اولیاء سے مددطلبی حصہ دوم
اولیائے الٰھی اور دینی رھبروں كو درخواست اور دعامیں واسطہ قرار دینا یا ان كو وسیلہ قرار دینا بدعت ھے اور اس كے جواز پر كوئی دلیل نھیں ھے، شیعہ حضرات كس دلیل كی بنا پر جائز بلكہ مستحب مانتے ھیں؟
توسل كے لغوی معنی
خلیل بن احمد كھتے ھیں: ”توسل “، ”وسلت الی ربّی وسیلة“سے ماخوذ ھے یعنی كسی ایسے كام كو انجام دینا جس سے خداوندعالم كی قربت حاصل ھوتی ھو۔۔۔“1 ابن منظور افریقی كا كہنا ھے: ”وسیلہ اس چیز كو كھتے ھیں جس كے ذریعہ انسان اپنے مقصود و مطلوب تك پہنچنے كے لئے ہدایت حاصل كرسكے“2
توسل كے اصطلاحی معنی
توسل سے مراد یہ ھے كہ انسان كسی شخص یا كسی چیز كو خداوندعالم كی بارگاہ میں واسطہ قرار دے جس كے ذریعہ انسان خداوندعالم كی قربت حاصل كرسكے“3
وھابیوں كے فتوے
1۔ شیخ عبد العزیز بن باز (حجاز كے سابق مفتی) كا كہنا ھے: ”كسی كی عظمت یا حق كو واسطہ قرار دینا بدعت ھے، لیكن شرك نھیں ھے؛ اسی وجہ سے اگر كوئی شخص كھے: اللّھم اِنّی اٴسئلك بجاہ اٴنبیائك اٴو بجاہ ولیّك فلان، اور بعبدك فلان، اٴو بحقّ فلان، اٴو بركة فلان“ ؛ یعنی پالنے والے! تجھے تیرے انبیاء كی عظمت كا واسطہ، یا تیرے فلاں ولی كا واسطہ، یا فلاں شخص كا واسطہ، یا فلاں شخص كے حق كا واسطہ، یا فلاں شخص كی بركت كا واسطہ، تو یہ تمام چیزیں كہنا جائز نھیں ھے، بلكہ بدعت اور شرك آلود ھیں“4
2۔ شیخ صالح بن فوزان كا كہنا ھے: ”جو شخص خداوندعالم كے خالق اور رازق ھونے پر ایمان ركھے، لیكن اپنے اور خدا كے درمیان كسی شخص كو واسطہ قرار دے تو اس نے گویا دین خدا میں بدعت قائم كی ھے۔۔۔ اور اگر (چند) واسطوں (یعنی ان كے جاہ و مقام) كے ذریعہ توسل كرے لیكن ان كی عبادت نہ كرے تو یہ كام حرام، بدعت اور شرك ھے“۔5
3۔ وھابیوں كے فتووں كے مركز نے توسل كے بارے میں ایك سوال كے جواب میں یوں تحریر كیا: ”پیغمبر اسلام یا ان كے علاوہ (دیگر انبیاء اور صالحین) كی ذات كو وسیلہ قرار دینا جائز نھیں ھے، اسی طرح پیغمبر اكرم یا ان كے علاوہ كسی دوسرے كے جاہ و مقام اور عظمت كو وسیلہ قرار دینا حرام ھے، كیونكہ یہ كام بدعت ھے، اور پیغمبر اكرم یا صحابہ كے ذریعہ اس سلسلہ میں كوئی حكم بیان نھیں ھوا ھے۔۔۔“۔6
4۔ ناصر الدین البانی صاحب كا كہنا ھے: ”میرا عقیدہ ھے كہ جو لوگ اولیاء اور صالحین وغیرہ كو وسیلہ قرار دیتے ھیں وہ راہِ حق سے منحرف ھیں۔۔۔“۔7
توسل كا فلسفہ
توسل یعنی اپنے اور اپنے مقصود كے درمیان وسیلہ اور واسطہ قرار دینا، اور وسیلہ كی دو قسمیں ھیں: كبھی وسیلہ مادی چیزیں ھوتی ھیں؛ جیسے پانی، كھانا وغیرہ، جن كے ذریعہ انسان اپنی بھوك و پیاس مٹاتا ھے، اور كبھی وسیلہ معنوی چیزیں ھوتی ھیں؛ جیسے گناہ، انسان اپنے گناھوں كی بخشش كے لئے پیغمبر اكرم (ص) كے جاہ و مقام اور ان كی عظمت كا واسطہ دیتا ھے، دونوں صورتوں میں وسیلہ ضروری ھے، كیونكہ خداوندعالم نے جھان ہستی كو بھترین صورت میں پیدا كیا ھے، جیسا كہ ارشاد ھوتا ھے: ((اٴلَّذِي اٴحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَہُ)) 8، ”اس نے ھر چیز كو حسن كے ساتھ بنایا“۔
یہ كائنات، انسان كی ہدایت، ترقی اور تكامل كے لئے نظام علت و معلول اور اسباب و مسببات پر قائم ھے، انسان كی عام ضرورتیں مادی اسباب و علل كی بنیاد پر پوری ھوتی ھیں، اسی طرح خداوندعالم كا معنوی فیض جیسے ہدایت و مغفرت بھی اسی خاص نظام كے تحت ھے، خداوندعالم كا حكیمانہ ارادہ یہ ھے كہ یہ تمام چیزیں خاص اسباب و علل كے ذریعہ انسانوں تك پہنچے، لہٰذا جس طرح مادی دنیا میں یہ سوال نھیں ھوسكتا كہ خداوندعالم نے سورج كے ذریعہ زمین كو كیوں نورانی كیا ھے؟خداوندعالم نے بغیر كسی واسطہ كے اس كام كو كیوں انجام نہ دیا؟ اسی طرح معنوی مسائل میں یہ سوال نھیں كیا جاسكتا كہ خداوندعالم اپنی مغفرت كو اپنے اولیاء كے وسیلہ سے كیوں بندوں تك پہنچاتا ھے؟
اس سلسلہ میں شھید مطھری9 فرماتے ھیں: ”خدا كے كام ایك نظام كے تحت ھوتے ھیں، لہٰذا اگر كوئی نظام خلقت پر توجہ نہ كرے تو ایسا شخص گمراہ ھے اسی وجہ سے خداوندعالم نے گناھگاروں كو حكم دیا كہ رسول اكرم (ص) كے بیت الشرف پر جائیں اور خود استغفار كرنے كے علاوہ آنحضرت (ص) بھی ان كے لئے طلب مغفرت كریں، قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
((وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاءُ وْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 10
”اور كا ش جب ان لوگوںنے اپنے نفس پر ظلم كیا تھا تو آپ كے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں كے لئے استغفار كرتے اور رسول بھی ان كے حق میں استغفار كرتا تو یہ خدا كو بڑا ھی توبہ قبول كرنے والا اور مھربان پاتے“۔
اسی وجہ سے ھم دیكھتے ھیں كہ قرآن اور سنت میں وسیلہ اور توسل كے سلسلہ میں بھت زیادہ تاكید كی گئی ھے، چنانچہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
(( یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ ۔۔۔)) 11
” ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تك پہنچنے كا وسیلہ تلاش كرو۔۔۔“۔
وسیلہ اور توسل كے اقسام
خدا اور اپنی حاجتوں تك پہنچنے كے لئے وسیلہ كی چند قسمیں ھیں:
1۔ جس قسم كے جائز ھونے پر مسلمانوں كا اتفاق اور اجماع ھے؛
2۔ جس قسم كے جائز نہ ھونے پر مسلمان كا اتفاق ھے؛
3۔ جس قسم كے بارے میں مسلمانوں اور وھابیوں كے درمیان اختلاف ھے۔
وہ مقاماتجن كے جواز پر اتفاق ھے:
1۔ خداوندعالم كی ذات اور اس كے اسماء و صفات كو وسیلہ قرار دینا
خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے: (( وَلِلَّہِ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا۔۔۔)) 12
”اور اللہ ھی كے لئے بھترین نام ھیں لہٰذا اسے انھیں ناموں كے ذریعہ پكارو۔۔۔“۔
ترمذی نے اپنی سند كے ساتھ بریدہ سے نقل كیا ھے كہ پیغمبر اكرم (ص) سے میں نے سنا كہ ایك شخص خداوندعالم كو اس كے صفات اور اسماء كی قسم دیتا ھے اور كھتا ھے: ”اللّھم اِني اٴسالك باٴنّي اٴشہد اٴنّك اٴنت اللّٰہ لا الہ اِلاَّ انت الاٴحد الصمد الّذی لم یلد و لم یولد و لم یكن لہ كفواً احد“
اس وقت پیغمبر اكرم (ص) نے فرمایا: تو نے خداوندعالم كے اس اسم اعظم كا واسطہ دیا كہ اگر اس كو اس اسم اعظم كے ساتھ پكارا جائے تو وہ ضرور جواب دیتا ھے اور اس كے وسیلہ سے سوال كیا جائے تو ضرور عطا كرتا ھے“۔13
شیخ عبد العزیز بن باز كا كہنا ھے: ”۔۔۔توسل اور وسیلہ خدا كی ذات، اس كے صفات اور اس كی توحید كے ذریعہ ھونا چاہئے جیسا كہ صحیح حدیث میں بیان ھوا ھے۔۔۔“14
2۔ اطاعت اور ایمان كے ذریعہ توسل
عمل صالح كے ذریعہ توسل كرنا خداوندعالم كے نزدیك بھترین واسطوں میں سے ھے اور اس پر امت مسلمہ اتفاق ركھتی ھے۔
آلوسی آیہ شریفہ ((وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ )) كے ذیل میں كھتے ھیں: ”خداوندعالم نے اطاعت كا حكم دیا ھے“۔15
حضرت ابراھیم اور ان كے فرزند اسماعیل( علیھما السلام ) نے خانہ خدا كو تقرب الٰھی كے لئے بنایا، جیسا كہ اس سلسلہ میں خداوندعالم فرماتا ھے: ((وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ اٴَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)) 16
”اور اس وقت كو یاد كرو جب ابراھیم و اسماعیل خانہ كعبہ كی دیواروں كو بلند كر رھے تھے اور دل میں یہ دعا بھی تھی كہ پروردگارا! ھماری محنت كو قبول فرمالے كہ تو بھترین سننے والا اور جاننے والا ھے“۔
اس كے بعد عرض كی: ((رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اٴُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَاٴَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّكَ اٴَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ)) 17
”پروردگارا! ھم دونوں كو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دےدے اور ھماری اولاد میں بھی ایك فرمانبردار امت پیدا كر، ھمارے مناسك دكھلادے اور ھماری توبہ قبول فرما كہ تو بھترین توبہ قبول كرنے والا مھربان ھے“۔
شیخ عبد العزیز بن باز كا كہنا ھے: ” اسی طرح جائز توسل كی قسموں سے اعمال صالحہ كے ذریعہ توسل كرنا ھے؛ روایت میں بیان ھوا ھے: كچھ لوگ ایك غار میں بند ھوگئے تھے، ان میں سے ھر ایك نے اپنے نیك اور عمل صالح كو خدا كی بارگاہ میں وسیلہ قرار دیتے ھوئے خدا سے نجات طلب كی: چنانچہ ایك نے اپنے ماں باپ سے نیكی كی قسم دی، دوسری نے زنا سے محفوظ رہنے كی قسم دی اور تیسرے نے امانت ادا كرنے كی قسم دی؛ چنانچہ خداوندعالم نے ان سب كو نجات عطا كردی، (اور اس غار كا منھ كھل گیا)“ 18
مصطفی محمود آیہ شریفہ((وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ)) كے ذیل میں كھتے ھیں: ”ھر انسان كا وسیلہ اس كا اپنا عمل ھے، اور انسان كا بھترین عمل پیغمبر اكرم (ص) كی پیروی كرنا اور تمام اعمال میں آپ كو اسوہ اور نمونہ عمل قرار دینا ھے۔۔۔“19
3۔ قرآن كریم كو وسیلہ قرار دینا
احمد بن حنبل عمران بن حصین سے نقل كرتے ھیں كہ حضرت رسول اكرم (ص) نے فرمایا: ”قرآن كی تلاوت كرواور اسی كے ذریعہ خداوندعالم سے سوال كرو۔۔۔“20
4۔ روز قیامت، پیغمبر اكرم (ص) كو وسیلہ قرار دینا
روز قیامت، پیغمبر اكرم (ص) كو وسیلہ قرار دینا یعنی روز قیامت مومنین آنحضرت كو وسیلہ قرار دیں گے اور خدا كی بارگاہ میں ان سے شفاعت طلب كریں گے، بخاری، پیغمبر اكرم (ص) سے نقل كرتے ھیں: ”مومنین روز قیامت ایك جگہ جمع ھوكر كھیں گے: كیا بھتر ھوگا اگر پیغمبر اكرم (ص) ھماری شفاعت فرمائیں۔۔۔ چنانچہ اس موقع پر آنحضرت (ص) كے نزدیك آكر اپنی حاجت پیش كریں گے اور آنحضرت سے شفاعت كی درخواست كریں گے“۔
وھابیوں كی فتوی كمیٹی كھتی ھے: ”روز قیامت مومنین سب سے پھلے جناب آدم كے پاس ،اس كے بعد جناب نوح كے پاس، اس كے بعد حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ علیھم السلام كے پاس جاكر پناہ طلب كریں گے، سب معذرت چاھیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: حضرت محمد (ص) كے پاس چلے جاؤ، كیونكہ وہ خدا كے ایسے بندے ھیں جن كے گزشتہ اور آئندہ كے گناہ بخش دئے گئے ھیں، ان كے پاس جاؤ وھی تمھاری شفاعت كریں گے، اس موقع پر پیغمبر اكرم (ص) سجدہ میں گرجائیں گے اور خدا كی بارگاہ میں ان كے لئے مغفرت اور بخشش طلب كریں گے۔۔۔“21
5۔ پیغمبر اكرم (ص) كی حیات میں آپ كے آثار كو وسیلہ قرار دینا
كبھی كسی شخصیت كو وسیلہ قرار دیا جاتا ھے اور كبھی اس كے آثار سے اور كبھی كبھی اس جگہ سے كہ جھاں پر وہ بزرگ شخصیت قیام پذیر ھوئی ھے۔
احمد بن حنبل وغیرہ نے نقل كیا ھے: ”پیغمبر اكرم (ص) جس وقت وضو فرماتے تھے، تو اصحاب آپ كے وضو كے پانی سے تبرك حاصل كرنے كے لئے اتنی زیادہ سبقت لیتے تھے كہ ان كے ھلاك ھوجانے كا خوف لاحق ھوتا تھا“۔22
6۔ پیغمبر اكرم (ص) كی حیات میں آپ كی دعا كے ذریعہ توسل
پیغمبر اكرم (ص) چونكہ ایك عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیت ھیں اسی وجہ سے آپ كی دعا ردّ نھیں ھوتی، لہٰذا اپنی حاجت پوری ھونے كے لئے آنحضرت (ص) كی دعا سے توسل كیا جاسكتا ھے۔
جب برادران یوسف علیہ السلام نے اپنی خطا اور گناہ كو سمجھ لیا اور اس پر پشیمان ھوگئے تو اپنے پدر بزرگوار سے درخواست كی كہ ان كے لئے دعا كریں، خداوندعالم اس سلسلہ میں فرماتا ھے:
((قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِینَ ۔ قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّی إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )) 23
”ان لوگوںنے كھا:بابا جان! اب آپ ھمارے گناھوں كے لئے استغفار كریں ھم یقینا خطاكار تھے۔ انھوں نے كھا كہ میں عنقریب تمھارے حق میں استغفار كروں گا كہ میرا پروردگار بھت بخشنے والا مھربان ھے“۔
اسی طرح منافقین كی مذمت كرتے ھوئے ارشاد ھوتا ھے:
((وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَوَّوْا رُئُوسَہُمْ وَرَاٴَیْتَہُمْ یَصُدُّونَ وَہُمْ مُسْتَكْبِرُونَ )) 24
”اور جب ان سے كھا جاتا ھے كہ آؤ رسول اللہ تمھارے حق میں استغفار كریں گے تو سر پھرا لیتے ھیں اور تم دیكھو گے كہ استكبار كی بنا پر منھ بھی موڑ لیتے ھیں“۔
7۔ پیغمبر اكرم (ص) كے دنیا میں آنے سے پھلے آپ كی ذات سے توسل كرنا
حاكم نیشاپوری نقل كرتے ھیں: ”حضرت آدم علیہ السلام سے جب ترك اولیٰ ھوا تو انھوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض كیا: پالنے والے! تجھے حضرت محمد (ص) كے حق كا واسطہ میری خطا سے درگزر فرما! خداوندعالم نے فرمایا: ”اے آدم! تم كو یہ كلمات كس نے سكھائے؟! تو جناب آدم علیہ السلام نے فرمایا: پالنے والے! میں نے ساق عرش پر یہ تحریر دیكھی: ”لا الہ الا الله، محمد رسول الله“، جس سے میں سمجھ گیا كہ تیرا رسول تیرے نزدیك سب سے زیادہ كریم انسان ھے، كیونكہ تو نے اس كے نام كو اپنے نام كے ساتھ قرار دیا ھے، اس موقع پر خداوندعالم نے فرمایا: ھاں، میں نے تمھیں بخش دیا، وہ تمھاری ذریت میں سے آخری پیغمبر ھے، اگر وہ نہ ھوتے تو تمھیں بھی خلق نہ كرتا“۔25
8۔ انبیاء اور اولیاء سے ان كی زندگی میں توسل
ابن تیمیہ كا كہنا ھے: ترمذی نے صحیح سند كے ساتھ نقل كیا ھے كہ پیغمبر اكرم (ص) نے ایك شخص كو حكم دیا كہ اس طرح دعا كرو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلك و اٴتوجّہ إلیك بنبیّك“26، (پالنے والے! میں تجھ سے سوال كرتا ھوں، اور تیرے نبی كی عزت و جلالت كی قسم دیتا ھوں، میری حاجت كو پورا كردے)، اسی طرح ابوبكر حضرت رسول اكرم (ص) كے خدمت میں تشریف لائے اور عرض كی: میں قرآن حفظ كرتا ھوں لیكن بھول جاتا ھوں تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: اس طرح دعا كرو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلك و اٴتوجّہ إلیك بنبیّك“27
وہ مقاماتجن كے ناجائز ھونے پر اتفاق ھے:
توسل كی بعض قسمیں مسلمانوں كے اتفاق نظر سے جائز نھیں ھیں، منجملہ:
1۔ طاغوت سے توسل
خداوندعالم كا ارشاد ھے: ((یُرِیدُونَ اٴَنْ یَتَحَاكَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ اٴُمِرُوا اٴَنْ یَكْفُرُوا بِہ۔۔۔)) 28
”(وہ لوگ) یہ چاھتے ھیں كہ سركش لوگوں كے پاس فیصلہ كرائیں جبكہ انھیں حكم دیا گیا ھے كہ طاغوت كا انكار كریں“۔
2۔ بتوں سے توسل
خداوندعالم فرماتا ھے: ((وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَضُرُّہُمْ وَلاَیَنْفَعُہُم وَیَقُولُونَ ہَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ ۔۔۔)) 29
”اور یہ لوگ خدا كو چھوڑ كر ان كی پرستش كرتے ھیں جو نہ نقصان پہنچا سكتے ھیں اور نہ فائدہ، اوریہ لوگ كھتے ھیں كہ یہ خدا كے یھاں ھماری شفاعت كرنے والے ھیں “۔
اختلافی مقامات
قارئین كرام! جیسا كہ ھم نے اشارہ كیا كہ عام مسلمانوں اور وھابیوں كے درمیان توسل كی قسموںمیں اختلاف ھے، اور وہ مقامات درج ذیل ھیں:
1۔ پیغمبر اكرم (ص) اور اولیائے الٰھی كے جاہ و مقام كے ذریعہ ان كی برزخی حیات میں توسل؛
2۔ پیغمبر اكرم (ص) اور اولیائے الٰھی كی دعاؤں كے ذریعہ ان كی برزخی حیات میں توسل؛
3۔ پیغمبر اكرم (ص) اور اولیائے الٰھی كے آثار كے ذریعہ ان كی برزخی حیات میں توسل؛
پیغمبر اكرم (ص) كے جاہ و مقام كے ذریعہ ان كی برزخی حیات میں توسل
یہ قسم تمام مسلمانوں كے لحاظ سے جائز ھے لیكن وھابی حضرات نہ صرف اس قسم كو جائز نھیں مانتے بلكہ اس كو شرك قرار دیتے ھیں۔
چنانچہ وھابی علماء نے فتویٰ دیا: ” پیغمبر اكرم (ص) اور ان كے علاوہ (انبیاء اور صالحین) كی ذات سے توسل كرنا جائز نھیں، اسی طرح پیغمبر اكرم (ص) اور دیگر اولیاء كے جاہ و جلال كے ذریعہ بھی توسل حرام ھے“۔30
توسل كے جائز اور اس كے مستحب ھونے پر چند دلائل
توسل كے جائز اور اس كے مستحب ھونے پر بھت سی دلیلیں ھوسكتی ھیں ھم یھاں پر چند كی طرف اشارہ كرتے ھیں:
1۔ طبرانی نے ”المعجم الكبیر“ میں صحیح سند كے ساتھ عثمان بن حنیف سے نقل كیا ھے: ”ایك شخص عثمان بن عفان كے پاس اپنی حاجت لے كر چند بار حاضر ھوا، لیكن جناب عثمان نے اس كی باتوں پر توجہ نہ كی؛ یھاں تك كہ ایك روز راستہ میں عثمان بن حنیف (اس حدیث كے راوی ) سے ملاقات ھوئی اور اس سلسلہ میں شكایت كی، عثمان بن حنیف نے ان سے كھا: وضو كے لئے پانی لاؤ ،وضو كرو؛ اور مسجد میں جاكر دو ركعت نماز پڑھو، نماز كے بعد پیغمبر اكرم (ص) كو وسیلہ قرار دو اور اس طرح كھو: ”اللّٰھم إني اٴساٴلك و اٴتوجّہ إلیك نبیّك محمّد صلّی الله علیہ وسلم نبيّ الرحمة یا محمّد إنّي اٴتوجّہ بك إلی ربّي فتقضي لي حاجتي“، اور پھر اپنی جات طلب كرو۔
عثمان بن حنیف كھتے ھیں: اس شخص نے اسی طرح یہ عمل انجام دیا، اور پھر حضرت عثمان كے گھر گیا ،دیكھتے ھی دربان آیا اور ان كو عثمان بن عفان كے پاس لے گیا، چنانچہ انھوں نے بھی بھت احترام سے بٹھایا اور پھر مكمل طور پر ان كی حاجت پوری كی، اور كھا: میں ابھی تمھاری حاجت كی فكر میں تھا اور اس كے بعد جب بھی كوئی حاجت ھو تو میرے پاس آجانا، اس كے بعد عثمان بن حنیف كھتے ھیں: یہ عمل میری طرف سے نھیں تھا، بلكہ ایك روز ایك نابینا شخص پیغمبر اكرم (ص) كے پاس حاضر ھوا اور اس نے اپنی نابینائی كی شكایت كی، آنحضرت (ص) نے اس سے فرمایا: تم صبرو، لیكن وہ نہ مانا، اس كے بعد آنحضرت (ص) نے یہ عمل بتایا، جس كے بعد اس شخص كی آنكھوں میں نور آگیا اور اس نے اپنی مراد پالی۔
اس حدیث كو اھل سنت كے بھت سے علماء نے نقل كیا ھے؛ جیسے: حاكم نیشاپوری31، ابن عبد البر32، ابونعیم اصفھانی33، ذھبی34، حافظ ھیثمی 35 اور متقی ہندی36 وغیرہ۔
2۔ دارمی نے اپنی سنن میں ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے نقل كیا ھے: ایك مرتبہ مدینہ میں بھت زیادہ قحط پڑا، چند اصحاب جمع ھوكر جناب عائشہ كی خدمت میں حاضر ھوئے اور قحط كی شكایت كی ،جناب عائشہ نے كھا: قبر پیغمبر اكرم (ص) پر جاؤ اور آسمان كی طرف ایك سوراخ كھول دو تاكہ قبر اور آسمان كے درمیان كوئی چیز حائل نہ رھے، چنانچہ ایسا ھی كیا گیااس موقع پر خداوندعالم نے پیغمبر اكرم (ص) سے توسل كی بركت سے بھت زیادہ بارش كی، جس كی بدولت سبزہ لھرانے لگے اور اونٹ موٹے ھوگئے۔۔۔۔37
اور چونكہ اس حدیث كی سند میں سعید بن زید 38 ھیں اور ”البانی“ نے اس كو ضعیف قرار دینے كی كوشش كی ھے، جبكہ ”سعید بن زید “علم رجال كے ایك مسلم شخص ھیں اور یحیٰ بن معین نے ان كو موثق مانا ھے، اسی طرح بخاری، ابن سعد، عجلی، ابوزرعہ اور ابوجعفر دارمی نیز اھل سنت كے دوسرے رجالی علماء نے ان كو موثق مانا ھے۔39
3۔ قسطلانی نقل كرتے ھیں: ”ایك عرب پیغمبر اكرم (ص) كی قبر كے پاس آكر عرض كرتا ھے: پالنے والے! تو نے حكم دیا كہ غلاموں كو آزاد كرو، یہ تیرے حبیب ھیں اور میں تیرا بندہ، تجھے تیرے پیغمبر كے حق كا واسطہ مجھے جہنم كی آگ سے آزاد فرما، اس موقع پر ھاتف غیبی كی آواز آئی: اے شخص تو نے جہنم سے آزادی صرف اپنے لئے كیوں طلب كی، تمام مومنین كے لئے كیوں نہ طلب كی، جاتجھے آزاد كردیا“۔40
علمائے اھل سنت كا نظریہ
1۔ نور الدین سمھودی كا كہنا ھے: ”پیغمبر اكرم (ص)كی جاہ و عظمت كے ذریعہ توسل، استغاثہ اور شفاعت انبیاء اور سلف صالح كی سیرت رھی ھے اور ھر زمانہ میں یہ عمل انجام ھوتا آیا ھے؛ چاھے آنحضرت (ص) كی خلقت سے پھلے ھو یا خلقت كے بعد، یھاں تك كہ آپ كی دنیاوی اور برزخی حیات میں بھی، اور جس طرح سے اعمال كے ذریعہ توسل كرنا صحیح ھے؛ اسی طرح حدیث غار كے مطابق پیغمبر اكرم (ص) كی ذات پاك سے توسل كرنا بھی جائز بلكہ بھتر ھے۔۔۔“ 41
2۔ ڈاكٹر عبد الملك سعدی كا كہنا ھے: ”جب كوئی شخص كھے: ” اللّھم إني توسلت إلیك بجاہ نبيّ اٴو صالح“، (پالنے والے! میں تجھ سے سوال كرتا ھوں تیرے بنی یا صالح بندوں كے وسیلہ سے) تو اس كے جائز ھونے میں كسی كو شك نھیں كرنا چاہئے، كیونكہ كسی كی جاہ و عظمت اس كی ذات نھیں ھے جس سے توسل كیا گیا ھے بلكہ جاہ و منزلت خدا كے نزدیك اس كے مرتبہ كا نام ھے، اور یہ اس كے اعمال صالح كا خلاصہ ھے، خداوندعالم حضرت موسیٰ علیہ السلام كے بارے میں فرماتا ھے: ((وَ كانَ عِندَ الله وَجیھاً))، 42 اور وہ خداوندعالم كے نزدیك آبرومند اور صاحب عزت تھے۔۔۔“43
3۔ قسطلانی كھتے ھیں: ”رسول اكرم (ص) كے زائر كے لئے مناسب ھے كہ پیغمبر اكرم (ص) كی ذات پاك سے زیادہ دعا كرے، تضرع ،استغاثہ اور توسل كرے اور شفاعت كی درخواست كرے“۔44
4۔ زرقانی صاحب اپنی شرح میں كھتے ھیں: ”پیغمبر اكرم (ص) سے توسل كرنا چاہئے كیونكہ آنحضرت (ص) كے توسل سے گناھوں كے پھاڑ گر جاتے ھیں“۔
5۔ ابن الحاج ابو عبد اللہ عبدری مالكی كھتے ھیں: ”اگر كسی كی زیارت كے لئے جاؤ ،حالانكہ اس كی وفات ھوچكی ھو تو اگر اس سے بركت كی امید ھو تو اس سے توسل كرنا چاہئے، جن كی سرِ فھرست پیغمبر اكرم (ص) ھیں۔۔۔“۔45
6۔ حسن بن علی سقاف شافعی كا كہنا ھے: ”تمام مخلوقات كے سید و سردار (حضرت محمد (ص) جو كہ ظلمتوں كا نور ھیں) سے توسل، استغاثہ اور طلب شفاعت كرنا مستحب ھے، جس كے سلسلہ میں بھت زیادہ تاكید ھوئی ھے، خصوصاً مشكلات اور پریشانیوں كے وقت، اور علمائے علم و عمل اور اھل عبادت نیز عظیم محدثین اور ائمہ سلف كی سیرت بھی یھی رھی ھے“۔
7۔ نووی صاحب اپنی بعض كتابوں میں توسل كے مستحب ھونے كے قائل ھیں۔46
8۔ غماری اپنی كتاب كے مقدمہ میں تحریر كرتے ھیں: ”توسل كے استحباب، شافعی مذھب اور دیگر ائمہ كے نزدیك ثابت ھے جن كی جلالت اور وثاقت پر اجماع ھے“۔47
9۔ ابن حجر مكّی نے شافعی كے ان اشعار میں سے یہ دو شعر تحریر كئے ھیں جو اھل بیت پیغمبر اكرم (ص) سے شافعی كے توسل پر دلالت كرتے ھیں:
آل النبيّ ذریعتي و ھم إلیہ وسیلتیاٴرجو بھم اٴعطوا غداً بیدی الیمین صحیفتي 48
”اھل بیت میرا ذریعہ ھیں اور وھی میرا وسیلہ ھیں، ان كے ذریعہ میں امیدوار ھوں كے روز قیامت میرا نامہ اعمال میرے داہنے ھاتھ میں دیا جائے“۔
10۔ زینی دحلان تحریر كرتے ھیں: ”جو شخص گزشتہ (ائمہ اور علماء ) كے اذكار اور وِردُوں پر عمل كرے تو ان میں مقدس ذوات كے ذریعہ توسل پایا جاتا ھے، اور كسی نے بھی اس كے اوپر اعتراض نھیں كیا ھے یھاں تك كہ منكرین (وھابی) آئے ۔ اور اگر توسل كے تمام نمونوں كو جمع كیا جائے تو ایك عظیم كتاب ھوجائے گی۔۔۔“ 49
مرحوم علامہ امینی توسل كی توجیہ كرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”توسل كے معنی اس سے زیادہ نھیں ھے كہ كوئی شخص ذوات مقدسہ كو واسطہ دے كر خداوندعالم سے نزدیك ھو، اور ان كو اپنی حاجات كے پورا ھونے كے لئے وسیلہ قرار دے، كیونكہ وہ حضرات خداوندعالم كے نزدیك آبرومند ا ورصاحب عزت ھیں، ایسا نھیں ھے كہ یہ ذوات مقدسہ حاجتوں كو پورا كرنے میں مستقل طور پر دخالت ركھتے ھوں، بلكہ وہ تو فیض كا راستہ، اور معبود اور بندوں كے درمیان واسطہ ھیں۔۔۔ اس عقیدہ كے ساتھ كہ عالم وجود میں صرف ذات خداوندی ھے، جو لوگ ذوات مقدسہ سے توسل كرتے ھیںان كی یھی نیت ھوتی ھے، لہٰذا اس صورت میں توحید كے مخالف بھی نھیں ھے؟۔۔۔“ 50
پیغمبر اكرم (ص) كی حیات برزخی میںدعا كے ذریعہ توسل
اس قسم كے توسل كے جواز بلكہ راجح ھونے پر مسلمانوں كا عقیدہ ھے، لیكن اس كے مقابل وھابیوں نے اس قسم كے توسل كو ناجائز اور حرام قرار دیا ھے۔
چنانچہ ابن تیمیہ كا كہنا ھے: ” توسل؛ یعنی كوئی شخص پیغمبر اكرم (ص) سے یہ چاھے كہ اس كے لئے د عا كریں؛ جیسا كہ آپ كسی زندہ انسان سے كھتے ھیں: میرے لئے دعا كرنا، اسی طرح صحابہ كرام، پیغمبر اسلام (ص) سے دعا كے لئے كھتے تھے، لہٰذا دعا كے لئے كہنا صرف زندہ شخص سے صحیح اور جائز ھے، لیكن مردہ انبیاء اور صالحین سے دعا كی درخواست جائز نھیں ھے۔۔۔“ 51
جواز اور مستحب ھونے پر دلیل
1- خداوند عالم ارشاد فرماتا ھے: ((وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَا ءُ وْ كَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 52
”اور كا ش جب ان لوگوںنے اپنے نفس پر ظلم كیا تھا تو آپ كے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں كے لئے استغفار كرتے اور رسول بھی ان كے حق میں استغفار كرتا تو یہ خدا كو بڑا ھی توبہ قبول كرنے والا اور مھربان پاتے“۔
ممكن ھے كہ كوئی شخص یہ دعویٰ كرے كہ آیت كے ظاھر سے یہ معلوم ھوتا ھے كہ یہ حكم پیغمبر اكرم (ص) كے زمانہ سے متعلق ھے، لیكن ملاك اور معیار كے پیش نظر آنحضرت (ص) كی وفات كے بعد بھی اسی حكم كو جاری كیا جاسكتا ھے، كیونكہ ھر زمانہ میں گناھگار موجود ھیں اور ان كو وسیلہ كی ضرورت ھے تاكہ وہ خداوندعالم سے طلب مغفرت اور اپنی بخشش كے لئے واسطہ قرار دے، اسی وجہ سے پیغمبر اكرم (ص) كی وفات كے بعد بھی اصحاب اس آیت كے حكم كے مطابق استغفار كی درخواست كرتے تھے اور یہ مطلب برزخی حیات ،عالم برزخ اور دنیا میں پائے جانے والے رابطہ كے پیش نظر مزید ثابت ھوجاتا ھے۔ 53
2۔ بیہقی اور ابن ابی شیبہ نقل كرتے ھیں: ”حضرت عمر كی خلافت كے دوران سخت قحط آیا، رسول اكرم (ص) كے صحابی بلال بن حرث علیہ الرحمہ آنحضرت (ص) كی قبر كے پاس آئے اور عرض كی: یا رسول اللہ (ص)! اپنی امت كے لئے باران رحمت طلب كیجئے، كیونكہ آپ كی امت ھلاك ھوا چاھتی ھے، رسول اكرم (ص) نے عالم خواب میں ان سے فرمایا: عنقریب باران رحمت نازل ھوگی“54 اس حدیث میں بلال نے پیغمبر اكرم (ص) كی دعا سے توسل كیا۔۳
3۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: ”ایك شخص پیغمبر اكرم (ص) كے دفن كے تین روز بعد مدینہ میں آیا، اس نے اپنے كو قبر پیغمبر اكرم (ص) پر گرادیااور قبر كی مٹی كو اپنے سر و صورت پر ڈالتے ھوئے عرض كی: یا رسول اللہ! آپ نے حكم دیا اور ھم نے آپ كے فرمان كو سنا، آپ نے خداوندعالم سے احكام حاصل كئے تو ھم نے آپ سے احكام لئے، آپ پر نازل ھونے والی آیات میں سے یہ ھے: ((وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاوٴُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 55
”اور كا ش جب ان لوگوںنے اپنے نفس پر ظلم كیا تھا تو آپ كے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں كے لئے استغفار كرتے اور رسول بھی ان كے حق میں استغفار كرتا تو یہ خدا كو بڑا ھی توبہ قبول كرنے والا اور مھربان پاتے“۔
میں نے اپنے اوپر ظلم كیا ھے،اور اب آپ كی خدمت میں حاضر ھوا ھوں تاكہ آپ میرے لئے استغفار كریں، چنانچہ اس موقع پر قبر سے آواز آئی كہ تو ضرور بخش دیا جائے گا“56
توسل سے روكنا بنی امیہ كی بدعت ھے
حاكم نیشاپوری اپنی سند كے ساتھ ”داود بن ابی صالح “سے نقل كرتے ھیں: ایك روز مروان روضہٴ رسول (ص) میں وارد ھوا، تو وھاں ایك شخص كو دیكھا جس نے اپنی پیشانی قبر رسول (ص) پر ركھی ھوئی ھے، اس موقع پر مروان نے اس كا بازو پكڑا اور كھا: تم جانتے ھو كیا كررھے ھو؟ اس شخص نے ایك ٹھنڈی سانس لی، مروان نے دیكھا كہ وہ شخص ابوایوب انصاری ھیں، انھوں نے مروان سے كھا: ھاں میں جانتا ھوں كیا كررھا ھوں! میں ان پتھروں كی وجہ سے یھاں نھیں آیا ھوں ،بلكہ رسول خدا (ص) كے لئے حاضر ھوا ھوں، اس كے بعد پیغمبر اكرم (ص) سے نقل كیا كہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”دین كے سلسلہ میں پریشان نہ ھونا، اگر كوئی اھل والی اور حاكم ھو، بلكہ تم اس وقت دین كے سلسلہ میں پریشان ھونا جب كوئی نا اھل والی اور حاكم ھوجائے“۔57
پیغمبر اكرم (ص) كے آثار سے ان كی برزخی حیات میں توسل
تمام مسلمان (ھمیشہ سے) اس قسم كے جائز ھونے كا نظریہ ركھتے تھے، لیكن وھابیوں نے اس كو حرام قرار دیا ھے، وھابی علماء نے اس كی حرمت كے فتوے دئے ھیں، ھم یھاں پر خلاصہ كے طور پر چند روایات نقل كرتے ھیں:
1۔ سمھودی شافعی نے مطلّب سے نقل كیا ھے: پیغمبر اكرم (ص) كی وفات كے بعد صحابہ كرام، آنحضرت (ص) كی قبر كی مٹی كو تبرك كے طور پر اٹھالیتے تھے، یھاں تك كہ جناب عائشہ نے روك دیا اور حكم دیا: قبر كے چاروں طرف ایك دیوار بنادی جائے كھیں پیغمبر اكرم (ص) كی قبر كی مٹی ختم نہ ھوجائے۔58
2۔ امام بخاری نے اپنی كتاب ”اعتصام“ میں اپنی سند كے ساتھ ابی بردہ سے نقل كیا ھے: میں جس وقت مدینہ منورہ میں وارد ھوا، عبد اللہ بن سلام سے ملاقات ھوئی، انھوں نے مجھ سے كھا: ھمارے یھاں آؤ تاكہ تمھیں اس ظرف میں پانی پلاؤں جس میں آنحضرت (ص) پانی پیا كرتے تھے تاكہ تم اس سے پانی پی كر سیراب ھوجاؤ، نیز آنحضرت (ص) كے نماز پڑھنے كی جگہ نماز پڑھو، چنانچہ میں ان كے ساتھ ان كے مكان پر گیا، اور اس ظرف میں پانی پیا نیز تھوڑے خرمے كھائے اور اس مخصوص جگہ نماز پڑھی۔ 59
3۔ امام بخاری نے كتاب ”الادب المفرد“60 میں بھی عبد الرحمن بن رزین سے روایت كی ھے كہ فرمایا: اتفاق سے سر زمین ”ربذہ“ سے گزر ھوا، معلوم ھوا كہ رسول اكرم (ص) كے صحابی ”سلمہ بن اكوع“ وھاں رھتے ھیں، لہٰذا میں ان كی خدمت میں حاضر ھوا، ان كی خدمت میں سلام كیا، انھوں نے اپنے ھاتھوں كو باھر نكالا اور فرمایا: ان دونوں ھاتھوں سے پیغمبر اكرم (ص) كی بیعت كی ھے، چنانچہ ھم نے اٹھ كر ان كے ھاتھوں كا بوسہ دیا۔
حوالہ جات
1. ترتیب العین، مادہ ”وسل“۔
2. لسان العرب، مادہ ”وسل“۔
3. دیكھئے: تفسیر روح المعانی، آلوسی، ج۶، صفحہ۱۲۴ تا۱۲۸ ۔
4. شیخ بن باز، مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
5. المنقی من فتاوی الشیخ بن فوزان، ج۲، صفحہ ۵۴۔
6. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶۔
7. فتاوی الالبانی، صفحہ ۴۳۲۔
8. سورہ سجدہ، آیت ۷۔
9. مجموعہ آثار ،ج۱، صفحہ ۲۶۴۔
10. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
11. سو رہ مائدہ، آیت ۳۵۔
12. سورہ اعراف، آیت ۱۸۰۔
13. صحیح ترمذی، ج۵، ص ۵۱۵، حدیث ۳۴۷۵۔
14. مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
15. روح المعانی، ج ۶، صفحہ، ۱۲۴۔
16. سورہ بقرہ، آیت ۱۲۷۔
17. سورہ بقرہ، آیت ۱۲۸۔
18. سنن ترمذی، حدیث ۳۴۷۵، مجموع فتاوی و مقالات متنوعة، ج ۴، صفحہ ۳۱۱۔
19. من اسرار القرآن، مصطفیٰ محمود، صفحہ ۷۶ تا ۷۷۔
20. مسند احمد، ج۴، صفحہ ۴۴۵۔
21. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶، صحیح بخاری حدیث ۷۴۴۰، صحیح مسلم، حدیث ۱۹۳۔
22. صحیح بخاری، ج ۱، صفحہ ۵۵؛ مسند احمد، ج ،۴ صفحہ ۳۲۹ ۔
23. سورہ یوسف، آیت ۹۷و۹۸۔
24. سورہ منافقون، آیت ۵۔
25. مستدرك حاكم، ج ۲، صفحہ۶۱۵ ۔
26. مجموعة الرسائل و المسائل، ج ۱، صفحہ ۱۳۔
27. التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۱۰، نقل از جامع الاصول۔
28. سورہ نساء، آیت۶۰۔
29. سورہ یونس، آیت ۱۸۔
30. البدع و المحدثات و مالااصل لہ، صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۶،
31. المستدرك علی الصحیحین، ج ۳، صفحہ ۱۰۸۔
32. الاصابہ، ج ۴، صفحہ ۳۸۲۔
33. حلیة الاولیاء ج ۳، صفحہ۱۲۱ ۔
34. سیر اعلام النبلاء، ج۲، صفحہ ۱۱۸ نمبر ۷۔
35. مجمع الزوائد، ج ۹، صفحہ ۳۵۶۔
36. كنز العمال، ج ۱۳، صفحہ۶۳۶، حدیث ۳۷۶۰۸۔
37. سنن دارمی، ج ۱، صفحہ۴۳ ۔
38. التوسل انواعہ و احكامہ، صفحہ۱۲۸ ۔
39. تہذیب التہذیب، ج ۴، صفحہ ۲۹۔
40. قسطلانی، المواھب اللدنیة، ج۴، صفحہ ۵۸۴ ۔
41. وفاء الوفاء، ج۴، صفحہ ۱۳۷۲۔
42. سورہ احزاب، آیت۶۹۔
43. البدعة فی مفھومھا الاسلامی، صفحہ ۴۵۔
44. المواھب اللدنیة، ج۴، صفحہ ۵۹۳۔
45. المدخل، ج۱، صفحہ ۲۵۴۔
46. حاشیة الایضاح علی المناسك، صفحہ ۴۵۰ و ۴۹۸؛ شرح المہذّب (المجموع) ج ۸، صفحہ ۲۷۴، شرح الاذكار، باب اذكار الحجّ، صفحہ ۳۰۷۔
47. غماری، مقدمہٴ ارغام المبتدع الغبیّ بجواز التوسل بالنبي ۔
48. صواعق المحرقہ، صفحہ ۱۸۔
49. زینی دحلان، الدرر السنیة، صفحہ ۳۱۔
50. الغدیر، ج ۳، صفحہ۴۰۳ ۔
51. زیارة القبور، ص ۲۴ تا ۲۵۔
52. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
53. دیكھئے: شیعہ شناسی و پاسخ بہ شبھات، بحث حیات برزخی۔
54. زینی دحلان، الدرر السنیة، صفحہ ۱۸۔
55. سورہ ٴ نساء، آیت ۶۴۔
56. الروض الفائق، صفحہ ۳۸۰؛ وفاء الوفاء، ج ۴، صفحہ ۱۳۹۹؛ المواھب اللدنیة، ج ۴، صفحہ۵۸۳ ؛ صالح الاخوان، ص ۵۴۰؛ مشارق الانوار، ج۱، ص۱۲۱۔
57. مستدرك حاكم، ج ۴، صفحہ ۵۶۰، حدیث ۸۵۷۱؛ شفاء السقام، صفحہ ۱۵۲ ؛ وفاء الوفاء، ج ۴، صفحہ ۱۳۵۳، ۱۴۰۴؛ مجمع الزوائد، ج ۴، صفحہ۲ ۔
58. وفاء الوفاء، ج ۱، صفحہ ۳۸۵۔
59. صحیح بخاری، ج ۱، صفحہ ۱۵۴۔
60. الادب المفرد، صفحہ ۱۴۴؛ الطبقات الكبریٰ،ج ۴، صفحہ ۳۹۔