ملکی کونسل «برائے دینی محققین» کا اعلامیہ

اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ

4

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ

ملکی کونسل «برائے دینی محققین» کا اعلامیہ

عظیم مجاہد، دانشمند عالمِ دین اور عالمِ اسلام کے ممتاز رہنما، حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ‌ای قدس سرہ الشریف کی شہادت، ملتِ ایران، امتِ مسلمہ اور دنیا بھر کے تمام آزادگانِ عالم کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ہم اس جانگداز مصیبت پر بارگاہِ حضرت ولیِ عصرؑ، ملتِ عظیم ایران اور تمام حق‌طلب انسانوں کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک غیر معمولی بصیرت، شجاعت، ایمان اور حکمت کے ساتھ انقلابِ اسلامی اور ملک کے سفینے کی نہایت سخت اور حساس تاریخی حالات میں قیادت فرمائی، اور ایرانِ اسلامی کی عزت، استقلال، اقتدار اور ترقی کی بنیادوں کو استحکام بخشا۔ آپ کی سادہ زندگی، عمل میں اخلاص، مسلسل جدوجہد اور الٰہی و انسانی اقدار سے عمیق وابستگی نے آپ کو تاریخِ معاصر کی ایک بے مثال شخصیت بنا دیا۔

موجودہ حساس اور نازک حالات میں سب سے اہم قومی ذمہ داری، قومی وحدت و یکجہتی کا تحفظ اور انقلابِ اسلامی کے گرانقدر سرمایہ و ورثے کی پاسداری ہے۔ اسی بنیاد پر ملکی کونسل برائے دینی محققین درج ذیل نکات کی طرف توجہ مبذول کراتی ہے:

قومی اتحاد اور یکجہتی، انقلابِ اسلامی کی سب سے بڑی طاقت اور دشمنوں کی سازشوں، دباؤ اور خطرات کے مقابلے میں کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور آج پہلے سے کہیں زیادہ اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

آئینِ اسلامی جمہوریہ کے مطابق ملک کے قانونی و سیاسی نظم کا تسلسل، اور آئندہ قیادت کے تعین میں قانونی اداروں کے کردار کا تحفظ، قومی استحکام اور اقتدار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج — ارتش، سپاہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بسیج — جو ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استقلال کے محافظ ہیں، ان کی ہمہ جہت حمایت پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔

دشمن کی سازشوں اور خصوصاً میڈیا و سائبر اسپیس میں جاری ہائبرڈ وار اور نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں بیداری، مؤثر تنظیم سازی، اور عوامی افکار کے لیے صحیح، امید افزا اور حقیقت پسندانہ بیانیے کی ترویج نہایت ضروری ہے۔

فعال سفارت کاری اور ثقافتی و بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس سانحے کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت، اور عالمی رائے عامہ میں ملتِ ایران کے حقوق کا دفاع، خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

ملک کے موجودہ حالات کا مؤثر اور دانشمندانہ انتظام، اور بحرانی صورتحال میں عوامی ضروریات کی بروقت فراہمی، متعلقہ انتظامی اداروں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

رہبرِ شہید اور انقلابِ اسلامی کے تمام شہداء کی یاد، فکر اور راستے کی پاسداری، نیز ایثار، مقاومت اور سماجی ذمہ داری کے کلچر کا فروغ، ایک تاریخی فریضے کے طور پر معاشرے میں زندہ رہنا چاہیے۔

بلاشبہ اس عظیم رہبر کی یاد، افکار اور آرمان ملتِ ایران کی تاریخی حافظے میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور وہ راستہ جو انہوں نے عزت، استقلال اور قومی پیشرفت کے لیے ہموار کیا، ملت کے عزم اور نصرتِ الٰہی کے سائے میں جاری و ساری رہے گا۔

ملکی کونسل برائے دینی محققین

«اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ»
ڈاکٹر آیت پیمان
دبیر، مجمعِ دین پژوهانِ کشور
ورئیس، مجمعِ جهانیِ شیعہ شناسی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.