جھوٹ

277

جھوٹ خلاق کى قدر و قيمتھر معاشرہ کى زندگى اور ھر قوم کے تکامل ميں اخلاق شرط اساسي ھے ۔ انسانى پيدائش کے ساتھ ساتھ اخلاقيات کي بھى تخليق ھوئى ھے ۔ اخلاقيات کي عمرانسانى عمر کے برابر ھے ۔دنيا کا کوئى عقلمند ايسا نھيں ھے جس کو انسانى روح کى آسائش و سلامتى کے لئے اخلاقيات کے ضرورى ھونے ميں ذرہ برابر بھى شک ھو ، يا رشد اجتماعى کى بنياد پر تقويت دينے اور عمومى اصلاحات ميں اس کے سود بخش ھونے ميں کسى قسم کا شبہ ھو ۔ بھلا کون ايسا شخص ھے جس کو صداقت و امانت سے تکليف ھوتى ھو ؟ يا وہ کذب و خيانت کے زير سايہ سعادت کا متلاشى ھو ؟ اخلاق کى اھميت کے لئے يھى کافى ھے کہ ھر پسماندہ و ترقى يافتہ قوم چاھے وہ کسى دين و مذھب کى پابند بھى نہ ھو اخلاقي فضائل کو بڑے احترام و تقدس کى نظر سے ديکھتى ھے ۔ اور زندگى کى پُر پيچ راھوں ميں کچھ سلسلھٴ احکام کى پابندى کو ضرورى سمجھتى ھے ۔ انسان اپني زندگى ميں تمام مختلف راھوںکے اختيار کرنے کے باجود ھر جگہ ،ھر شخص اور ھر قوم و ملت کے لئے بلندى اخلاق کو ضرورى سمجھتا رھا ھے اور طول تاريخ ميں اس کى اھميت مختلف صورتوں ميں باقى رھى ھے ۔مشھور انگريزى دانشمند ساموئيل اسمايلز کھتا ھے : اس کائنات کى محرک قوتوں ميں سے ايک قوت کا نام اخلاق ھے ۔ اور اس کے بھترين کارناموں ميں انسانى طبيعت کو بلند ترين شکل ميں مجسم کرنا ھے ، کيونکہ واقعى انسانيت کا معرف يھى اخلاق ھے ۔جو لوگ زندگى کے ھر شعبہ ميں تفوق و امتياز رکھتے ھيں ان کى پورى کوشش يھي ھوتى ھے کہ نوع بشر کا احترام و اکرام اپنے لئے حاصل کر ليں۔ تمام لوگ ان پر اعتماد و بھرسہ کريں اور ان کى تقليد کريں ، کيونکہ ان حضرات کے خيالات يہ ھوتے ھيں کہ دنيا کى ھر چيز کا تعلق ان ھى سے ھے اور يہ کہ اگر ان کا وجود نہ ھوتا تو دنيا رھنے کے قابل نہ ھوتى ۔ اگر چہ وراثتي نبوغ خود ھى لوگوں کو اپنى طرف کھينچتا ھے اور ان کي تعظيم و احترام پر آمادہ کرتا ھے پھر بھى عام لوگوں کا ايسے ا شخاص کى طرف کھنچاؤ فکرى نتيجہ کا مرھون ھوتا ھے اور تعظيم و احترام کا تعلق دل ھى سے ھوا کرتا ھے ۔ يہ بات دنيا جانتى ھے کہ ھمارى پورى زندگى پر قلب کى حکومت ھوتى ھے اور پورى زندگى کا ادارہ يھى قلب کرتا ھے ۔ جو لوگ اپنى زندگى ميں عظمت و ارتقاء کى چوٹى پر پھونچ گئے ھيں وہ حيات بشرى کى پر پيچ گليوں کے روشن چراغ ھيں اور يھى وہ لوگ ھيں جو اپنى ذات سے عالم کو منور کر ديتے ھيں اور لوگوں کو فضائل و تقويٰ کے راستوں کي طرف ھدايت کرتے ھيں ، ليکن جب تک کسى بھى معاشرہ کے افراد تربيت يافتہ اور خوش اخلاق نہ ھو ں گے چاھے وہ سياسى بلنديوں کے ھمالہ تک پھونچ جائيں وہ اپنے کو ترقى و بلندى تک نھيں پھونچا سکتے کوئى بھى قوم ھو يا ملت اگر وہ سر بلندى کى يقينى زندگي بسر کرنا چاھتى ھے تو اس کے لئے ملک کى وسعت ضرورى نھيں ھے ۔ کيونکہ بھت سى قوميں جو کثرت افراد رکھتي تھيں اور ان کے ملک کى زميں بھى بھت طويل و عريض تھى ليکن وہ عظمت و تکامل کى زندگى سے عارى تھيں اور يہ حقيقت ھے کہ جس قوم کا سر مايہ اخلاق تباہ ھو جائے وہ بھت جلد فنا کے گھاٹ اتر جاتى ھے ۔اس انگريزى دانشمند کا قول نظرى و فکرى اعتبار سے متفق عليہ ھے ليکن دنيا ميں لوگوں نے علم و عمل کے درميان بھت لمبا فاصلہ پيدا کر ديا ھے اور عملي دنيا ميں انھوں نے مکارم اخلاق کى جگہ خواھشات نفسانى کے سپرد کر دى اور ايسى جذباتى خواھشات کى تلاش ميں لگ گئے جو زندگى کے سمندر ميں ناپائدار حباب کى طرح ھوا کرتى ھيں ۔انسان کار گاہ تخليق سے ايسے فضائل لے کر آيا ھے جو آپس ميں متضاد ھيں (مثلاً ) دل اچھے و برے صفات کا مرکز ھے اس لئے وجود انسانى کو برے صفات سے بچانے کے لئے سب سے پھلى کوشش ھونى چاھئے اور اس سلسلے ميں سب سے پھلے ان دو طاقتوں کو مسخر کرنا چاھئے جو تمام حيوانى صفات کا منبع ھيں ۔ يعنى غضب و شھوت، پس جو شخص بھى منزل سعادت و تکامل کى طرف گامزن ھو اس کو چاھئے کہ ان دونوں طاقتوں ميں افراط سے پرھيز کرے اور ان دونوں قوتوں کے سخت و مضر ميلانات کو مفيد و زيبا ترين جذبات سے بدل دے کيونکہ انسان اپنى زندگى ميں اپنے عواطف و جذبات سے بھت فائدہ اٹھاتا ھے ليکن اس کے جذبات کاصحيح اظھار اسى وقت ھوتا ھے جب وہ جذبات عقل کے کنٹرول ميں ھوں ۔ايک علم النفس کا ماھر کھتا ھے : انسانى جذبات ايک ايسا خزانہ ھے جو دو چيزوں سے مرکب ھے ايک چيز ايسى طاقتوں کا مرکز ھے جو فشار دينے والى ھيں اور دوسرى چيز کے اندر مقاومت کى طاقتوں کو وديعت کر ديا گيا ھے ۔ اب جو بھى قدرت مقاومتى دستگاہ پر غالب آگئى وھى قدرت ھمارے وجود پر براہ راست حکومت کرے گى اور ھم کو اپنا تابع و فرمانبردار بنا لے گى ۔جن لوگوں نے اپنى باطنى قوتوں ميں توازن بر قرار رکھا ۔ خواھشات ميں توافق رکھا اور اپنے عقل و دل ميں صلح و آشتى کو قائم کيا ۔ انھيں لوگوں نے مشاکل حيات ميں اپنے مستحکم و غير متزلزل ارادہ کے ساتھ خوشبختي کے مسلم راستہ کو طے کيا ھے ۔ يہ بات اپنى جگہ پر درست ھے کہ آج کل کى زندگى مشينى زندگى بن کر رہ گئى ھے اور انسان نے اپنى فکرى قوتوں کے سھارے سمندروں کا سينہ چاک کر ڈالا ھے ليکن تمدن و تھذيب کے سينہ ميں جو بد بختياں موجود ھيں اور نسل بشرجن مشکلات کے تھپيڑوں ميں گرفتار ھے اور پورا معاشرہ جس بد نظمى و تباھى کا شکار ھے اسکى علت روحانيت کى شکست اور فضائل اخلاقى سے دوري کے علاوہ کچھ بھى نھيں ھے۔ڈاکٹر ژول رومان کا کھنا ھے : اس زمانہ ميں علوم نے تو کافى ترقي کى ھے ليکن ھمارے اخلاقيات اور غريزى احساسات اپنے ابتدائى مراحل ميں ھيں ۔ اگر ھمارے اخلاقيات بھى عقل و دانش کے شانہ بہ شانہ ترقى کرتے تو ھم کو يہ کھنے کا حق ھوتا کہ انسان کى مدنيت بھى ترقى کر گئى ھے !!!ھاں يہ صحيح ھے کہ جس تمدن پر مکارم اخلاق کى حکمراني نھيں ھوتى وہ توازن و تعادل کے قانون کے بموجب تباہ و برباد ھو جاتا ھے ۔ معاشروں اور رتمدنوں کے اندر موجود شقاوت و بد بختي، نقص و کمى آج بھى لوگوں کو يہ احساس دلانے کے لئے کافي ھے کہ وہ اس زمانہ ميں بھى اخلاقى اقدار کے ويسے ھي محتاج ھيں جيسے پھلے تھے ۔ مکارم اخلاق کے اندر آج بھى اتنى طاقت و قوت موجود ھے جو اس مردہ معاشرہ کے جسم ميں نئى روح پھونک دے ۔
جھوٹ کے نقصاناتسچائي جتنى پسنديدہ چيز ھے جھوٹ اتنى ھى نا پسنديدہ چيز ھے ۔ سچائى بھترين صفت ھے اور جھوٹ بد ترين صفت ھے ۔ زبان ،احساسات باطنى کى ترجمان اور راز ھائے دل کو ظاھر کرنے والى ھے ! جھوٹ اگر عداوت و حسد کى بنا پر ھو تو خطرناک غصہ کا نتيجہ ھے اور اگر طمع، لالچ يا عادت کى بنا پر ھو تو انسان کے اندر بھڑکتے ھوئے جذبات کا نتيجہ ھوتا ھے ۔اگر زبان جھوٹ سے آشنا ھو گئى اور گفتگو ميں جھوٹ نماياں ھو گيا تو جھوٹ بولنے والے کى عظمت اس طرح پادر ھوا ھو جاتى ھے جيسے موسم خزاں ميں درخت کے پتے ! يا شيشوں سے بنے ھوئے مکان پر برستے ھوئے پتھر ! جھوٹ انسان کى ناپاکى و خيانت کى روح کو تقويت ديتا ھے اور ايمان کے بھڑکتے ھوئے شعلوں کو خاموش کر ديتا ھے ۔ جھوٹ رشتھٴ الفت و اتحاد و وفاق کو توڑ ديتا ھے اور معاشرہ ميںعداوت و نفاق کے بيج بو ديتا ھے ۔ گمراھيوں کا زيادہ تر حصہ جھوٹے دعووں اور خلاف واقع گفتگووں کا نتيجہ ھوتا ھے ۔ برے لوگ اپنے فاسد مقاصد کى تکميل کے لئے اپنى شيريں بيانى ، کذب لسانى سے سادہ لوح حضرات کو اپنا گرويدہ بنا ليتے ھيں اور اپنى رطب اللسانى کى زنجير ميں اسير کر ليتے ھيں ۔ جھوٹا آدمى کبھى يہ سوچتا ھى نھيں ھے کہ کوئى دوسرا اس کے رازسے مطلع ھو جائے گا ۔ اسي اطمينان کى بنياد پر اپنى گفتگو ميں غلطيوں اور تناقض کا شکار ھوتا رھتا ھے اور کبھى شديد رسوائى سے دو چار ھو جاتا ھے اسى لئے يہ مثل بے بنياد نھيں ھے کہ :
دروغ گو را حافظہ نباشد !اس برى عادت کے عام ھونے کى ايک وجہ جس نے پورے معاشرے کو زھر آلود کر ديا ھے وہ مشھور مقولہ ھے جو زباں زد خاص و عام ھے کھ” دروغ مصلحت آميز بھتر ازراستى فتنہ انگيز “يھى وہ خوشنما پردہ ھے جس نے اس برائى کى خباثت کو چھپا رکھا ھے اور عموما لوگ اپنے سفيد جھوٹ کے جواز کے لئے اسى مقولہ کا سھارا ليتے ھيں ۔ ليکن اس بات کى طرف توجہ نھيں ديتے کہ عقل و خرد اور شريعت مطھرہ نے مخصوص شرائط کے ساتھ اس کو جائز قرار ديا ھے چنانچہ عقل و شريعت کا يہ فيصلہ ھے کہ اگر کسى مسلمان کى جان ، آبرو يا مال کثير کو خطرہ ھو تو اس کا ھر ممکن طريقہ سے دفاع کيا جا سکتا ھے يھاں تک کہ اگر جھوٹ بول کر ان تينوںميں سے کسى ايک کى حفاظت ممکن ھو تو جھوٹ بھى بول سکتا ھے ۔ ليکن يہ صرف ضرورت ھى کے وقت ھو سکتا ھے کيونکہ ضرورت حرام کو مباح کر ديتى ھے ليکن اس کے ساتھ يہ شرط ھے کہ انسان بقدر ضرورت ھى استعمال کر سکتا ھے ۔ مقدار ضرورت سے زيادہ جھوٹ نھيں بولا جا سکتا !اور اگر اس مصلحت کے دائرے کو اپنے شخصى منافع اور نفسانى خواھشات تک کے لئے وسيع کر ديا جائے اور ھم يہ سمجھ ليں کہ اپني ذاتى مصلحت و منفعت اور شھوت و خواھش کےلئے بھى اسى قاعدہ پر عمل کيا جا سکتا تو پھر بلا مصلحت والے جھوٹ کے لئے کوئى جگہ باقى نھيں رھے گى ۔ جيسا کہ اڑہ ڑھعظيم رائٹر نے لکھا ھے : ” ويسے تو ھر چيز کے لئے ايک سبب ھوتا ھے ( اور نہ بھى ھو تو ) ھم اپنے عمل کے لئے بھت سے عوامل اور بھت سي علتيں تخليق کر سکتے ھيں اور يھى وجہ ھے کہ مجرم سے جب مواخذہ کيا جاتا ھے تو وہ اپنے جرم کے لئے پچاسوں عذر ، دليل اور علت تلاش کر ليتا ھے اور اسى لئے پورى دنيا ميں جو جھوٹ بولا جاتا ھے اس ميں کوئى نہ کوئى نفع و خير کا پھلو بھرحال ھو تا ھے ۔ اور اگر ايسا نہ ھو تو وہ جھوٹ لغو اور عبث ھو جائے گا اور پھر اس ميں کوئى زيادہ ضرر و نقصان بھى نہ رھے گا ۔جس چيز ميں بھى انسان کا ذاتى فائدہ ھوتا ھے اس کو وہ فطرى طور سے خير سمجھتا ھے اور پھر جب وہ اپنے شخصى منافع کو سچ بولنے کى وجہ سے خطرہ ميں ديکھتا ھے يا وہ جھوٹ بولنے ميں اپنا فائدہ ديکھتا ھے تو دھڑلے سے جھوٹ بولتا ھے اور دور دور تک اس کى برائى کا تصور بھى نھيں کرتا کيونکہ سچائى ميں شر و فتنہ ديکھتا ھے اور جھوٹ بھرحال ايک شر ھے اگر حصول شرائط کے ساتھ جھوٹ بول کر شر کو دفع کيا گيا تو ( يہ مطلب نھيں ھے کہ وہ جھوٹ نيک ھو گيا بلکہ ) اس کا مطلب يہ ھے کہ ايک زيادہ فاسد چيز کو کم فساد والى چيزکے ذريعہ دور کيا گيا ھے ۔آزادي بيان کى اھميت آزادى فکر سے بھت زيادہ ھے ۔ کيونکہ اگر افکار ميں کسى قسم کى لغزش يا انحراف ھو گيا تو اس کا نقصان صرف فکر کرنے والے کو پھونچے گا ليکن اگر گفتار ميں لغزش يا انحراف ھو گيا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا ۔امام غزالى کھتے ھيں : زبان ايک بھت بڑى نعمت ھے اور پروردگار عالم کا ايک نھايت ھى لطيف و دقيق عطيہ ھے ۔يہ عضو ( زبان ) اگر چہ حجم و جسم کے اعتبار سے بھت ھى چھوٹا ھے ليکن اطاعت و معصيت کے اعتبار سے بھت ھى سنگين و بڑا ھے ۔ کفر يا ايمان کا اظھار زبان ھى سے ھوا کرتا ھے اور يھى دونوں چيزيں بندگى و سر کشى کي معراج ھيں ۔ اس کے بعد اضافہ کرتے ھوئے فرماتے ھيں ؛ وھي شخص زبان کى برائيوں سے نجات حاصل کر سکتا ھے جو اس کو دين کى لگام ميں اسير کر دے اور سوائے ان مقامات کے کہ جھاں دنيا و آخرت کا نفع ھو کسى بھى جگہ آزاد نہ کرے !بچوں کے باطن ميں جھوٹ جڑ نہ پکڑنے پائے اس کے لئے بچوں سے کبھى بھي جھوٹ اور خلاف واقع بات نھيں کرنى چاھئے کيونکہ بچے جن لوگوں کے ساتھ ھمہ وقت رھتے ھيں فطرى طور سے انھيں کى گفتار و رفتار کو اپنے اندر جذب کرنے کى کوشش کرتے ھيں۔ گھر بچوں کے لئے سب سے اھم تربيت گاہ ھے “۔جھوٹ اور خلاف واقع کا دور دورہ ھو گيا اور والدين کے اعمال خلاف واقع ھونے لگے تو کسى بھى قيمت پر اچھے و سچے بچے تربيت پا کر نھيں نکل سکتے ۔ بقول موريش ۔ ٹى ۔يش : حقيقت کے مطابق سوچنے کى عادت، حقيقت کے مطابق بات کرنے کى سيرت ،ھر سچ و حقيقت کو قبول کرنے کى فطرت صرف انھيں لوگوں کا شيوہ ھوتا ھے جن کى تربيت طفوليت ھى سے اسى ماحول ميں ھوئى ھو ۔
دين کى نظر ميں جھوٹقرآن مجيد صريحى طور سے جھوٹ بولنے والے کو دين سے خارج سمجھتا ھے چنانچہ ارشاد ھے : ” انما يفترى الکذب الذين لا يومنون باٰ ياٰت اللہ “(۱) جھوٹ وبھتان تو بس وھى لوگ باندھا کرتے ھيں جو خدا کى آيتوں پر ايمان نھيں رکھتے۔آيت کا مفھوم يہ ھوا کہ ايمان والے جھوٹ نھيں بولتے ۔رسول اکرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم کا ارشاد ھے : تم پرسچ بولنا واجب ھے ۔ اس لئے کہ سچ اعمال خير کى طرف لے جاتا ھے ،اوراعمال خيرجنت ميں لے جاتے ھيں جو شخص سچ بولتا ھے اور اس کى کوشش کرتا ھے وہ خدا کے پاس صديق لکھا جاتا ھے ۔ خبردار جھوٹ نہ بولنا کيونکہ جھوٹ فسق ( و فجور ) کى طرف دعوت ديتا ھے اور فسق ( و فجور ) انسان کو جھنم ميں ڈھکيل ديتے ھيں ۔ جو انسان برابر جھوٹ بولتا ھے وہ خدا کے يھاں ( کذاب ) لکھا جاتا ھے ۔( ۲)جھوٹوں کى ايک خصوصيت يہ بھى ھے کہ ان کو کسى بات پر بڑى مشکل سے يقين آتا ھے اور بڑى مشکل سے دوسروں کى بات پر يقين کرتے ھيں ۔ پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم کا ارشاد ھے : جو لوگ سب سے زيادہ لوگوں کى باتوں پر يقين کرتے ھيں يہ وھى لوگ ھيں جو سب سے زيادہ سچ بولتے ھيں ۔ اور جو لوگ ھر شخص کى بات کو جھٹلا ديتے ھيں ۔ يہ وھى اشخاص ھيں جو سب سے زيادہ جھوٹ بولتے ھيں ۔ ( ۳)ساموئيل اسمايلز کھتا ھے : بعض لوگ اپنى پست طبيعتى کو دوسروں کے لئے معيار قرار ديتے ھيں ليکن يہ بات جان ليني چاھئے کہ در حقيقت دوسرے لوگ ھمارے خيالات کے آئينہ ھيں اور ھم جو اچھائى يا برائى ان کے اندر ديکھتے ھيں وہ ھمارى اچھائى يا برائى کا عکس ھے ۔شجاع و بھادر آدمى کبھى جھوٹ نھيں بولتا ۔ جھوٹے کے باطن ميں ايسى روحى کمزورى ھے جو اس کو صراط مستقيم سے ھٹا ديتى ھے ۔ جو لوگ اپنے اندر برائي اور کمزورى کا احساس کرتے ھيں وھى جھوٹ بولا کرتے ھيں ۔ ڈرپوک بزدل ، کمزور کى پناہ جھوٹ ھے ۔حضرت على عليہ السلام ارشاد فرماتے ھيں : اگر چيزوں ميں چھٹائى کى جائے تو سچائى بھادرى کے ساتھ ھو گى اور جھوٹ بزدلى کے ساتھ ھو گا ۔ (۴)ريمانڈ پيچ کھتا ھے : ناتوان کمزور افراد کا دفاعى حربہ جھوٹ ھے اور خطرے کوٹالنے کے لئے سب سے سريع تر ذريعہ جھوٹ ھے اسى لئے آپ ديکھيں گے کہ رنگين نژاد لوگوں ميں جھوٹ بھت رائج ھے ۔ کيونکہ يہ لوگ سفيد فام لوگوں کے جوتے کے نيچے رھتے ھيں اور يہ محسوس کرتے رھے ھيں کہ سفيد فام لوگ ھم پر نفوذ و سيطرہ رکھتے ھيں اور ھم کو اپنى مرضى کے خلاف استعمال کر سکتے ھيں ! بھت سے اوقات ميں جھوٹ صرف عاجزى و ناتوانى کا رد عمل ھوتا ھے يھى وجہ ھے کہ اگر آپ کسى بچہ سے پوچھيں کہ يہ مٹھائى تم نے کھائى ھے ؟ يا يہ گلدان تم نے توڑا ھے ؟ تو اگر بچہ جانتا ھے کہ “ھاں” کھہ دينے ميں ميرى اچھى خاصى گوشمالى ھو گى تو اس کى غريزہ ٴ دفاع ( دفاعى فطرت ) فوراً اس کو نھيں ! کھنے پر آمادہ کر دے گى ۔ (۵)اسلام سچائى کو فضيلت کا ملاک قرار ديتا ھے امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ھيں : لوگوں کى کثرت نماز اور کثرت روزہ سے دھوکہ نہ کھاؤ کيونکہ ھو سکتا ھے کسى کى يہ عادت ھى ھو گئى ھو اور اس کو اپنى عادت چھوڑنى دشوار ھو بلکہ لوگوں کو سچائى اور امانت کے ساتھ پرکھو َ اور ان دونوں باتوں سے ان کي آزمائش کرو ۔ (۶)حضرت على عليہ السلام سچائى کے فوائد و ثمرات بيان کرتے ھوئے فرماتے ھيں : سچ بولنے والا تين باتوں کو حاصل کر ليتا ھے ۔۱۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ھيں ۔ ۲۔ اس سے محبت کرتے ھيں ۔ ۳۔ اس کى ھيبت چھا جاتى ھے ۔ (۷) حضرت على عليہ السلام فرماتے ھيں : آدمى کى بد ترين صفت جھوٹ بولنا ھے ۔ (۸)ساموئيل امايلز کھتا ھے : تمام اخلاقى برائيوں اور ذليل ترين صفات ميں سب سے مذموم اور برى صفت جھوٹ ھے ۔ انسان کو چاھئے کہ اپنے تمام مراحل زندگى ميں صرف سچائى کو اصلي ھدف قرار دے ۔ کسى بھى مقصد کے حصول کے لئے سچائى سے دست بردار نھيں ھونا چاھئے ۔( اخلاق )اسلام نے اپنے تمام اخلاقى و اصلاحى پروگراموں کو ايمان کي بنياد پر استوار کيا ھے اور اسى کو سعادت بشرى کي بنياد شمار کيا ھے۔ ڈيکارٹ کھتا ھے : ايمان کے بغير اخلاق اس قصر کے مانند ھے جو برف پر بنايا گيا ھو ۔ ايک دوسرا دانشمند کھتا ھے : دين کے بغير اخلاق کى مثال اس دانہ کى ھے جس کو پتھر يا خارستان ميں بوياگيا ھو جو خشک ھو کر ختم ھو جاتا ھے ۔ بھترين اخلاق بھى اگر زير سايہ دين و ايمان نہ ھو تو اس کى مثال اس خاموش مردے کى ھے جو ايک زندہ اور کاھل انسان کے برابر پڑا ھو ۔دين قلب و عقل دونوں پر حکومت کرتا ھے ۔ اگر کسى کے پاس ديني جذبات ھيں تو وہ مادى احساسات کے غلبہ کو کم کر ديتے ھيں ، دين ھى انسان اور اس کى کثافتوں و نجاستوں کے درميان سد سکندر بن جاتا ھے ۔ جو شخص ايمان پر تکيہ کر تا ھے وہ ھميشہ با ھدف اور مطمئن ھوتا ھے ۔ اسلام نے انسان کي شخصيت کو اسکے ايمان اور صفات اعليٰ و ملکات فاضلہ کا مقياس ( پيمانہ ) و محو ر قرار ديا ھے اور ان دونوں (ايمان و ملکات فاضلہ )جنبوں کى ترقى کے لئے کوشاں رھتا ھے ۔ اسى ايمان کى بدولت مسلمان کى بات ميں اسلام نے وزن پيدا کر ديا ھے اور يھى وجہ ھے کہ دين کے قانون قضائى ( عدليہ ) ميں قسم کھانے کو ۔ بشرطيکہ وہ قسم تمام شرائط کى جامع ھو ۔ دليل کا قائم مقام قرار ديا ھے ۔ اسى طرح مرد مسلمان کى گواھي معاشرے کے حقوق کے اثبات کى دليل قرار دى گئى ھے ۔اب ذرا تصور کيجئے اگر ان دونوں جگھوں ۔ قسم و گواھى ۔ پر جھوٹ بولا جائے تو اس سے کتنا عظيم نقصان ھو گا ۔ اور يہ اتنى بڑى لغزش ھو گى جو قابل عفو و بخشش نھيں ھے ۔ پس اس سے ثابت ھو ا کہ جھوٹ کے گناہ کى شدت و کمى اس سے پيدا ھونے والے نقصانات سے وابستہ ھے مثلا جھوٹى قسم جھوٹى گواھى کا ضرر بھت زيادہ ھے اس لئے اس جھوٹ کا بھى گناہ بھت زيادہ ھے ۔تمام برائيوں تک پھونچنے کا سب سے پھلا ذريعہ جھوٹ ھوا کرتا ھے ۔ امام حسن عسکرى عليہ السلام فرماتے ھيں : تمام خبائث و برائيوں کو ايک مکان ميں بند کر ديا گيا ھے اور اس کى کنجى جھوٹ کو قرار ديا گيا ھے ۔ ( ۹)ميں آپ کى توجہ مبذول کرانے کے لئے اس سلسلہ ميں پيشوائے اسلام کا دستور ذکر کرتا ھوں : ايک شخص سرکار رسالتمآب صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم کے پاس آکر گويا ھوا : ميرى سعادت و نيکبختى کے لئے آپ مجھے کوئى موعظہ فرمائيں ! آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا : جھوٹ چھوڑ دو اور ھميشہ سچ بولا کرو ! وہ شخص جواب پا کر چلا گيا ۔ اس کے بعد اس نے کھا : ميں بھت ھى گنھگار تھا ليکن ميں ان گناھوں کے چھوڑنے پر مجبور ھو گيا ۔ کيونکہ گناہ کرنے کے بعد اگر مجھ سے پوچھا جاتا اور ميں سچ بول ديتا تو سب کے سامنے رسوا ھو جاتا اور لوگوں کى نظروں سے گر جاتا ۔ اور اگر جھوٹ بولتا تو دستور رسول اکرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم کى مخالفت کرتا ۔ اس لئے ميں نے سارے گناہ چھوڑ دئے ۔جي ھاں ! جو شخص راست گفتار ھوتا ھے اور راہ راست پر چلتا ھے وہ رنج و افسوس سے دور رھتا ھے ۔ اور اس کے ايمان کى شمع ھمشيہ فروزاں رھتى ھے وہ شخص قلق و اضطراب سے امان ميں رھتا ھے ۔ اور افکار پريشاں سے بھت دور رھتا ھے ۔پس جھوٹ کے برے انجام کو ديکھنا اور اس کے بارے ميں غور و فکر کرنا اور دين و دنيا ميں اس کے برے نتائج کو سوچنا ھر شرافت مند اور متفکر انسان کے لئے ايک بزرگترين درس عبرت ھے۔ حقيقت کمال کا حصول ايمان کے زير سايہ ھى ھوا کرتا ھے اور جھاں پر کمال حقيقى نھيں ھوتا وھاں سعادت و آسائش بھي نھيں ھوتى ۔——————————————————–حوالے۱۔ سورہ نحل/ ۱۰۵۲۔نھج الفصاحة ص/۴۱۸۳۔نھج الفصاحة ص /۱۱۸۴۔غر ر الحکم ص/ ۶۰۵۵۔ کتاب ” ماوفرزندان ما “۶۔اصول کافى ص/ ۸۵۷۔غرر الحکم ص/ ۸۷۶۸۔ غرر الحکم ص/ ۱۷۵۹۔جامع السعادات ج/۲ ص/ ۳۱۸
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.