صنف نسواں کا افتخار
تاریخ بشریت کی اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ہر دور اور ہر معاشرے میں صف نسواں کو ایک پست اور حقیر طبقے کی مخلوق کے عنوان سے دیکھا، پرکھا اور برتا گیا ہے اور تقریباً پوری تاریخ انسانیت میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ چاہے عرب کا معاشرہ ہو یا مغرب کا نام نہاد تہذیب یافتہ معاشرہ یا مشرقی اقدار کا دعویدار برصغیر کا معاشرہ ۔۔۔۔ عورت ہر جگہ مظلومیت کی تصویر بنی نظر آتی ہے۔ ہر دور کا مرد اپنے آپ کو تنگ نظر مردوں کی ذہنیت کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تنہا خود کو اشرف المخلوقات سمجھتے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے عورت انکی نظر میں انسان ہی نہ ہو، انھوں نے ہمیشہ عورتوں کو اپنی لونڈی، خدمتگار اور کھلونا تصور کیا ہے اور کبھی بھی عورت کو کسی معاشرے میں بھی وہ مرتبہ نہ مل سکا، جس کی درحقیقت وہ اہل ہے۔
جزیرۃ العرب میں بھی ظہور اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عورت کو اس حد تک ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا کہ مرد اسکے وجود کو ایک طرف محض تفریحی سامان کی حیثیت سے استعمال کرتے تھے اور دوسری طرف اس کی ذات کو اپنے لئے ننگ و عار تصور کرتے تھے، چنانچہ جب بھی انکے ہاں کوئی لڑکی پیدا ہوتی تھی تو اسے زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ مغربی معاشرے نے تو حد ہی کر دی اور اس ذات کو جو معاشرے کا معمار گردانی جاتی تھی، اسے معاشرے میں ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا کہ جس میں اسکی حیثیت ایک کم قیمت کھلونے سے زیادہ نہ تھی۔
غرض کہ ہر دور میں عورت کی تصویر مردوں کی کنیز، خادمہ اور ایک پست و حقیر مخلوق کی شکل میں ابھر کر سامنے آتی ہے، لیکن پوری تاریخ بشریت میں تنہا وہ دین اسلام ہے جس نے ہر زمانے میں عورت کے فضل و شرف اور اسکے حقیقی مرتبے اور بلند مقام کے حصول کیلئے ظالم معاشرے کے خلاف علم فریاد بلند کیا ہے اور ہر عہد میں عورت کا کھویا ہوا رتبہ واپس دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ عورت کو معاشرے میں ایک نمایاں مقام دینے میں اسلام کے آفاقی قوانین نے جو کام کیا، اسکی مثال پوری تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی، عورت کے بلند مرتبے کو انسانی معاشرے میں آشکار کرنے کیلئے اور اسکا اصلی مقام دلانے کیلئے اسلام نے جو چند قوانیں وضع کیے ہیں، انکا ایک اجمالی جائزہ لیتے ہیں:
عورت کی منزلت و شرافت کا قولی تعارفعورت کی منزلت و شرافت کا عملی تعارفصنف نسواں میں بلند ترین کردار کی تخلیق
عورت کی منزلت و شرافت کا قولی تعارف:اس سلسلے میں ہمیں اسلام کی آسمانی کتابوں اور روحانی پیشواوں یعنی انبیاء و مرسلین اور آئمہ معصومین علیہ السلام کے ارشادات کا جائزہ لینا ہو گا کہ انہوں نے اپنے بیانات میں عورت کے مرتبے کو کس انداز میں پیش فرمایا ہے اور بہر حال اس جگہ کافی تفصیل طلب گفتگو کی گنجائش ہے ہم صرف اشارے پر اکتفا کرتے ہیں۔1۔ اللہ کی کتاب قرآن کریم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے عورتوں کو کہیں مردوں کی کھیتی کہا ہے اور کہیں پر مردوں کا لباس قرار دیا ہے اور کہیں پر مردوں کیلئے باعث سکون و راحت بتایا ہے، عورت کے بارے میں قرآن کریم کے محض یہ بیانات ہی عورت کے فضل و شرف کو اجاگر کرنے کیلئے کافی ہیں۔
کھیتی سے تشبیہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کھیتی رزق کا ایک ذریعہ ہے اسی طرح عورتیں بھی مردوں کے رزق میں اضافے کا سبب ہوتی ہیں، جس طرح کھیتی اناج کی پیداوار کا ذریعہ ہوتی ہے اسی طرح عورتیں نسل انسانی کے وجود کی بقا کا ذریعہ ہیں، لباس سے تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ کپڑا انسان کیلئے باعث زینت ہوتا ہے، ویسے ہی عورت مرد کیلئے باعث زینت ہے، اور جس طرح لباس جسم کو ڈھانکتا ہے اور انسان کی عیب پوشی کرتا ہے اسی طرح عورت مرد کے عیب کو ڈھانکتی ہے اور اسکی عزت کو برقرار رکھتی ہے۔ نیز صاف لفظوں میں قرآن کریم نے عورت کو مرد کیلئے باعث سکون و راحت کہا ہے، پھر بھلا عورت پست و حقیر کیسے ہو سکتی ہے۔؟
قرآن کے بعد احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، نہج البلاغہ اور ارشادات معصومین علیہ السلام کا جائزہ لینے سے پتہ چلے گا کہ کہیں عورت کو پھول سے تشبیہ دی گئی ہے، کہیں اسے گھر کی زینت بتایا گیا ہے، کہیں اسے انسانی معاشرے کا مربی ّ کہا گیا ہے، کیونکہ تربیت کی پہلی منزل اسی کی آغوش ہے اور کہیں مرد کی ذمہ داریوں میں برابر کی شریک اور زندگی کا ایک لازمی عنصر قرار دیا گیا ہے۔ غرض کہ اسلام کے رہنمائوں کے ارشادات میں عورت کے مرتبے کو پورے طور سے اجاگر کیا گیا ہے اور اسلام نے اسکے شرف کے قولی تعارف نے کسی طرح کی کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی ہے۔
عورت کی منزلت و شرافت کا عملی تعارف:اس سلسلے میں ہمیں انبیاء اور معصومین علیھم السلام کی سیرت کا جائزہ لینا ہوگا کہ انہوں نے اپنے عمل سے عورت کے مرتبے کو کس طرح پہچان عطا کی ہے، چنانچہ اختصار کے پیش نظر ہم صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مولائے کائنات کی سیرت کی طرف صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کریں گے۔
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا سے بحیثیت شریک حیات اور شہزادی کونین سلام اللہ علیھا سے بحیثیت پارہ جگر کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو مثالی برتائو رہا ہے وہ تاریخ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں، خاص طور پر عرب کے اس بگڑے ہوئے معاشرے میں جہاں عورت کو ذلیل اور بیٹی کو باعث ننگ و عار سمجھا جاتا تھا، آنحضرت کا اپنی پارہ جگر جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا حد سے زیادہ احترام و کرام کرنا اور آپ کی تعظیم کیلئے کھڑے ہو جانا، اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے عورت کے شرف کے عملی تعارف میں کسی طرح کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی ہے۔اسی طرح شہزادی کونین سلام اللہ علیھا سے مولائے کائنات علیہ السلام کا جو احترام آمیز سلوک رہا ہے، اس سے بھی عورت کی منزلت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
صنف نسواں میں بلند ترین تخلیق:عورت کی منزلت و شرافت کے قولی و عملی تعارف کے بعد بات کو پایہ ثبوت تک پہچانے کیلئے ‘جس چیز کی اصل میں ضرورت تھی وہ یہ کہ خود عورتوں میں ایسی پاک و پاکیزہ صاحب کردار اور بلند ترین شخصیتیں ہوں، جو پوری تاریخ بشریت اور پورے انسانی معاشرے میں عورتوں کے شرف و وقار اور بلند مرتبے کی علامت بن جائیں اور صنف نسواں ان پر فخر کرے۔چنانچہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ پہلو بھی پوشیدہ نہیں، پوری بشری تاریخ میں ایک نہیں بلکہ متعدد ایسی بلند پایہ خواتین ملیں گی، جو واقعاً صنف نسواں کا افتخار ہیں، مثال کے طور پر جناب ہاجرہ، جناب سارہ، جناب آسیہ، جناب مریم اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیھا کی عظیم ہستیاں میرے دعوے کے ثبوت کے طور پر کافی ہیں۔
لیکن موضوع کی مناسبت کے ساتھ ساتھ میں اپنے مدعا کی آخری دلیل کے عنوان سے جس عظیم اور بلند مرتبہ شخصیت کا تذکرہ کروں گا وہ ذات ہے شہزادی کونین، عصمت کبریٰ، فخر مریم و حوّا، امّ ابیھا حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا کی ذات گرامی، اور آپ ہی کی ذات دلیل روشن ہے جس میں کسی بھی شخص کیلئے چوں و چرا کی گنجائش نہیں، کیونکہ آپ کے فضائل و مراتب ہر عام و خاص پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں، ولادت سے لیکر شہادت تک 18 سال کے مختصر ترین عرصہ حیات کا سرسری جائزہ لینے والے پر بھی یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کی شخصیت ہر اعتبار سے کامل و اکمل تھی اور زندگی کا کوئی بھی پہلو آپ کے یہاں تشنہ نہ تھا یعنی انسانی فضائل و کمالات کے جتنے بھی رخ ہو سکتے ہیں وہ سب بدرجہ اولٰی آپ کے یہاں موجود تھے کہ اس پر صنف نسواں تو کیا پوری نوع انسانیت جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔
کتابوں میں معراج نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی ولادت با سعادت مرقوم ہے اور یہاں تک ملتا ہے کہ بچپنے ہی سے آپ کے انداز و عادات و اطوار دنیا کی عام بچیوں سے جداگانہ تھے، چنانچہ ایک مرتبہ جناب امّ سلمہ سے کہا گیا کہ بچی کو تعلیم دیا کریں تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ میں تو خود اس بچی سے تعلیم حاصل کیا کرتی ہوں، میں اس کو کیا تعلیم دوں گی۔؟ یہ واقعہ اس بات کی شہادت کیلئے کافی ہے کہ کمسنی ہی سے آپ کی ذات والا صفات تمام انسانی فضائل و کمالات، اخلاق حسنہ، اوصاف کمالیہ اور عظمت کردار کا روشن مرقع تھیں، چنانچہ وہ تمام اوصاف و کمالات جو مرد و عورت دونوں صنفوں کے لئے برابر سے فضیلت ہیں، جیسے عرفان، علم، زہد، تقویٰ، پاکیزگی نفس، صبر، حلم، عبادت، ایثار، قربانی، خلق و مروت، اور راضی بہ رضائے الہٰی رہنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ تمام صفات آپ کی ذات گرامی میں بدرجہ اولٰی پائے جاتے تھے۔
اس کے علاوہ وہ تمام صفات حسنہ بھی جو خصوصیت سے عورتوں کیلئے باعث شرف ہیں جیسے:حیاء، عفت، پاکدامنی، پابندی حجاب، امور خانہ داری کی انجام دہی، بچوں کی تعلیم و تربیت، شوہر کے حقوق کی ادائیگی، وغیرہ ان سارے کمالات کا سرچشمہ بھی آپ ہی کی ذات گرامی تھی، یہ محض عقیدت کی باتیں نہیں بلکہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن سے کوئی بھی صاحب نظر چشم پوشی نہیں کرسکتا، تصدیق کیلئے وہ حدیثیں بھی موجود ہیں، جن سے شہزادی کونین سلام اللہ علیھا کا شرف واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔
آپ کی ذات گرامی حیاء، عفت اور پابندی حجاب کی عملی تعلیم ہے، جس سے شہزادی کونین سلام اللہ علیہا کی نظر میں عورت کی شخصیت کا اصل پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت کو حیاء، عفت، پاکدامنی اور پردے کی پابندی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے، شہزادی کونین سلام اللہ علیھا کی نظر میں عورت ایک پھول ہے جسے ہوس بھری نگاہوں کے کانٹوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اور اس مقصد کی تکمیل صرف حجاب سے ہو سکتی ہے۔ آپ نے پردے کو عورت کی معراج بتایا ہے۔ ایک مرتبہ آپ کے والد گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر سے سوال کیا کہ عورت کیلئے سب سے بہتر چیز کیا ہے۔؟ یہ بات جب دختر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ عورت کیلئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کسی غیر مرد کی نظر اس پر پڑنے پائے، شہزادی کا یہ جواب جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا کیوں نہ ہو فاطمہ سلام اللہ علیھا میرا ہی ایک ٹکڑا ہے۔
غرض کہ آپ کی پاک و پاکیزہ زندگی اور مثالی کردار کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ دنیا میں پیغمبر نسواں بنکر آئیں تھیں اور اسی لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنے وجود کا حصہ بتایا ہے۔ جس طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور بارہ آئمہ علیھم السلام خدا کی طرف سے ہدایت کیلئے معبوث کئے گئے، اسی طرح آپ سلام اللہ علیھا کو صنف نسواں کی ہدایت و رہبری کا منصب عطا کیا گیا، ایسی صورت میں آپ کا معصومہ اور جُز پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا لازمی امر تھا۔
پیغمبر نسواں فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا کے ولادت باسعادت کے دن کو امام خمینی (رہ) نے یوم خواتین قرار دے کر خواتین کو معاشرے میں اہم اور مرکزی کردار ہونے کا احساس دلایا اور مغرب زدہ ذہنوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا کہ اسلام نہ صرف خواتین کو عزت و منزلت دینے کا قائل ہے بلکہ اسلامی قوانین اور اسلام کی برگزیدہ ہستیوں نے عملی کردار سے اسلام کے آفاقی اصولوں کو ثابت کیا ہے اور آج بھی کہ جب مغرب جو آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بے راہ روی اور فحاشی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے اور مسلم خواتین کو اکسا رہا ہے، امام خمینی (رہ) کی دور اندیش نگاہوں اور رہبر معظم کی پر عظمت رہبری نے مغربی افکار کے آگے جیسے ایک بند باندھ دیا ہے۔