حکیم ابوالقاسم فردوسی

حکیم ابوالقاسم فردوسی؛ فارسی زبان و مشرقی تہذیب کے عظیم پاسبان

1

حکیم ابوالقاسم فردوسی؛ فارسی زبان و مشرقی تہذیب کے عظیم پاسبان
مشرق کی تہذیبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے صرف ادب تخلیق نہیں کیا بلکہ پوری قوموں کے فکری وجود، تہذیبی حافظے اور لسانی شناخت کو نئی زندگی عطا کی۔ حکیم ابوالقاسم فردوسی طوسی انہی عظیم المرتبت شخصیات میں سے ایک ہیں۔ فردوسی نہ صرف فارسی کے سب سے بڑے رزمیہ«قومی داستانوں کی شاعری» شاعر ہیں بلکہ وہ فارسی زبان، مشرقی تہذیب اور قومی خودآگہی کے حقیقی محافظ و معمار بھی شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شہرۂ آفاق شاہکار شاہنامہ «کلیات، شعری مجموعہ»صدیوں سے فارسی زبان و ادب کا درخشاں مینار اور مشرقی تمدن کی عظمت کا زندہ استعارہ چلا آ رہا ہے۔
فردوسی چوتھی صدی ہجری کے اُس دور میں پیدا ہوئے جب عربی زبان علمی، دفتری اور درباری حیثیت اختیار کر چکی تھی، جبکہ فارسی زبان تدریجاً زوال اور فراموشی کے خطرات سے دوچار تھی۔ ایسے نازک تاریخی مرحلے پر فردوسی نے غیر معمولی بصیرت، تہذیبی شعور اور اپنی علمی و تمدنی روایت سے بے مثال وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ عہد کیا کہ فارسی زبان، مشرقی تہذیب اور تہذیبی ورثے کو فنا کے اندھیروں میں گم نہیں ہونے دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی عمر کے تقریباً تیس برس اور اپنی تمام جمع پونجی شاہنامہ کی تخلیق کے لیے وقف کر دی۔
شاہنامہ دنیا کی عظیم ترین رزمیہ «قومی داستانوں کی شاعری» تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً پچاس ہزار اشعار پر مشتمل یہ شاہکار محض رستم، سہراب، سیاوش اور اسفندیار جیسے پہلوانوں کی داستان نہیں بلکہ مشرقی تہذیب، اخلاق، حکمت، قومی شعور اور اساطیری روایت کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا ہے۔ فردوسی نے رزمیہ«قومی داستانوں کی شاعری» اسلوب کے ذریعے شجاعت، عدل، وفاداری، غیرت، ایثار اور ظلم کے خلاف مزاحمت جیسے اوصاف کو اس انداز سے پیش کیا کہ یہ اقدار صدیوں تک مشرقی اقوام کی روح میں زندہ رہیں۔
فردوسی کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ان کی حکمت اور فکری گہرائی ہے۔ اسی لیے انہیں “حکیمِ توس” کہا جاتا ہے۔ شاہنامہ کے واقعات محض داستانی رنگ نہیں رکھتے بلکہ ان کے پس منظر میں اخلاق، خداشناسی، خردمندی اور انسانی اقدار کا ایک وسیع جہان پوشیدہ ہے۔ فردوسی نے اپنے کلام کے ذریعے یہ باور کرایا کہ طاقت اُس وقت تک قابلِ احترام نہیں ہو سکتی جب تک وہ عدل، دانائی اور اخلاق کے تابع نہ ہو۔
فردوسی کا ایک اور عظیم کارنامہ فارسی زبان کی حفاظت اور اس کی استقلالی شان کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے حتی المقدور خالص فارسی الفاظ استعمال کیے اور شاہنامہ کو غیر ضروری اجنبی الفاظ سے محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہنامہ نہ صرف فارسی ادب کا شاہکار قرار پایا بلکہ فارسی زبان کی بقا اور احیا کا سب سے بڑا ذریعہ بھی بن گیا۔ اگر فردوسی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت سامنے نہ آتی تو شاید فارسی زبان اپنی موجودہ عظمت، وسعت اور ادبی شان کے ساتھ آج ہمارے سامنے موجود نہ ہوتی۔
ان کے اشعار میں تہذیبی وابستگی، قومی غیرت اور اپنی علمی روایت سے محبت کی ایک خاص حرارت پائی جاتی ہے۔ فردوسی نے مشرقی اقوام کو ان کے ماضی، تہذیبی ورثے اور فکری عظمت سے روشناس کرایا اور قوموں کے دل میں اپنی زبان و ثقافت کے احترام کو دوبارہ زندہ کیا۔ یہی سبب ہے کہ فردوسی صرف ایک شاعر نہیں بلکہ تہذیبی تشخص اور فکری بیداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند، خصوصاً لاہور، صدیوں تک فارسی زبان، علم و عرفان اور ادبی روایت کا مرکز رہا ہے۔شاعر مشرق علامہ ڈاكٹر محمد اقبال (ر ح)
سمیت برصغیر کے متعدد شعرا اور اہلِ دانش فردوسی کے فکر و فن سے متاثر رہے۔ اقبال فردوسی کو ملتوں کی خودی بیدار کرنے والا شاعر تصور کرتے تھے اور ان کے نزدیک شاہنامہ قومی عزت، آزادی اور خودآگہی کا زندہ پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کی جامعات، مدارس اور ادبی حلقے فردوسی کے آثار کو نہ صرف ادبی سرمایہ بلکہ تہذیبی بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔
فردوسی کی زندگی کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے عمر کے آخری حصے میں تنگ دستی اور محرومی دیکھی، لیکن زمانے کی بے اعتنائی ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔ آج صدیوں بعد بھی ان کا نام زندہ ہے، جبکہ ان کے دور کے بڑے بڑے سلاطین تاریخ کے غبار میں کھو چکے ہیں۔ شاہنامہ آج بھی فارسی زبان و ادب کا تاج سمجھا جاتا ہے اور فردوسی ایک ایسی تہذیبی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے مشرقی تہذیب کو نئی روح عطا کی۔
عہدِ حاضر میں جبکہ عالمِ اسلام اور مشرقی اقوام تہذیبی یلغار، فکری انتشار اور شناخت کے بحران سے دوچار ہیں، فردوسی کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کا کلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جو قومیں اپنی زبان، تہذیب، تاریخ اور فکری ورثے کی حفاظت کرتی ہیں، وہی زمانے کے نشیب و فراز میں سربلند رہتی ہیں۔
حکیم فردوسی نے بجا طور پر کہا تھا:
بسی رنج بردم در این سال سی
عجم زنده کردم بدین پارسی
ترجمہ:
“میں نے تیس برس مسلسل مشقت برداشت کی،
اور اسی فارسی زبان کے ذریعے عجم کو نئی زندگی عطا کی۔”
ڈاكٹر اصغر مسعودی
ترجمہ و تشریح : ڈاکٹر محمد عسکری«ممتاز»

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.