تربيت كرنے والوں كى آگاہى اور باہمى تعاون
تربيت كرنے والوں كى آگاہى اور باہمى تعاونبچے كى تربيت كوئي ايسى سادہ اور آسان سى بات نہيں ہے كہ جسے ہر ماں باپ آسانى سے انجام دے سكيں _ بلكہ يہ كام بہت سى باريكيوں اور ظرافتوں كا حامل ہے _ اس ميں سينكڑوں بال سے باريك تر نكات موجود ہيں _ مربى كا تعلق بچے كى روح سے ہوتا ہے _ وہ روحانى ، نفسياتى علمى اور تجرباتى پہلوؤں سے آگاہى كے بغير اپنى ذمہ دارى بخوبى انجام نہيں دے سكتا _ بچے كى دنيا ايك اور ہى دنيا ہے اور اس كے افكار ايك اور ہى طرح كے افكار ہيں اس كى سوچوں كا انداز مختلف ہوتا ہے ، جس كا بڑوں كے طرز تفكر سے موازنہ نہيں كيا جا سكتا بچے كى روح نہايت ظريف اور حساس ہوتى ہے اور ہر نقش سے خالى ہوتى ہے اور ہر طرح كى تربيت كو قبول كرنے كے لئے آمادہ ہوتى ہے _ بچہ ايك ايسا چھٹا سا انسان ہوتا ہے ، جس نے ابھى تك ايك مستقل شكل اختيار نہيں كى ہوتى جب كہ ہر طرح كى شكل قبول كرنے كى اس ميں صلاحيت ہوتى ہے _ بچے كے مربّى كو انسان شناس اور بالخصوص بچوں كا شناسا ہونا چاہيے _ تربيت كے اسرار و رموز پر اس كى نظر ہونى چاہيے _ انسانى كمالات او رنقائص پر اس كى نگاہ ہونے چاہيے _ اس كے اندر احساس ذمہ دارى بيدار ہونا چاہيے اور اسے اپنے كام سے دلچسپى بھى ہونا چاہيے _ اسے صابراور حوصلہ مند ہونا چاہيے اور مشكلات سے ہراسان نہيں ہونا چاہيے _ علاوہ ازين تربيت كے قوانين سو فيصد كلى نہيں ہوتے كہ جنہيں ہر جگہ پر اور ہر كسى كے ليے قابل اعتماد قرار ديا جا سكے _ بلكہ ہر بچے كى اپنى جسمانى ساخت اور عقلى صلاحيتوں كے اعتبار سے اپنى ہى خصوصيات ہوتى ہيں لہذا اس كى تربيت اس كى جسمانى ساخت ، عقلى قوتوں ، حالات اور ماحول كے تقاضوں كى مناسبتسے ہونى چاہيے _ ماں باپ كو چاہيے كہ بچے كى جسمانى ساخت كا صحيح طرح سے جائزہ ليں اور اسى كے پيش نظر اس كى تربيت كريں ورنہ ممكن ہے ان كى كوششوں كاوہ نتيجہ برآمد نہ ہوسكے جو ان كى خواہش ہے _مرداور عورت كو چاہيے كہ ماں باپ بننے سے پہلے بچے كى تعليم و تربيت كے طريقے سے آگاہى حاصل كريں _ اس كے بعد بچے كى پيدائشے كے لئے اقدام كريں ، كيوں كہ بچے كى تربيت كامرحلہ اس كى ولادت سے بلكہ اس سے بھى پہلے شروع ہوجاتاہے _ اس حساس عرصے ميں بچے كى لطيف اور حساس طبيعت كوئي شكل اختيار كرتى اور اس كے اخلاق، كردار ، عادات حتى كہ افكار كى بنياد پڑتى ہے _يہ صحيح نہيں ہے كہ ماں باپ اس حاس عرصے ميں غفلت سے كام ليں اور تعليم و تربيت كو آئندہ پر ٹال ديں _ يعنى تعليم و تربيت كو اس وقت پر اٹھانہ ركھيں كہ جب بچہ اچھے يا برے اخلاق و كردار يا اچھى يا برى عادتوں كے بارے ميں تقريبا ايك مزاج اختيار كرچكا ہو _ كيونكہ ابتدائي مراحل ميں تربيت عادتوں كے تبديل كرنے كى نسبت كہيں آسان ہے _ عادت كا تبديل كرنا اگرچہ ناممكن نہيں تا ہم اس كے ليے بہت زيادہ آگاہي، صبر ، حوصلہ اور كوشش كى ضرورت پڑتى ہے اور يہ سب تربيت كرنے والوں كے بس كى بات نہيں _حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:
اصعب السياسيات نقل العادات”مشكل ترين سياست لوگوں كى عادات كو تبديل كرنا ہے ” (غرر الحكم ص 181)حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:للعادة على كلّ انسان سلطانعادت انسان پر مسلط ہوجاتى ہے _ (غررالحكم _ص 580)امير المؤمنين عليہ السلام فرماتے ہيں:”العادة طبع ثان””عادت فطرت ثانيہ بن جاتى ہے ” _ (غررالحكم _ ص 26)ترك عادت اس قدر مشكل ہے كہ اسے بہترين عبادتوں سے شمار كيا گيا ہے حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :”افضل العبادة غلبة السعادة”” برى عادت پر غلبہ پالينا افضل ترين عبادتوں ميں سے ہے ” ( غرر الحكم _ص 176)بچے كو راہ كمال پر تربيت دينے كے ليے ايك مسئلہ يہ بھى اہم ہے كہ ماں باپ اور ديگر تمام مربيوں كے درميان فكرى اور عملى طور پر تربيت كے تمام پروگراموں ميں اور ان كے اجراء كى كيفيت ميں ہم آہنگى اور تفاہم موجود ہو _ اگر ماں باپ اور ديگر لوگ كہ جن كا بچے كى تربيت ميں عمل دخل ہو مثلاً دادا اور دادى و غيرہ ان كے درميان تربيتى پروگراموں ميں اتفاق اور ہم آہنگى موجود ہو اور ان كے اجرائيں وہ ايك دوسرے كے ساتھ تعاون كريں تو وہ مطلوب نتيجے تك پہنچ سكتے ہيں اور ايك اچھا اور ممتاز بچہ پروان چڑھا سكتے ہيں _ ليكن اگر ان ميں سے كوئي ايك بھى تربيت كے بارے بے اعتناء يا تربيتى امور ميں خلاف سليقہ ركھتا ہو تو مراد حاصل نہيں ہوسكتى كيونكنہ تربيت كے مسئلہ ميں مكمل يقين اور ہم آہنگى ضرورى ہے _بچے كو اپنے فريضے سے آگاہى ہونا چاہيے _ جب ماں باپ كچھ اور كہہ رہے ہيں اور دادا دادى اور تو بچہ حيران و پريشان ہوجاتا ہے _ اسے سمجھ نہيں آتى كہ كيا كرے _ بالخصوص اگر ان ميں سے ہر كوئي اپنے نظريے پر زور دے رہا ہو _ ايسى صورت ميں نہ فقط يہ كہ اچھا نتيجہ نہيں نكلتا بلكہ ايسا ہوتا تربيت ميں نقص كا باعث بھى بن سكتا ہے _ تربيت كى بڑى مشكلات ميں سے يہ ہے كہ بچے كے بارے ميں باپ كچھ فيصلہ كرے اور ماں يا دادى اس ميں دخالت كركے اس كے برخلاف عمل كرے يا پھر اس كے الٹ مسئلہ ہو _ مربيوں كے درميان ايسے اتفاق اور ہم آہنگى كى ضرورت ہے كہ جس سے بچہ واضح طور پر يہ سمجھ سكے كہ اسے كيا كرنا ہے اور اس كى خلاف ورزى كا خيال اس كے ذہن ميں نہ آئے _كبھى يوں ہوتا ہے كہ باپ ايك خوش اخلاق اور اچھا تربيت يافتہ بچہ پروان چڑھانا چاہتا ہے ليكن ماں بداخلاف اور بے تربيت ہوتى ہے اسے تربيت سے كوئي تعلق نہيں ہوتا اور كبھى معاملہ اس كے برعكس ہوتا ہے _ يہ مشكل بہت سے گھرانوں ميں نظر آتى ہے _ ايسےخاندانوں ميں پرورش پانے والے بچے عموماً اچھى اور صحيح تربيت كے حامل نہيں ہوتے كيونكہ ايك تربيت يافتہ اور صالح فرد كى تربيت اس كى ناصالح بيوى كے سبب بے اثر ہوجاتى ہے _ اس صورت ميں صحيح تربيت بہت مشكل امر بن جاتا ہے البتہ ايسى دشواريں كا يہ مطلب نہيں كہ ہم تربيت كى ذمہ دارى سے دست بردار ہوجائيں _ايسى صورت ميں تربيت كى ذمہ دارى اور بھى ہواہوجاتى ہے _ چاہيے كہ ايسى صورت ميں اولاد كى تربيت كے بارے ميں زيادہ توجہ دى جائے _ اپنے اخلاق و كردار كى پورى طرح اصلاح كى جائے اور بچوں كى زيادہ ديكھ بھال سے كام ليا جائے اور ان سے زيادہ سے زيادہ مانسيت پيدا كى جائے _ اچھے كام اور خوش رفتارى كے ذريعے بچوں كى توجہ اپنى طرف جذب كى جائے اور ان كے ليے بہترين نمونہ عمل بن جايا جائے _ اپنے بچوں سے تفاہم پيدا كيا جائے _ اچھائي برائي اور نيكى بدى كا مفہوم ان كے سامنے كامل طور پر واضح كيا جائے _ ايسا عمل كيا جائے كہ بچہ خودبخود اچھے اور برے اخلاق كے درميا ن تميز كرسكے اور برائيوں سے متنفر ہو جائے _ اگر مرّبى عاقل ، تدبر، صابر، اور حوصلہ مند ہو تو كسى حد تك اپنے ہدف تك پہنچ سكتا ہے اور اپنى بيوى كى غلط تربيت اور بدآموزى كى اثرات زائل كرسكتا ہے _ بہر حال يہ ايك مشكل اور اہم كام ہے ليكن كے علاوہ چارہ بھى نہيں _ايك دانشور كا قول ہے :وہ خاندان كہ جس ميں ماں اور باپ كى تربيت كے بارے ميں ہم فكر ہيں اور اپنے كردار اور رفتار كو اس كے مطابق ڈھالتے ہيں تو بچے كے اعصاب كے ليے مناسب ماحول مہيا ہوجاتا ہے _ خاندان ايك ايسا چھوٹا سا معاشرہ ہے كہ جس ميں بچے كى اخلاقى خصوصيات ايك خاص صورت اختيار كرتى ہيں _ وہ خاندان كہ جس كے افراد ايك دوسرے سے دوستانہ برتاؤ كرتے ہيں اس كے بچے عموماً متين ، خوددار اور انصاف پسند ہوتے ہيں _ اس كے برعكس وہگھر كہ جس ميں ماں باپ كے درميان روزروز كى نوك جھونك اورتو تكرار رہتى ہے اس كے بچے كج اخلاق ، بہانہ ساز اور غصيلے ہوتے ہيں _(1)تربيت _ عمل سے نہ كہ زبان سےبہت سے ماں باپ ايسے ہيں جو تربيت كے ليے وعظ و نصيت اور زبانى امر و نہى كافى سمجھتے ہيں _ وہ يہ گمان كرتے ہيں كہ جب وہ بچے كو امر و نہى كررہے ہوتے ہيں ، اسے زبانى سمجھا بجھارے ہوتے ہيں تو گويا وہ تربيت ميں مشغول ہيں اور باقى امور حيات ميں وہ تربيت سے دست بردار ہوجاتے ہيں _ يہى وجہ ہے كہ ايسے ماں باپ ننھے بچے كو تربيت كے قابل نہيں سمجھتے اور كہتے ہيں كہ ابھى بچہ ہے كچھ نہيں سمجھ سكے گا _ جب بچہ رشد و تميز كى عمر كو پہنچتا ہے تو وہ تربيت كا آغاز كرتے ہيں _ جب وہ خوب و بد كو سمجھنے لگے تو اس كى تربيت شروع كرتے ہيں _ جب كہ يہ نظريہ بالكل غلط ہے _ بچہ اپنى پيدائشے كے روز ہى سے تربيت كے قابل ہوتا ہے _ وہ لحظہ لحظہ تربيت پاتا ہے اور ايك خاط مزاج ہيں ڈھلتا چلا جاتا ہے ، ماں باپ متوجہ ہوں يا نہ ہوں _ بچہ تربيت كے ليے اس امر كا انتظار نہيں كرتا كہ ماں باپ اسے كسى كام كا حكم ديں يا كسى چيز سے روكيں بچے كے اعصاب اور حساس و ظريف ذہن روز اوّل ہى سے ايك كيمرے كى طرح تمام چيزوں كى فلم بنانے لگتے ہيں اور اسى كے مطابق اس كى تعمير ہوتى ہے او ر وہ تربيت پاتاہے _ پانچ چھ سالہ بچہ تعمير شدہ ہوتا ہے اور جو ايك خاص صورت اختيار كرچكا ہوتا ہے اور جو كچھ اسے بننا ہوتا ہے بن چكتا ہے _ اچھائي يا برائي كا عادى ہوچكتا ہے لہذا بعد كى تربيت بہت مشكل اور كم اثر ہوتى ہے بچے تو بالكل مقلد ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ اور ادھر ادھر رہنے والے ديگر لوگوں كے اعمال، رفتار اور اخلاق كو ديكھتا ہے اور اس كى تقليد كرتا ہے وہ ماں باپ كو احترام كى نظر سے ديكھتا ہے اور انہيں كے طرز حيات اور كاموں كو اچھائي اور برائي كامعيار قرار ديتا ہے اور پھر اسى كے مطابق عمل كرتا ہے _ بچے كا وجود تو كسى سانچے ميں نہيں ڈھلا ہوتا وہ ماں باپ كو ايك نمونہ سمجھ كر ان كے مطابق اپنے آپ كو ڈھالتا ہے _ وہ كردار كو ديكھتا ہے باتوں اور پند ونصيحت پر توجہ نہيں ديتا _ اگر كردار گفتار سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ كردار كو ترجيح ديتا ہے _بيٹى اپنى ماں كو ديكھتى ہے اور اس سے آداب زندگى ، شوہر دارى ، خانہ دارى اور بچوں كى پرورش كا سليقہ سيكھتى ہے اور اپنے باپ كو د يكھ كے مردوں كو پہچانتى ہے _ بيٹا اپنے باپ كے طرز زندگى سے درس حبات لبتا ہے ، اس سے بيو ى اور بچوں سے سلوك كرنا سكيھتا ہے اور اپنى ماں كے طرر عمل سے عورتو كو پہچانتا ہے اور اپنى آئندہ زندگى كے ليے اسى كو ديكھ كر منصوبے بنا تا ہے _لہذا ذمہ دار اور آگاہ افراد كے ليے ضرورى ہے كہ ابتداميں ہى اپنى اطلاح كريں _ اگر ان كے اعمال ، كردار اور اخلاف عيب دار ہيں توا ان كى اطلاح كريں _ اچھى صفات اپنائيں نيك اخلاق اختيار كريں اور پسنديدہ كردار ادار كريں _ مختصريہ كہ اپنے آپ كو ايك اچھے اور كامل انسان كى صورت ميں ڈھاليں اس كے بعد نئے انسانوں كى توليد اور پرورش كى طرف قدم بڑھائيں _ ماں باپ كو پہلے سو چنا چا ہيے كہ و ہ كس طرح كا بچہ معاشر ے كے سپرد كرنا چاہتے ہيں اگر انھيں يہ پسند ہے كہ ان كا بچہ خوش اخلاق ، مہربان ، انسان دوست ، خير خواہ ، ديندار ، با ہدف شريف ، آگاہ حريت پسند ، شجاع ، مفيد ، فعال ، اور فرض شناس ہو تو خود انہيں بھى ايسا ہى ہو نا چاہيے تا مہ وہ بچے كے ليے نمونہ عمل قرار پائيں _ جس ماں كى خواہش ہو كہ اس كى بيٹى فرض شناس ، خوش اخلاق ، مہربان ، سمجھدار ، شوہر كى وفادار ، باتميز ، ہر طرح كے حالات ميں گزر لبسر كر لينے والى اور نظم و ضبط حيات حاصل كرے _ اگر ماں بد اخلاق ،بے ادب ، سست ، بے نظم ، بے مہر ، كثيف ، دوسروں سے زيادہ توقع با ند ھنے والى اور بہانہ ساز ہو تو وہ صرف و عظ و نصيحت سے ايك اچھى بيٹى پروان نہيں چڑھا سكتى _ڈاكٹر جلالى لكھتے ہيں _بچوں كو احساسات اور جذبات كے اعتبار سے وہى لوگ صحيح تربيت وے سكتے ہيں كہ جنہوں نے اپنے بچپن ميں اور باقى تمام عمر صحيح تربيت پائي ہو _ جوماں باپ آپس ميں ناراض رہتے ہوں اور چھوٹى باتوں پر جھگڑاتے ہوں ، يا جن لوگوں نے كاردبار كے طور پرپرورش كا سلسلہ شروع كيا ہو اور انھيں تربيت دينے كا كوئي ذوق و شوق نہ ہو _ اور جو بچوں كو نقرت كى نگاہ سے ديكھتے ہوں ، خود حوصلے سے عارى ہوں اور غصيلى طبيعت ركھتے ہوں اور جنيں خود اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو وہ بچوں كے جذبات اور احساسات كو صحيح راستے پر نہيں ڈال سكتے (۲)ڈاكٹر جلالى مزيد لكھتے ہيں : بچے كى تربيت جس كے بھى ذمے ہوا سے چاہيے كہ كبھى كبھى اپنى صفات كا بھى جائزہ لے اور اپنى ذمہ داريوں كے بار ے ميں سو چے اور اپنى خاميوں كو دور كرے (۳)حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں :من نصب نفسہ اماماً فليبدا بتعليم نفسہ قبل تعليم غيرہ و ليكن تاديبہ بسيرتہ قبل تاديبہ بلسانہ و معلّم نفسہ و مؤدبہا احق بالاجلال من معلم النّاس و مؤدبہم _جو شخص دوسروں كا پيشوا بنے چاہيے كہ پہلے وہ اپنے اصلاح كرے پھر دوسروں كى اصلاح كے ليے اٹھے اور دوسروں كو زبان سے ادب سكھانے سے پہلے اپنے كردار سے ادب سكھائے اور جو اپنے آپ كو تعليم اور ادب سكھاتا ہے وہ اس شخص كى نسبت زيادہ عزّت كا حقدار ہے جو دوسروں كو ادب سكھاتا ہے _ (نہج البلاغہ _كلامت قصار نمبر 73)حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:وقّروا كباركن يوقّركم صغاركم _تم اپنے بزرگوں كا احترام كرو تا كہ تمہارے بچے تمہارا احترام كريں _(غرر الحكم _ ص 78)پيغمبر اكرم (ص) نے حضرت ابوذر سے فرمايا:جب كوئي شخص خود صالح ہوجاتا ہے تو اللہ تعالى اس كے نيك ہوجانے كے وسيلے سے اس كى اولاد اور اس كى اولاد كى اولاد كو بھى نيك بناديتا ہے _(مكارم الاخلاق _ ص 546)امير المومنين (ع) فرماتے ہيں:ان سمت ہمّتك لاصلاح النّاس فابدء بنفسك فانّ تعاطيك صلاح غيرك و انت فاسد اكبر العيب_اگر تو دوسروں كى اصلاح كرنا چاہتا ہے تو اس سلسلے كا آغاز اپنى ذات كى اصلاح سے كر اور اگر تودوسروں كى اصلاح كرنا چاہے اور اپنے آپ كو فاسد ہى رہنے دے تو يہ سب سے بڑا عيب ہوگا _ (غرر الحكم ص 278)تو يہ سب سے بڑا عيب ہوگا _حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں:انّ الوعظ الّذى لا يمّجہ سمع و لا يعولہ نفع ما سكت عنہ لسان القول و نطق بہ لسان الفعل_جس نصيحت كے ليے زبان گفتار خاموش ہو اور زبان كردار گويا ہو كوئي كان اسے باہر نہيں نكال سكتا اور كوئي فائدہ اس كے برابر نہيں ہوسكتا_ (غرر الحكم ص 232)ايك خاتون اپنے ايك خط لكھتى ہے:… ميرے ماں باپ كے كردار نے مجھ پر بہت اثر كيا ہے انہوں نے ہميشہ ميرے ساتھ اور ميرے بہن بھائيوں كے ساتھ مہربانى كى ہے _ ميں نے كبھى بھى ان كےكردار اور گفتار ميں برائي نہيں ديكھى _ خود ہمارى بہت عادت ويسى ہى ہوگئي _ ميں ان كا اچھا اخلاق اور كردار بھلا نہيں سكتى _ اب جب كہ ميں خودمان بن گئي ہوں تو كوشش كرتى ہوں كہ كوئي برا كام خاص طور پر اپنے بچوں كے سامنے مجھ سے سرزد نہ ہو _ ميرے ماں اور باپ كا كردار ميرى زندگى ميں ميرے لئے نمونہ عمل بن گيا _ ميں كوشش كرتى ہوں كہ اپنے بچوں كى بھى اس طرح سے تربيت كروں _ايك اور خاتون اپنے خط ميں لكھتى ہيں:… جب ميں اپنى گزشتہ زندگى كے بارے ميں سوچتى ہوں تو مجھے ياد آتا ہے _ كہ ميرى ماں چھوٹى چھوٹى باتوں ميں ايسے ہى چيختى چلاتى تھى _ اب جب كہ ميں خودماں بن گئي ہوں تو ميں ديكھتى ہوں كہ تھوڑى سى كمى كے ساتھ وہى ميرى حالت بھى ہے _ اس كى سارى بد اخلاقياں مجھ ميں پيدا ہوگئي ہيں اور عجيب مسئلہ يہ ہے كہ ميں جتنا بھى كوشش كرتى ہوں كہ اپنى اصلاح كروں نہيں كر پاتى ہوں _ يقينى طور پر ميرے لئے يہ بات ثابت ہوگئي ہے كہ ماں باپ كا كردار اور اخلاق اولاد كى تربيت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور يہ جو كہا جاتا ہے : كہ ماں اپنى تربيت كے ذريعے ايك دينا كو بدل سكتى ہے بالكل درست بات ہے _
———–۱۔۔روان شناسى تجربى كو دك ص 191_۲۔۔روان شناسى كودك_ ص 296_۳۔۔ روان شناسى كودك ص 297_