خوشبو سفر میں ہے-پروفیسر تنویر حیدر -لاهور
11 فروری 1979ء کو کامیاب ہونے والے انقلاب اسلامئ ایران کو 47 سال ہو گئے ہیں
خوشبو سفر میں ہے
قانونِ قدرت ہے کہ جب ظلم وستم کا بےکراں سمندر اپنے کناروں سے بے کنار ہو جاتا ہے اور مظلوم کی دادوفریاد افلاک کا سینہ چاک کرتے ہوۓ عرشِ الٰہی کے زینے تک رساٸی حاصل کر لیتی ہے تو ایسے میں اپنے بندوں پر حد سے
زیادہ کریم ذاتِ خداوندِ ذوالاکرام، منصہءعالم پر اپنی کسی ایسی نشانی کو ظاہر کرتی ہے
جس کی ضیا بار شعاٶں میں شب گزیدہ انسانیت اپنی نجات کی راہیں تلاش کرتی ہے۔ گردشِ زمانہ پر نظر رکھنے والے صاحبانِ نظر مدتِ دراز سے چودھویں صدی کے اختتام پر دنیا میں کسی بہت بڑی جوہری تبدیلی کا امکان دیکھ رہے تھے۔ بعض نے تو اس تبدیلی کو قیامت کا نام دے رکھا تھا۔آخر چشمِ فلک نے دیکھا کہ افقِ عالم پر ایک ایسی جوہری
تبدیلی رونما ہوٸی جس نے عالمی کفر کے ایوانوں میں واقعی قیامت برپا کر دی اور عالمی سیاست کے دھارے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ۔ روح اللہ کے نام سے ایران کے مقدس شہر ”قم“ کے مضافات میں جنم لینے والے ایک ”رجلِ فارس“ نے”قم باذن اللہ“ کہ کر دنیا کے مستضعفین کے بے جان پیکر میں ایسی روح پھونک دی جس نے اڑھاٸی ہزار سالہ
شہنشاہیت کے بت کو سرنگوں کر کے اس کی جگہ اسلامِ نابِ محمدی کا پرچم لہرا دیا۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اپنے ایک الہامی شعر میں اس بات کا اشارہ کر دیا تھا کہ ایران کی سرزمین سے ایک ایسا مردِ کامل ظہور کرے گا جو اہلِ ایران کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
می رسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند
دیدہ ام از روزنِ دیوارِ زندانِ شما
۔۔۔۔۔۔
11 فروری 1979ء کو کامیاب ہونے والے انقلاب اسلامئ ایران کو 47 سال ہو گئے ہیں۔ یکم فروری کو ایک طویل جلاوطنی کے بعد امام خمینی نے تہران کے مہرآباد ایرپورٹ پر اپنا قدم رنجہ فرمایا۔ 11 فروری کو انقلاب اسلامی کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے
ساتھ افق عالم پر طلوع ہوا۔ یکم فروری سے گیارہ فروری تک کے ایام کو آیہ مبارکہ”والفجر ولیال عشر“ کی مناسبت سے عشرہءفجر“ کا عنوان دیا گیا ہے۔ گیارہ فروری کے دن کو ”یوم اللہ“ بھی کہا جاتا ہے۔ تب سے لے کر آج تک مطلع عالم پر طلوع ہونے والے اس آفتابِ عالم تاب کی شعاوں کو روکنے کے لیے اس کے راستے میں کئ طرح کی سیاہ گھٹائیں نمودار ہوئیں لیکن اس آفتاب کی جلوہ نمائی کو روک نہ سکیں۔ آٹھ سالہ جنگ تحمیلی ہو، اقتصادی زنجیریں ہوں، ضد انقلاب کی منظم سازشیں ہوں یا ایران اسلامی کے خلاف مسلح
جارحیتیں ہوں، جن میں بالخصوص گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت شامل ہے، یہ سب کچھ آفتاب انقلاب اسلامی کے راستے میں محض ایک دھواں ثابت ہوا، جس کا سینہ چاک کر کے اسلامی جمہوری ایران کی کامیابیوں کا سورج اب اس سطح تک پہنچ چکا ہے جہاں اس کے مقابل آنے والی ان سیاہ گھٹاوں کا وجود فضاء میں کہیں غائب ہونے کے قریب ہے۔ چنانچہ اب یہ گھنگھور گھٹائیں اپنے وجود کی بقا کے لیے اپنی آخری کوشش کے طور پر اپنی تمام تر گرج چمک کے ساتھ اس آفتاب کے مقابل صف آراء ہیں۔ 1979 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اب تک پہلی بار دشمنان انقلاب اسلامی اس درجے تک اپنے لاو لشکر سمیت اس صبح نور کو اندھیری شب میں بدلنے کے لیے مجتمع ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ دشمنان اسلام و ایران کی اس تمام تر معرکہ
آرائی کے نتیجے میں افق عالم پر جس طرح کی جوہری تبدیلی رونما ہو گی وہ یقیناً انقلاب جمہوری اسلامی ایران کے دوسرے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو گی اور پھر دنیا کے جغرافیے پر وہ کچھ نمودار ہو گا جو آج سے پہلے نہیں دیکھا گیا۔
آیا گزر کے خوں کے جو دریا سے انقلاب
جراءت کہاں گھٹاوں میں روکیں وہ آفتاب
۔۔۔۔
آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آنے والا انقلابِ ایران، پرامن ہر گز نہیں تھا، بلکہ یہ دو گروہوں کے مابین باقاعدہ مسلح تصادم کا نتیجہ تھا۔ اس معرکے میں ایک طرف شاہ ایران کی مسلح افوج اور اس کے مغرب پرست حامی تھے اور دوسری جانب امام خمینی کی قیادت میں اسلام پسندوں کی جمعیت تھی۔ آخر اسلام پسند اس جنگ میں غالب آئے اور انہوں نے ایران میں امام خمینی
کی قیادت میں ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اسلام پسندوں کے مقابلے میں اگرچہ شاہ پسند اور مغرب پرست مغلوب ہوئے لیکن وہ صفحہءہستی سے محو بالکل نہیں ہوئے بلکہ اپنی شکست کا داغ اپنے سینے میں لیے ہوئے باقی رہے اور باقی ہیں۔ ان کی باقیات گزشتہ تقریباً پچاس سال سے مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کی سڑکوں پر آ کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک ان کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ انقلاب مخالف طبقہ ایک اسلامی معاشرے کو اپنے لیے گھٹن سمجھتا ہے اور شاہ کے دور میں واپس پلٹنا چاہتا ہے۔ یہ لوگ ایران کی اسلامی حکومت کے لیے بہرحال ایک چیلنج ہیں۔ ایران کے بعض معاشی مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں جن کی جینوئن وجوہات بھی ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ایران کے عوام کی اکثریت ان
مسائل سے نجات کے لیے وہاں کی اسلامی حکومت سے بھی نجات چاہتی ہو۔ اسلامی حکومت کا مخالف طبقہ جب کبھی بھی بیرونی امداد کے بل بوتے پر ذرا سر اٹھاتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور مغربی حکومتیں دنیا کو یہ باور کراتی ہیں کہ اس اسلامی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لیکن ایران کا اسلامی نظام اور اس کی حکومت ہے کہ پھر بھی باقی رہی ہے۔ 1979 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد ایران کے نظام کے اندر رہتے ہوئے جو حکومتیں تشکیل دی گئیں وہ کچھ عرصے کی ہی مہمان رہیں، مثلاً ڈاکٹرکریم سنجابی اور ڈاکٹر مہدی بازرگان کی حکومتیں وغیرہ۔ حکومتوں کے اس طرح سے آنے جانے کو دیکھ کر اس وقت کا مغربی میڈیا اور خصوصاً ”بی بی سی“ وغیرہ کا تبصرہ ہمیں اب بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ ”ایران کی یہ حکومت چھے ماہ بھی نہیں
چل سکے گی“۔ لیکن اس کا یہ تجزیہ آخر کار باطل ثابت ہوا اور ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی۔ اس حکومت کے خاتمے کے لیے پھر کچھ ہی عرصے کے بعد امریکہ، مغرب اور بعض عرب حکومتوں کی حمایت سے صدام حسین کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔ ایران جو ایک خونی انقلاب سے تازہ تازہ گزر کر آیا تھا، اس کے حوالے سے اب کہا گیا کہ ایران کی یہ نئی نویلی حکومت اس حملے کے نتیجے میں ایک ہفتہ بھی ٹھہر نہیں سکے گی لیکن یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور حکومت اسلامی باقی رہی۔ اس عرصے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا تجزیہ یہ تھا کہ چونکہ ایران اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے ایرانی عوام کی تمام تر توجہ جنگ کی طرف ہے۔ جونہی یہ جنگ ختم ہو گی، ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی۔جنگ ختم ہو گئی لیکن حکومت اسلامی پھر بھی
باقی رہی۔ اس کے بعد ایران کی اسلامی
حکومت کے خاتمے کی آس لگائے بیٹھےامریکہ اور اس کے آلہءکار میڈیا نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ کہ کیوں کہ امام خمینی ابھی حیات ہیں، اس وجہ سے اس حکومت کو کچھ سہارا ملا ہوا ہے، جونہی امام خمینی اس دنیا سے رخصت ہوئے یہ حکومت بھی رخصت ہو جائے گی۔ آخر ایک دن امام خمینی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے لیکن ایران کی اسلامی حکومت پھر بھی باقی رہی اور اس نے آنے والے وقت میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی قیادت میں مزید استحکام حاصل کیا۔ اس کے بعد شاہ ایران کی باقیات کئی مواقع پر اس اسلامی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئی۔ مثلاً ”مہاسا امینی“ کے معاملے میں ایک فساد کھڑا گیا۔ اس فتنے کو ابھارنے میں بعض مغربی حکومتوں کا کردار روز روشن کی طرح واضع تھا لیکن یہ فتنہ بھی کچھ عرصے بعد
اپنی موت آپ مر گیا لیکن اسلامی حکومت باقی رہی۔ گزشتہ سال جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر براہ راست حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ جرنیلوں، سائنس دانوں اور سیاسی شخصیات کو شہید کیا گیا تب بھی اسرائیل اور امریکہ اپنے دل میں ایران کے خاتمے کی خواہش کو لیے بیٹھے رہے لیکن ایران کی اسلامی حکومت باقی رہی اور اپنے راستے پر گامزن رہی۔ آج ایک بار پھر امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواری ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں پر اور اسے اپنا مسیحا جان کر ایران کی اسلامی حکومت کے خاتمے کی آس میں بہت اچھلے کودے لیکن ان کا یہ اچھلنا کودنا ایک بار پھر انہیں مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنا۔اور انہوں نے لوگوں کے سامنے ایران کی تباہی کی جو صورت دکھائی وہ دنیا کے سامنے ”فیک ثابت ہوئی ہے اور گرد چھٹنے کے بعد ایران کا اصل چہرہ دوبارہ دنیا
کے سامنے آ گیا ہے اور ایران کے دشمنوں کے بگڑے چہرے ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں ہوئے ہیں اور ایران کا اسلامی نظام اور اس کی اسلامی حکومت تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود منصہء شہود پر باقی رہی ہے اور ان شاءاللہ باقی رہے گی۔
اسلام باقی، ایران باقی
****
پروفیسر سید تنویر حیدر-لاهور