حقیقتِ سلونی

344

بابِ مدینۃ العلم امام علی علیہ السلام کے اس شہرہ آفاق کلام سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو جس کی بنا پر آپکو خطیبِ منبرِ سلونی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اے لوگو! مجھ سے پوچھ لو کہ میں زمین کی راہوں سے زیادہ آسمان کے راستوں سے واقف ہوں، قبل اسکےکہ وہ فتنہ اپنے پیروں کو اٹھائے جو مہار کو بھی اپنے پیروں تلے روند رہا ہو اور جس نے لوگوں کی عقلیں زائل کر دی ہوں۔ لیکن بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ مولا کے خدشے کے عین مطابق لوگوں نے اپنی عقول کا زیاں تو قبول کر لیا لیکن آپ کے دعوے کے شایانِ شان کچھ بھی سوال نہ کیا۔ آپکے اس دعویٰ کے جواب میں سوال کئے بھی تو ایسے کہ علی جیسے شیرِ خدا کا بھی دل افسوس سے پھٹ پڑتا۔ کبھی کوئی اپنے بھیجے سے خالی سر کے بالوں کی تعداد پوچھتا تو کبھی کوئی اسی سر پہ کسے عمامے کے پیچوں کی تعداد۔ اسی طرح ایک مرتبہ امام علی علیہ السلام مسجدِ کوفہ میں خطبہ دے رہے تھے کہ شدید آندھی آئی۔ چاروں طرف سے کالی گھٹا نے ایسی چادر تانی کہ بھری دوپہر میں رات کا سا اندھیرا چھا گیا۔ لوگ یہ غیر معمولی صورتِ حال دیکھ کر گھبرا گئے۔ مولا نے لوگوں کی گھبراہٹ کو دور کرنے اور انہیں تسلی دینے کی نیت سے مخاطب کرکے کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اگر چاہو تو میں تمہیں بہتے جھرنوں سے اس اندھیرے کا مقابلہ کرنے کا طریقہ بتلائے دیتا ہوں۔ مجمعے میں سے کسی جاہل نے اپنی علم دشمنی کا اعلان یہ کہہ کر کیا کہ ہمیں بیوقوف مت بناؤ۔ اپنے ٹوٹکے اپنے پاس ہی رکھو۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ اس وقت باب العلم پر کیا گزری ہوگی کہ جب وہ اپنے علم کے سمندر سے ایک چھینٹ خود عنایت فرمانا چاہ رہے تھے اور کس بدتمیزی اور بداخلاقی سے چراغِ علم کو گل کر دیا گیا۔ ساتھ ہی مجھے اس بات کا بھی افسوس ہوتا ہے کہ کاش اس مجمعے میں سے اٹھ کر کوئی اس ابوجہل کے وارث کا منہ بند کروا کر امام سے اپنا خطاب جاری رکھنے کا تقاضا کرتا تو ہائیڈرو پاور جنریشن کا معاملہ تو کم ازکم چودہ سو سال پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا۔ اسی طرح کاش کوئی آسمان کا راستہ بھی پوچھ ہی لیتا تو آج چودہ سو سال بعد آسٹرونومی کہاں پہنچ چکی ہوتی۔ لیکن افسوس۔۔۔۔۔۔”اقراء” پر زبانی ایمان لانے والوں پر۔ کاش وہ “اقراء” کا اس طرح تمسخر نہ اڑاتے تو خود خلاؤں میں اڑ رہے ہوتے اور آج یہ کائنات اڑتے اڑتے نامعلوم کہاں پہنچ چکی ہوتی۔ مذاق اڑانے اور تضحیک کرنے کا عمل جاری رہا یہاں تک کہ خدا نے زمین پر موجود اپنی اس قیمتی ترین نعمت کو واپس بلا لیا۔ آپ تو دنیا سے تشریف لے گئے لیکن آپکا جاری کردہ یہ چشمہء علم آپکے نمائیندگان کی صورت میں دنیا میں بہتا رہا۔ دنیا خوابیدہ رہی لیکن کچھ لوگ ضرور ایسے گزرے کہ جنہیں اس چشمہء فیض کی فیوض و برکات سے شناوری کا شرف حاصل رہا اور انہوں نے آلِ محمد (ع) سے حاصل کردہ علم کے چند موتیوں سے جاہل معاشروں کے اندھیروں کو دور کرنے کی ہرچند کوشش کی۔
اسی علم کی بنیاد پر ان شاگردانِ حق نے کبھی زمین کو سمیٹ کر رکھ دیا تو کبھی آسمان کے راستوں کو طے کرتے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالیں۔ جہاں نورِ علم و حق ضوفشاں رہا، وہاں جہل و ظلم نے اس روشنی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ نام نہاد مسلمانوں کی علم دشمنی ہی تھی کہ چودہ صدیاں قبل جس الہیٰ پیشکش کو ٹھکرا کر وہ ظلمات کی دلدل میں جاگرے تھے، آج بھی اپنے جہل اور زعمِ مسلمانی میں مبتلا در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ جبکہ کافر مغرب نے اس علم کی رسی کا ایک سرا تھام لیا اور اسکے سہارے چلتے چلتے مولا کے محض ان دو دعووں کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے نہ صرف بہتے جھرنوں سے روشی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ آسمانوں کے راستوں سے آشنائی حاصل کرتے کرتے نجانے کتنی کہکشاؤں سے رزق حاصل کرنے کے درپے ہے۔
آج اکیسویں صدی کی پہلی دہائی بھی گزر چکی ہے۔ تمام نام نہاد ملتِ اسلامیہ آج بھی جہالت کی غلاظت میں دھنسی پڑی ہے اور پینے کے پانی کی حد تک کافر مغرب کی محتاج ہے۔ اور مملکتِ خدادادِ پاکستان کے تو کیا ہی کہنے کہ یہ سرزمین قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ خود ساختہ مسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں خدا نے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جھرنے بہائے لیکن وہ نام نہاد مسلمانوں کی نااہلی کے باعث بجلی تو پیدا نہ کرسکے۔ البتہ کیچڑ کے ڈھیر ضرور بن گئے۔ افسوس صد افسوس صد افسوس کہ یہاں آسمان کے راستے بتانے والے فٹ پاتھوں پر بیٹھے ستاروں کی چالیں ٹھیک کرتے پھر رہے ہیں اور اپنے ایمان پر فخر کرنیوالے ان بتوں سے اپنی مرادیں مانگ کر اپنے اس نام نہاد ایمان کی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے ثریا پر جا بیٹھ رہے ہیں۔ اور مرادیں بھی کیسی؟ انعامی بانڈ کا نمبر، تلوے چاٹتا ہوا محبوب، پسند کی شادی، نوکری، اولاد، ترقی، مکان، دکان، گاڑی وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
جہاں مغرب نے ضرورت سے زیادہ اتنی بجلی اور ماکولات تیار کرلی ہیں کہ اب انہیں ضائع کرنا پڑتا ہے وہیں پاکستان کی اشرافیہ نے غریبوں اور لاعلموں سے جینے کی بنیادی ضروریات تک کو چھین کر انکی عقلوں کو زائل کردیا ہے۔ اب یہ بھوک، پیاس، ناانصافی، بدامنی، بجلی گیس پانی کی عدم دستیابی سے بلبلا کر ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو آمادہ تھے تو ایسے میں کینیڈا سے ایک ناخدا نے پاکستان کی ڈوبتی اس ناؤ کو کنارے لگانے کا بیڑہ اٹھایا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری ایکدم سے لاکھوں انسانوں کی کہکشاں میں ایک چاند کی مانند آسمانِ بلیو ایریا پر جلوہ افروز ہوئے اور سالوں نہیں، دنوں میں ان تمام نعماتِ عظمیٰ کو ان بھوکوں کے سامنے لاڈالنے کے عزم کا اظہار کیا کہ جن کے لئے ایک عرصے سے اس انسان نما مخلوق کو ترسایا جارہا تھا۔ لانگ مارچ کے دوران چونکہ اسلام آباد کی تمام سرگرمیاں موسم کی مانند منجمد رہیں، سو ہم اہلِ اسلام آباد کے لئے اب اسکے سوا نہ کوئی چارہ تھا اور نہ ہی کوئی اور کام کہ لحاف میں دبکے ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے۔۔۔ لیکن ایسے میں تصورِ جاناں کیسے ہو کہ ایک طرف تو لاکھوں انسان نظر آرہے ہیں جنکے دلوں میں کسی بھی رونما ہونے والے انقلاب کی گرمی نے سرد موسم کو بھی پشیمان کر رکھا ہے اور دوسری جانب ایک خلائی شٹل نما کنٹینر( جو کہ ہر طرح کی آسائش سے مزین ہے) کے اندر قائدِ انقلاب جوشِ خطابت سے جنت نما سبز باغوں کی کاشت میں مصروف ہے۔ تصوراتی طور پر تعمیر کی گئی اس جنت میں بہتے جھرنے، ان میں سے ٹپکتا ہوا نور، امن، بھائی چارہ، بجلی، پانی، گیس، روزگار، تلوے چاٹتے محبوب، شادی خانہ آبادی، اولادِ نرینہ و زرینہ، ترقی، مکان، دوکان، گاڑی، بنگلہ، جہاز، جمہوریت، آمریت سے نجات اور نجانے کیا کیا نعمات یک جنبشِ ابرو تیار کھڑی تھیں۔
کنٹینر کی خلائی شٹل سے جب اس کینیڈوی خلاباز کا خطاب سن سن کر میں بور ہونے لگا تو پہلو میں پڑے لیپ ٹاپ کو اٹھا کر خود ہی سائبر اسپیس میں خلانوردی شروع کردی کہ ناگاہ آنکھوں کے سامنے سے ایک خبر گزری جس نے مجھے سوچوں کی خلاؤں میں کہیں دور جا پھینکا۔ خبر یہ تھی کہ کینیڈا کے ایک استاد اور خلاباز کرس ھیڈفیلڈ نے اسپیس (خلائی) شٹل سے اپنے شاگردوں سے بیس منٹ کا خطاب کیا۔ اس دوران اس نے انکو مختلف کرتب دکھا کر محظوظ بھی کیا اور ان کی یہ کہہ کر حوصلہ افزائی بھی کی کہ ایک دن وہ بھی انہی کی طرح اسکول میں بیٹھا کرتا تھا اور آج ترقی کرتے کرتے خلا سے ان سے مخاطب ہے۔ میری نظروں کے سامنے دو کینیڈوی خلا باز تھے۔ ایک مسلمان تھا جسکی قوم کو اسکے چوتھے خلیفہ نے خلابازی کا درس دینا چاہا لیکن انہیں اصلی خلا میں جانے کی بجائے بلیو ایریا میں دھری زمینی شٹل کے توسط سے احمقانہ جنت دیکھنے کی آرزو تھی۔ دوسرا کافر خلاباز تھا جسکی قوم “سَلُونِی” کی اس حقیقت کو جان چکی تھی جو اس کے جسمِ خاکی کو لیکر آسمان کی راہیں طے کرنے چلی اور وہاں سے اس نے اس آواز کو زمین پر بیٹھے اپنے شاگردوں کے کانوں اور اپنی تصویر کو انکی آنکھوں تک پہنچا دیا کہ جنکے سفر کا تصور خلا میں نہیں تھا۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.