منافقين كي نفسياتي خصائص

367

منافقين كي نفسياتي خصائص

1) تكبر اور خود بينى
قرآن مجيد وہ نكات جو منافقين كي نفسياتي شناخت كے سلسلہ ميں، روحي و نفسياتي خصائص كے عنوان سے بيان كر رھا ھے، پھلي خصوصيت تكبر و خود محوري ھے۔
كبر كے معني اپنے كو بلند اور دوسروں كو پست تصور كرنا، تكبر پرستي ايك اھم نفسياتي مرض ھے جس كي بنا پر بھت زيادہ ھي اخلاقي انحرافات پيش آتے ھيں امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں۔
((اياك والكبر فانہ اعظم الذنوب والئم العيوب)) ۱
تكبر سے پرھيز كرو اس لئے كہ عظيم ترين معصيت اور پست ترين عيب ھے۔
كبر، اعظم الذنوب ھے يعني عظيم ترين معصيت ھے كيونكہ تكبر ھي كے ذريعہ كفر نشو و نما پاتا ھے، ابليس كا كفر اسي كبر سے وجود ميں آيا تھا، جس وقت اسے آدم (ع) كے سجدہ كا حكم ديا گيا، اس نے خود كو آدم عليہ السلام سے بزرگ و برتر تصور كرتے ھوئے سجدہ كرنے سے انكار كرديا اور اس فعل كي بنا پر كفر كے راستہ پر چل پڑا۔
(ابيٰ واستكبر و كان من الكافرين) ۲
اس نے انكار و غرور سے كام ليا اور كافرين ميں ھوگيا۔
انبياء حضرات كے مخالفين، تكبر فطرت ھونے ھي كي بنا پر پيامبروں كے مقابلہ ميں قد علم كرتے تھے، اور انبياء حضرات كي تحقير و تكفير كرتے ھوئے آزار و اذيت ديا كرتے تھے، جب ان كو ايمان كے لئے دعوت دي جاتي تھي وہ اپني تكبري فكر و فطرت كي بنا پر انكار كرتے ھوئے كھتے تھے۔
(قالوا ما انتم اِلّا بشر مثلنا) ۳
ان لوگوں نے كھا تم سب ھمارے ھي جيسے بشر ھو۔
كبر، الئم العيوب، ھے يعني تكبر پست ترين عيب ھے اس لئے كہ متكبر فرد كي نفسياتي حقارت و پستي كي نشان دھي ھوتي ھے، وہ فرد جو خود كو بزرگ تصور كرتا ھے وہ احساس كمتري كا شكار رھتا ھے، لھذا چاھتا ھے كہ تكبر كے ذريعہ اس كمي كا مداوا كرسكے۔
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ھيں:
((مامن رجل تكبّر او تجبّر اِلا لذلّۃ و جدھا في نفسہ)) ۴
كوئي فرد نھيں، جو تكبر يا ظالمانہ گفتگو كرتا ھو، اور پست طبيعت و حقير نفس كا حامل نہ ھو۔
احاديث و روايات كے مطابق تكبر ميں دو اھم بنيادي عنصر پائے جاتے ھيں، افراد كو پست و حقير سمجھنا اور حق كے مقابلہ ميں سر تسليم خم نہ كرنا۔
حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں:
((الكبر ان تغمص الناس و تسفہ الحق)) ۵
تكبر يہ ھے كہ لوگوں كي تحقير كرو اور حق كو بے مقدار تصور كرو۔
اسلامي اخلاق كے پيش نظر تكبر كے دونوں عنصر شديد مذموم ھيں اس لئے كہ اشخاص كي تحقير كرنا خواہ وہ ظاھراً كسي جرم كے مرتكب بھي ھوئے ھوں محرمات ميں شمار ھوتا ھے، امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:
((ان اللہ تبارك و تعالي ……اخفي وليہ في عبادہ فلا تستصغرون عبدا من عبيد اللہ فربما يكون وليہ وانت لا تعلم)) ۶
خداوند عالم نے اپنے خاص افراد كو اپنے بندوں كے درميان پھيلا ركھا ھے، بندگان خدا ميں كسي كي تحقير و بے احترامي نہ كرو، شايد وہ اللہ كے دوستوں ميں سے ھوں اور تمھيں علم نہ ھو۔
ايك دوسري روايت ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا گيا ھے كہ خدا فرماتا ھے:
((ليأذن بحرب مني من اذلّ عبدي المؤمن)) ۷
جو بھي كسي بندۂ مومن كي تحقير و تذليل كرے ھم سے جنگ كے لئے آمادہ ھوجائے۔
جمھوري اسلامي ايران كے باني حضرت امام خميني (رح) كتاب تحرير الوسيلہ كے امر بالمعروف والے باب ميں تحرير فرماتے ھيں۔
معروف كے حكم دينے اور برائي سے روكنے والے خود كو مرتكب گناہ فرد سے برتر و بغير عيب كے نہ جانيں، شايد ھوسكتا ھے كہ مرتكب گناہ (خواہ كبيرہ) اچھے صفات كا حامل ھو اور خدا اس كو دوست بھي ركھتا ھو ليكن تكبر و خود بيني كے گناہ كي وجہ سے امر بالمعروف كرنے والا سقوط كرجائے اور شايد ھوسكتا ھے كہ آمر معروف و ناھي منكر ايسے برے صفات كے حامل ھوں كہ خداوند متعال كي نگاہ ميں مبغوض ھوں چاھے خود انسان اپنے اس برے صفت كا علم نہ ركھتا ھو۔
ليكن اس بات كو عرض كرنے كا مطلب يہ نھيں كہ امر بالمعروف اور حدود الھي كا اجرا ترك كرديا جائے بلكہ انسان و اشخاص كي كرامت و حرمت اور ايماني منزلت كو حفظ كرتے ھوئے امر بالمعروف اور حدود كا اجرا كرنا چاھيے۔
پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ھيں:
((اذا زنت خادم احدكم فليجلدھا الحدو لا يعيرھا)) ۸
اگر تمھاري كسي كنيز نے زنا كا ارتكاب كيا ھے تو اس پر زنا كي حد جاري كرو مگر اس كي عيب جوئي و طعنہ زني كا تم كو حق نھيں۔
اسي بنا پر بارھا ديكھا گيا كہ رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور امير المومنين نے زناء محصنہ كے مرتكب افراد پر حد جاري كرنے كے بعد خود با احترام اس كے جنازہ پر نماز ميت پڑھي ھے اور ان كي حرمت و آبرو كو حفظ كيا ھے ۹
اكثر روايات اور احاديث ميں حق كو قبول نہ كرنے كي وجہ سے، نزاع اور جدال غير احسن كے عنوان سے اس كي مذمت كي گئي ھے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام كا قول ھے:
((ما الجدال الذي بغير التي ھي احسن ان تجادل مبطلا فيورد عليك مبطلا فلا تردّہ بحجۃ قد نصبھا اللہ ولكن تحجد قولہ او تحجد حقا يريد ذالك المبطل ان يعين بہ باطلہ فتجحد ذلك الحق مخافۃ ان يكون عليك فيہ حجۃ)) ۱۰
جدال غير احسن يہ ھے كہ كسي ايسے فرد سے بحث كيا جائے جا ناحق ھے اور اس كے ساتھ حجت و منطق نيز شرعي دليل كے ذريعہ وارد بحث نہ ھوا جائے اور اس كے قول يا اس كے حق كو انكار كرديا جائے اس خوف كي بنا پر كہ خدا ناخواستہ (حق) كے ذريعہ اپنے باطل كے لئے مدد لے۔
قرآن و روايات ميں تسليم حق كے سلسلہ ميں زيادہ تاكيد كي گئي ھے حق پذيري بندگان خدا اور مومنين كے صفات ميں بيان كيا گيا ھے۔
(فبشّر عباد الذين يستمعون القول فيتّبعون احسنہ،) ۱۱
اے پيغمبر! آپ ميرے بندوں كو بشارت دے ديجئے جو باتوں كو سنتے ھيں اور جو بات اچھي ھوتي ھيں اس كا اتباع كرتے ھيں،
حق كے مقابلہ سر تسليم خم كرنا مومنين كے صفات و خصائص ميں سے ھے اور كبر كا نكتۂ مقابل ھے۔
(طلبت الخضوع فما وجدت الا بقبول الحق، اقبلوا الحق فان قبول الحق يبعد من الكبر) ۱۲
ميں نے خضوع كو طلب كيا اور اس كو صرف تسليم حق ميں پايا حق كے مقابل تسليم پزير رھو كہ يہ حالت تم كو كبر سے دور ركھتي ھے۔
آيات قرآن كي بنا پر تكبر منافقين كي صفات ميں سے ھے۔
(و اذا قيل لھم تعالوا يستغفر لكم رسول اللہ لوّوا رئوسھم ورايتھم يصدون وھم مستكبرون) ۱۳
اور جب ان سے كھا جاتا ھے كہ آؤ رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم تمھارے حق ميں استغفار كريں گے تو يہ سر پھرا ليتے ھيں اور تم ديكھو گے كہ استكبار كي بنا پر منھ بھي موڑ ليتے ھيں۔
(و اذا قيل لہ اتّق اللہ اخذتہ العزّۃ بالاثم) ۱۴
جب ان سے كھا جاتا ھے كہ تقوائے الھي اختيار كرو تو وہ تكبر كے ذريعہ گناہ پر اتر آتے ھيں۔
(و اذا قيل لھم لا تفسدوا في الارض قالوا انّما نحن مصلحون) ۱۵
جب ان سے كھا جاتا ھے كہ زمين ميں فساد برپا نہ كرو تو كھتے ھيں كہ ھم تو صرف اصلاح كرنے والے ھيں۔
قرآن كريم منافقين كے سلسلہ ميں دونوں مناظر (تحقير افراد اور عدم تسليم حق) كي تصريح كررھا ھے كہ وہ خود كو اھل فھم و فراست اور ديگر افراد كو سفيہ (احمق) سمجھتے ھيں اور اس وسيلہ سے اشخاص كي تحقير كرتے ھيں۔
(و اذا قيل لھم آمنو كما آمن الناس قالوا أنؤمن كما آمن السفھاء) ۱۶
جب ان سے كھا جاتا ھے كہ دوسرے مومنين كي طرح ايمان لے آؤ تو كھتے ھيں كہ كيا ھم بے وقوفوں كي طرح ايمان اختيار كرليں؟
منافقين كے بارے ميں عدم تسليم حق كي تصوير كشي كرتے ھوئے خدا ان كو خشك لكڑيوں سے تشبيہ دے رھا ھے۔
(كأنّھم خشب مسنّدۃ) ۱۷
گويا سوكھي لكڑياں ھيں جو ديوار سے لگادي گئي ھيں۔
2) خوف و ھراس
قرآن كريم منافقين كي نفسياتي خصوصيت كے سلسلہ ميں دوسري صفت خوف و ھراس كو بتا رھا ھے، قرآن ان كو بے حد درجہ ھراساں و خوف زدہ بيان كررھا ھے، اصول كي بنا پر شجاعت و شھامت، خوف وحشت كا ريشہ ايمان ھوتا ھے، جھاں ايمان كا وجود ھے دليري و شجاعت كا بھي وجود ھے۔
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ھيں:
((لايكون المومن جبانا)) ۱۸
مومن بزدل و خائف نھيں ھوتا ھے۔
قرآن مومنين كي تعريف و توصيف كرتے ھوئے ان كي شجاعت اور مادي قدرت و قوت سے خوف زدہ نہ ھونے كي تصريح كر رھا ھے۔
(…… وانّ اللہ لا يضيع اجر المؤمنين الذين استجابوا لِلّٰہ والرسول من بعد مَا اصابھم القرح للّذين احسنوا منھم واتقوا اجر عظيم الذين قال لھم النّاس ان النّاس قد جمعوا لكم فاخشوھم فزادھم ايمانا و قالوا حسبنا للہ و نعم الوكيل) ۱۹
خداوند عالم صاحبان ايمان كے اجر كو ضائع نھيں كرتا (خواہ شھيدوں كے اجر كو اور نہ ھي مجاھدوں كے اجر كو جو شھيد نھيں ھوئے ھيں) يہ صاحبان ايمان ھيں جنھوں نے زخمي ھونے كے بعد بھي خدا اور رسول كي دعوت پر لبيك كھا (ميدان احد كے زخم بھبود بھي نہ ھونے پائے تھے كہ حمراء الاسد ميدان كي طرف حركت كرنے لگے) ان كے نيك كردار اور متقي افراد كے لئے نھايت درجہ عظيم اجر ھے، يہ وہ ايمان والے ھيں كہ جب ان سے بعض لوگوں نے كھا كہ لوگوں نے تمھارے لئے عظيم لشكر جمع كرليا ھے لھذا ان سے ڈرو تو ان كے ايمان ميں اور اضافہ ھوگيا اور انھوں نے كھا كہ ھمارے لئے خدا كافي ھے اور وھي ھمارا ذمہ دار ھے۔
حقيقي صاحبان ايمان كي صفت شجاعت ھے ليكن چونكہ منافقين ايمان سے بالكل بے بھرہ مند ھيں، ان كے نزديك خدا كي قوت لايزال وبي حساب پر اعتماد و توكل كوئي مفھوم و معنا نھيں ركھتا ھے لھذا ھميشہ موجودہ قدرت سے خائف و ھراساں ھيں خصوصاً ميدان جنگ كہ جھاں شھامت، سرفروشى، ايثار ھي والوں كا گذر ھے، وھاں سے ھميشہ فرار اور دور ھي سے جنگ كا نظارہ كرتے ھيں اور نتيجہ كے منتظر ھوتے ھيں۔
(فاذا جاء الخوف رأيتھم ينظرون اليك تدور أعينھم كا الذي يغشي عليہ من الموت) ۲۰ جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ ديكھيں گے كہ آپ كي طرف اس طرح ديكھيں گے جيسے ان كي آنكھيں يوں پھر رھي جيسے موت كي غشي طاري ھو۔
سورہ احزاب كي آٹھويں آيت سے پينتيسويں آيت، جنگ خندق كے سخت حالات و مسائل سے مخصوص ھے، ان آيات كے ضمن ميں چھ مرتبہ صداقت كا ذكر كيا گيا ھے اور اسي كے ساتھ بعض افراد كے خوف و ھراس كو بھي بيان كيا گيا ھے، جنگ احزاب اپنے خاص شرائط (زماني و مكاني) كي بنا پر مومنين كي ايماني صداقت اور منافقين كے جھوٹے دعوے كو پركھنے كے لئے بھترين كسوٹي و محك ھے۔
ايمان ميں صادق افراد كا ذكر آيت نمبر تئيس اور چوبيس ميں ھورھا ھے:
(من المؤمنين رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ عليہ فمنھم من قضي نحبہ و منھم من ينتظرو ما بدّلوا تبديلا ليجزي اللہ الصادقين بصدقھم و يعذب المنافقين ان شاء او يتوب عليھم ان اللہ كان غفورا رحيما) ۲۱
مومنين ميں ايسے بھي مرد ميدان ھے جنھوں نے اللہ سے كئے وعدہ كو سچ كر ديكھايا ھے ان ميں بعض اپنا وقت پورا كرچكے ھيں اور بعض اپنے وقت كا انتظار كررھے ھيں اور ان لوگوں نے اپني بات ميں كوئي تبديلي نھيں كي ھے تا كہ خدا صادقين كو ان كي صداقت كا بدلہ دے اور منافقين كو چاھے تو ان پر عذاب نازل كرے يا ان كي توبہ قبول كرے اللہ يقيناً بھت بخشنے والا اور مھربان ھے۔
ان آيات سے استفادہ ھوتا ھے كہ ايمان ميں صادق سے مراد دين كي راہ ميں جھاد و شھادت ھے بعض افراد نے شھادت كے رفيع مقام كو حاصل كرليا ھے اور بعض اگر چہ ابھي اس عظيم مرتبہ پر فائز نھيں ھوئے ھيں ليكن شجاعت و شھامت كے ساتھ ويسے ھي منتظر و آمادہ ھيں، اسي سورہ كي آيت نمبر بيس ميں خوبصورتي كے ساتھ منافقين كے اضطراب و خوف كو ميدان جنگ كے سلسلہ ميں بيان كيا گيا ھے، آيت اور اس كا ترجمہ اس سے قبل پيش كيا جاچكا ھے۔
3) تشويش و اضطراب
منافقين كي نفسياتي خصوصيت ميں سے، تشويش و اضطراب بھي ھے چونكہ ان كا باطن ظاھر كے بر خلاف ھے لھذا ھميشہ اضطراب كي حالت ميں رھتے ھيں كھيں ان كے باطن كے اسرار افشانہ ھوجائيں اور اصل چھرہ كي شناسائي نہ ھوجائے جس شخص نے بھي خيانت كي ھے يا خلافِ امر شي كا مرتكب ھوا ھے اس كے افشا سے ڈرتا ھے اور تشويش و اضطراب ميں رھتا ھے عربي كي مثل مشھور ھے "الخائن خائف" خائن خوف زدہ رھتا ھے، دوسرے يہ كہ منافقين نعمت ايمان سے محروم ھونے كي بنا پر مستقبل كے سلسلہ ميں كبھي بھي اميد واري و در خشندگي كا اعتقاد نھيں ركھتے ھيں اور اپنے انجام كار سے خائف اور ھراساں رھتے ھيں اس كے برخلاف صاحبان ايمان ياد الھي اور اپنے ايمان كي بنا پر اطمينان و سكون سے ھمكنار رھتے ھيں۔
(ألا بذكر اللہ تطمئن القلوب) ۲۲
آگاہ ھوجاؤ كہ ذكر خدا ھي سے دلوں كو سكون ملتا ھے۔
منافقين اپني خيانت كارانہ حركات كي وجہ سے اضطراب و تشويش كي وادي ميں پڑے رھتے ھيں لھذا ھر قسم كي افشا گري و تھديد كي آواز كو اپنے خلاف ھي تصور كرتے ھيں۔
(يحسبون كل صيحۃ عليھم) ۲۳
يہ ھر فرياد كو اپنے خلاف ھي گمان كرتے ھيں۔
منافقين كي دائمي كوشش يہ رھتي ھے كہ جس طرح سے بھي ھو خود كو مومنين كي صفوں ميں داخل كريں اور صاحبان ايمان كو مطمئن كراديں كہ ھم بھي ايمان والے ھيں ليكن ھميشہ پريشان خيال رھتے ھيں كہ كھيں رسوا و ذليل نہ ھوجائيں۔
(و يحلفون باللہ انھم لمنكم و ماھم منكم و لكنھم قوم يفرقون) ۲۴
اور يہ اللہ كي قسم كھاتے ھيں كہ يہ تم ھي ميں سے ھيں حالانكہ يہ تم ميں سے نھيں ھيں يہ لوگ بزدل ھيں۔
ان كے ھراسان و پريشان رھنے كي كيفيت يہ ھے كہ جب بھي كوئي جديد آيت كا نزول ھوتا ھے تو ڈرتے ھيں كہ كھيں وحي كے ذريعہ ھمارے اسرار فاش نہ ھوجائيں، اس نكتہ كو قرآن كريم صراحت سے بيان كررھا ھے اور تاكيد كررھا ھے كہ راہ نفاق كا انجام خير نھيں ھوسكتا، اگر چہ چند روز اپنے باطن كو چھپانے ميں كامياب ھوجائيں ليكن سر انجام رسوا و ذليل ھوكر رھيں گے۔
(يحذر المنافقون ان تنزل عليھم سورۃ تنبّئھم بما في قلوبھم قل استھزئوا ان اللہ مخرج ما تحذرون) ۲۵
منافقين كو يہ خوف بھي ھے كہ كھيں كوئي سورہ نازل ھوكر مسلمانوں كو ان كے دل كے حالات سے باخبر نہ كردے تو آپ كہہ ديجئے كہ تم اور مزاق اڑاؤ اللہ بھر حال اس چيز كو منظر عام پر لے آئے گا جس كا تمھيں خطرہ ھے۔
سورہ بقرہ كي آيات نمبر سترہ سے بيس تك ميں منافقين كي كشمكش، ترس و اضطراب كي حالت، كو دو معني خيز تشبيھوں كے ذريعہ بيان كيا گيا ھے۔
4) لجاجت گرى
منافقين كي چوتھي نفسياتي خصوصيت لجاجت گري ھے لجاجت ايك روحي و نفساني مرض ھے جو صحيح معرفت كے حصول ميں اساسي مانع ھے معرفت شناسي ميں اس نكتہ كو بيان كيا گيا ھے كہ بعض اخلاقي رذائل سبب ھوتے ھيں كہ انسان حقيقت تك نہ پھونچ سكے، جيسے بيھودہ تعصب، بغير دليل خاص، نظريہ پر اصرار، غلط آرزو اور خواھشات وغيرہ…… ۲۶
امير المومنين حضرت علي عليہ السلام دو حديث ميں اس مطلب كو صراحتاً بيان فرما رھے ھيں:
((اللجاجۃ تسل الراي)) ۲۷
لجاجت صحيح و مستحكم راي كو فنا كرديتي ھے۔
((اللجوج لا راي لہ)) ۲۸
لجاجت گر فرد صحيح فكر و نظر كا مالك نھيں ھوتا۔
جو فرد لجاجت گري كي وادي ميں سر گردان ھو وہ صاحب راي و نظر نھيں ھوسكتا ھے كيوں كہ لجاجت اس كي بينائي و دانائي پر ايك ضخيم پردہ ڈال ديتي ھے جس كي بنا پر لجاجت گر فرد تمام حقائق كو اپني خاص نظر سے ديكھتا ھے لھذا ايسا فرد حق شناسي كے وسائل و نور حق كو اختيار ميں ركھتے ھوئے بھي حقيقت تك نھيں پھونچ سكتا ھے چونكہ منافقين كا بنيادي منشا اپني آمال و خواھشات كي تكميل اور باطل راہ ميں قدم ركھنا ھے لھذا كبھي بھي حق كو حاصل نھيں كرسكتا ھے، امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:
((من كان غرضہ الباطل لم يدرك الحق ولو كان اشھر من الشمس)) ۲۹
جس كا بنيادي ھدف باطل ھو كبھي بھي حق كو درك نھيں كرسكتا ھے خواہ حق آفتاب سے روشن ترھي كيوں نہ ھو
قرآن مجيد منافقين كي حالت لجاجت كو بيان كرتے ھوئے ان كي يوں توصيف كر ركھا ھے:
(صم بكم عمي فھم لا يرجعون) ۳۰
يہ سب بہرے، گونگے اور اندھے ھوگئے ھيں اور پلٹ كر آنے والے نھيں ھيں۔
منافقين كي لجاجت سبب بن گئي كہ وہ نہ سن سكے جو سننا چاھئے تھا، نہ ديكھ سكے جو ديكھنا چاھئے تھا، نہ كہہ سكے جو كھنا چاھئے تھا، باوجوديكہ آنكھ، كان، زبان جو ايك انسانِ بااعتدال كے لئے صحيح ادراك كے وسائل ھيں، يہ بھي اختيار ميں ركھتے ھيں ليكن ان كي لجاجت گري سبب ھوئي كہ عظيم نعمات سے محروم، اور جھالت كي وادي ميں سر گرداں ھيں۔
منافقين كا بھرہ، اندھا، گونگا ھونا آخرت سے مخصوص نھيں بلكہ اس دنيا ميں بھي ايسے ھي ھيں، ان كا قيامت ميں بھرہ، اندھا، گونگا ھونا ان كے حالات سے اسي دنيا ميں مجسم ھے۔
(لھم قلوب لا يفقھون بھا ولھم اعين لا يبصرون بھا ولھم آذان لا يسمعون بھا)۳۱
ان كے پاس دل ھے مگر سمجھتے نھيں ھيں، آنكھيں ھيں مگر ديكھتے نھيں ھيں، كان ھيں مگر سنتے نھيں۔
مذكورہ آيت سے استناد كرتے ھوئے كھا جاسكتا ھے منافقين اسي دنيا ميں اپني لجاجت كي بنا پر صحيح سماعت و بصارت، زبان گويا، حق كو درك اور بيان كرنے كے لئے نھيں ركھتے ھيں، اور مدام باطل كے گرداب ميں غوطہ زن ھيں۔
ماحصل يہ ھے كہ منافقين كے فھم و شعور كے منافذ و مسلمات لجاجت پسندي كي بنا پر بند ھوچكے ھيں۔
قرآن مجيد نفاق كي اس حالت كو (طبع قلوب) سے ياد كررھا ھے۔
(طبع اللہ علي قلوبھم فھم لا يعلمون) ۳۲
خدا نے ان كے دلوں پر مھر لگادي ھے اور اب وہ لوگ كچھ جاننے والے نھيں۔
(فطبع علي قلوبھم فھم لا يفقھون) ۳۳
ان كے دلوں پر مھر لگادي گئي ھے تو اب كچھ نھيں سمجھ رھے ھيں۔
جو مھر ان كے دلوں پر لگائي گئي ھے اس كا سبب يہ ھوگا كہ حق كي گفتگو سماعت نہ كرسكيں اور حق كي عدم قبوليت ان كي ھميشہ كي روش بن جائے، البتہ يہ بات واضح ھے كہ طبع قلوب (دلوں پر مھر لگانا) كے اسباب خود انھوں نے فراھم كئے ھيں اور ان كے دلوں پر مھر لگنا خود ان كے افعال و كردار كا نتيجہ ھے۔
5) ضعف معنويت
منافقين كي پانچويں نفسياتي و نفساني صفت جسے قرآن مجيد بيان كررھا ھے معنويت ميں ضعف و سستي كا وجود ھے، يہ گروہ ضعف بصارت كي بنا پر خدا سے زيادہ عوام اور لوگوں كے لئے حرمت و عزت كا قائل ھے۔
منافقين محكم و راسخ ايمان نہ ركھنے كي وجہ سے غيبي و معنوي قدرت پر بھي محكم و كامل ايمان نھيں ركھتے، ان كي ساري غيرت اور خوف فقط ظاھري ھے، عوام سے حيا كرتے ھيں، ليكن خدا كے محضر ميں بے حيا ھيں چونكہ خود كو الھي محضر ميں سمجھتے ھي نھيں اور خدا كو فراموش كر بيٹھے ھيں۔
(يستخفون من الناس ولا يستخفون من اللہ وھو معھم اذ يبيتون مالا يرضي من القول وكان اللہ بما يعلمون محيطاً) ۳۴
يہ لوگ انسانوں كي نظروں سے اپنے كو چھپاتے ھيں اور خدا سے نھيں چھپ سكتے ھيں جب كہ وہ اس وقت بھي ان كے ساتھ رھتا ھے جب وہ ناپسنديدہ باتوں كي سازش كرتے ھيں اور خدا ان كے تمام اعمال كا احاطہ كئے ھوئے ھے۔
اگر ظاھر ميں ايك عبادت انجام ديں يا ظواھر اسلامي كي رعايت كريں تو صرف عوام نيز لوگوں كي توجہ و اعتماد كو حاصل كرنے كے لئے ھوتي ھے ورنہ ان كي عبادتيں ھر قسم كے مفھوم اور معنويت سے خالي ھيں۔
(ان المنافقين… اذا قاموا الي الصلوٰۃ قاموا كساليٰ يرائون الناس ولا يذكرون اللہ الا قليلا) ۳۵
منافقين… جب نماز كے لئے اٹھتے بھي ھيں تو سستي كے ساتھ، لوگوں كو دكھانے كے لئے عمل كرتے ھيں، اور اللہ كو بھت كم ياد كرتے ھيں۔
(ولا يأتون الصلوٰۃ الا وھم كساليٰ) ۳۶
اور يہ نماز بھي سستي اور تساھلي كے ساتھ بجالاتے ھيں۔
اگر چہ مذكورہ دونوں آيات ميں منافقين كي ريا و كسالت (سستي) نماز كے موقع كے لئے بيان كي گئي ھے، ليكن علامہ طباطبائي (رح) تفسير الميزان ميں فرماتے ھيں نماز، قرآن ميں تمام معنويت كا محور و مركز ھے لھذا اس نكتہ پر توجہ كرتے ھوئے دونوں آيت كا مفھوم يہ ھے كے منافقين تمام عبادت و معنويت ميں بے حال و سست ھيں اور صاحبان ايمان كے جيسي نشاط و فرحت، سرور و شادماني نھيں ركھتے ھيں۔
البتہ قرآن مجيد كي بعض دوسري آيات ميں بھي منافقين كي عبادات كو بے معنويت اور سستي سے تعبير كيا گيا ھے۔
(ولا ينفقون الا وھم كارھون) ۳۷
اور راہ خدا ميں كراھت و ناگواري كے ساتھ خرچ كرتے ھيں۔
يہ آيت صراحتاً بيان كررھي ھے كہ ان كے انفاق كي بنا اخلاص و خلوص پر نھيں ھے، سورہ انفال ميں بھي مسلمانوں كے مبارزہ و جھاد كي صف ميں ان كي حركات كو ريا سے تعبير كيا گيا ھے اور مسلمانوں كو اس منافقانہ عمل سے دور رھنے كے لئے كھا گيا ھے:
(ولا تكونوا كالذين خرجوا من ديارھم بطرا و رئاء الناس) ۳۸
اور ان لوگوں كے جيسے نہ ھوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ھوئے اور لوگوں كو دكھانے كے لئے نكلتے ھيں۔
بھر حال جن اشخاص نے دين كے اظھار كو قدرت طلبى، شيطاني خواھشات كے حصول كے لئے وسيلہ قرار ديا ھے، ان كي رفتار و گفتار ميں دين داري كي حقيقي روح نھيں ملتي ھے وہ عبادت كو خود نمائي كے لئے اور سستي سے انجام ديتے ھيں۔
6) خواھشات نفس كي پيروى
منافقين كي چھٹي نفسياتي خصوصيت، خواھشات نفساني كي پيروي اور اطاعت ھے، منافقين حق كے سامنے سر تسليم خم كرنے اور عقل و نقل كي پيروي اور اطاعت كرنے كے بجائے، اميال و خواھشات نفساني كے تابع و پيروكار ھيں، صعيف اعتقاد نيز باطل اور نحس مقاصد كي بنا پر خدا پرستي و حق محوري ان كے لئے كوئي مفھوم و معني نھيں ركھتا ھے وہ خواھشات نفساني كے مطيع و خود محوري كے تابع ھيں۔
(اولئك الذين طبع اللہ علي قلوبھم واتبعوا اھوائھم) ۳۹
يھي وہ لوگ ھيں جن كے دلوں پر خدا نے مھر لگادي ھے اور انھوں نے اپني خواھشات كا اتباع كرليا ھے۔
تكبر اور برتر بيني خواھشات نفساني كي نمائش و علامت ميں سے ايك ھے، خواھشات نفساني كے دو آشكار نمونے، رياست و منصب كي طلب اور دنيا پرستي ھے جو منافقين ميں پائي جاتي ھے، مال و منصب كي محبت، نفاق كي جڑوں كو دلوں ميں رشد اور مستحكم كرنے كے عوامل ميں سے ھيں۔
پيامبر عظيم الشان فرماتے ھيں:
((حب الجاہ و المال ينبتان النفاق كما ينبت الماء البقل)) ۴۰
مال دنيا اور مقام و منصب كي محبت، نفاق كو دل ميں يوں رشد ديتي ھے جيسے پاني سبزے كو نشو نما ديتا ھے۔
ظاھر ھے كہ وہ رياست و منصب قابل مذمت ھے جس كا مقصد و ھدف انسان ھو يہ وھي مقام پرستي ھے جو لوگوں كے دين كے لئے بھت بڑا خطرہ ھے۔
نقل كيا جاتا ھے كہ حضرت امام رضا عليہ السلام كے محضر ميں كسي كا نام ليتے ھوئے كھا گيا وہ منصب و مقام پرست ھے، آپ نے فرمايا:
((ما ذئبان ضاريان في غنم قد تفرق رعاؤھابأ ضرّ في دين المسلم من الرياسۃ)) ۴۱
دو خونخوار بھيڑيوں كا خطرہ ايسے گلہ كے لئے جو بغير چوپان كے ھو اس خطرہ سے زيادہ نھيں، جو خطرہ مسلمان كے دين كو رياست طلبي و مقام پرستي سے ھے۔
ليكن وہ مال و مقام جو اپني اور اپنے خانوادے كي زندگي كي بھتري نيز مخلوق خدا كي خدمت اور پرچم حق كو بلند و قائم كرنے اور باطل كو ختم كرنے كے لئے ھو، وہ قابل مذمت نھيں ھے بلكہ عين آخرت اور حق كي راہ ميں قدم بڑھانا ھے، شايد كبھي واجب بھي ھوسكتا ھے۔
امير المومنين حضرت علي عليہ السلام اپني پيوند زدہ اور بے قيمتي نعلين كي طرف اشارہ كرتے ھوئے ابن عباس كو خطاب كركے فرماتے ھيں:
((واللہ لھي احب الي من امرتكم الا ان اقيم حقا او ادفع باطل)) ۴۲
خدا كي قسم! يہ بي قيمت نعلين مجھے تمھارے اوپر حكومت سے زيادہ عزيز ھے مگر يہ كہ حكومت كے ذريعہ كسي حق كو قائم كرسكوں يا كسي باطل كو دفع كرسكوں۔
اس بنا پر اسلام ميں اپنے اور خانوادے كي معاشي زندگي كے لئے كوشش و تلاش كو راہ خدا ميں جھاد سے تعبير كيا گيا ھے۔
((الكاد علي عيالہ كالمجاھد في سبيل اللہ)) ۴۳
جو فرد بھي اپنے خانوادے كي امرار معاش كے لئے كوشش وسعي كرتا ھے وہ مجاھد راہ خدا ھے
دوسرے افراد كي خدمت گذاري كو بھي بھترين افعال ميں شمار كيا گيا ھے۔
((خير الناس انفعھم للناس)) ۴۴
بھترين فرد وہ ھے جس سے بيشتر فائدہ لوگوں كو پھنچتا ھے۔
ليكن منافقين كے اھداف فقط دنيا كے اموال، مناصب و اقتدار پر قبضہ كرنا ھے، دوسروں كي خدمت مدنظر نھيں ھے، اور اپنے اس پست و حقير مقصد كے حصول كي خاطر تمام اسلامي و انساني اقدار كو پامال كرنے كے لئے حاضر ھيں۔
مدينہ كے منافقين كا سرغنہ، عبد اللہ ابن ابي كا باطني مرض يہ تھا كہ جب اس نے اپني رياست كے دست و بازو قطع ھوتے ديكھے تو تمام خيانت كاري و پست فطرتي كا مظاھرہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و مسلمانوں پر كرنے لگا كہ شايد ھاتھ سے جاچكا مقام و منصب دوبارہ حاصل ھوجائے۔
منافقين كي دنيا طلبي كي شديد خواھش كي كيفيت كو قرآني آيات نے بخوبي بيان كيا ھے، قرآن كريم اكثر موارد پر اس نكتہ كو بيان كررھا ھے كہ منافقين اگر چہ ميدان جنگ ميں كوئي فعال كردار ادا نھيں كرتے ليكن جنگ ختم ھوتے ھي غنائم كي تقسيم كے وقت ميدان ميں حاضر ھوجاتے ھيں، اور اپنے سھم كا مطالبہ كرنے لگتے ھيں اس موضوع سے مربوط بعض آيات كو منافقين كي موقع پرستي كي بحث ميں بيان كيا جاچكا ھے۔
((
منافقين كي نفسياتي خصوصيت كي ساتويں كڑى، گناہ كي توجيہ و تاويل گري ھے اس سے قبل اشارہ كيا گيا ھے كہ منافقين كي تمام سعي لا حاصل يہ ھے كہ اپنے باطن اور پليد نيت كو مخفي كركے، اور جھوٹي قسميں كھاكر، ظواھر كي آراستگي كرتے ھوئے خود كو صاحبان ايمان واقعي كي صفوف ميں شامل كرليں۔
اگر چہ صدر اسلام ميں ايسا ممكن ھوسكا ھے ليكن ھميشہ كے لئے اپنے باطن كو مخفي نھيں ركھ سكتے چونكہ ان سے بعض اوقات ايسے افعال و اعمال صادر ھوجاتے ھيں كہ جس كي وجہ سے مومنين ان كے ايمان ميں شك كرنے لگتے ھيں لھذا منافقين، اس لئے كہ مسلمانوں كي نظروں سے نہ گر جائيں، نيز مسلمانوں كا اعتماد ان سے سلب نہ ھوجائے اپنے كردار اور برے افعال كي عام پسند توجيہ و تاويل كرنے لگتے ھيں۔
(فكيف اذا اصابتھم مصيبۃ بما قدمت ايديھم ثم جاؤوك يحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا و توفيقا اولئك الذين يعلم اللہ ما في قلوبھم فأعرض عنھم و عظھم و قل لھم في انفسھم قولا بليغا) ۴۵
پس اس وقت كيا ھوگا جب ان پر ان كے اعمال كي بنا پر مصيبت نازل ھوگي وہ آپ كے پاس آكر خدا كي قسم كھائيں گے كہ ھمارا مقصد صرف نيكي كرنا اور اتحاد پيدا كرنا تھا يھي وہ لوگ ھيں جن كے دل كا حال خدا خوب جانتا ھے لھذا آپ ان سے كنارہ كش رھيں انھيں نصيحت كريں اور ان كے دل پر اثر كرنے والي موقع و محل سے مربوط بات كريں۔
جھاد و معركہ كا ميدان ان مقامات ميں سے ھے جھاں منافقين حاضر ھوتے ھوئے بے حد درجہ خائف و ھراساں رھتے ھيں لھذا جھاد ميں شريك نہ ھونے كي خاطر (جھاد ميں عدم شركت عظيم گناہ ھے) عذر تراشي كرتے ھوئے تاويل و توجيہ كيا كرتے تھے ذيل كي آيت ميں ايك منافق كي جنگ تبوك ميں عدم شركت كي عذر تراشي اور تاويل كو بيان كيا گيا ھے۔
(ومنھم من يقول ائذن لي ولا تفتني الا في الفتنۃ سقطوا وان جھنم لمحيطۃ بالكافرين) ۴۶
ان ميں وہ لوگ بھي ھيں جو كھتے ھيں كہ ھم كو اجازت دے ديجئے اور فتنہ ميں نہ ڈاليے تو آگاہ ھوجاؤ كہ يہ واقعاً فتنہ ميں گر چكے ھيں اور جھنم تو كافرين كو ھر طرف سے احاطہ كئے ھوئے ھے۔
اس آيت كي شان نزول كے لئے بيان كيا گيا ھے كسي قبيلہ كا ايك بزرگ جو منافقين كے اركان ميں تھا رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے اجازت چاھي كہ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرے اور عدم شركت كي وجہ اور دليل يہ بيان كي كہ اگر اس كي نطريں رومي عورتوں پر پڑے گي تو ان پر فريفتہ اور گناھوں ميں مبتلا ھوجائے گا، پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اجازت فرمادي كہ وہ مدينہ ھي ميں رھے، اس واقعہ كے بعد يہ آيت نازل ھوئي جس نے اس كے باطن كو افشا كر كے ركھ ديا اور خداوند عالم نے اسے جنگ ميں عدم شركت كي بنا پر عصيان گر اور فتنہ ميں غريق فرد سے تعبير كيا ھے ۴۷، منافقين كے دوسرے وہ افراد جو جنگ احزاب ميں شريك نھيں ھوئے تھے ان كا عذر يہ تھا كہ وہ اپنے گھر اور مال و دولت كے تحفظ سے مطمئن نھيں ھيں، ذيل كي آيت ان كي پليد فكر كو فاش كرتے ھوئے ان كي عدم شركت كے اصل مقصد كو جنگ سے فرار بيان كيا ھے۔
(ويستاذن فريق منھم النبي يقولون ان بيوتنا عورة وما ھي بعورة ان يريدون الا فرارا) ۴۸
اور ان ميں سے ايك گروہ نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگ رھا تھا كہ ھمارے گھر خالي پڑے ھوئے ھيں حالانكہ وہ گھر خالي نھيں تھے بلكہ يہ لوگ صرف بھاگنے كا ارادہ كررھے تھے۔
بھر حال گناہ كي تاويل و توجيہ خود عظيم گناہ ھے جس كے منافق مرتكب ھوتے رھتے تھے بسا اوقات ممكن ھے منافقين سيدھے، سادے و زور باور و مومنين كو فريب ديديں، ليكن وہ اس سے غافل ھيں كہ خدا ھر اس شي سے جو وہ اپنے قلب كے اندر مخفي كئے ھوئے ھيں آگاہ ھے ان كو اس دنيا ميں ذليل و رسوا كرے گا اور آخرت ميں بھي دوزخ كے عذاب سے ان كا استقبال كيا جائے گا، يہ نكتہ بھي قابل ذكر ھے كہ منافقين كي تاويل و توجيہ كا سلسلہ صرف فردي مسائل سے مختص نھيں بلكہ اجتماعي و معاشرتى، ثقافتي اور سياسي مسائل ميں بھي تاويل و توجيہ كرتے رھتے ھيں كہ اس موضوع پر بھي بحث ھوگي۔
حواشی
۱۔ تصنيف الغرر الحكم، ص309۔
۲۔ سورہ بقرہ/34۔
۳۔ سورہ يس/15۔
۴۔ اصول كافى، ج2، ص312۔
۵۔ ميزان الحكمۃ، ج8، ص305، بحارالانوار، ج73، ص217۔
۶۔ بحار الانوار، ج90، ص263۔
۷۔ بحار الانوار، ج75، ص145۔
۸۔ مجموعہ ورام، ج1، ص57۔
۹ سفينۃ البحار، ج1، ص512، وسائل الشيعہ، ج18، ص375، بحار الانوار، ج28 ص12۔
۱۰۔ تفسير نور الثقلين، ج2، ص163۔
۱۱ سورہ زمر/17، 18۔
۱۲ بحار الانوار، ج69، ص399۔
۱۳۔ سورہ منافقون/5۔
۱۴۔ سورہ بقر/ 206۔
۱۵۔ سورہ بقر/11۔
۱۶۔ سورہ بقرہ/13۔
۱۷۔ سورہ منافقون/4۔
۱۸۔ بحار الانوار، ج67، ص364۔
۱۹۔ سورہ آل عمران/ 173، 171۔
۲۰۔ سورہ احزاب/19۔
۲۱۔ سورہ احزاب 32، 24۔
۲۲۔ سورہ رعد/28۔
۲۳۔ سورہ منافقون/4۔
۲۴۔ سورہ توبہ/56۔
۲۵۔ سورہ توبہ/64۔
۲۶۔ نظريۃ المعرفہ، ص319۔
۲۷۔ نھج البلاغہ، حكمت، 179۔
۲۸۔ ميزان الحكمۃ، ج8، ص484۔
۲۹۔ غرر الحكم، نمبر 8853۔
۳۰۔ سورہ بقرہ/18۔
۳۱۔ سورہ اعراف/179۔
۳۲۔ سورہ توبہ/93۔
۳۳۔ سورہ منافقون/3۔
۳۴۔ سورہ نساء/108۔
۳۵۔ سورہ نساء/142۔
۳۶۔ سورہ توبہ/54۔
۳۷۔ سورہ توبہ/54۔
۳۸۔ سورہ انفال/47۔
۳۹۔ سورہ محمد/16۔
۴۰۔ المحجۃ البيضاء، ج،6، ص، 112۔
۴۱۔ بحار الانوار، ج73، ص145۔
۴۲ بھج البلاغہ، خطبہ33۔
۴۳۔ بحار الانوار، ج96، ص324۔
۴۴۔ مستدرك الوسايل، ج12،ص391۔
۴۵ سورہ نساء/ 62، 63۔
۴۶ سورہ توبہ/49۔
۴۷ مجمع البيان، ج3، ص36۔
۴۸۔ سورہ احزاب/13

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.