رہبرِ معظمِ انقلاب کا حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت اور یومِ نرس کے موقع پر پیغام

نرس؛ معاشرے میں زندگی کی بحالی اور امید کی نوید مکتبِ کربلا کے معیار پر پورا اترنے والی خاتون کا عملی نمونہ

18

رہبرِ معظمِ انقلاب کا حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت اور یومِ نرس کے موقع پر پیغام
نرس؛ معاشرے میں زندگی کی بحالی اور امید کی نوید
مکتبِ کربلا کے معیار پر پورا اترنے والی خاتون کا عملی نمونہ

رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کا یومِ نرس اور حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر جاری کردہ حکیمانہ پیغام محض ایک روایتی تہنیتی پیغام نہیں، بلکہ ایک جامع منشور اور رہنما لائحۂ عمل ہے، جو اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کی معنوی اقدار اور معاشرے کی اہم سماجی ذمہ داریوں کے درمیان گہرے ربط کو واضح کرتا ہے۔ دین کے مطالعے اور تحقیق کے نقطۂ نظر سے یہ پیغام انسانی زندگی کے عملی میدان میں دین کے کردار اور معاشرے کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے اس کی رہنمائی کی ازسرِنو وضاحت کرتا ہے۔

۱۔ «زینبی معنویت» اور «میدانِ علاج و خدمت کی مجاہدت» کا باہمی ربط
رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے، اور آپ کو پنجتنِ پاک علیہم السلام کے مکتب میں پروان چڑھنے والی عظیم ہستی قرار دیتے ہوئے، اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ میدانِ کربلا میں انسانی شرافت و عظمت اپنی بلند ترین صورت میں دو صفات کے امتزاج سے جلوہ گر ہوئی: ایک، مظلوموں کے ساتھ شفقت، خیرخواہی اور صبر و استقامت؛ اور دوسری، نظامِ تسلط و استکبار کے مقابلے میں استواری، جرأت اور شجاعت۔

اسلامی معاشرے میں نرس بھی اس بلند مرتبہ نمونے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے محض طبی خدمات فراہم کرنے والی فرد نہیں، بلکہ مقاومت، امید آفرینی اور مریضوں کے جسمانی و روحانی دکھوں کے مداوے کے جذبے کی حامل ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری علاج کے جسمانی و طبی مراحل سے کہیں بڑھ کر ہے اور نرس کو زندگی کی بحالی، امید کی آبیاری اور انسانی تکالیف کے ازالے میں ایک مؤثر اور فرشتہ صفت کردار عطا کرتی ہے۔

۲۔ دورِ جنگِ ترکیبی میں «امید آفرینی اور نفسیاتی تسکین» کا کردار
آج کے دور میں، جب نظامِ استکبار اور اس کے مذموم ذرائع ابلاغ اپنی تمام تر توانائیاں ایرانی قوم کے اندر مایوسی، رنج و الم پھیلانے اور اس کے سماجی سرمائے کو کمزور کرنے پر صرف کر رہے ہیں، ایسے میں نرسوں کی جانب سے مصیبت زدہ اور بیمار افراد کی خدمت میں مسلسل، ذمہ دارانہ اور صبر و تحمل کے ساتھ موجود رہنا، عملی جہادِ تبیین اور محاذِ مقاومت پر جدوجہد کی ایک نمایاں مثال ہے۔

نرسوں کی یہ پُرسکون اور اطمینان بخش موجودگی معاشرے میں مایوسی پھیلانے کی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے اور اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی دینی فکر انسانوں کے لیے جائے پناہ اور قلبی سکون و اطمینان کا سرچشمہ ہے۔

۳۔ عملی دین شناسی کے تقاضے: نرسوں کے وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کا تحفظ اور فروغ
شورائے دین‌پژوہانِ کشور (ملکی دینی مطالعات و تحقیقات کی کونسل) کے نقطۂ نظر سے، اس پیغام کا گہرا تجزیہ علمی و فکری حلقوں، تحقیقی اداروں اور پالیسی ساز مراکز پر بھاری ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، جن میں درج ذیل امور خصوصی اہمیت کے حامل ہیں:

– علم و مہارت کا فروغ: دینِ مبینِ اسلام کام کو عمدگی، پختگی اور احسن طریقے سے انجام دینے پر زور دیتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: «وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ» (اور کہہ دیجیے: عمل کرو، اللہ تمہارے اعمال کو دیکھے گا)۔ لہٰذا شعبۂ پرستاری سے وابستہ افراد کے علمی معیار اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو بلند کرنا، تخصصی سطح پر عملِ صالح کی ایک نمایاں صورت ہے۔

– نرس کے وقار اور کرامت کا تحفظ: جس طرح اس پیغام میں بھی صراحت کے ساتھ اس امر پر زور دیا گیا ہے، اسی طرح اس محنت کش طبقے کی عزت و تکریم، صلاحیتوں اور معاشی و معاشرتی حقوق کا تحفظ ایک بنیادی ادارہ جاتی ضرورت اور اسلامی اخلاق و طرزِ حکمرانی کا اہم تقاضا ہے۔ ضروری ہے کہ ملک کے نظامِ منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں اس مسئلے کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

اختتامی کلمات
اسلامی جمہوریہ ایران کی نرسنگ برادری آج ایمان، تخصص، شجاعت اور انسان دوستی کے حسین امتزاج کی ایک زندہ مثال ہے۔

شورائے دین‌پژوہانِ کشور اس باوقار اور صاحبِ فضیلت طبقے کی خاموش مگر مسلسل جدوجہد اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کے پیغام پر ازسرِنو غور و تدبر ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے، تاکہ حکام و ذمہ داران سے لے کر محققین اور اہلِ علم تک، سب نرسنگ کے نظام کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں اس طبقے کے مقام و مرتبے کو بلند کرنے کے لیے نئے عزم کے ساتھ کوشش کریں۔ اس طرح معاشرے کے معنوی سرمائے اور اجتماعی امید و اعتماد کو مزید تقویت حاصل ہو سکے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.