دعا

1,668

آیات قرآنی میں دعا کی اہمیت
دعا کی اہمیت پر آیات قرآنی میں بیت زیادہ زور دیاگیاہے خدا تعالی اپنے بندے سے قرآن میں فرماتاہے :ادعونی استجب لکم تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کروں (سورہ اعراف ٥٥) تضرع اور مخفی طور پر خدا سے مانگو یقینا خدا تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا سینکڑوں ایات ایسی ہیں کہ جن میں خدا اپنی طرف دعوت دے رہاہے کہ میرے قریب ہونا چاہتے ہو اور مجھ سے تقرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعائوں کو سنتا بھی ہوں اور قبول بھی کرتاہوں :
واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب …..( سورہ بقرہ ١٨٣) اے میرے بندو مجھ سے سوال کرو ان سے کہہ دو کہ میں ان کے قریب ہوں اگر مجھے پکاریں تو میں ان کا جواب دونگا۔
خدا تعالی باربار دعا کرنے کی تاکید فرمارہاہے کہ مجھ سے ہر وقت دعا کرو میں تمہاری دعا کو سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتاہوں ۔
انسان دعا کرنے کی حالت میں خدا کی یاد میں ہوتاہے اور اس کی بارگاہ میں تضرع وگریہ کرتاہے کہ جو عبادت کی رسم ہے غنی مطلق کے سامنے خود کو عاجز قرار دیتاہے لھذا دعا ایک عبادت ہے بلکہ عبادت کی روح ہے اورآخرت میں اس کا اجر دیاجائے گا۔
دعا کی اہمیت کے متعلق خدا تعالی اپنے پیغمبر سے فرماتاہے: قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل قرب ثم انتم تچرکون (سورہ انعام ٦٤)
اے پیغمبر ان سے کہو کہ خدا تعالی تم کو ہر مشکل سے نجات دیتاہے پھر بھی تم خدا کا شریک ٹھراتے ہو بعض مفسرین کہتے ہیں : اس آیت میں چار چیزوں کی طرف اشارہ ہے۔دعا،حالت تضرعوخضوع، اخلاص ،اور شکر کرنا نجات کے وقت ( تفسیر نمونہ ج٥ص ٢٨٠)
بعض لوگ مشکل کے وقت خدا کو یاد کرتے ہیں لیکن جب مشکل دور ہوجائے تو خدا سے تکبر کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی قرآن مذمت کرتاہے : ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین ( سور ہ مومن ٦٠ )وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقرین ان کو جہنم میں ذلت کے ساتھ ڈالونگا،
دعا کی حقیقت
وہ لوگ جو دعا اور راز ونیاز کو بھول ہوئے ہیں وہ ایسی نامطلوب روانی واجتماعی امراض کے روبرو ہونگے کہ جس طرح معروف روانشناس العکس کارل کہتاہے:
جس قوم وملت میں دعا کا فقدان ہو وہ پستی وذلت کی طرف چلی جاتی ہے اور جس معاشرے میں دعا کا فقدان ہو وہ اکثر فساد وزوال پزیر ہوگی ۔البتہ اس مطلب کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دعا کے اوقات کے بغیر دعا کرنا ایسے ہے جیسے بغیر تیرکے کمان چلانا ۔اگرچہ دعا ہر وقت کی جاسکتی ہے لیکن قبولیت دعا کے اوقات کا اثر دعا کی قبولیت میں بہت مدخلیت رکھتاہے اور پھر دعا میں انتہائی توجہ اور خضوع وخشوع پیشگاہ ربوبیت میں قبولیت کے لیے بہت ضروری ہے پس دعا کی حقیت عادی اسباب میں مضمر ہے ۔
دینی ودنیوی امور کے حصول میں سعی وکوشش کے بعد خدا پر مکمل بھروسہ واعتماد دعا کی قبولیت کے لیے لازمی ہے اور دعا کا انسان کی روح سے بہت گہرا تعلق ہے اور دعا کو عبادت اکبر کے نام سے یاد کیا گیا ہے: الدعا عبادة اکبر( مہجة البیضاء ج٩ ص ٥٢٩ چاپ دار الکتب اسلامیہ ،تفسیر نمونہ ج١ص ٤٤٨ چاپ دار الکتب اسلامیہ )
بعض کا کہنا ہے کہ دعا رضا وتسلیم کے برخلاف ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ دعا ایک قسم کی قابلیت کا نام ہے کہ جو فیض الہی سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے اس بنا پر دعا سے غفلت نہیں برتنا چاہیے ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ خدا وند متعال نے دعا کرنے بڑی تاکید فرمائی ہے : قال ربکم ادعونی استجب لکم اور ان الزین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین (سورہ غافر آیت ٦٠) کہ خا فرماتاہے مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں اور وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں میں ان عنقریب جہنم میں ڈالونگا ۔
دعا کو ایک معنوی اسلہ کہا گیا ہے پیغمبر اکرم  ۖ کا فرمان ہے: الا ادلکم علی سلاح تنجیکم من عدوکم وتزداد ارزقکم ؟ قالوا نعم قال: تدعون باللیل والنھار فان سلاح المومن الدعا( منتھی القال ص١٦٧) حضرت  ۖ نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ایک ایسے اسلہ سے کہ جو تمہیں دشمن سے نجات دلائیاوت تمہارے رزق کی زیادتی کا باعث بنے؟ سب نے کہا ہاں یا رسول اللہ حضرت  ۖ نے فرمایا: رات دن دعا کرو کہ مومن کا اسلہ دعا ہے ۔
 روایات میں دعا کے اداب
دعا کے اداب میں سے ایک یہ ہے کہ بسم اللہ سے آغاز ہو بہت سی روایات میں اس کی تاکید موجود ہے یہاں اختصار کے ساتھ چند نمونے ذکر کرتے ہیں ۔
١۔ پیغمبر اکرم  ۖ فرماتے ہیں :لایرد دعا اولہ بسم اللہ …( بحار النوار ج٩٣ص ٣١٣) وہ دعا رد نہیں کی جاتی جس کے شروع میں بسم اللہ …ہو ۔
٢۔ کل دعا لایکون قبلہ تحمید فھو ابتر ۔امام صادق  ۖ فرماتے ہیںہر دعا جس سے پہلے حمد وثنائے باری تعالی نہ ہو وہ بدتر ہے (کافی ج٢ص ٣٠٥)
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قبل از دعا ذکر الہی انجام دیاجائے کیوں؟اس لیے کہ خدا تعالی فرماتا ہے ہر کام ذکر الہی سے شروع کیا جائے بہت سی روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ بسم اللہ اور حمد وثنا سے جو کام شروع ہو اس میں برکات والطاف الہی ہوتا ہے
٣۔دعا میں جہاں پر اللہ کے نام سے شروع ہووہاں روایات میں اس کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ محمد وآل محمد پر درود بھیجا جائے کہ جو بارگاہ الہی میں ہمارے ویسلہ نجات ہیں امام موسی کاظم   فرماتے ہیں: اے اللہ میں تجھ سے درخواست کرتاہوں محمدوآل محمد کا واسطہ دسے کر کیونکہ وہ بزرگان آپ کے نزدیک مقام ومنزلت رکھتے ہین پس ان کا مقام اور ان کی شان ومنزلت کے صدقہ میں میری حاجت پوری فرما( ینابیع الحکمة ج٢ص ٣٢١،بحار الانوار ج ٩٣ ص ٧٧ ،صحیفہ مھدیہ ص٣٥)
٤۔ آداب دعا میں سے مہم ترین یہ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے بارے میں اچھا حسن ظن رکھا جائے خدا فرماتا ہے : ادعونی استجب لکم (سورہ غافر آیت ٦٠) مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں خدا کا وعدہ تخلف پزیر نہیں خود قران میںہے :ان اللہ لو یخلف المیعاد یا لا یخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لایعلمون (سورہ روم آیت ٦ جس طرح خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا حالانکہ وہ بے نیاز ومہربان ورحیم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
٥۔ حسن ظن کے علاوہ دعا کی قبولیت میں جلدی نہ کی جائے اور دعا کرنے سے دست بردار نہ ہوں تاخیر کی علت اس میں زکر کی کی جاچکی ہے
٦۔ دعا کی قبولیت کے عوامل میں سے ایک مئوثر عامل یہ ہے کہ گناہ کا اعتراف کرنا روایت امام صادق   میں ؛انما الماھی المدحة ثم الاقرار بذنب ثم المالہ واللہ ما خرج عبد من ذنب لا بالاقرار (بحار الا نوار ج ٩٣ ص ٣١٨)
دعا میں پہلے مدح و ثنا پروردگار پھر گناہ کا اعتراف پھر اپنی حاجت طلب کی جائے پس خلاصہ یہ ہیت بعد از قرار گناہ توبہ کے بعد اپنی حاجت چاہے دنیوی ہو یا اخروی خدا سے چاہے کہ وہ قبول کرے یہ چاہنا کس سے ہو کس لیئے اور کس طرح داعی ہو امام صادق    فرماتے ہیں : دعا کے آداب کی رعایت کرو اور یہ دیکھو کہ کس سے دعا کر رہے ہو اور کس کو یاد یاد کر رہے ہو کس طرح پکار رہے ہو کس لیئے دعا کر رہے ہو اسکی عظمت و برزگی کو اپنی نگاہ میں رکھ کر دل میں توجہ کرو تو اندر سے راز سے آگاہ ہو گے کہ وہ تمھاری حالات سے آگاہ ہو جو کچھ حق و باطل تم میں پوشیدہ ہے وہ جانتا ہے اپنی نجات و نابودی کی راہ کو پہنچان لو تا کہ خدا کو کسی ایسی چیز کیلئے نہ پکارا جائے کہ جو باعث نابودی ہو تم خیال کرتے ہو تمھاری نجات اس میں ہے فکر کرو خود سے پوچھو پس دعا کی شرائط کی رعایت نہیں کی تو پھر اسکی استجابت کی توقع نہ رکھو کیونکہ پوشیدہ راز سے واقف ہے بعض اصحاب سے بعض سے کہا کہ تم خدا سے بارش برسنے کی امید رکھتے ہو لیکن انکے خلاف کام کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ بارش برسنے کے جائے پتھر برسیں ( محجة البیضاء ج٢ ص ٣٥٨) ]
مشکلات فردی واجتماعی کو حل کریں
مکن کلارک مسیحی کہتاہے: دعا انتقال فکر کی سطح عمیق ہے یعنی دعا کی سطح ایسی گہری اور عمیق ہے کہ ہم سب اپنے پروردگار کی طرف متوجہ اور متمائلہوجاتے ہیں (دعا بزرگترین نیروی جہان ص٥٤)
اس بناپر دعا انسان کی فکر وقلب پر ایسے درواے کھول دیتی ہے کہ فکر واندیشہ مغز میں تازگی کا احساس کرتی ہے یہاں ہپر ہے کہ مشکلات وامراض کا علاج آسان ہوجاتاہے ہرگز انسان درماندہ وپریشان نہیں کج اندیشی وکج فکری سے محفوظ ہوجاتاہے۔
ڈاکٹر لاباخ کہتا ہے جب دعا کرو کاغذ قلم ہاتھ میں رکھو جب خدا سے راز و نیاز کرتے وقت زہن میں کوئی چیز اآئے تو لکھ لو بعد کام آئے گی ( دعا بزرگترین نیروی جہان ص ٦٢)
دعا اور تقویت ارادہ
آثار دعا میں سے ایک تقویت ارادہ اور نفس کو نیکی کی تلقین کرنا ہے بنیادی طور پر ہر ایک انسان ترقی کے مراتب ( مادی و معنوی ) چاہتا ہو کہ طے کرے تو قوی ارادہ روح ملکات کا آخری مرتبہ ہے ۔
اگر کسی کا ارادہ کمزور ہو پھر کوئی فرصت نہیں کہ وہ ترقی کے منازل کو طے کرے بلکہ روز برو پستی کی طرف گرتا چلا جائے گا لھذا وہ قوم جس کے ارادہ قوی نہیں وہ اجتماعی منافع و ترقی کی منازل سے محروم ہے جیسے کشتی بغیر نا خدا کے ھوا کے تھپیڑوں سے موج کی نزر ہو جاتی ہے جیسے اسی طرح قوم بھی حوادث زمانہ کی مخالف ہواؤں سے شکستہ و متفرق ہو کر معدوم ہوجاتی ہے ۔
ڈاکٹر الکسیس کارل کہتا ہے کہ عبادت بزرگترین طاقت و نیرو ہے کہ انسان اس نیرو کے ذریعہ قوت جاذبہ پر غلبہ پا لیتا ہے ڈاکٹری دنیا میں میں نے دیکھا ہے کہ تمام علاج و معالجات سودمند نہیں واقع ہوئے بیماروں کی بیماری عبادت و دعا کے ذریعہ درمان و علاج ہوسکی (انسان موجود نا شناختہ آئیں زندگی  ص ١٩٧)
دعا وکوشش
بعض لوگ اس عقیدہ پر ہیں کہ تنھا دنیا کی برائیوں کو ختم کرنے کی راہ بغیر کوشش و سعی کے ہے فقط رحمت پروردگار کو مد نظر رکھا جائے اور منتظر رہے کہ خدا اسکی مشکلات برطرف کردے اس نظریہ کو رفورم نے ایجاد کیا ہے اور یہ نظریہ کاملاً باطل ہے کیونکہ اگر خداوند کہتا سب کاموں کو انجام دیتا اور انسان کو ئی کام نہ کرتا تو پھر اس زندگی کا کیا فائدہ ہوتا ؟
    اولیاء کی سیرہ دعا کے آداب
انبیاء و اولیاء کہ خدا کے نیک بندے دعا کے وقت خدا کی ربوبیت کی طرف بہت توجہ دیتے ہیں اور دعا کے وقت خدا سے کلام لفظ ربنا  ربی سے شروع کرتے ہیں جیسا کہ درج ذیل انبیاء کی دعا میں ہے  ۔
حضرت آدم    نے فرماتے ہیں: ربنا ظلمنا انفسنا (سورہ اعرافب آیت ٢٣)      
حضرت نوح     کہتے ہیں : ربنا اغفرلی ولوالدی ( تفسیر نمونہ ج٢ ص ٣٣)
حضرت ابراھیم    : رب اغفرلی ولوالدی وللمومنین ( سورہ ابراھیم ٤١)
حضرت یوسف   : رب قد اتیتنی من الملک ( سورہ یوسف ١٠١)
حضرت موسی   : رب بما انعمت علی …..( سورہ قصص ١٧)
حضرت عیسی    : ربنا انزل علینا مائدة من السماء ( سورہ مائدہ ١٢٤)
حضرت محمد  ۖ فرماتے ہیں : ربنا اعوذ بک من ھمزات اشیاطین ( سورہ مومنون  ٩٧)
اللہ تعالی کا مبارک نام اللہ جوان سب ناموں میں صفات جامع ہے لیکن مناسبت کی بنا پر ربنا یا ربی ربوبیت کا ذکر کیا ہے ۔
آیات میں آداب دعا :
مختصر طور پر قرآن آیات میں دعا کے آدا ب کو ذکر کرتے ہیں خداوند متعال فرماتا ہے : ربنا وادخلھم جنات عدن التی و عدتھم و من صلح من ابائھم و ازواجھم و ذریاتھم و انک انت العزیز الحکیم .
فرشتے خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ان کو جنت عدن داخل فرما کہ جن سے تیرا وعدہ ہے کہ وہ نیک ہیں اور انکے باپ و بیویاں ، اولاد اور تو غالب و حکمت والا ہے ( سورہ مومن آیت ٨ تفسیر نمونہ ج٢ ص ٣٠)
حقیقت میں خدا کا وعدہ اور بشارت نیک لوگوں کیلئے ہے کہ جو بار بار خدا نے اپنے انبیاء سے وسیلہ سے لوگوں کو حکم دیا اہم یہ ہے کہ نیک لوگ حکم خدا کے آگے سر تسلیم اور سعی و کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے احکام کو قبول کریں اور اس پر عمل پہرہ ہوں ۔
انبیاء کا ذکر تھلیل اور اسکی قدر وقیمت
اولیاء خدا جب دعا کرتے تھے تو اپنی توجہ کا مرکز خدائے متعال کو قرار دیتے ۔
اگر چے اللہ لفظ جامع جمیع صفات ہے لیکن لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ کا ورد اولیائے خدا کی زبان کا ورد رہا ہے اور اس ذکر کو بہت اھمیت دیتے تھے اس بیان کے ساتھ کہ رسول خدا  ۖ فرماتے ہیں ۔
افضل ما قلتہ انا والنبیون من قبلی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ بہترین چیز کہ جو مجھ سے پہلے والے انبیاء کہتے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ کوئی خدا نہیں سوائے اللہ وحدہ لا شریک کے ( محجة البیضاء ج٢ ص ٢٧١)
اس مطلب پر تاکید کیلئے ایک اورحدیث کہ امام صادق    رسول خدا  ۖ سے نقل کرتے ہیں  :
قال رسول اللہ ثمن الجنة قول لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ( محجة البیضاء  ج٢ ص ٢٧١)
رسول خدا   ۖ فرماتے ہیں جنت کی قیمت جملہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ہے یہ کلمہ توحید ہے اسکی اس لئے تاکید کی گئی ہے کہ یکتا پرستی و خدا سے اخلاص کی دلیل ہے ۔
فرق پیغمبر اکرم  ۖ اور دوسرے انبیاء کی دعاؤں یہ ہے ۔
پہلی دعا سورہ بقرہ کے آخر میں آیت ٢٨٥ ہے ۔
امن الرسول    ………
یہ دعا چند خصوصیات کی حامل ہے   ایک یہ ہے کہ سب فرشتوں کا احترام کریں رسول خدا  ۖ کا اقرار یہ ہے کہ تمام پیغمبروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اگر چے بعض کو بعض پر فضیلت ہے انجام تبلیغ کے لحاظ سے پھر ایک کی ذمہ داری الگ ہے جیسے خدا نے کسی کو خلیل اللہ کسی کو کلیم اللہ کسی کو حبیب اللہ فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام وظیفہ و تبلیغ میں ہر ایک کا ایک الگ مقام ہے ۔
ورنہ پیغمبر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہم رسول خدا سے یاد کریں کہ کس طرح انہوں نے خدا تعالی کی بارگاہ میں دعا کی ہے : قالوا سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر ہمیشہ کہیں کہ خدایا ہم تیرے مطیع و اطاعت گزار بندے ہیں
تاکید ذکر جمعی روایات
زندگی میں کوئی مفہوم نہیںاگر اللہ تعالی ایک آسمانی خدمتگزار (بشر ) کو محدود بنادیتا جبکہ خدا نے ہم عقل وفکر عطا کی ہے کہ اس فکر کے ساتھ کام کے لیے ہاتھ پائوں اور دیگر اعضاء عطا فرمائے تاکہ سعی وکوشش کرے (السعی منا والاتمام الی اللہ) ہمارا کام ہے کوشش اور منزل ومقصود تک پہنچانا اس کاکام ہے یعنی ہمارا کام ہے عبادت کرنا اور اپنے امور کو انجام دینا اگر فقط دعا ونماز ہی ہوتی تو پھر فعالیت کا کوئی معنا ومفہوم نہ رہتا نماز ودعا کوشش وفعالیت کے لیے لازم وملزوم بنتے ہیں کہ پہلے عی وکوشش کریں پھر دعا کریں پھر اپنے امور کو خدا کے سپرد کردیں وہ ہمیں اس کی جزا وپاداش دے گا اور سعی وکوشش کے بعد وہ ہماری دعا بھی قبول فرمائے گا اگر سعی وکوشش کی بجائے دعا کی جائے پھر اس کو ئی مفہوم نہیں رہتا (ندای سیاہ مارتین لوتر کینگ ص ٢٠ تا ٢٠٣)
امام صادق    فرماتے ہیں : خدا نے بندوں پر مقدر کیا ہے کہ اپنے مقاصد کے لیے اسباب فراہم کریں کہ جو مقاصد تک پہنچنے کے اسباب ہیں انہیں فراہم کیا جائے خدا نے اس چیز کا امر کیا ہے ( بحار الانوار ج ٢ص ٩٠ ح١٥)
ایک اور حدیث میں ہے کہ سنت الہی اس چیز سے متعلق ہوتی ہے کہ ہر چیز اپنے اسباب سے جاری ہو اس بنیاد پر خدا نے اس جہان میں ایک سبب قراردیاہے ہر سبب کے لیے حکمت ہے ہر حکمت کے لیے علم ہے اور ہر علم کے لیے ایک گویا اور بولنے والا دروازہ قراردیاہے (مجمع البحرین مادہ سبب) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعا لازم وضروری ہے لیکن حرکت وکوشش وعمل بھی انسان کی طرف سے ضروری ولازم ہے بہرحال دعا کے وقت انسان جب خدا سے کلام کرتاہے تو خدا سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے آثار وبرکات خدا فقط خیال نہیں ہیں ۔
روایات میں ذکر جمعی کی تاکید
اجتماعی ذکر کا راز پہلے لکھ دیا ہے اس پربہت سی آحادیث دلالت کرتی ہیں اس اجتماعی ذکر پر مزید توجہ کے لیے ایک اور حدیث ذکرکرتے ہیں
امام صادق   فرماتے ہیں کوئی ایسی مجلس نہیں ہے کہ جس میں نیک لوگوں کو یاد کیا جائے لیکن خدا کی یاد اس میں نہ ہو مگر یہ کہ وہ لوگ قیامت کے دن افسوس کریں گے کہ کاش ہم اللہ کا ذکر کرتے اور اللہ کو یادکرتے( المحجة البیضاء ج٢ص ٢٧١کد ٣٧٠٤١کتابخانہ حضرت معصومہ ،المصدر ج٢ص ٤٩٦)
رسول گرامی  ۖ فرماتے ہیں کوئی ایسیقوم نہیںکہ جو جمع ہو مگر یہ کہ فرشتے اس مجلس میں شریک ہوتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو اور رحمت الہی اس مجلس کو گھیر لیتی ہے اور ان کو خدا کے مقربین میں شمار کیاجاتاہے پس اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی عبادات ونماز ودعا اور اہلبیت پر درود وسلام بہت موثر ہے اور دعائوں کے قبول ہونے کا بہترین ذریعہ ہے اس لئیے معصومین نے اجتماعی دعا کرنے پر تاکید کی ہے جیسے دعائے کمیل ودعائے ندبہ ودعائے عرفہ وغیرہ ہیں خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اجتماعی دعا میں شامل ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین۔
آخرت کے ذکر کی تاکید
قال رسول اللہ  ۖمن احب ان یرتع فی ریاض الجنة فلیکثر ذکر اللہ وسئل ای الاعمال افضل ؟ فقال ان تموت ولسانک رطب بذکر اللہ
رسول خدا  ۖ فرماتے ہیں جوچاہتاہے کہ جنت میں رہے اور اس کی سیر کرے اسے چاہیے خدا کا بہت زکر کرے حضرت سے سوال ہوا افضل عمل کیا ہے؟ فرمایا: موت کو بہت یاد کرنا اور اپنی زبان کو زکر الہی میں مشغول رکھنا یا اس طرح فرمایا: افضل عمل یہ ہے کہ اس حال میں رہو کہ تم مررہے ہو تو خدا کی یاد میں زکر کی حالت ہو۔
روایات میں ذکر الہی کی تاکید پر بہت زور دیاگیاہے لیکن اجتماعی دعائوں میںشرکت پر اس سے زیادہ تاکید ہے اسی مطلب کا راز یہ ہے کہ جماعت میں کرامات ہیں کہ نماز باجماعت اور نماز جمعہ اور عیدین وغیرہ میں دعا جلدی قبول ہوتی ہے اور مشکلات حل ہوتے ہیں معلوم نہیں کہ کس کی آمین کہنے سے دعائیں قبول ہوں ،اجتماعی ذکر کی بڑی اہمیت ہے کہ امام  فرماتے ہیں : ان ابی عبد اللہ قال ما جتمع فی مجلس قوم لم یزکر اللہ ولم یزکرون الا ما کان ذلک المجلس حسرة علیھم یوم القیامة۔
امام صادق  ۖ فرماتے ہیں جس مجلس میں اللہ کا ذکر اور ہمارا ذکر نہ ہو وہ مجلس قیامت کے دن حسرت وافسوس کرے گی پس جس طرح پہلے ذکر کیا ہے کہ آئمہ کا رسول اللہ کا ذکر ہے اگر کوئی ان کو یاد نہیں کرتا وہ اپنا نقصان کررہاہے یہ اہل ذکر ہیں ان کے ذکر سے خدا کا ذکر ہوتاہے ان کی یاد سے اللہ کی یاد ہوتی ہے اجتماعی ذکر تب مفید ہے کہ اہلبیتعصمت وطہارت کا ذکر کیا جائے دنیوی واخروی مشکلات کا یہ حل ہیں اور قیامت کی حسرت سے ان کا ذکر بچاتاہے (المحجة البیضاء ج٢ص ٢٧١ ،المصدر ج٢ص ٤١٦)
روایات میں مطلق ذکر
ولذکر اللہ اکبر ابن عباس نے اس کی دو وجھیں بیان کی ہیں احدھا ذکر اللہ لکم اکبر من ذکرکم ایاہ والاخران ذکر اللہ اکبر من کل عبادة سواہ یعنی اللہ کا ذکر تمہارے ذکر سے اکبر ہے اور دوسرا اللہ کا ذکر اللہ کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بڑا ذکر ہے اس آیہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں تمہارا خدا کو یاد کرنا بہت بڑا ذکر انجام دینا ہے ۔تم زمین پر اسے یاد کرو وہ ملاء اعلی پر تمہیں یاد کرتاہے فاذکرونی اذکرکم (المحجة البیضاء ج٢ص ٢٦٦ ،المصدر ج٢ص ٥٠١)
ایک اور حدیث میں ہے کہ خدا فرماتاہے جو بھی مجھے پوشیدہ طور پر یاد کرے گا میں اسے آشکارا اور ظاہری طور پر یاد کرونگا( المحجة البیضاء ج٢ص ٢٦٦ ،المصدر ج٢ص ٥٠١)
 دنیا وآخرت میں ذکر کی تاکید
انسان کے لیے ضروری ہے کہ دنیوی واخروی امور میں خدا کے ذکر کو نہ بھولے احکام ،اوامر اور دعا خدا تعالی کا محتاج ہے بلکہ محتاج کل ہے اور بے نیاز کل ہے استغفار ہو یا کوئی حاجت انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اس کا ذکر کرے حدیث میں ہے :
قال ابی عبد اللہ قال رسول اللہ  ۖ من اکثر ذکر اللہ احبہ اللہ ومن ذکر ذکر اللہ کثیرا کتب لہ برائتان برائة من النار وبرائة من النفاق
امام صادق   فرماتے ہیں : کہ رسول خدا نے فرمایا: جو بھی خدا کو بہت یاد کرے خدا اسے دوست رکھتاہے اور جو بہت خدا کا ذکر کرتاہے خداتعالی اسے دو چیزوں سے امان عطاکرتاہے ایک جہنم سے اور دوسرا نفاق جیسی موذ مرض سے (المحجة البیضاء ج٢ص ٢٦٨۔المصدر کد ٤١ ٠ ٣٧ کتابخانہ حضرت معصومہ  )
ایک اور حدیث میں ہے :قال رسول اللہ من اعطی لسانا ذکرا فقد اعطی خیر الدنیا والاخرة جس کو خدا نے یادکرنے والی زبان عطا کی اس کو خیر دنیا وآخرت عطا کیا ہے ( لمحجة البیضاء ج٢ص ٢٦٩۔المصدر ص ٤٩٨ کد ٤١ ٠ ٣٧ کتابخانہ حضرت معصومہ  )
مصداق ذکر خدا
خدا تعالی قرآن میں فرماتاہے: خدا کو یاد کرواس ذکر سے کیا مراد ہے ؟سب سے پہلا اور مہم ذکر خود قرآن مجید ہے کہ جس کی حفاظت کی سند یوں ہے انا نحن نزلنا الزکر وانا لہ لحافظون(سورہ حجرات آیت ٩) ذکر خدا خود قرآن ہیپس خدا کی یاد میں رہیں یعنی قرآن سے تمسک کریں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں ۔
ایک اور مصداق ذکر خدا کا انبیائے الہی ہیں قرآن میں باربار ذکر ہوا ہے واذکر اسماعیل والیسع وذکر الکفل وکل کان من الاخیار (سورہ ص آیت ٤٨)
اذکر عبادنا ابراھیم واسحاق ویعقوب اولی الایدی والابصار(سورہ ص٤٥)
ان آیات میں خداتعالی نے ہمیں دستور دیاہے کہ انبیاء کو یاد کریں اور ان کی سیرت پر چلیں اور ان کی یاد خدا کی یاد ہے جیسا کہ خود قرآن میں ہے ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی خدا تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ رسول تک پہنچیں اور رسول تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ امام تک پہنچیں ان کی یاد اللہ کی یاد ہے ان کا ذکر اللہ کا ذکر ہے یہ ذکر خدا کے کامل مصداق ہیں خدا تعالی نے انہیں صاحبان ذکر کہا ہے قرآن ذکر ہے اور یہ صاحبان ذکر ہیں جیسا کہ اس آیت میں رسول خدا ۖ اور اہل بیت رسول خدا ۖ کو اہل ذکر کہا گیا ہے: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ذکر خدا کے حقیقی مصداق اہل بیت رسول خدا ۖ ہیں ۔
مصداق ذکر میںسے ایک ذکر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر ہے اس طرح کے اور بھی اذکار ہیں پھر یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ کون اس ذکر کو ورد زبان رکھتے ہیں بہرحال انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر حالت میں یاد وذکر الہی میں رہے بہت سی روایات میں آیاہے ولذکر اللہ اکبر سب سے بڑا ذکر ذکر خدا ہے اس جملہ سے عملی ذکر نماز ہے کہ جو انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے اور خدا کی نسبت حضور قلب پیدا ہوتاہے ۔
انفرادی ،اجتماعی دعا کے آثار
١۔ خدا سے رابطہ
دعا کے آثار وبرکات میں سے ایک خدا سے سب امور میں رابطہ رکھنا اس مطلب کی وضاحت کے لیے ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں :اٰیک بیابان میں دریا کے قریب ایک پانی کا حوض ہو اگر ایک مدت تک یوں ہی دریا سے الگ رہے تو بدبو دار ہوجائے اور سور ج کی گرمائش سے ختم ہوجائے یا بخار بن کر نابود ہوجائے گا لیکن اگر دریا سے متصل ہو یا خود کو جب دریا سے ملادے تو پھر وہ پانی گندے ہونے اور معدوم ہونے سے بچ سکتاہے اور نجاست بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتی اب اگر معنوی امور میں اس دعا کو اہمیت دیں تو وہ انسان جو سب امور میں محدود ہے خود کو باطنی طور پر نامحدود سے متصل کردے تو پھر مظھر جمال وکمال پروردگار بن جائے اس پر پھر حوادث زمانہ اثر انداز نہیں ہوسکتے جیسے اس کی بہترین مثال امام حسین    کا کربلا میں آنا اور مصائب ومشکلات کے روبرو ہونا جب سخت سے سخت مرحلہ تک پہنچے تو چہرے پر پروردگار سے نزدیک ہونے خوشی ومسکراہٹ نمایاں ہوتی چلی گئی ۔
٢۔ روح کے لیے ارام وسکون
دعا کے مہم آثار میں سے ایک روح وقلب انسان دعا کے ذریعہ اطمینان حاصل کرتاہے تمام ترقی وتمدن زور لگالیں معنویت روحی کی نسبت کوئی ترقی حاصل نہیں کرسکتے اضطراب وپریشانی روحی اس وقت ختم ہوسکتی ہے کہ جب اسے اس کی غذا مل جائے اور وہ دعا اور خدا کی بارگاہ میں تضرع جیسا کہ قرآن میں ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کہ ذکر خدا سے قلب وروح کو اطمینان حاصل ہوتاہے۔
ڈیل کارنگی کہتاہے کہ مذہب پر ایمان صبر وشیکبائی کا باعث ہے جب اضطراب ونگرانی ستائے تو پھر کس لئیے خدا کی بارگاہ میں رجوع نہ کریں؟
کانٹ المان کے فلسفہ دان کہتے ہیں کہ خدا سے توسل کرو کیونکہ اگر بے دین ہو تب بھی خدا کی طرف رجوع کرنے کے سوا چارا نہیں بلکہ ہرحال میں سب خدا کے محتاج ہیں تو پس آپ کی دعا اس حال میں مفید ہے کہ جب دین خدا پر رہو میری نظر میں خدا کی طرف رجوع کرنا ،دعا کرنا اس کی یاد میں زندگی گزرنا رواشناسی کے تین اصول ہیں چاہے مشرک ہو یا دیندار، دعا کے ذریعہ ہی مشکلات ومصائب کو خود سے دور کیا جاسکتا ہے۔
١۔دعا ہماری مدد کرسکتی ہے جب ہم اپنی مشکلات کو اپنی زبان پر لائیں ۔
٢۔ دعا کے اثر سے ہمیں یہ احساس ہوتاہے کہ ہم نے اپنا شریک غم پیدا کرلیا ہے اور ہم تنہا نہیں ہیں۔
٣۔ دعا انسان کو سعی وکوشش پر ابھارتی ہے ۔
٤۔ دعا پہلا عملی قدم کہ جس کے ذریعہ انسان اپنے ھدف کو پاسکتاہے جب تک اپنے ھدف کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا اسوقت تک نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
٥۔ دعا انسان کو خدا سے راز ونیاز کرنے سلیقہ سکھاتی ہے کہ کیسے اس کی بارگاہ میں اپنی تمنا کا اظہار کیا جائے۔
الکیسس کارل کہتا ہے کہ دعا بڑی طاقت ہے انسان اس سے کچھ کرسکتا ہے پس کس لئیے اس سے فائدہ حاصل نہ کریں۔
حرم امام حسین    
دعاؤں کے لئے حضرت کا حرم تمام مقامات سے بہتر و افضل ہے حضرت امام جعفر صادق     فرماتے ہیں جب کسی کو کوئی حاجت ہو تو حرم امام حسین    میں جائے اور حضرت کے سرہانے کھڑے ہو کر کہے۔
یا ابا عبداللہ ، اشھد انک تشھد مقامی ، و تسمع کلامی ، و انک حی عند ربک ترزق ، فاسال ربک و ربی فی قضاء حوائجی
اے مولا میں گواہی دیتاہوں کہ آپ میری حیثیت سے با خبر ہیں اور میرے کلام کو سن رہے ہیں اور زندہ ہیں اور رزق خدا سے بہرہ مند ہیں اپنے اور میرے رب سے سفارش کردیجئے کہ میری حاجت کو روا فرمادے ۔
بند و ظیفہ
ایک شخص کا وظیفہ بادشاہ کی طرف سے مقرر تھا کسی وجہ سے اس کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، یہ شخص امام علی نقی     کی خدمت میں پہنچا اور حضرت وسے عرض کیا کہ جب آپ کا بادشاہ کے پاس جانا ہو تو میرے لئے سفارش کردیجئے گا ۔
اسی شب بادشاہ کا فرستادہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ بادشاہ نے تجھے بلایا ہے جس وقت یہ شخص دربار میں پہنچا بادشاہ نے نہایت عزت و احترام سے اپنے پہلو میں ٹھلایا اور نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا اور خرانچی کو حکم دیا کہ جتنے دونوں کو وظیفہ رکا ہے اس کو دیا جائے یہ شخص ہنسی خوشی اپنے گھرلے کے چلا راہ میں اسی فرستادہ سے ملاقات ہوئی جو لینے آیا تھا اس نے اس شخص سے کہا حضرت امام علی نقی     سے کہنا جو دعا تمھارے لئے کی ہے مجھے بھی تعلیم فرمائیں ۔
یہ شخص ہشاش بشاش گھر پہنچا اور پھر امام  کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے جس وقت اس کو خوش و خرم پایا فرمایا معلوم ہو تا ہے مرا دحاصل ہو گئی ۔
اس نے جواب دیا جی ہاں ۔
پھر اس نے حضرت سے عرض کیا مولا آپ بادشاہ کے یہاں تو گئے نہیں تھے سفارش کیونکہ فرمائی ۔
حضرت نے فرمایا ۔
خدائے تعالی نے ہم لوگوں سے عہد لیا ہے کہ ہر مشکل میں اس کے علاوہ کسی کی طرف رجوع نہ کروں اور اس کے علاوہ کسی سے سوال نہ کروں لہذا ڈرا کہیں ایسا نہ ہو جب میں اپنے انداز کو بدل دوں تو وہ اپنے وعدے سے منصرف ہو جائے ۔
پھر اس شخص نے دربان کی گفتگو نقل کی حضرت نے جواب میں فرمایا کہ دربان بظاہر اپنے کو ہمارا دوست بتا تا ہے لیکن اس کا باطن ہماری محبت شرط ہے ، رہا مسئلہ اس دعا کا تووہ دعا یہ ہے جس کو میں نے جب بھی کسی اہم مشکل کے وقت پڑھا میری ھاجت خدا وند تعالی نے روا فرمائی اور میں نے حضرت احدیت سے دعا کی ہے جو بھی میری قبر پر اس دعا کو بڑھے خدا اس کی دعا کو مستجاب فرمائے ۔
یا عدتی عند العدد ، و یا رجائی و المعتمد و یا کھفی وا لسّند ، و یا واحد ، یا احد ، و یا قل ھو اللہ احد اسالک اللھم بحق من خلقہ من خلقک و لم تجعل فی خلقک مثلھم احدا ان تصلی علیھم و ان تفعل بی کذا و کذا۔
اپنی حاجت طلب کرے۔
اے میری ضعیفی کے سرمائے ، اے میری امید و اعتماد اے میری پناہ گاہ و سہارے ، اے واحد واحد ، اے وہ جس کی شان میں قل ہو اللہ احد ہے بار الہا تجھے تیرے ان بندوں کا واسطہ جن کا مثل و نظیر تونے پیدا نہیں کیا ان ذوات پر درود بھیج اور میری حسب ذیل حاجتوں کو روا فرما۔
نکتہ ۔ حضرت کا یہ ارشاد کہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے ہماری محبت یہ صرف دعا کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر عمل قبولیت کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر عمل کی قبولیت کے لئے ولایت محمد و آل محمدعلیہم السلام ضروری و شرط ہے ۔
محمد بن مسلم کا بیان ہے حضرات امام محمد باقر اور جعفر صادق علیہا السلام فرماتے ہیں ۔
ہم اہلبیت    کی مثال اس گھر کی ہے جو بنی اسارائیل کے درمیان تھا جب بنی اسرائیل میں کسی کو کوئی حاجت در پیش ہوتی تو وہ چالیس روز تک عبادت کرتا ، گناہوں سے بچتا تب اس کی دعائیں قبول ہوتیں ۔ اس زمانے کے ایک آدمی نے خوب عبادت کی گناہوں سے بچا لیکن جب دعا کرتا تو اس کی دعا قبول نہ ہوتی اس نے حضرت عیسی    سے شکایت کی حضرت مسیح نے وضوکیا نماز پڑھی اور خدا سے دعا کی وحی آئی اے عیسی    دعا کرتے کرتے اگر اس کی گردن خشک ہو کر ٹوٹ جائے اور ہاتھ کی انگلیاں پارہ پارہ ہوجائیں تو بھی اس کی دعا قبول نہیں کروں گا کیوںکہ اس نے اس راہ کو چھوڑ دیا ہے جس سے دعا کرنا چاہئے تھا ۔ یہ مجھ سے دعا کر رہا ہے اور تمھاری نبوت میں اس کو شک ہے حضرت عیسی نے جب اس کو اس کے راز دل سے با خبر کیا تو اس نے اقرار کیا اور کہا کہ آپ خدا سے یہی دعا فرمادیں کہ میرے دل سے اس شک کو بر طرف فر مادے حضرت عیسی    نے اس کے حق میں دعا فرمائی خدا نے فضل فرمایا اور اس کے دل سے شک و شبہ زائل ہو گیا ۔
ہم اہلبیت    کی بھی یہی حیثیت ہے خداوند عالم صرف ان بندوں کے اعمال کو قبول کرتا ہے جو ہماری رہبری کا یقین رکھتے ہیں ۔
صدقہ
حضرت امام زین العابدین    کا طریقہ تھا کہ جب صدقہ دیتے تو اپنے ہاتھوں کو چومتے جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا ۔
صدقہ فقیر کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے خدا کے ساتھ میں پہنچتا ہے ۔
حضرت امیر المومنین    فرماتے ہیں ۔
جب تم میں سے کوئی فقیر کو کچھ دے تو اپنے ہاتھوں کے چومے چونکہ صدقہ سائل کے ہاتھ سے قبل خداوند عالم کے ہاتھ میں پہنتا ہے ۔ خدا صدقات کا وصل کرنے والا ہے ۔
آنحضرت    ۖ  کا ارشاد ہے ۔
صدقہ فقیر کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتا ہے پھر حضرت نے اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقات کو وصول کرتا ہے اور وہی بڑا توبہ کا قبول کرنے والا ہے ۔ ( سورہ توبہ آیت ١٠٤ )
حضرت امام جعفر صادق    فرماتے ہیں ۔
حضرت باری تعالی کا ارشاد ہے میں نے ہر عمل خیر کا کسی نہ کسی کو وکیل قرار دیا ہے لیکن صدقہ کو خود وصول کرتا ہوں لہذا جس وقت کوئی عوت مرد ایک دانہ کھجور کا بھی صدقہ دیتا ہے تو اس کا صدقہ کوہ احد کے برابر ہو چکا ہو گا ۔
حضرت امام جعفر صادق    فرماتے ہیں ۔
صدقہ کے ذریعہ اپنی روزی آسمان سے اتارو ۔
ایک دن حضرت نے اپنے فرزند جناب محمد سے پوچھا کس قدر خرچ موجود ہے ؟
جناب محمد نے کہا۔ چالیس دینار
حضرت ۔ اس کو راہ خدا میں صدقہ دیدو۔
محمد ۔ اگر اس کو صدقہ دے دوں تو پھرگھر میں کچھ باقی نہیں رہتا ۔
حضرت ۔ اس کو راہ خدا میں دے دو تا کہ خداوند عالم اس کے عوض ہمیں عطا فرمائے کیا تم نہیں جانتے ہر چیز کی کلید ہوا کرتی ہے رزق کی کنجی صدقہ ہے لہذا چالیس دینار کا صدقہ نکال دو ۔
جناب محمد نے تعمیل حکم کرتے ہوئے راہ خدا میں صدقہ دے یا دس دن بھی نہ گذرے تھے کہ چالیس ہزار دینا حضرت کے ہاتھوں تک پہنچ گئے ۔
حضرت کا یہ ارشاد بھی ہے ۔
صدقہ دینے سے قرض ادا ہو تا ہے اور برکت اس کی جگہ آجاتی ہے ۔
جب فقیر و نادار ہو تو خدا سے صدقہ کے ذریعہ تجارت کرو ، کیونکہ خدا اس صدقہ کو چند گنا بنا کر عطا فرمائے گا ۔
حضرت امام محمد باقر    فرماتے ہیں ۔
صدقہ ستر طرح کی دنیاوی بلاؤں سے بچا تا ہے صدقہ دینے والا کبھی بد ترین موت نہیں مرتا ۔

1 تبصرہ
  1. tauqeer کا کہنا ہے کہ

    دعا کی ضرورت ہے

کا جواب دیں tauqeer
جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.