھی۔ 17
یہ لفظ اسی لغوی معنی میں حضرت عمرکے دور میں مستعمل تھا۔ جیسا کہ سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ) نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔ وہ ” فصل فی نبذ من اخبارہ و قضایاہ“ کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں:
ابو ہلال عسکری نے ”الاوائل“ میں، طبرانی نے ”المعجم الکبیر“ میں اور حاکم نے ”مستدرک“ میں نقل کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیزنے، ابوبکر بن سلیمان بن ابو حثمہ سے سوال کیاکہ کیا وجہ ہے کہ ابو بکرکے دور میں ” من خلیفة رسول الله “ لکھا جاتا تھا۔ حضرت عمرابتداء میں ” من خلیفة ابی بکر “ لکھا کرتے تھے؟ نیز جس شخص نے سب سے پہلے ”من امیر المومنین“۔ لکھا وہ کون تھا؟ کہنے لگا: شفاء (جو ایک مہاجرہ تھی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو بکرلکھا کرتے تھے ”من خلیفة رسول الله“ اور عمرلکھا کرتے تھے۔ من خلیفة خلیفة رسول الله (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کے خلیفہ کی طرف سے) یہاں تک کہ حضرت عمرنے عراق اور عراقیوں کے بارے میں ان سے معلومات حاصل کریں۔ چنانچہ اس نے لبیدبن ربیعہ اور عدیبن حاتم کو حضرت عمرکے پاس بھیجا۔ وہ دونوں مدینہ آئے اور مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں عمرو بن عاص کو پایا۔ ان دونوں نے اس سے کہا:
ہمارے لئے امیر المومنین سے ملاقات کی اجازت لے لو۔
عمرو نے کہا:
تم دونوں نے ان کا صحیح نام لیا ہے۔
پس عمرو بن العاص حضرت عمرکے پاس گیا اور کہا:
السلام علیک یا امیرا لمومنین۔
حضرت عمرنے کہا۔
تمہیں اس نام میں کیا خوبی نظر آئی؟ تمہیں اپنے الفاظ واپس لینے پڑیں گے۔
اس نے کہا:
آپ امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں۔
بس اس دن کے بعد سے ”امیر المومنین“ لکھا جانے لگا۔
امام نووی سے ان کی کتاب ”تہذیب الاسماء“ میں روایت ہے کہ حضرت عمرنے لوگوں سے کہا۔ آپ لوگ مومنین ہیں اور میں آپ لوگوں کا امیر۔ پس وہ امیر المومنین کہلائے گئے۔ اس سے پہلے انہیں خلیفة خلیفة رسول اللہ(ص) (خلیفہ رسول(ص) کا خلیفہ) کہا جاتا تھا۔ لیکن پھر طوالت کی بناء پر اسے ترک کیا گیا۔ 18
خلفاء کو امیر المومنین کہنے کا سلسلہ عباسی خلفاء کے عہد تک جاری رہا۔ کبھی کبھار ان کو خلیفہ کے نام سے بھی پکارتے تھے اور اس سے مراد خلیفة اللہ ہوتا تھا۔ چنانچہ حجاج بن یوسف نے نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا۔ خدا کے خلیفہ اور اس کے برگزیدہ بندے عبدالملک بن مروان کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ 19
جب مہدی عباسی کی محفل میں کہا گیا کہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک بے دین اور زندیق تھا تو مہدی نے کہا: خدا کسی زندیق کو خلیفہ نہیں بنا سکتا۔ 20
عثمانی بادشاہوں کے دور میں بھی لفظ خلیفہ کا استعمال ہوتا تھا اور اس سے خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد لیتے تھے۔ یہاں تک کہ خلیفہ کا لفظ مسلمانوں کے سلطان اعظم کا نام بن گیا۔
خلاصہ کلام
لفظ خلیفہ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس سے مراد خلیفہ ٴ رسول(ص) نہیں ہے نیز رسول(ص) کی حدیث میں بھی استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث کے راویوں کو مراد لیا ہے اور حضرت ابوبکرو عمرکے دور میں بھی یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا۔ چنانچہ عمربن خطاب کو ”خلیفہ ٴ رسول کا خلیفہ“کہتے تھے۔ امویوں اور عباسیوں کے دور میں اس لفظ کا استعمال ہوتا رہا اور اس سے خلیفة اللہ مراد لیتے رہے۔ ترکی کے عثمانی حکمرانوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا تھا اور اس سے مراد خلیفة اللہ ہوتا تھا۔ بنا بریں یہ اصطلاح شرعی اصطلاح نہیں بلکہ اصطلاح متشرعہ ہے جسے تسمیة المسلمین بھی کہا جاتا ہے۔
امیر المومنین
ہماری گزشتہ بحث سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لفظ امیر المومنین کا استعمال حضرت عمربن الخطاب کے دور سے شروع ہوا۔ اس سے مراد سب سے بڑا اسلامی حاکم ہوتا تھا۔ اس کے بعد سے یہ لفظ عثمانیوں کے دور تک اسی طریقے سے استعمال ہوتا رہا ہے۔
لفظ امام کے لغوی معنی
اس لفظ سے مراد وہ انسان ہے جس کے قول اور فعل کی پیروی اور اقتداء کی جائے۔ خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر۔21 جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ذکر ہوا ہے:
یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍمبِاِمَامِھِمْج فَمَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہبِیَمِیْنِہفَاُولٰٓئِکَ یَقْرَءُ وْنَ کِتَابَھُمْ وَلَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًاO وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰیَ وَ اَضَلُّ سَبِیْلًاO 22
قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے پھر جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس وہ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا۔ اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ اندھے سے بھی بدتر ہو گا۔
باطل امام کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔
فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّةَ الْکُفْرِلا اِنَّھُمْ لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ 23
تو کفر کے اماموں سے جنگ کرو کیونکہ ان کے قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید وہ باز آجائیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے امام وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کے راستے کی ہدایت کرے۔ جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔
وَاِذِابْتَلٰٓی اِبْراہمَ رَبُّہبِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّط قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْط قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ 24
اور (وہ وقت یاد رکھو) جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور ان کو پورا کر دکھایا۔ ارشاد ہوا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔
نیز ارشاد رب العزت ہے۔
وَجَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا25
اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کرتے ہیں۔
یا انسان کے علاوہ کوئی کتاب امام ہو جیسے ارشاد ربانی ہے:
وَمِنْ قَبْلِہکِتَاُبُ مُوْسٰی اِمَامًا وَّرَحْمَةً۔ 26
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (بھی دلیل ہو جو) راہمنا اور رحمت بن کر آئی ہو؟
مذکورہ بالا دونوں آیتوں کے مفہوم سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام کے اندر امام کی شرائط کیا ہیں۔ پس اگر امام کتاب ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر لوگوں کی ہدایت کے لئے اتری ہو جیسا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کتاب ”قرآن مجید“ ہے اور اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب ”تورات“ اور دیگر انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتابیں۔
اور اگر امام انسان ہو تو پھر اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے معین شدہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط۔
میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔
نیز ”عہدی“ کا لفظ بھی اس بات کی دلیل ہے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ وہ نہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہو، نہ دوسروں پر۔ بالفاظ دیگر وہ خدا کی نافرمانی نہ کرتا ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَا یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ
میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔
ان باتوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے کہ اسلامی اصطلاح میں امام سے مراد ہے:
۱۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے اس کے رسولوں پر نازل شدہ کتاب۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے معین شدہ انسان جس کے لئے گناہوں سے محفوظ اور معصوم ہونا ضروری ہے۔
امر اور اولوالامر
اس بات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے کہ لفظ امر اور اولوالامر سے کیا مراد ہے اور
کیا یہ دونوں شرعی اصطلاحات ہیں یا نہیں؟ ہم یہاں عربی زبان اور عام مسلمانوں کے ہاں عام استعمال اور کتاب و سنت میں ان دونوں کے استعمال کی بعض مثالیں پیش کرتے ہیں:
۱۔ عربی زبان میں استعمال
سیرت ابن ہشام، طبری اور دیگر کتب میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے موقعوں پر قبائل عرب سے ملتے۔ ان کو اسلام کی دعوت دیتے اور ان کو بتاتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور ان سے اپیل کرتے تھے کہ وہ آپ کی تصدیق کریں اور حمایت کریں تاکہ خدا کا پیغام پہنچا سکیں۔ ایک بار حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عامر، بنی صعصعہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور بنی عامر کے ایک شخص نے جس کا نام بیحرہ بن فراس27 تھا کہا:
اللہ کی قسم اگر قریش کا یہ جوان میرے ہاتھ آ جائے تو میں اس کے ذریعے پورے عرب کو ہڑپ کر جاؤں گا۔
اس کے بعد آپ سے عرض کیا:
آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر ہم آپ کے مشن میں آپ کی متابعت کریں اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دے تو کیا آپ کے بعد حکومت ہماری ہو گی؟
فرمایا:
حکومت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ وہ جسے چاہے عطا کرے۔
وہ بولا:
کیا ہم اپنی گردنوں کو عربوں کا نشانہ بنا کر پیش کریں اور پھر جب آپ کو فتح حاصل ہو تو حکومت دوسروں کی ہو جائے؟ ہمیں آپ کی امارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔28
یہ عرب شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے”امر“ کو درک کر رہا تھا کہ یہ عرب پر حکومت اور تسلط سے عبارت ہے۔ بنابریں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ عرب کی قیادت اور حکمرانی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس کے قبیلے کو مل جائے۔ لیکن آپ نے اس کو مثبت جواب نہیں دیا۔ حالانکہ ان دنوں آپ کو حمائتیوں کی شدید ضرورت تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کا اختیار آپ کو حاصل نہ تھا۔ بلکہ اس کا اختیار اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے جسے چاہے عطا کرے۔
اسی طرح کا واقعہ ہوذہ بن علی حنفی کے ساتھ اس وقت پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی اور اس نے آپ سے حکومت کا مطالبہ کیا۔ جیسا کہ طبقات ابن سعد مذکورمیں ہے اس واقعے کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ھوذہ بن علی الحنفی کو خط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے جواب میں لکھا کہ آپ کی دعوت کس قدر اچھی اور پیاری ہے۔ میں اپنی قوم کا شاعر اور خطیب ہوں۔ عرب لوگ میرے مرتبے کا احترام کرتے ہیں۔ پس آپ اقتدار میں مجھے شریک کریں تو میں آپ کی متابعت کروں گا۔ آپ(ص) نے جواب دیا: لوسألنی سیابة من الارض مافعلت۔ اگر تم مجھ سے زمین کے ایک بیکار ٹکڑے (سیابہ) کا بھی سوال کرو گے تو میں نہیں دوں گا۔ 29
ہمارے خیال میں ”سیابہ“ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد بیکار اور متروک زمین تھی۔ جبکہ ھوذہ آپ(ص) سے اقتدار میں شریک یعنی کسی علاقے یا قبیلے وغیرہ کی امارت کا مطالبہ کررہا تھا، لیکن آپ(ص) نے اسے جواب دیا کہ ہم زمین کے ایک بنجر ٹکڑے کی بھی امارت نہیں دے سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان اہل کوفہ اور بصرہ کے قول کی مانند ہے جب ان کے والی نے ان میں سے ہر ایک پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ وہ کچھ کنکر اپنی جامع مسجد میں پہنچائیں تاکہ مسجد میں بچھائے جائیں۔ ان لوگوں کی نظارت کے لئے ان میں سے ایک شخص کو معین کیا گیا۔ یہ شخص ان لوگوں سے کنکر حاصل کرنے میں جانبداری برتتا تھا۔ یہ دیکھ کر ان لوگوں نے کہا۔ اے واہ کیا کہنے اقتدار (کی خواہش) کے اگرچہ پتھروں پر ہی سہی۔ یہی حال مذکورہ روایت کا ہے۔ کیونکہ ھوذہ نے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اقتدار طلب کیا اگرچہ پتھروں پر ہی سہی لیکن آپ(ص) نے جواب دیا کہ اسے پتھروں کی امارت بھی نہیں مل سکتی۔
۲۔ عام مسلمانوں کے ہاں ان الفاظ کا استعمال
مسلمانوں کے ہاں لفظ امر کا زیادہ استعمال سقیفہ بنی ساعدہ کے دن ہوا اور اس کے بعد تسلسل سے استعمال ہونے لگا۔ حضرت سعدبن عبادہ نے سقیفہ بنی ساعدہ کے دن انصار سے کہا:
استبدّ وابھذا الامر دون الناس
حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کر لو۔
اس کے جواب میں انصار نے کہا:
نولیک ھذا الامر۔
ہم یہ امر تیرے سپرد کرتے ہیں۔
اس کے بعد آپس میں چہ میگوئیاں ہوئیں اور کہنے لگے:
اگر قریش کے مہاجرین ان کو تسلیم نہ کریں اور کہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار اور حامی ہیں پس تم کس بناء پر آپ(ص) کے بعد اس ”امر“ میں ہمارے ساتھ نزاع کرتے ہو تو پھر؟
اس دن حضرت ابو بکر نے ان کے خلاف استدلال کے طورپر کہا:
یہ امارت قریش کے اس خاندان کے علاوہ تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
نیز حضرت ابو بکرنے قریش کے بارے میں فرمایا:
ھم احقّ الناس بھذا الامر من بعدہ ولا ینازعھم ذالک الاظالم۔
یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس ”امر“ کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ اس میں ان کے ساتھ کوئی شخص نزاع نہیں کر سکتا سوائے ظالم کے۔
حضرت عمرنے بھی سقیفہ بنی ساعدہ کے دن فرمایا:
من ذایناز عنا سلطان محمد و امارتہ و نحن اھلہ و عشیرتہ۔
محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سلطنت اور امارت میں ہمارے ساتھ کون نزاع کر سکتا ہے؟ جبکہ ہم اس کے رشتہ دار ہیں۔
پھر حباب ابن منذر نے ان کے جواب میں کہا تھا۔ اس شخص اور اس کے ساتھیوں کی بات نہ سنو ورنہ اس ”امر“ میں اپنے حصے سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ واللہ تم ہی اس ”امر“ کے زیادہ حقدار ہو۔
اس دن بشیرابن سعد نے قریش کی حمایت میں کہا:
لا یرانی الله أنازعھم ھذا الامر۔ 30
میں اس ”امر“ میں ہرگز ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔
۳۔ قرآن و حدیث میں امر و اولی الامر کا استعمال
احادیث مبارکہ میں لفظ امر کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم انشاء اللہ آئندہ بحثوں میں ان پر روشنی ڈالیں گے۔ یہاں ہم عامری کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جملہ زیب قرطاس کریں گے۔ فرمایا:
ان الامر الی الله یضعہ حیث یشاء۔
بیشک ”امر “ اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے عطا کرے۔
قرآن مجیدمیں اس لفظ کا استعمال اس آیت میں ہوا ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ اَطِیْعُوا اللهَ وَاطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الاْ َمْرِ مِنْکُمْ۔ 31
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔
تمام مذکورہ مقامات پر خواہ عام عربوں کے ہاں لغوی معنی کے لحاظ سے ہو یا عرف مسلمین کے نقطہٴ نظر سے ہو یا قرآن و سنت کے الفاظ کی روشنی میں، لفظ ”امر“ سے مراد امامت اور مسلمانوں پر حکمرانی ہے۔ بنابریں لفظ ”امر“ اسلامی شریعت میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں عام عربوں اور مسلمانوں نے اسے استعمال کیا ہے۔ اس لئے اگر ہم ”اولی الامر“ کو اصطلاح شرعی یا اصطلاح اسلامی کہیں اور اس سے مراد رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آنے والا امام ہو تو درست ہو گا۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ البتہ دونوں مکاتب فکر کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ حقیقی اولی الامر کون ہے؟ کیونکہ مکتب اہل بیت کا یہ نظریہ ہے کہ چونکہ اولی الامر سے مراد ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اولی الامر اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصوب اور گناہوں سے محفوظ و معصوم ہو۔ اس بات کی تفصیل اسی کتاب میں اپنے مقام پر آئے گی۔ اس کے برعکس مکتب خلفاء کے عقیدے کی رو سے اولی الامروہ ہے جس کی لوگ بیعت کریں۔ اس عقیدے کی رو سے وہ ہر اس شخص کی اطاعت ضروری سمجھتے ہیں کہ جس کی لوگ بیعت
کریں۔ اسی نظرئیے کی بنیاد پر انہوں نے یزید بن معاویہ کی اطاعت کی جس نے میدان کربلا میں آل رسول(ص) کا قتل عام کیا اور ان کو قیدی بنا کر زندان میں ڈال دیا۔ مدینہ رسول میں تین دن تک قتل عام کیا اور عورتوں سے تجاوز کی اجازت دی گئی نیز کعبے پر منجنیق سے سنگباری کی گئی۔ جس کی تفصیل انشااللہ بعد میں آئے گی۔
وصی اور وصیت
لفظ وصی اور لفظ وصیت (ان دونوں) کے مشتقات عربی زبان میں درج ذیل معانی میں استعمال ہوئے ہیں:
جب کوئی زندہ انسان کسی دوسرے انسان کو اپنی وفات کے بعد کسی کام کی ذمہ داری سونپے تو ذمہ داری ڈالنے والے کو موصی، دوسرے کو وصی اور اس کام کو وصیت کہتے ہیں۔
وصیت کرنے کے لئے کبھی لفظ وصیت اور اس کے مشتقات کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً موصی، وصی سے کہے:
اوصیک بعدی برعایة اھلی او ادارة مدرستی۔
میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ میرے بعد میرے گھر والوں کا خیال رکھنے اور میرے مدرسے کو چلانے کی یا فلاں فلاں کام کرنے کی۔
اور گاہے ایسے الفاظ سے بھی کام لیا جا سکتا ہے جو وصیت کے مفہوم کو ادا کریں۔ مثلاً موصی اپنے وصی سے کہے:
اطلب منک ان تقوم بعدی برعایة اھلی و مدرستی۔
میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بعد میرے گھرانے اور مدرسے کا خیال رکھو اور فلاں فلاں کام انجام دو۔
بسا اوقات موصی (وصیت کرنے والا) اپنی وصیت سے دوسرے لوگوں کو ان الفاظ میں باخبر کرتا ہے:
اوصیت الیٰ فلان و وصیی فلان۔
یعنی میں نے فلاں کو وصیت کی یا میرا وصی فلاں ہے۔
اور کبھی ان الفاظ میں:
عھدت الیٰ فلان یا اوکلت الیہ ان یقوم بکذا
میں نے فلاں پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے یا میں نے فلاں کام فلاں شخص کے ذمے لگایا ہے۔
ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہوگا۔ یہی حال ان سے مشابہ دیگر الفاظ کا ہے۔
یہ عربی میں لفظ وصی، وصیت اور ان دونوں کے مشتقات کے معنی کا خلاصہ ہے۔ قرآن کریم اور سنت نبویہ میں بھی یہ الفاظ انہی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ سورة بقرہ کی آیات ۱۸۰تا ۱۸۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَاَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَانِ ج الْوَصِیَّةُ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوصٍ جَنَفاً اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ۔
اسی طرح سورة مائدہ آیت ۱۰۶ میں فرماتا ہے:
یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَةُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ۔
اسی طرح سورة نساء کی آیت ۱۱ اور ۱۲ میں بھی یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
سنت نبوی میں ان کے استعمال کی مثال اس حدیث میں ملتی ہے جسے امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب الوصایا کی ابتدا میں اور مسلم نے صحیح مسلم کی کتاب الوصیة میں نقل کیا ہے۔32 روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما حق امر ء مسلم لہ شی ء یوصی فیہ ان یبیت لیلتین الا وصیتہ مکتوبة عندہ
مسلمان جس کے پاس کوئی قابل وصیت چیزہو اسے حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس حالت میں دو راتیں گزارے کہ اس کی تحریری وصیت اس کے پاس نہ ہو۔
اسلامی فقہ میں وصیت کے مخصوص احکام ہیں۔ ہماری مذکورہ بالا معروضات کی رو سے لفظ ”وصی“ اور لفظ ”وصیت“ کا تعلق اصطلاحات اسلامی یا اصطلاحات شرعیہ سے ہے۔
انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی وصیت جیسا کہ ہم توارت و انجیل سے اس کی مثالیں پیش
کریں گے یہ ہے کہ وہ اپنی شریعت لوگوں تک پہنچانے اور امت کی نگہبانی کرنے کے لئے اپنے بعد آنے والے اوصیاء کو وصیت کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں حضرت علی مرتضیٰ(ع) کو ”وصی“ کا لقب حاصل ہوا اور یہ لقب آپ کے لئے اسم علم بن گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے:
آپ(ع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی ہیں اور خاتم الانبیائصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سابقہ رسولوں کی طرح عمل کرتے ہوئے حضرت علی مرتضیٰ(ع) کو اپنے بعد شریعت کی ترویج و تبلیغ اور امت کی نگہبانی کی ذمہ داری سونپی۔ پھر آپ(ص) نے حضرت علی(ع) کے واسطے سے بعد میں آنے والے اپنے گیارہ فرزندوں کو بھی یہ ذمہ داری سونپی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ان تمام باتوں سے باخبر رکھنے کے لئے کبھی لفظ وصی، وصیت اور ان دونوں کے مشتقات کو استعمال کیا ہے اور کبھی دیگر الفاظ کو جو اس مفہوم کو ادا کریں جیسا کہ ان سب کا ذکر آپ(ص) سے مروی ان احادیث میں موجود ہے جن میں آپ(ص) نے اپنے ”ولی الامر“ کی تعین فرمائی ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا انکار کرنے والوں کے عقیدے کا بھی ذکر ہے جو آئندہ صفحات میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کی امارت کی کوئی فکر نہیں کی اور اپنے بعدکسی کو وصی مقرر نہیں کیا۔(معاذ اللہ)
حوالہ جات
۱ سورہ شوریٰ آیت ۳۸
۲ مفردات القرآن راغب اصفہانی مادہ ”شور“، لسان العرب، معجم الفاظ القرآن الکریم وغیرہ۔
3 لسان العرب مادہ ”بیع“ 4 لسان العرب مادہ ”صفق“
5 سیرة ابن ہشام ج۱ صفحہ ۱۴۱، ۱۴۳ طبع قاہرہ 6 سیرت ابن ہشام ج۱ صفحہ۲۱۳
7 سورة فتح آیت ۱۰
8 سیرة ابن ہشام ج۲ صفحہ ۴۰،۴۲
9 سیرة ابن ہشام ج۲ صفحہ ۴۷،۵۶
10 امتاع الاسماع للمقریزی صفحہ ۲۷۴، ۲۹۱
11 صحیح بخاری کتاب لاحقام باب البیعة حدیث نمبر ۵، صحیح مسلم کتاب الامارة باب البیعة علی السمع و الطاعة فی ما استطاع حدیث نمبر ۹۰
12 سنن نسائی باب البیعة فی ما یستطیع الانسان۔
13 صحیح بخاری باب السمع و الطاعة للامام مالم تکن معصیة حدیث نمبر۳، صحیح مسلم باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة حدیث نمبر ۱۸۳۹۔
14 سنن ابن ماجہ ج۲ صفحہ ۹۵۶ حدیث نمبر ۲۸۶۵، مسند احمد ج۱ صفحہ ۴۰۰
15 مسند امام احمد ج۵ صفحہ ۳۲۵، تہذیب ابن عساکر ج۷ صفحہ ۲۱۵ طبع دمشق
16 مفردات راغب مادہ ”خلف“ لسان العرب مادہ ”خلف“ نہایة اللغة ابن اثیر۔
17 لسان العرب میں ابن اثیر کے حوالے سے نقل ہوا ہے۔
18تاریخ الخلفاء صفحہ۱۳۷،۱۳۸، مطبعة السعادة مصر ۱۳۷۱ھ، المستدرک الامام حاکم ج۳ صفحہ ۸۱،۸۲، اوائل ابو ہلال عسکری صفحہ ۱۰۳،۱۰۴ طبع مدینہ منورہ
19 سنن ابو داود ج۲ صفحہ ۲۱۰ حدیث نمبر ۴۶۴۵ باب فی الخلفا۔
20 تاریخ کامل ابن اثیر ج۱۰ صفحہ ۷،۸ طبع مصر
21 عربی لغت کی کتابوں میں مادہ ”ام“ کی طرف رجوع فرمائیں
22 سورة الاسراء آیت ۷۱،۷۲