ہجرت پیغمبر ۖاور اسکے اثرات ونتائج
مقدمہجس وقت انسانی ہجرت کے بارے میں گفتگو کا آغاز ہوتا ہے فوراً ہی اس کے منفی پہلو اور تلخ تجربات انسانی ذہن میں موجزن ہونے لگتے ہیں اور اس طرح انسان شکستہ خاطر ہوجاتا ہے اور پھر انسان اسے مشکلات ایجاد کرنے اور حوادث میں گرفتار کرنے والی شیٔ سمجھنے لگتا ہے اس لئے کہ وہ ہجرت کے ظاہری اثرات کو دیکھتا ہے لیکن اسکے باطنی اثرات ونتائج سے غافل ہوتا ہے مگر جیسے ہی انسان پروردگار کی عطا کی ہوئی عقل وخرد کے ذریعہ حقیقت کو درک کرنے لگتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہجرت میں مشکلات کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فوائد بھی ہیں تو پھر وہ ساری مشکلات قابل تحمل ہو جاتی ہیں جو ہجرت کی راہ میں سد راہ بن رہی تھیں اسی لئے قرآن وروایات اور علماء کے ارشادات و فرمودات میں ہجرت کی اہمیت و افادیت اور اسکے اثرات ونتائج کو تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے۔قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے ان لوگوں کو مادی جزا بھی عطا کیا ہے اور روحانی جزابھی جواس کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں خاص کر وہ لوگ جو دینی مسائل اور اسلام کے مسائل کی خاطر ہجرت کرتے ہیں اور اس راہ میں رضایت پروردگار کا بھی خیال رکھتے ہیں ۔
ہجرت کا لغوی مفہومعلمائے اہل لغت نے ہجرت کے متعدد معنی بیان کئے ہیں ہجرت یعنی جدائی ،دوری اختیار کرنا ،وطن کو ترک کرکے دوسری جگہ کو محل سکونت قرار دینا۔لفظ ‘ہجرت ‘مادہ’ ھجر’ سے ماخوذ ہے اور’ ہجرت و ہجران’ جدائی اور جدا کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور’ مہاجر’ اس شخص کو کہا جاتا ہے جواپنی جائے پیدائش اور وطن سے نکل کر دوسری جگہ کو اپنا محل سکونت قرار دے تواس عمل کو ہجرت کہا جاتا ہے۔
ہجرت کے اصطلاحی اور قرآنی معنیانسان کا ایک جگہ سے دوسری جگہ کوچ کرنا’ ہجرت’ کہلاتا ہے اور قرآنی اصطلاح میں دار کفر سے ایمان کی طرف جانے کو’ ہجرت’ کہتے ہیں جیسے اوائل اسلام یا آغاز اسلام میں مسلمانوں کا مکہ سے مدینہ کی طرف جانا’ ہجرت’ کہلاتا ہے۔
اسلامی ثقافت میں ہجرت کے معنیعلمائے عظام ومفسرین کرام جب کلمۂ’ ہجرت’ کے معنی اسلامی ثقافت کی روشنی میں بیان کرتے ہیں تو مختلف نظریات سامنے آتے ہیں جنکو کلی طور پر دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
الف۔ دار کفر سے نکل کردار اسلام میں پناہ لینا:اس نظریہ کو اختیار کرنے والے علماء کی دارالکفر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں اکثریت کفار کی ہو اور وہاں انہی کے آداب و رسوم رائج ہوں اور مسلمان اقلّیت میں ہوں اسی طرح سے علمائے عظام دار الاسلام کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ دارالاسلام سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں اور وہاں احکام و دستورات اسلامی رائج ہوں۔
ب۔ اپنے دین کی حفاظت کیلئے سر زمین ظلم سے سر زمین عدل کی طرف ہجرت کرنا:جو لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں :ایسی جگہ جہاں کا حاکم عادل ہو اور مومن آزادی کے ساتھ اپنے دین کا اظہار کر سکتا ہو ایسی صورت میں اب اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ جگہ جسکی طرف انسان ہجرت کر رہا ہے اسلامی شہر یا اسلامی ملک ہی ہو اس لئے کہ ہجرت کا ہدف اور مقصد حفظ دین وتبلیغ دین اور معارف دین کو حاصل کرنا ہے اگر یہ تمام اہداف غیر اسلامی ملک میں حاصل ہو رہے ہوں اور اسلام و مسلمین کو ضرر و نقصان بھی نہ پہنچ رہا ہو تو اس صورت میں ہجرت کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ خداوند عالم نے بھی ہجرت کا حکم دیا ہے لیکن اسلامی شہر یا ملک کی قید نہیں لگائی ہے :’قَالُوْاکُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِیْ الْاَرْضِ قَالُوْا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُوْلٰئِکَ مَا وٰھُمْ جِھَنَمُ وَسَائَ تْ مَصِیْراً'(١)جن لوگوں کو ملائکہ نے اس حال میں اٹھایا کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تھے ان سے پوچھا کہ تم کس حال میں تھے ؟انھوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور بنا دیئے گئے تھے ملائکہ نے کہا کہ کیا زمین خدا وسیع نہیں تھی کہ تم ہجرت کر جاتے۔ اس آیت سے یہ استفادہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ جگہ جسکی طرف ایک مسلمان ہجرت کرے اس کیلئے اسلامی ملک یا اسلامی شہر ہونا چاہئے بلکہ آیۂ مبارکہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ فرائض اور دستورات الہٰی پر عمل کرتے ہوئے اس کے اجرا ء اور نفاذ کیلئے مسلمان اس جگہ کا انتخاب کرے جہاں انسان کے دین اور ایمان پر کوئی حرف نہ آرہا ہو اور مکلف آزادی کے ساتھ شرعی ذمہ داریوں کو انجام دے رہا ہو علامہ طباطبائی نے اسی نظریہ کو ‘تفسیر المیزان’ میں ترجیح اور فوقیت دی ہے۔
مہاجر کا معنی اور مفہومہجرت کے لغوی معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے علمائے عظام نے مہاجر کے لغوی معنی اس طرح بیان کئے ہیں: ‘من فارق بلدہ من بدوی او حضری ویسکن بلدا آخر فھو مھاجر’جوشخص اپنے دیہات یا شہر یا اپنے وطن کو ترک کرکے کسی دوسرے دیہات یا شہر یا ملک کو اپنا مسکن قرار دے اسے مہاجر کہا جاتا ہے لیکن اصطلاح عام میں مہاجر اسے کہا جاتا ہے جو کسی مقصد زندگی کے تحت اپنے وطن سے دوری اختیار کرکے دوسرے شہر کو اپنا مسکن قرار دے۔اسلامی معاشرہ اور کلچر کے لحاظ سے لفظ مہاجر اس شخص پر صادق ہوتا ہے جو اطاعت الٰہی اور امر الٰہی بجا لانے کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ یا با الفاظ دیگر ظلمت سے نور کی طرف ،کفر سے ایمان کی طرف اور معصیت سے اطاعت الٰہی کی طرف سفر (ہجرت)کرے ۔حضرت علی نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں ‘لَا یَقَعُ الْھِجْرَةُ عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا بِمَعْرِفَةِ الْحُجَّةِ فِیْ الْاَرْضِ فَمَنْ عَرَفَھَا وَاَقَرَّبِھَا فَھُوَ مُھَاجِر ‘ہجرت کا اطلاق حجت خدا کی معرفت کے بغیر نہیں ہوسکتا لہٰذا جو شخص اس کی معرفت حاصل کرکے اس کا اقرار کر لے وہی ‘مہاجر’ ہے۔ (3)سرکار دوعالم ۖفرماتے ہیں : ‘اَلْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْب ‘ (3)’مہاجر اسے کہتے ہیں جو معصیت اور غلطیوں سے اطاعت الٰہی کی طرف ہجرت کرے ‘دوسری جگہ پیغمبر اسلام ۖفرماتے ہیں :’ویقول الرجل ھاجرت ولم یھاجر انما المھاجرون الذین یھاجرون السیئات ولم یاتوا بھا’جو شخص یہ کہے کہ میں نے ہجرت کی در حقیقت اس نے ہجرت نہیں کی اس لئے کہ مہاجر وہ شخص ہے جو گناہ سے ہجرت کرے اور دوبارہ اس گناہ کو انجام نہ دے ۔آیة ا..جواد آملی حفظہ ا ..تعالیٰ فرماتے ہیں :ہجرت جغرافیائی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ پلیدی اور رجس سے روحانی اور باطنی طہارت کی طرف ہجرت کرنا سب سے اہم ہے ۔
اہمیت ہجرتپروردگار عالم کی راہ میں ہجرت کرنا یا با الفاظ دیگر اپنے وطن اور عزیزو اقارب سے خدا کی رضایت و خوشنودی کی خاطر دوری کی صعوبتوں کو برداشت کرنا خدا وند عالم کے واقعی بندہ ہونے کی پہچان ہے ،ہجرت کی مدح و ستائش میں قرآن کریم میں بہت سی آیتیں موجود ہیں قرآن مجید میں ٣١مقامات پر ہجرت اور اسکے مشتقات کا استعمال ہوا ہے اور بعض آیتوں میں ہجرت کا تذکرہ ایمان ،جہاداور صبر کے ساتھ کیا گیا ہے جیسا کہ اس آیت میں ‘اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَھَاجَرُوْا ‘(انفال آیت٧٢تا٧٤)’جو بھی راہ خدا میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور وسعت پائے گا یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہجرت کا تعلق ایمان ،جہاد اور صبر سے بہت گہرا ہے اس کے علاوہ اس بات کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ انسان اور معاشرے کی ترقی اور تکامل میں ہجرت کا ایک اہم کردار ہے خداوند عالم ہجرت کی فضیلت کے حوالے سے فرماتا ہے :’مَنْ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہ’ (4)’جو اپنے گھر سے خدا اور رسول ۖکی طرف ہجرت کے ارادے سے نکلے اس کے بعد اسے موت آجائے تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے’۔جس طرح قرآن میں ہجرت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اسی طرح آئمہ معصومین کے ارشادات و فرمودات میں بھی ہجرت کے فوائد اور اسکے اثرات ونتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے پیغمبر اسلام ۖہجرت کی اہمیت اور فضیلت کے سلسلے میں فرماتے ہیں :’مَنْ فَرَّ بِدِیْنِہ مِنَ اَرْضٍ اِلیٰ اَرْضٍ وَاِنْ کَانَ شِبْراً مِنَ الْاَرْضِ اِسْتَوْجَبَ الْجَنَّةَ وَرَفِیْقَ مُحَمَّدٍ وَّ اِبْرَاہِیْمَ’جو شخص دین اور آئین الٰہی کی حفاظت کی خاطر ایک سر زمین سے دوسری سر زمین پرچاہے ایک ہی بالشت کیوں نہ ہوہجرت کرے وہ شخص مستحق جنت ہے اور جنت میں محمدۖ اور ابراہیم کا دوست اور رفیق ہوگا۔دوسری چیز جو ہجرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اس کی فضیلت میں چار چاند لگاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہجرت ‘آغاز تاریخ مسلمین ہے’۔لیکن یہاں پرذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں بے شمار واقعات اور اہم حوادث رونما ہوئے ہیں مثال کے طور پر بعثت پیغمبرۖ،ولادت پیغمبرۖ،فتح مکہ،ہجرت حبشہ اور دیگر واقعات جو امت اسلام کے افتخار اور سر بلندی کی یاد دہانی کراتے ہیں تو پھر کیوں ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہجرت ہی اسلامی سال کے آغاز کی تاریخ قرار پائی ؟تاریخ اسلام کا تجزیاتی طور پر مطالعہ کرنے والے کیلئے اس سوال کا جواب نہایت ہی واضح اور روشن ہے اس لئے کہ یہ صحیح ہے کہ تاریخ اسلام میں بے شمار افتخار آمیز واقعات و حوادث رونما ہوئے ہیں لیکن واقعہ ہجرت ان تمام واقعات سے اہم ہے اس لئے کہ اسلامی معاشرہ صحیح معنوں میں ہجرت کے بعد لفظ امت میں تبدیل ہو گیا اور دور اسلام ہجرت کے ذریعہ جاہلیت کے دور سے جدا ہو گیا اور ہجرت ہی دین کی تقویت اور اعلاء کلمة اللہ کا سبب بنی امت اسلام نے ہجرت کے سبب جو اہداف حاصل کئے ہیں وہ یہ ہیں :١۔ مشرکین اور کفار کے شر سے جان پیغمبر کی حفاظت٢۔ اسلام ہجرت کے بعد دیکھتے دیکھتے پوری دنیا پر چھا گیا٣۔ امت اسلام نے ہجرت کے بعد سیاسی اور سماجی زاویہ سے اپنے کو مستحکم کیا٤۔ مسلمانوں نے ہجرت کے سایہ میں دینی احکام اور اسلامی تعلیمات کا کھلم کھلا اظہار کیا٥۔ اسلامی حکومت کی تشکیل کا سنگ بنیاد ہجرت کے سایہ میں رکھا گیا٦۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں بہت سے مبلغین کی تربیت کی گئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا
صدر اسلام کی ہجرت کے آثار و نتائجسرکار دو عالمۖ اور مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا آغاز بھی خیر و برکت سے ہوتا ہے اور اختتام بھی فتح وکامرانی کے ساتھ ہوتا ہے پیغمبر کی ہجرت کے آثار و نتائج صرف و صرف عرب کی سنگلاخ وادیوں تک محدود نہیں تھے بلکہ ہجرت پیغمبر کے سبب کاروان بشریت اور انسانیت بت پرستی اور جہالت کی گھٹاٹوپ تاریکیوں سے نکل کر علم اور توحید پرستی کے اجالوں کی طرف رواں دواں ہو گئی ۔پیغمبر اکرم ۖاور ان کے صحابی کی ہجرت سے پہلے شہر مدینہ اور اہل مدینہ بہت سے الٰہی برکات اور ربانی فیوضات سے محروم تھے اسی طرح مدینے کے اکثر افراد بہت سے دینی اقدار اور انفرادی اور اجتماعی اخلاق سے نا آشنا تھے لیکن سرکار دو عالم ۖکی آمد سے مدینہ کی فضا میں علم و توحید کا پرچم آب وتاب کے ساتھ لہرا نے لگا اور اہل مدینہ ایک نئے اسلامی معاشرے اور اخلاق و آداب سے آشنا ہو گئے ۔اس کے علاوہ ہجرت پیغمبر ۖکے کچھ اہم آثار و نتائج اس طرح ہیں :
(الف)اسلام کی پہلی مسجد( قبا)کی تعمیر:پیغمبر اسلامۖ نے قبا میں قیام کے دور ان مسجد قبا کی بنیاد رکھی جو معروف ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت عمار یاسر نے فکری اور عملی طور پر پہل کی تھی مسجد قبا وہی مسجد ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’لَمَسْجِد اُسِّسَ عَلَی التَّقْویٰ'(5)یعنی جو مسجد روز اول ہی سے تقویٰ کی بنیادوں پر قائم ہو گئی وہ اس بات کیلئے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کیلئے)کھڑے رہو ۔مسجد قبا اسلام کی پہلی مسجد ہے اس بات کی تصریح ابن جوزی وغیرہ نے بھی کی ہے مسجد قبا کی تعمیر امیرالمومنین کی آمد کے بعد شروع ہوئی چنانچہ منقول ہے کہ سرکار دوعالمۖ نے ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ اوٹنی پر سوار ہو کر چکر لگائیں تاکہ اونٹنی کے چکر کو دیکھ کر مسجد کی حدود معین کئے جائیں لیکن اونٹنی نے حرکت نہ کی پھر عمر کو حکم دیا لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا تب آپ نے علی کو حکم دیا تو اونٹنی نے حرکت کی اور آپ کو لیکر چکر لگایا اور جہاں تک اس نے چکر لگایا اسی کے مطابق مسجد کی بنیاد رکھی گئی اور پیغمبر نے فرمایا اونٹنی کو خدا کی طرف سے اس کام کا حکم دیا گیا تھا (وفاء الوفا)مسجد قبا صرف اور صرف عبادت ہی کی جگہ نہیں تھی بلکہ تمام معارف اور اسلامی احکام اور دینی تعلیمات اسی مسجد میں بیان ہوتے تھے اس کے علاوہ سیاسی مسائل اور قضاوت وغیرہ بھی یہیں انجام پاتی تھی۔
ب۔اسلامی حکومت کی تشکیلپیغمبر اکرمۖ نے مدینہ میں پہلی بار توحید وعدالت پر اسلامی حکومت کا سنگ بنیاد رکھا اور ایک منظم نماز کو تشکیل دیا ہجرت سے قبل سر زمین عرب پر اسلامی حکومت اور عمومی نظام سیاسی کا وجود نہیں تھا اسی وجہ سے خاندانی و قبائلی جنگ پورے عرب میں ہوا کرتی تھی اور سالوں سال آپس میں جنگ و نزاع کرتے رہتے تھے لیکن اسلامی ہجرت کی برکت سے تمام مشکلات اور اخلاقی گرفتاری اور تمام امور اسلامی حکومت میں منحل ہو گئے جو صدر اسلام کے مسلمانوں کے درمیان بہترین رابطہ کے شکل میں وجود میں آئے۔
ج۔انصار و مہاجرین کے درمیان ایجاد اخوتاگر اسلام سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖکے مدینہ آنے سے قبل، مختلف قبیلہ من جملہ اوس وخزرج اسلام کے حامی نہیں تھے لیکن ہجرت کے بعد سب ایک نظریہ اور ایک نظام یعنی اسلام کے قائل ہو گئے اور اسلامی حکومت کو مختلف قوموں نے ملا کر تشکیل دیا۔کبھی کبھی ان کے درمیان مشکل اور پیچیدہ مسائل بھی پیش آتے تھے کیونکہ وہ قبائل و اقوام جو اسلامی حکومت اور اسلامی نظام کے زیر نظر زندگی گذار رہے تھے ،اسلام سے قبل ان کے درمیان کینہ و کدورت اور بغض و حسد پائے جاتے تھے جو اختلاف کا باعث بنتے تھے پیغمبر اسلامۖ نے ان کے اختلافات اور قومی و شخصی عداوتوں کو اسلامی نظام کے مطابق ختم کرنے کیلئے مسئلہ اخوت کو ان کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ مسلمان دو ،دو آکے آپس میں برادر ہو جائیں تاکہ پھر مشکلات اور اختلافات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ابن ہشام ناقل ہے کہ :ایک دن پیغمبر اسلام ۖنے مہاجرین و انصار کے درمیان فرمایا :راہ خدا میں دو ،دو کر کے ایک دوسرے کے برادر ہو جائو اس کے بعد آپ نے علی کے دست مبارک کو اپنے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا :یہ میرا بھائی ہے (6)
د۔علمی اور معاشرتی نتائجمکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت پیغمبر اکرمۖ ایک عظیم علمی اور معاشرتی انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے در حقیقت ہجرت کے بعد شہر مدینہ میں جتنے انقلاب آئے یہ اسی عظیم ہجرت ہی کے آثار و نتائج تھے،جہاں ایک طرف جہالت و نادانی سے مقابلہ تھا وہیں دوسری طرف کفار و مشرکین کو دندان شکن جواب دیا اگر دیکھا جائے تو اس وقت جہالت ونادانی مکمل طور سے اہل عرب کے اوپر حاکم تھی لیکن پیغمبر ۖکے مقدس وجود اور مبارک علم نیز معلمین قرآن کی تربیت سے شہر مدینہ میں داخل ہونے سے قبل عبداللہ بن سعید کو معمور کیا کہ اہل مدینہ کو پڑھنے اور لکھنے کی تعلیم دیں (7)
ھ۔اذن جہادہجرت پیغمبر اسلام ۖسے قبل مسلمانوں کو دشمنوں سے جہاد و دفاع کرنے کی اجازت نہیں تھی اگرچہ کفار و مشرکین مسلمانوں کو برابر اذیت پہنچاتے تھے لیکن پھر بھی کفار کے مقابلے میں تلوا ر نہیں اٹھاتے تھے اور اپنا دفاع بھی نہیں کر پاتے تھے لہٰذا اپنی جان اور مذہب کی حفاظت کیلئے ہجرت اور ترک وطن پر مجبور ہو جاتے تھے لیکن ہجرت اور اسلامی حکومت کی تشکیل اور دفاعی و فوجی قدرت پیدا کرنے کے بعد خدا وند متعال نے مسلمانوں کو اذن جہاد دیا ،جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ‘اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ نَصْرِھِمْ لَقَدِیْر'(8)جن لوگوں سے مسلسل جنگ کی جا رہی ہے انھیں ان کی مظلومیت کی بنا پر جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے یقینا اللہ انکی مدد پر قدرت رکھنے والا ہے ۔تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ :مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسلسل اذیت پہنچاتے تھے انھیں مجروح کرتے تھے، تمام مسلمان رسول اکرمۖ کی خدمت میں آتے تھے اور مشرکین کی شکایت کرتے تھے پیغمبر اکرمۖان سے فرماتے تھے: ‘کفار کی اذیت کے مقابلے میں صبر کا مظاہرہ کرو کیونکہ مجھے جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے’چنانچہ مسلمانوں کی یہی حالت تھی یہاں تک کہ پیغمبر اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور آیت نازل ہوئی یہ وہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے اور اس میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے(9تقاضائے ہجرت اور اس کا فائدہواقعہ ہجرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں پر ایک دوسرے کی مدد واجب ہے نیز نسلی تعصبات سے مکمل طور پر آزادہو کر اغیار کے مقابلے میں متحد ہونا بھی ضروری ہے اور یہ باہمی تعاون ،الفت اور آپسی رحم دلی اور ہمدردی کی بنیاد دین و عقیدہ ہو ،نہ کہ نسلی و خاندانی تعلقات یا مفاد پر مبنی روابط وغیرہ۔اس کے علاوہ واقعہ ہجرت ہمیں حسن تدبیر ،دقت نظر اور صحیح منصوبہ بندی کا سبق دیتا ہے جیسے سرکار دوعالمۖ نے پیش نظر رکھا تھا کیونکہ جب آپ کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں کو کسی نے آکر خبر دی کہ آپ گھر سے نکل گئے ہیں تو اس وقت جس چیز نے ان کو حضور کے بستر پر موجودگی کے بارے میں مطمئن رکھا وہ علی کا بستر رسول ۖپر رات گذارنا تھا۔ خدا ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر مکمل طور سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ (آمین)
منابع و ماخذ:١۔ ترجمہ قرآن مجید ،علامہ جوادی ٢۔ ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ جوادی٣۔ تفسیر مجمع البیان ٤۔ تفسیر نمونہ٥۔ لغت نامہ دہخدا ٦۔ مفردات راغب٧۔ السیرة النبویہ ،ابن ہشام ٨۔ الاصابہ فی تمیز الصحابہ*******١۔ نسائ، آیت٩٧2۔ نہج البلاغہ،خطبہ١٨٩3۔ کنزالعمال ٢٦٢٦٣4۔ نسائ، آیت١٠٠5۔ توبہ،١٠٨6۔ سیرة النبویہ، جلد ١،ص١٠۔٩7۔ الاصابہ فی تمیز الصحابہ،ج١،ص٣٤٤8۔ حج،٣٩9۔ مجمع البیان ،ج٤،ص٧٨(مسدس)(علامہ محسن نقوی)نبیۖ کی عرش نگاہی کا آفتاب حسین
پسر بتول ۖ کا ابن ابوتراب حسینخزاں کی زد پہ مہکتا ہوا گلاب حسین
جمود ذہن میں تحریک انقلاب حسینعبودیت کا اُسے زیب و زین کہتے ہیںشہادتوں کے خدا کو حسین کہتے ہیںحسین سب کو کہاں دستیاب ہوتا ہے
کہیں ببول کے اوپر گلاب ہوتا ہےبغیر عشق ولا بوتراب ہوتا ہے
اگر چہ خون ذرا بھی خراب ہوتا ہےپئے خراج طہارت یہ کام کر لیناادب سے مائوں کو جاکر سلام کر لیناحسین ابن علی تھا اُصول تک پہونچا
عبادتِ نبوی کے حصول تک پہونچاخیال سجدۂ رب کے شمول تک پہونچا
صفوں کو چیر کے پشت رسولۖ تک پہونچااگر تصور شاہ حجاز باطل ہےتو پھر کہو کہ نبیۖ کی نماز باطل ہے