ازدواجي زندگي اور خوشگوار گفتگو
جو لوگ اپني زندگي کے آخر برسوں ميں اپنے رفيقِ زندگي سے بچھڑ جاتے ہيں وہ جذباتي گھٹن کا شکار ہوکر عارضہ قلب ميں ايسے دوسرے لوگوں کے مقابلے ميں زيادہ مبتلا ہو جاتے ہيں جن کے رفيقِ زندگي زندہ اور ان کے پاس ہوتے ہيں۔‘‘کہتے ہيں کہ شادي کے ابتدائي دنوں ميں شوہر بولتے ہيں اور بيگمات صرف سنتي ہيں اور اس کے بعد بقايا ساري زندگي صرف بيوياں بولتي ہيں اور شوہر چپ چاپ سنتے ہيں۔ ليکن اب جب کہ سائنسدان بھي کہہ رہے ہيں کہ مياں بيوي کے درميان اچھي گفتگو جذباتي طور پر انسان پر خوشگوار اثر ڈالتي ہے اور اس کے طبي فوائد بھي ہيں تو ميں ان بيگموں کو جن کے شوہروں کويہ شکوہ ہے کہ وہ بہت بولتي ہيں، انہيں يہي مشورہ دوں گي کہ بھئي اگر شوہر کي صحت عزيز ہے تو اس بے چارے کو بھي بولنے ديں۔ ليکن ساتھ ساتھ جو بيوياں شوہروں کے حاکمانہ روئيے اور حکم چلانے کي عادت کے باعث ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر چپ چاپ دم سادھے کھڑي رہنے کي عادي ہيں تو ميں ان شوہروں سے بھي يہي کہوں گي کہ اپنے بچوں کي ماں اور گھر کا چين و سکون عزيز ہے تو بيوي پر حکم چلانا چھوڑيں اور اسے خوفزدہ کر کے اپني مردانگي کو تسليم کروانے کي عادت بدليں۔ بيوي سے نرم اور خوشگوار لہجے ميں باتيں کريں اور ہلکے پھلکے موضوعات پر بات چيت کرتے رہيں۔ اس طرح بيوي جو بے چاري دن بھر آپ کے خوف ميں مبتلا رہ کر ذہني دباو کي مريضہ بن جاتي ہے، اس کي حالت بھي سنبھلے گي۔اگر چہ مغربي ممالک ميں زندگي کے تمام شعبوں ميں تحقيق کي عادت نے لوگوں کو بہت سے آرام اور آسائشيں بخشي ہيں ليکن جس دلچسپ تحقيق کا تذکرہ ميں نے اوپر کيا ہے، ديکھا جائے تو اس سے پاکستان کے سماجي ماحول ميں رہنے والے شادي شدہ جوڑے بھي فائدہ اٹھاسکتے ہيں۔ بات ہے تو صرف روئيے ميں تھوڑي سي تبديلي لانے کي ۔بات يوں ہے کہ کچھ عرصے قبل نيويارک کي اسٹيٹ يونيورسٹي کے طبي ماہرين اس سوال پر سوچنے لگے کہ جب خون کي رفتار ميں اتار چڑھاو کا تعلق ماحول اور صورتِ حال سے ہے تو شادي شدہ لوگوں پر يہ کس طرح اثر انداز ہوتي ہے؟ بس اس خيال کے آنے کي دير تھي کہ کچھ طبي محققين سر جوڑ کر بيٹھے اور آخر کار اس نتيجے پر پہنچے کہ ديکھا جائے کہ شادي شدہ جوڑے جب آپس ميں خوشگوار موڈ ميں بات چيت کرتے ہيں تو ان کے خون کي گردش پر کيا اثرات پڑتے ہيں۔اس کے علاوہ جب اجنبيوں سے بات کي جائے تو خون کي گردش کي کيا صورتحال ہوگي؟ يہ نکتے طے پاگئے تو تحقيق کا مرحلہ شروع ہوا ۔ سو سے زائد ہر عمر کے شادي شدہ جوڑوں کو رضاکارانہ طور پر اس بات کو جاننے کے لئے منتخب کيا گيا۔ تحقيق کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد طبي سائنسدانوں نے جو نتائج اخذ کئے وہ ايک امريکي طبي جريدے ميں شائع ہوئے جس ميں کہا گيا ہے کہ ‘جب شادي شدہ جوڑے خوشگوار موڈ ميں اپنے ساتھي سے ہم گفتگو تھے تو اس دوران ان کا فشارِ خون کم تھا ليکن جب وہ کسي اجنبي سے بات کررہے تھے تو ان کا فشارِ خون زيادہ ہورہا تھا‘‘۔تحقيق يہيں پر ختم نہيں ہوئي بلکہ اسے اور آگے بڑھايا گيا اور ايسے جوڑے بھي منتخب کئے گئے جن کي شادي شدہ زندگي کئي عشروں پر مشتمل تھي۔ اس کے ساتھ ساتھ ايسے لوگ بھي تلاش کئے گئے جن کے شوہر يا بيوي طويل ازدواجي زندگي کے بعد انہيں تنہا چھوڑ کر ابدي سفر پر چل دئيے تھے۔ ان لوگوں کے مختلف طبي جائزے لينے کے بعد معالجين اس نتيجے پر پہنچے کہ جن کے شوہر يا بيوي طويل ازدواجي زندگي گزارنے کے بعد عمر کے آخري برسوں ميں دوسرے کو تنہا چھوڑ کر موت کي آغوش ميں سوجاتے ہيں تو ايسے ميں تنہائي کا دکھ اور جذباتي گھٹن کے باعث يہ افراد امراضِ قلب اور بلند فشارِ خون کے مرض ميں مبتلا ہوجاتے ہيں۔ سائنسدانوں نے ايسے افراد کے لواحقين کو مشورہ ديا ہے کہ اس طرح کي صورتِ حال ميں وہ اپنے بزرگ کي زيادہ دلجوئي کريں، ان سے باتيں کريں اور انہيں اہميت ديں تاکہ وہ خطرناک امراض کا شکار ہوکر وقت سے پہلے ہي اس دنيا سے رخصت نہ ہو جائيں۔‘‘طبي سائنسدانوں نے جن باتوں کي طرف اشارہ کيا ہے اگرچہ اس کا شکار مغربي معاشرہ زيادہ ہے تاہم پاکستان ميں بھي ايسے لوگوں کي کمي نہيں جن کے نزديک بيوي ‘ملازمہ‘‘ اور بزرگ صرف ‘گھر کي ديکھ بھال‘‘ کرنے والوں سے زيادہ اہميت کے حامل نہيں۔ اب جب کہ مغرب کے طبي سائنسدان بھي ‘باہمي گفتگو‘‘ کي افاديت تسليم کر رہے ہيں تو ہميں دوسروں کو تو چھوڑئيے اپني صحت ہي کي خاطر رويوں ميں تبديلي لاني چاہيے۔مياں بيوي گاڑي کے دو پہيے ہيں ليکن گاڑي ميں ايک پہيہ ٹريکٹر کا اور دوسرا رکشہ کا ہو تب بھي بات نہيں بنتي۔ بات اس وقت بنتي ہے اور گاڑي تب ہي درست انداز ميں چلتي ہے جب دونوں پہيوں ميں توازن اور برابري ہو۔ اس لئے شوہر ہو يا بيوي دونوں کو چاہيے کہ خوشگوار زندگي کے لئے آپس ميں خوشگوار تعلقات رکھيں۔ ہنستے بولتے اور ہلکے پھلکے اندازميں گفتگو کرتے ہوئے زندگي گزاريں اور گھر ميں اگر کوئي بزرگ ہے تو اس کو بھي وقت ديں اور دو چار باتيں کرليں کہ زندگي کا نام ہي ‘دوسروں سے شفقت و محبت کا برتاو ہے‘‘۔اگر کبھي مياں بيوي ميں ناچاقي بھي ہوجائے تب بھي بات چيت کريں کہ اسي سے مسئلے کے حل نکلتے ہيں۔ برِصغير کے مشہور ترقي پسند شاعر سردار جعفري کے ايک شعر کا يہ مصرعہ ياد رکھيںگفتگو ختم نہ ہو بات سے بات چلے