نکاح موقت (متعہ)

2,384

تمام علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نکاح موقت یعنی متعہ رسول اللہ ۖ کے دور میں ایک زمانے تک جاری تھالیکن بعض علماء خلیفہ دوم کے زمانے میں اور بعض عصر پیغمبرۖ میں نکاح موقت(متعہ) کی تحریم کے قائل ہیں اورہم اہلبیت کے چاہنے والے معتقد ہیں کہ یہ نکاح ابھی بھی (اپنے شرائط کے تحت )باقی ہے اور کسی بھی زمانے میںاسے حرام قرار نہیں دیا گیا۔
بعض اہلسنت حضرات اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہیں اگرچہ اکثریت مخالف ہے، ہمارے مخالفین اس مسئلہ کو بہانہ بناکر ہم پر اعتراض کرتے رہتے ہیں جب کہ نہ تنہا یہ محل اعتراض نہیں بلکہ یہ ہمارا امتیاز بھی ہے کہ جس کے ذریعہ بہت اجتماعی مشکلات کو حل کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس مطلب کی وضاحت انشاء اللہ آئندہ مباحث میں پیش کریں گے :
١۔ضرورت اور احتیاج
بہت سے لوگ مخصوصا ًجوانوں کا طبقہ دائمی شادی کرنے سے معذور ہے ، اس لئے کہ دائمی شادی میں اس کے مقدمات کو فراہم کرنا، مختلف ذمہ داریوں کو قبول کرنا اور دیگر آمادگیوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو بعض جوانوں کے لئے بہت مشکل ہے بعنوان مثال:
١۔ بہت سے جوان پڑھائی کے دوران مخصوصا ہمارے دور میںتعلیم کا سلسلہ چونکہ طولانی ہوتاہے لہذا دائمی شادی سے معذور ہوتے ہیں اسلئے کہ ان کے پاس نہ مناسب شغل ہوتاہے نہ ہی کوئی مکان اور نہ ہی شادی کے اخراجات کا انتظام ہوتا ہے، وہ اپنی شادیوں میں جس حدتک بھی اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے پھر بھی ضروری سامان مہیا کرنے سے بھی معذوررہتے ہیں۔

٢۔ کچھ شادی شدہ لوگ ہیں جو بیرون ملک طولانی سفر کی وجہ سے ایک طرف نہ تو اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاسکتے ہیں اور نہ ہی دوسری شادی کر سکتے ہیں ، جس کی وجہ سے جنسی محرومیت کا شکارہوجاتے ہیں۔
٣۔ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کی بیویاں ایسی بیماریوں میں گرفتار ہوگئی ہیں کہ جن سے جنسی خواہش کو پورا نہیں کیا جاسکتا ۔
٤۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو فوج میں کام کرتے ہیں جنہیں سرحدوں کی حفاظت اور دیگر ماموریتوں پر طولانی مدت کے لئے بھیج دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ جنسی محرومیت کا شکارہوجاتے ہیں اور اگر ہم صدر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ مشکل متعہ کی تشریع کا باعث بنی تھی ۔
٥۔ کبھی بیوی کے حاملہ ہونے کی وجہ سے ،شوہر اپنی جنسی خواہش کو پورا نہیں کرسکتا یاایسی ہی دوسری مشکلات جو جوانوں کے لئے درپیش ہیں۔
ایسی اجتماعی ضرورتیں اور مشکلات ہمیشہ سے تھیں اور رہیں گی جو نہ صرف پیغمبرۖ کے دور سے مخصوص تھیں بلکہ ہمارے دور میں شدید ہوگئی ہیں۔
انسان ایسی مشکلات کے سامنے اپنے آپ کو دوراہے پر دیکھتا ہے ؛ وہ یا تو فحشاء میں مبتلا ہوجائے ( العیاذ باللہ ) یا ایک قسم کاوقتی نکاح کرے کہ جس میں ایک طرف دائمی شادی کی مشکلات نہ ہوں اوردوسری طرف جنسی خواہش بھی پوری ہوجائے۔
دونوں طریقوں سے چشم پوشی کا مشورہ اچھا ضرور ہے لیکن بہت سے لوگوںکے لئے ممکن نہیں ہے بلکہ بعض لوگ اسے محض خیال باطل سمجھتے ہیں کہ جس پر عمل محال ہے۔
‘مسیار’ شادی
وہ لوگ کہ جو موقت شادی یعنی متعہ کے مخالف تھے آج وہی لوگ جوانوں اوردیگرمحروم لوگوں کی مشکلات کو دیکھ کر ایک قسم کی وقتی شادی کے قائل ہوگئے ہیںجو متعہ سے مشابہ ہے ، جسے ‘ مسیار شادی ‘ کہاجاتا ہے ، اگرچہ ان لوگوں نے اسے متعہ کا نام نہیں دیا لیکن وہ عمل میں ہرگز متعہ سے متفاوت نہیں ہے یعنی مسیار شادی میں سامنے والے کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ایک عورت سے دائمی شادی کرے جب کہ اس کے ذہن میں کچھ دنوں بعداس عورت کو طلاق دینے کی نیت ہوتی ہے اور اس عورت سے شرط کی جاتی ہے کہ وہ شادی کے بعد نہ نفقہ مانگے گی اور نہ ہی ارث وغیرہ کا مطالبہ کرے گی نیز اسے شب خوابی کا بھی حق کا بھی حق حاصل نہیں رہے گا جو متعہ سے بے نہایت مشابہ ہے بس فرق اتنا ہے کہ مسیار شادی میں دونوںطلاق کے ذریعہ جداہوتے ہیں اور متعہ میں مدت کے ختم ہوجانے یا بقیہ مدت کو بخش دینے کے ذریعہ جداہوتے ہیں ۔
یہاںپر اس مطلب کا ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ مجھ سے بعض اہلسنت کے جوانوںنے انٹر نٹ کے ذریعہ رابطہ بر قرار کیاجو ازدواجی مشکلات میں گرفتار تھے ،کہ آیا ہم متعہ میں شیعہ فقہاء کی پیروی کرسکتے ہیں۔؟
ہم نے جواب دیا کہ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
وہ لوگ کہ جو متعہ کی مخالفت کرتے ہیں اور ‘ مسیارشادی’ کے قائل ہیں درحقیقت وہ اپنی زبانو ںپرمتعہ کانام تو نہیں لاتے لیکن عمل میں بالکل وہی کام کرتے ہیں ۔
ہاں ! یہ حقیقت ہے کہ ضرورتیں انسان کو واقعیتوں کو قبول کرنے پر مجبور کردیتی ہیں، اگرچہ اس کانام اپنی زبانوں پر نہ لائیں ۔
لہذاوہ لوگ جو متعہ کے مخالف ہیں دانستہ یا نادانستہ فحشاء کے راستے کو صاف کررہے ہیں ، مگر یہ کہ وہ لوگ متعہ کے مشابہ ‘ مسیارشادی کا مشورہ دیں ، اسی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ ‘ اگر متعہ کی مخالفت نہ کی جاتی تو کوئی بھی زنا کا مرتکب نہ ہوتا ‘۔ ١
اسی طرح جن لوگوںنے متعہ کواپنی ہوسرانی کا وسیلہ بناکر اس کی صورت کو قبیح بنادیا ہے جو سماج کے محرومین اور گرفتار لوگوں کے لئے ہے ،وہ بھی سماج کا زنا میں مبتلا ہونے کا باعث ہیں اور اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں، اس لئے کہ انھوںنے اس کے صحیح استفادہ کو روک دیا ہے ۔
بہر حال اسلام جو انسانوں کی فطرت کے مطابق ایک آسمانی دین ہے اوران کی تمام ضرورتوں کے حل کو مہیا کردیا ہے ، اسکے لئے غیر ممکن ہے کہ متعہ کے حکم کو اسلامی احکامات میں شامل نہ کیا ہو اور جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے کہ متعہ کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہو اہے اور سنت نبوی میں بھی جس پر بعض صحابہ نے عمل بھی کیا ہے ، اگر چہ بعض لوگو ں کے عقیدہ کے مطابق یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے ، اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان لوگوں کے پاس اس مدعا کی قانع کنندہ دلیل کیا ہے۔
متعہ کیا ہے ؟
بعض نادان اور ناسمجھ لوگوںنے متعہ کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے کہ جس سے فحشااور جنسی آزادی سمجھ میں آتی ہے !!
اگر ان لوگوں کا تعلق عوام سے ہوتا تو ہمیں اتنا افسوس نہ ہوتا لیکن بعض اہلسنت کے علماء بھی ہیں جو ایسی ناپسند نسبتیں دیتے ہیں ، حقیقت میں انہیںتعصب کی شدت نے متعہ کے طرفداروں کی کتابوں کے مطالعہ سے روک دیا ہے بلکہ یہ دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے بعض نے حتی ان کتابوں کی ایک سطر کا بھی مطالعہ نہیں کیا ہے ۔
لہذا ہم مجبور ہیں کہ اس مختصر رسالہ میں متعہ اور دائمی شادی کے فرق کو بیان کریں تاکہ ہر ایک پر حجت الہی قائم ہوجائے :
متعہ کے بیشتر احکام دائمی شادی کے ہیں :
١۔زن و شوہر اپنی مرضی سے کسی زبردستی کے بغیر ایک دوسرے کو ہمسری کے لئے قبول کریں۔
٢۔ عقد کا صیغہ لفظ ‘ نکاح’ ‘ ازدواج’ یا ‘ متعہ’ کے ذریعہ جاری ہونا چاہئے اور دیگر الفاظ موثر نہیں ہیں۔
٣۔ اگر زوجہ باکرہ ہے تو پھر ولی کی اجازت شرط ہے وگرنہ شرط نہیں ہے۔
٤۔ عقد اور مہریہ کی مدت معلوم ہونا چاہئے وگرنہ بھول جانے کی صورت میں بیشتر فقہاء کے فتووں کے مطابق وہ عقد دائمی ہوجائے گا ( اور یہ خود ان دونوں کی ماہیت کے ایک ہونے کی بہترین دلیل ہے اور ان دونوں کا فرق صرف مدت کے ذکر ہونے یا نہ ہونے میں ہے )، غور کریں۔
٥۔ مدت کا تمام ہونا طلاق پر منحصرہے کہ جس کے بعد عورت کو عدہ رکھنا ہوگا ( اس شرط کے ساتھ کہ ہمستر ی واقع ہوئی ہو)
٦۔ دائمی عقد کا عدہ تین مرتبہ خون دیکھنا ہے کہ تیسری با ر خون دیکھتے ہی عدہ تمام ہوجائے گا لیکن متعہ کا عدہ صرف دوہیبار خون دیکھنا ہے ۔
٧۔ متعہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچے حلال زادے اور ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دائمی شادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں پر نافذ ہوتے ہیں جو ماں باپ اور بھائی بہنوں سے ارث پائیں گے ، حقوق کے لحاظ سے متعہ اور دائمی شادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں میںکوئی فرق نہیں ہے۔
متعہ کے بچے ماں باپ کے زیر سرپرستی رہیںگے اور ان کے اخراجات عقد دائم کے بچو ں کے مانند ادا کئے جائیں گے۔
شایدیہ باتیں بعض لوگوں کے لئے تعجب آور ہوں بلکہ انہیں متعجب ہونے کاحق دینا بہتر ہے کہ وہ لوگ متعہ سے بالکل بے خبر ہیں،جو اسے قوانین الہی کے خلاف بلکہ زنا کے مساوی سمجھتے ہیں حالانکہ متعہ ان کے تصورات کے برخلاف ایک متفاوت امر ہے۔
ہاں !ان دونوں کے درمیان زوج و زوجہ کے اعتبارسے فرق ہے ، اصولاً عقد متعہ میں زن و شوہر کے درمیان جو حقوق ہیں اس سے زیادہ دائمی زن و شوہر کے درمیان ہیں اس لئے کہ متعہ میں سہولت اور ذمہ داریوں کی کمی مد نظر ہوتی ہے :
١۔ متعہ میں عورت کو نفقہ اور ارث نہیں ملتا لیکن بعض فقہا نے کہا ہے کہ ان دونوں نے عقد میں نفقہ اور ارث کی شرط نہ لگائی ہو اور اگر شرط کرلی ہو تو پھر اس پر عمل کرنا ہوگا ۔
٢۔ متعہ میں عورت کو اتنا حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر ذاتی امور کے لئے جاسکتی ہے بشرطیکہ شوہر کا حق ضائع نہ ہورہا ہو لیکن دائمی شادی میں عورت شوہر کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جاسکتی۔
٣۔ متعہ میں شوہر پر لازم نہیں ہے کہ وہ راتوں میں بیوی کے پاس رہے۔
جن احکام کو ہم نے بیان کیا ہے اس میں غور وفکر کرنے کے ذریعہ ان تمام شبہات ، سوالات اور بے جا اعتراضات کا جواب مل جائے گا اوربآسانی وہ تفکرات زائل ہوجائیں گے کہ جو نادرست ہیں اور یہ بھی حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ متعہ اور زنا میں زمین تا آسمان فرق ہے ، پس وہ لوگ جو ان دونوں کا مقایسہ کرتے ہیں یقینا وہ لوگ نادان ہیں کہ جنہیں ان دونوں کی ماہیتوں کا کوئی علم نہیں ہے۔
غلط فائدہ لینا
صحیح چیزوں سے غلط فائدہ اٹھانے سے دشمنوں کی زبانیں کھل جاتی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں بہانے آجاتے ہیں تاکہ اسے سندبناکر اس کے خلاف پروپیگنڈہ اور اس پر اپنے اعتراضات کی بوچھار کرسکیں۔
متعہ انہیں بحثوں کا ایک حصہ ہے ۔
نہایت افسوس کے ساتھ یہ حقیقت قبول کرنے پر مجبور ہیں کہ بعض ہوس رانوں نے متعہ جو اجتماعی مشکلات کو حل کرنے کے لئے تھا، اسے اپنے ہاتھوں کا کھلونا بناکر کچھ بے خبر لوگوں کو فرصت دے دی کہ وہ ایسے حکیمانہ حکم پر اپنے اعتراضات کی بارش کریں۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ ا س متعہ کے علاوہ کون سا حکم ہے کہ جس سے غلط فائدہ نہ اٹھایا گیا ہو اور کون سا ایسا نفیس سرمایہ ہے کہ جسے نااہلوں نے بے جا استعمال نہ کیا ہو ؟!
اگر ایک دن قرآن کو نیزوں پر بلند کر کے ظالموں کی حکومت کی توجیہ کی جانے لگے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو ترک کردیا جائے؟
یا اگر منافقوںنے مسجد ضرار کی بنیاد ڈالی اور پیغمبر ۖ نے اسے منہدم یا جلا دینے کا حکم دیا تو کیا اس کا مطلب ہے کہ مسجد سے کنارہ کشی کرلی جائے؟
بہرحال ہم اس بات کے معترف ہیں کہ بعض اسلامی احکامات سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم چند بے نمازوں کی وجہ سے مسجد کے دروازوں کو بند کردیں یا ایک رومال کی وجہ سے پورے قیصریہ میں آگ لگادیں۔
ہمیں ہوسرانوں کے سامنے دیوار کھڑی کرنی ہوگی اور متعہ کے لئے صحیح تدبیر سوچنی ہوگی ۔
مخصوصاًہمارے زمانے میں کسی صحیح تدبیر کے بغیر امکان پذیرنہیں ہے لہذا اس ہدف کے لئے ضروری ہے کہ چند دانشمند حضرات اکٹھاہوں اور اس کے لئے ایک دستور العمل مرتب کریں تاکہ شیطان صفت لوگوں کے ہاتھ کٹ جائیں اور اس حکم الہی کی خوبیاں سامنے ابھر کرآئیں تاکہ اس طرح ہوسرانوں اور کینہ توزوں کے لئے راستہ مسدود ہوجائے۔
متعہ کتاب و سنت اور اجماع امت کے نزدیک
کتاب خدا میں ازدواج موقت بعنوان متعہ سورہ نساء کی ٢٤ آیت میں آیاہے ، خداوند متعال فرماتا ہے 🙁 فما استمتعتم بہ منھن فآتوھن اجورھن فریضة)؛ جن عورتوں سے متعہ کرتے ہو انکا مہریہ ضرور دینا۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ سے نقل ہونے والی متعدد روایتوں میں جہاں جہاںمتعہ کی تعبیر وارد ہوئی ہے وہاں متعہ مراد ہے ( کہ انشاء اللہ ہم یہ تمام روایتیں ذکر کریں گے )۔
اس کے علاوہ شیعہ اور سنی تمام فقہی کتابوں میں ازدواج موقت کو متعہ کہاگیا ہے پس اس کا انکار کرنا مسلمات کے انکار کے برابر ہے ( انشاء اللہ آپ فقہاء کے بعض کلمات کو آئندہ مطالعہ کریں گے )۔
اس کے باوجود بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ آیت میں استمتاع سے مراد لذت لینے اور ہمسبتری کرنے کے معنی میں ہے لہذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب عورتوں سے ہمسبتری کرنا تو ان کا مہریہ اداکرنا۔
اس نظریہ پر دو اشکال وارد ہیں:
١۔ مہریہ کا اداکرنا عقد پر منحصر ہے یعنی جیسے ہی عقد پڑھ دیا گیا ،عورت اپنا تمام مہریہ مانگ سکتی ہے اوراس میں ہمسبتری اور لذت اٹھانے کی کوئی شرط نہیں ہے ( ہا ں اگر دخول سے پہلے طلاق ہوجائے تو مہریہ نصف ہوجائے گا ) توجہ کریں !۔
٢۔ کلمہ’ متعہ’ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ،عرف شرع اور شیعہ و سنی فقہاء نیز روایات میںعقد موقت کے معنی میں ہے اور اس مدعا کی دلیلیں عنقریب پڑھیں گے ۔
مشہور مفسر جناب طبرسی’ مجمع البیان’ میں اسی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ : اس آیت کے متعلق دو نظریہ پائے جاتے ہیں :
١۔بعض لوگوںنے استمتاع سے مراد لذت جوئی کے معنا لئے ہیں اوربطور دلیل بعض صحابہ اور تابعین کے عمل کو پیشکیا ہے ۔
٢۔ بعض لوگوںنے استمتاع سے مراد عقد موقت لیا ہے اوربطور دلیل ابن عباس ، سدی، ابن مسعود اور تابعین کی ایک جماعت کو پیش کیا ہے کہ جو عقد موقت سے تفسیر کیا کرتے تھے ۔
اگر غور سے ان دو نظریوں کو دیکھا جائے تو دوسرا نظریہ کی صحت واضح ہے اس لئے کہ عرف شرع میں متعہ اور استمتاع سے مراد عقد موقت ہے ، اس کے علاوہ مہریہ کا ادا کرنا لذت اٹھانے پر منحصرنہیں ہے ۔ ۲
قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس آیت سے مرادعقیدہ جمہور کے مطابق عقد موقت ہے کہ جو صدر اسلام میں رائج تھا ۔ ۳
جناب سیوطی ‘در المنثور’ میں ، ابوحیان ، ابن کثیر اور ثعالبی نے اپنی تفسیروں میں اسی معنا کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
شیعہ اور سنی علماء کے نزدیک مسلم ہے کہ متعہ صدر اسلام میں رائج تھا اوربیشتر سنی فقہاء معتقد ہیں کہ یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا لیکن یہ حکم کب منسوخ ہوا اس سلسلہ میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ معروف دانشمند نووی ‘ صحیح مسلم کی شرح میں ذکر کرتے ہیں :
١۔بعض کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں حلال ہوا اور پھر حرام ہوگیا ۔
٢۔ صرف عمرة القضا میں حلال تھا ۔
٣۔ فتح مکہ کے دن حلال ہوا اور پھر حرام ہوگیا ۔
٤۔ غزوہ تبوک میں حرام ہوا ۔
٥۔صرف جنگ اوطاس میں مباح تھا ۔
٦۔حجة الوداع میں حلال ہوا ۔ ۴
بڑی عجیب بات ہے کہ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں متناقض روایتیں نقل کی ہیں مخصوصاً خیبر میں تحریم کی روایت اور حجة الوداع میں تحریم کی روایت کہ بعض فقہاء نے ان دونوں روایتوں کو جمع کرنے بہت کوشش کی لیکن اس مشکل کو حل نہ کرسکے۔ ۵
اس سے بھی عجیب شافعی کی بات ہے کہ :’ لا اعلم شیئا احل اللہ ثم حرمہ ثم احلہ ثم حرمہ المتعة ‘ مجھے نہیں معلوم کہ خدا نے کسی چیز کو حلال کیا ہو اور پھر اسے حرام کردیا ہو اور پھر حلال کر کے حرام کردیا ہو مگر متعہ !!۔’ ۶
جب کہ ابن حجر نے سہیلی سے نقل کیا ہے کہ روزخیبر متعہ کا حرام ہونا ایک ایسی بات ہے کہ جسے کسی بھی مورخ اور محدث نے نقل نہیں کیاہے۔ ۷
٧۔ رسول اللہ ۖ کے زمانے میں متعہ حلال تھا لیکن ان کے بعد عمر نے حرام کردیا جیسا کہ اہلسنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم میں وارد ہو اہے : ‘ ابن ابی نضرة ‘ کہتا ہے : میں جابر ابن عبد اللہ انصاری کی خدمت میں تھا کہ آپ نے فرمایا: ابن عباس اور ابن زبیر کے درمیان متعہ نساء اور متعہ حج کے سلسلہ میں اختلاف ہوگیا ( آپ کا نظریہ کیا ہے ؟) فرمایا: ہم نے دونوں رسول اللہ ۖ کے زمانے میں انجام دیا ہے یہاں تک کہ اسے عمر نے حرام کردیا جس کی وجہ سے ہم نے کنارہ کشی کرلی !۔ ۸
کیاایسی صریح نص کے ہوتے ہوئے پھر بھی دعوی کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ۖ کے زمانے میں متعہ حرام ہوگیا تھا ۔
کس نے متعہ کو حرام کیا ؟
ہم نے جو بات جناب جابر ابن عبدا للہ انصاری کے بقول نقل کی ہے وہ ایک مشہور حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ جسے اہل سنت کے مشہور فقہاء ، محدثین اور مفسرین نے اپنی کتابوں میں خلیفہ دوم کی زبانی نقل کی ہے کہ جس کا متن کچھ اس طرح ہے :
‘ متعتان کانتا مشروعتین فی عھد رسول اللہ ۖواناانھی عنھمامتعةالحج ومتعة النسائ’؛ رسول اللہ ۖکے زمانے میں دو قسم کے متعہ رائج تھے ؛حج تمتع اور عورتوں سے متعہ اور میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں ۔
اس حدیث کی دوسری اسنادمیں یہ جملہ بھی وارد ہواہے ‘ واعاقب علیہما’؛ اور ان دونوں کی خاطر سزا بھی دوں گا ۔
حج تمتع سے مراد یہ ہے کہ حاجی پہلے عمرہ بجالائے اور احرام سے خارج ہونے کے فوراً بعد یا ایک طولانی مدت کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے ۔
یہ ایک مشہورحدیث ہے کہ جو معمولی فرق کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ جسے عمر نے لوگوںکے درمیان منبر سے بیان کیا تھا ، ہم یہاں پر اس حدیث کے متعلق اہلسنت کے سات منابع کو ذکر کرتے ہیں :
١۔ مسند احمد ، ج ٣ ، ص ٣٢٥
٢۔ سنن بیھقی ، ج ٧ ،ص ٢٠٦
٣۔ المبسوط سرخسی ،ج ٤ ،ص ٢٧
٤۔ المغنی ابن قامہ ، ج ٧ ،ص ٥٧١
٥۔ محلی ابن حزم ، ج ٧ ،ص ١٠٧
٦۔ کنز العمال، ج ١٦، ٥٢١
٧۔ تفسیر کبیر فخر رازی ، ج ١٠ ،ص ٥٢
اس حدیث کے ذریعہ بہت سے مسائل حل ہوگئے :
الف: خلیفہ اول کے زمانے میں متعہ حلال تھا
متعہ رسول اللہ ۖ کی حیات میں بلکہ خلیفہ اول کے دور میں بھی مباح تھا لیکن اسے خلیفہ دوم نے حرام کردیا ۔
ب: نص کے مقابلہ میں اجتہاد
خلیفہ دوم نے رسول اللہ ۖ کی صریح نص کے ہوتے ہوئے قانون گزاری کی جرأت کی حالانکہ قرآن مجید نے فرمایا ہے : ( وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا) جو کچھ رسول اللہ ۖ تمہیں عطا کردیں اسے لے لو اور جس سے منع کردیں اس سے باز آجاؤ۔ ۹
کیا پیغمبر ۖکے علاوہ کسی دوسرے کو احکام الہی میں تصرف کی اجازت ہے ؟
کیا کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ رسول اللہ ۖ نے ایسا کیا تھا اور میں اس طرح کررہا ہوں؟
کیا رسول اللہ ۖ کی صریح نص کے مقابلہ میںجو کلام خدا سے متصل ہے ، اجتہادجائز ہے ؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح رسول اللہ ۖ کے فرمان کو ترک کردینا حیرت انگیز ہے۔
اس کے علاوہ اگر نص کے مقابلہ میں اجتہاد کا راستہ کھول دیا جائے تو کیا ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا ایسا اقدام نہیں کرے گا ؟
کیا اجتہاد صرف ایک شخص سے مخصوص تھا اور کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے؟
یہ ایک مہم مسئلہ ہے اس لئے کہ نص کے مقابلہ میں باب اجتہاد کو کھول دینے سے احکام الہی سالم نہیں رہ سکتے اوراسلام کے جاودانہ احکام میں تزلزل آجائے گا بلکہ اسلامی احکامات خطرے میں پڑجائیں گے ۔
ج: عمر کی مخالفت کا سبب
کیوں عمر نے رسول اللہ ۖ کے فرمان کی مخالفت کی ؟ شاید اس مخالفت کے پشت پردہ یہ تصور قائم رہا ہوکہ وہ لوگ جو حج کے لئے آتے ہیں وہ حج و عمرہ کو انجام دینے کے بعد احرام سے خارج ہوں اور پھر اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں اور یہ کہ حج تمتع کے بعد چند دنوں تک آزاد رہیں ، اچھی بات نہیں ہے اور روح حج سے سازگار نہیںہے ؟
حالانکہ یہ ایک باطل تصور ہے اس لئے کہ حج و عمرہ دو جداگانہ عمل ہیں کہ جن کے درمیان ایک مہینہ کا فاصلہ رکھا جاسکتا ہے ، تمام مسلمان شوال اور ذی الحجہ کے مہینہ میں مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں اور عمرہ انجام دے کر ٨ ذی الحجہ تک آزاد رہتے ہیں اور پھر حج کے مراسم انجام دینے کے لئے محرم ہوکر عرفات کی طرف حرکت کرتے ہیں لہذا اس میں کیا اشکال وارد ہے ؟
موقت شادی یعنی متعہ کے مسئلہ میں بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر متعہ کو جائز قرار دے دیا جائے تو پھر زنا کو تشخیص دینا سخت ہوجائے گا اس لئے کہ کوئی بھی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ رہ کر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ انھوںنے متعہ کیا ہے اور اس طرح زنا پھیل جائے گا ۔
یہ خیال گذشتہ تصور سے بھی سست ہے اس لئے کہ متعہ کی اجازت نہ دینے سے زنا عام ہوجائے گا اور بے عفتی بڑھ جائے گی جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا ہے کہ بہت سے ایسے جوان ہیں جن کی بساط میں دائمی شادی کرنے کی طاقت نہیں ہے یا وہ لوگ کہ جو اپنی بیویوں سے دور ہیں، وہ زنا اور متعہ کے دوراہے پر کھڑے ہیں، اب اگر متعہ کو جو مخصوص قوانین کے تحت انجام پاتا ہے ، حرام کردیا جائے تو پھر یہ لوگ حتماً حرام مبتلا اور بے عفتی کا شکار ہوجائیں گے ۔
اسی وجہ سے مولا علی کی معروف حدیث میں وارد ہوا ہے : ‘ اگر عمر نے متعہ سے منع نہ کیا ہوتا تو شقی کے سو ا کوئی بھی زنا نہ کرتا ‘( لولا ان عمر نھی الناس عن المتعة ما زنی الا شقی)۔ ۱۰
د: تحریم متعہ کے زمان کے سلسلہ میں اختلاف
مذکورہ روایت سے جسے اہلسنت کے بے شمار محدثوں اور مفسروں نے ذکر کیا ہے ، یہ امر کاملا ً روشن ہوجاتا ہے کہ متعہ عمر کے زمانے میں حرام ہوا ہے نہ پیغمبر ۖ کے دور میں اور اس مدعا پر بے شمار وایتیں موجود ہیں جو انہیں منابع میں موجود ہیں ، بعنوان نمونہ ملاحظہ کریں :
١۔ مشہور محدث ‘ترمذی’ نقل کرتے ہیں کہ ایک شامی شخص نے عبد اللہ بن عمر سے متعہ کے سلسلہ میں سوال کیا توعبدا للہ بن عمر نے جواب دیا : حلال ہے ، اس نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا آپ کے والد نے اس سے منع نہیں کیا تھا ؟عبد اللہ نے کہا: ‘ ارایت ان کان ابی قد نھی عنھا و قد سنھا رسول اللہ انترک السنة و نتبع قول ابی ؟! ؛ اگر میرے والد منع کریں جب کہ پیغمبر ۖ نے اسے سنت قرار دیا ہوتو کیا ہم آنحضرتۖ کی سنت کو ترک کرکے اپنے باپ کی نہی کی پیروی کروں ؟!۔ ۱۱
٢۔صحیح مسلم میں جابر ابن عبد اللہ انصاری ایک روایت میں فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ۖ کے زمانے میں بعنوان مہریہ مختصرکھجور اور آٹے پر چند دنوں کے لئے متعہ کیا کرتے تھے اور یہ کام ابوبکر کے زمانے تک انجام دیا لیکن عمر نے ‘ عمرو بن حریث ‘ کے واقعہ کے بعد اس سے منع کردیا ۔ ۱۲
٣۔ اسی کتاب کی ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن ابن عباس اور ابن زبیر کے درمیان متعہ اور حج تمتع کے مسئلہ پر اختلاف ہوگیا ( لہذا جابر ابن عبد اللہ انصاری کو قضاوت کے لئے دعوت دی) جناب جابر نے فرمایا: ہم رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں ان دونوں کو انجام دیتے تھے یہاں تک کہ عمر نے منع کیا اور پھر ہم نے ان دونوں کو انجام نہیں دیا ! ۱۳
٤۔ ابن عباس جنہیں ‘ حبر الامة ‘ کا لقب دیا گیا تھا وہ رسول اللہ ۖ کے دور میں متعہ کے نسخ نہ ہونے کے قائلین میں سے ہیں اس لئے عبد اللہ ابن زبیر اور ابن عباس کے درمیان اس مسئلہ پر جو بحث ہوئی ہے وہ اس مدعا کی دلیل ہے :
جس زمانے میں عبد اللہ ابن زبیر مکہ میں تھا، ایک دن لوگوں کے درمیان کہ جس میں ابن عباس بھی تھے، کہنے لگا: بعض لوگ کہ جن کی آنکھوں کو خدا نے ان کے دل کی آنکھوں کی طر ح اندھا کردیا ہے ، متعہ کے جواز کا فتوا دیتے پھر رہے ہیں ،( اس زمانہ میں جناب ابن عباس نابینا ہوچکے تھے ) جناب ابن عباس نے جیسے ہی اس کی یہ بات سنی اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تو ایک نادان شخص ہے مجھے اپنی جان کی قسم ! ہم رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں یہ کام کیا کرتے تھے ۔
ابن زبیر نے ( رسول اللہ ۖ کے اسم مبارک کی رعایت کئے بغیر ) کہا: اس وقت یہ کر کے دکھاؤ ، خد اکی قسم سنگسار کردوں گا ! ۱۴ یعنی اس نے دھمکی کے ذریعہ جواب دیا!
احتمالاً عبد اللہ ابن زبیر نے یہ بات اپنی قدرت کے زمانے میں کہی ہے کہ جس وقت اس نے مکہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے رکھی تھی ، جس کی وجہ سے وہ کسی کی پراہ کئے بغیر ابن عباس جیسے دانشمند کے متعلق اس طرح کی جسارت کر بیٹھا حالانکہ جناب ابن عباس سن کے اعتبارسے ابن زبیر کے باپ اور علم کے اعتبار سے قابل مقایسہ نہیں تھے اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ علمی اعتبار سے دونوں مساوی تھے تب بھی اسے یہ حق نہیں تھا کہ وہ جناب ابن عباس کے حق میں گستاخی کرے ،اس لئے کہ اگر کسی نے اس مسئلہ میں
اپنے فتوے پر عمل کیا اور اسے بعد میں خطا کا علم ہو تو یہ عمل ‘ وطی بالشبہہ’ ہوگااور سب کو معلوم ہے کہ ‘ وطی بالشبہہ’ کی کوئی حد نہیں ہے لہذا سنگسار کرنے کی دھمکی دینا بے معنا اور ایک جاہلانہ فعل ہے ۔
البتہ یہ سلوک عبد اللہ ابن زبیر جیسے نادان اور گستاخ جوان سے کوئی بعید نہیں ہے !
قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ راغب نے اپنی کتاب ‘ محاضرات’ میں نقل کیا ہے کہ عبد اللہ ابن زبیر نے ابن عباس کو سرزنش کرتے ہوئے کہا: کیوں متعہ کو حلال سمجھتے ہو ؟ جناب ابن عباس نے جواب دیا: اپنی بوڑھی ماں سے سوال کر ! وہ اپنی ماں کے پاس آیا تو اس نے کہا: ‘ماولدتک الا فی المتعة’ میں نے متعہ سے تجھے پید اکیا ہے !۔ ۱۵
٥۔احمد ابن حنبل کی مسند میں ‘ ابن حصین ‘ کے بقول درج ہے کہ متعہ کی آیت قرآن میں نازل ہوئی اور ہم نے اس پر عمل بھی کیا اور اس کے بعد کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جو اسے نسخ کردے یہاں تک کہ آنحضرت ۖ اس دار فانی کو وداع کرگئے ۔ ۱۶
مذکورہ روایات کے مقابلہ میں ایسی روایتیں بھی پائی جاتی ہیں جو زمان رسول ۖ میں اس حکم کے نسخ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ، اے کاش! یہ تمام روایتیں زمان نسخ کے سلسلہ میںمتفق ہوتیںلیکن ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک زمان کی تعیین میں متفاوت ہیں ۔
١۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ متعہ کی تحریم کا حکم (ساتویں ہجری )جنگ خیبر میں صادر ہوا ہے ۔ ۱۷
٢۔ بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ آنحضرتۖنے عام الفتح (یعنی جس سال مکہ فتح ہوا)میں متعہ کی اجازت مکہ میں دی اور پھراسی سالکچھ ہی دنوں کے بعد منع کردیا۔۱۸
٣۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مکہ سے نزدیک سرزمین ہوازن میں غزوہ اوطاس کے بعد تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی اور پھر منع کردیا ۔۱۹
اگر ہمارے پاس ان تمام اقوال کے سلسلہ میں تحقیق کا حوصلہ ہوتا تو یہ مسئلہ اور بھی وسیع ہوجاتا اس لئے کہ اہل سنت کے مشہور فقیہ ‘نووی’نے ‘ شرح صحیح مسلم ‘ میں چھ قول نقل کئے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی حدیث سے مستند ہیں۔
١۔ متعہ جنگ خیبر میں حلال ہوا اور پھر ( چند دنوں کے بعد) حرام ہوگیا ۔
٢۔ متعہ عمرة القضا ء میں حلال ہوا (اور پھر حرام ہوگیا)۔
٣۔متعہ فتح مکہ کے روز حلال ہوا اور پھر حرام ہوگیا ۔
٤۔ رسول اللہ ۖ نے متعہ کو غزوہ تبوک میں حرام کردیا تھا ۔
٥۔ متعہ جنگ ہوازن میں حلال ہوا ۔
٦۔متعہ رسول اللہ ۖ کے آخری ایام حجة الوداع میں حلال ہوا۔۲۰
اس مسئلہ میں شافعی کا قول تعجب خیز ہے :’ میں نے متعہ کے سوا کسی بھی چیز کو نہیں دیکھا کہ خدا نے اسے حلال کیا ہو اپھر حرام کردیا ہو اورپھر حلال کر کے حرام کیا ہو ‘۔ ۲۱
یہ متضاد روایتیں جس محقق کی نظر سے بھی گذریں گی وہ ان کے جعلی ہونے کا یقین کر لے گا اور اسے ایک سیاسی کھیل کا حصہ سمجھے گا ۔
بہترین راہ حل
جو بھی ان اقوال سے روبرو ہو گا وہ حقیقت کو پانے کے لئے ضرور مطالعہ کرے گا مگرکون سی ایسی مشکل تھی کہ جس کی وجہ سے اس مسئلہ میں اس قدر ضد و نقیض باتیں مذکور ہیں اور کیوں ہر محدث اور فقیہ نے اپنے لئے جداگانہ راستہ اختیار کیا ہے ؟
کیونکر ان متضاد روایتوں کو جمع کیا جاسکتا ہے ؟
کیا یہ اختلا ف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ کوئی خطرناک سیاسی مسئلہ درپیش تھا کہ جس کی وجہ سے بعض حدیثوں کو گھڑنے والوں نے آنحضرت ۖ کے صحابہ کے اسماء سے غلط فائدہ اٹھایااور ان حدیثوں کو ان کی طرف نسبت دینے کی جرات کی کہ انھوںنے آنحضرتۖ سے اس طرح نقل کیا ہے اور وہ سیاسی مسئلہ صرف اور صرف عمر کا وہ جملہ تھا جسے اس نے لوگوں کے درمیان کہا: ‘ رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں دوچیز یں حلال تھیں جسے میں حرام کررہا ہوں کہ جن میں سے ایک عقد موقت ( متعہ ) بھی ہے۔
اس کلام نے لوگوں کے درمیان منفی اثر چھوڑا کہ اگر اسی طرح امتی اور خلفاء اسلام کے احکام کو بدلنا چاہیں تو ہمارے پاس انہیں روکنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ یہ کام صرف خلیفہ دوم سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسروں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ نص کے مقابلہ میں اجتہاد کریں اگرچہ اس کے بعداسلامی احکامات اور محرمات و واجبات متغیر اور خود اسلام آہستہ آہستہ نابود ہوجاتا۔
لہذا اس کے منفی آثار کو ختم کرنے کے لئے بعض لوگوںنے کہاکہ یہ دونوں رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں حرام کردئے گئے تھے ، لہذا من گھڑت حدیثیں صحابہ کی طرف نسبت دی جانے لگیں چونکہ ان حدیثوں میں کوئی ہماہنگی نہیں تھی لہذا ضد و نقیض ہوگئیں!!!
وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس حدتک متناقض حدیثیں جمع ہوجائیںبلکہ بعض فقہاء ان روایتوں کو جمع کرنے کے سلسلہ میںیہ کہنے پر مجبور ہوجاگئے کہ متعہ ایک مرتبہ مباح ہوا اور پھر حرام ہوگیا ، پھر مباح ہو ااور پھر حرام ہوگیا ، مگر احکام الہی کوئی کھیل ہے ؟۔
ان تمام باتوں کے علاوہ رسول اللہ ۖ کے زمانہ میں متعہ کا حلال ہونا کسی ضرورت کے تحت تھا جس کے پیش آنے کاامکان ہر دور میں ہے ،یہ ضرورت مخصوصاً ہمارے دور میں ایک عظیم مشکل کی صورت میں موجود ہے ،اسلئے کہ آج کے دور میں جوانوں اور دیگر لوگوں کے لئے غرب کا طولانی سفر درپیش ہے ، پھر وہ کیوں حرام رہے ؟
آج کی طرح اس دور میں بہکنے کے امکانات بہت کم تھے ، اس وقت بے حجاب یا بد حجاب، گندے پروگرام اور فیلموں ، ٹیلیویژن ، اینٹرنٹ، ڈش انٹینا، مفسد محفلوں ،فاسد اخبارات اور میگزینوں کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن آج یہی سب کچھ ہمارے جوانوںکیلئے مصیبت بنے ہوئے ہیں۔
کیا اس دور میں متعہ ایک مرتبہ حلال ہوا اور پھر حرام ہوگیا ، کیا یہ قابل قبول ہے ؟
ان تمام نکات سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایک طرف فقہاء کی ایک کثیر جماعت نے متعہ کو حرام کہا ہے تو دوسری طرف ایک جماعت نے حلال کہا ہے لہذا یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ، پس حلال کے طرفداروں کو یہحق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے مخالفین پر تہمت لگائیں کہ وہ اسلامی احکامات کے پابند نہیں ہیں ،اسی طرح حرام کے طرفداروں کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ العیاذ باللہ متعہ کے طرفداروں کو زنا کا طرفدار کہیں ، وہ قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دیں گے ؟! اس لئے کہ یہ ایک اجتہادی اختلاف ہے (جو فقہاء کے درمیان رائج ہے)۔
فخر رازی جو ایسے مسائل میں ایک خاص تعصب رکھتے ہیں، اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں : ‘ ذھب السواد الاعظم من الامة الی انھا صارت منسوخة وقال السواد منھم انھا بقیت کماکانت’؛ امت کی اکثریت متعہ کے نسخ ہونے کی قائل ہے لیکن بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے اور ابھی بھی مباح ہے۔ ۲۲یعنی یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ۔
ہم یہیں پر اس بحث کو تمام کرتے ہیں اور لوگوں سے ہماری آرزویہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو کسی بھی تہمت اور ناروا نسبت دینے سے پہلے ایک بار پھر اس بحث کو مورد مطالعہ قراردیں اور پھر فیصلہ کریں ، ہمیں یقین ہے کہ وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ متعہ کا مسئلہ اپنی جگہ پر باقی ہے اوراپنے شرائط کے ساتھ حلال بھی ہے جو بہت سی مشکلات کا حل ہے۔

حاشیہ جات
١۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ‘ لولا ما نھی عنہا عمر ما زنی الا شقی’ وسائل الشیعہ ج ١٤ ص ٤٤٠ ح ٢٤، یہ حدیث اہلسنت کی متعدد کتابوں میں بھی آئی ہے ، قال علی علیہ السلام : ‘ لولا ان عمر نھی عن المتعہ ما زنی الا شقی’ تفسیر طبری ج ٥ ص ١١٩ ، تفسیر درالمنثور ج ٢ ص ١٤٠ ، تفسیر قرطبی ج ٥ ص ٣٠
۲۔مجمع البیان ج ٣ ص ٦٠
۳۔تفسیر قرطبی ، ج ٥، ص ١٢٠، و فتح الغدیر، ج ١، ص ٤٤٩
۴۔ شرح صحیح مسلم ج ٩ص ١٩١
۵۔ شرح صحیح مسلم ج ٩ص ١٩١
۶۔ المغنی ابن قدامہ ج ٧ص ٥٧٢
۷۔ فتح الباری ج ٩ص ١٣٨
۸۔ صحیح مسلم ج ٤ ص ٥٩ ، ح ٣٣٠٧، دارالفکر بیروت
۹۔ سورہ حشر ٧
۱۰۔تفسیر فخر رازی ج ١٠ ص ٥٠
۱۱۔یہ حدیث موجودہ ترمذی میں اسی مضمون کے تحت موجود نہیں ہے بلکہ متعة النساء کی جگہ متعة الحج مذکور ہے لیکن دسویں قرن کے مشہور عالم دین شہید ثانی اپنی کتاب ‘ شرح اللمعة الدمشقیة’ اور ساتویں قرن کے معروف عالم دین سید ابن طاووس نے اپنی کتاب ‘ الطرائف’ میں اسی روایت کو متعة النساء کے مضمون کے ساتھ ذکر کیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح ترمذی کے قدیمی نسخہ میں متعة النساء ہی تھا جسے نامعلوم علل و اسباب کی وجہ سے بدل دیا گیا ]وکم لہ من نظیر[
۱۲۔ صحیح مسلم ج ٢، ص ١٣١
۱۳۔ صحیح مسلم ج ٢ ص ١٣١
۱۴۔ صحیح مسلم ج ٤ ص ٥٩، ح ٣٣٠٧، چاپ دارلفکر
۱۵۔محاضرات ج ٢ ص ٢١٤ اور شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ٢٠ ص ١٣٠
۱۶۔مسند احمد ج ٤ ص ٤٣٦
۱۷۔درالمنثور ج ٢ ص ٤٨٦
۱۸۔صحیح مسلم ج ٤، ص ١٣٣
۱۹۔ سابق حوالہ ص ١٣١
۲۰۔ شرح صحیح مسلم ، نووی ، ج ٩ص ١٩١
۲۱۔المغنی ابن قدامہ ج ٧ص ٥٧٢
۲۲۔ تفسیر کبیر فخر رازی ج ١٠، ص ٤٩

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.