علی ابن ابیطالب ع انسانی حقوق کا علمبردار

418

معاشرہ چاہے اسلامی ہو یا غربی، اخلاقی پستی کی دلدل میں اس حد تک دھنس چکا ہے کہ واپسی محال نظر آتی ہے، اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاچکا ہے، وہ جو ہر قدم پر انسانی حقوق کو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں وہی اپنے آپ کو انسانی حقوق کا عمبر دار بھی کہتے ہیں، وہ جو معاشرے میں بگاڑ کا باعث ہیں وہی منصف بنے بیٹھے ہیں، علم پر جہل غلبہ حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے ۔۔۔۔ اتنی افراتفری و پستی کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آفتاب ولایت کو چھوڑ کر لوگ ہر چمکنے والی چیز کے پیچھے ہو لئے۔ جی ہاں ۔۔۔۔ اگر آفتاب ولایت کی روشنی سے فیضیاب ہوتے رہتے تو آج اس حال کو نہ پہنچے ہوتے، اس طرح در در کی ٹھوکریں نہ کھا رہے ہوتے، اپنی پہچان کو نہ کھوتے۔
جی ہاں وہی آفتاب ولایت جس نے سب سے پہلے خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت کے لئے حامی بھری، وہی آفتاب ولایت جب اسے جنگوں میں دیکھتے تو دشمنان اسلام کیلئے دو دھاری تلوار تھا، مصلے پر دیکھتے تو عاجزی و انکساری کی تصویر ۔۔۔۔ علی ابن ابیطالب علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔ جو پیدائش کے وقت سے ہی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش تربیت میں رہے۔ بچپن سے تعلیم و تربیت، جوانی میں شرف مصاہرت اور وصال نبوی تک دامن دولت سے وابستگي نے آپ کی ذات کو خلق نبوی کا پیکر اور تعلیمات اسلامی کی تصویر بنا دیا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام کو ابتدا سے تربیت صالح ملنے کی وجہ سے ان کا دامن زمانہ جاہلیت کی تمام آلودگيوں سے محفوظ رہا۔
حضرت عمار یاسر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا : ‘خداوند تمہیں ایسے زیورات سے سجائے جن سے اس نے اپنے کسی بندے کو آراستہ نہ کیا ہو، وہ خدا کے خالص اور نیک بندوں کا مخصوص زیور ہے جو زہد اور دنیا سے بے رغبتی ہے، تمہیں خدا نے ایسا بنایا ہے کہ تم دنیا کی کسی بھی شے سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرو۔‘‘یقیناً علی علیہ السلام کی ذات گرامی تمام جہانوں کیلئے مثل آفتاب ہے کہ جس کی روشنی سے مستفید ہونے والا نجات پا جاتا ہے، لیکن اس آفتاب ولایت سے دوری دراصل خدا اور اسکے دین سے دوری ہے۔ ایک انگریز فلاسفر اور رائٹر تھامس کارلائل لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام کے قتل کی وجہ حقیقت میں اُن کا عدلِ جہانی کو درجہٴ کمال تک پہنچانا تھا۔
معروف عیسائی مصنف جبران خلیل جبران لکھتا ہے کہ:’میرے عقیدے کے مطابق ابو طالب کا بیٹا علی علیہ السلام پہلا عرب تھا جس کا رابطہ کل جہان کے ساتھ تھا اور وہ اُن کا ساتھی لگتا تھا۔ رات اُس کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی تھی۔ علی علیہ السلام پہلے انسان تھے جن کی روحِ پاک سے ہدایت کی ایسی شعاعیں نکلتی تھیں جو ہر ذی روح کو بھاتی تھیں۔ انسانیت نے اپنی پوری تاریخ میں ایسے انسان کو نہ دیکھا ہوگا۔ اسی وجہ سے لوگ اُن کی پُرمعنی گفتار اور اپنی گمراہی میں پھنس کے رہ جاتے تھے۔ پس جو بھی علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے، وہ فطرت سے محبت کرتا ہے اور جو اُن سے دشمنی کرتا ہے، وہ گویا جاہلیت میں غرق ہے۔‘‘
عادلانہ معاشرتی نظام کو قائم رکھنے کیلئے تہذیب ِ اخلاق انتہائی ضروری ہے اور معاشرے میں ہر فرد کو سرگرمِ عمل رکھنے کیلئے صحیح نظامِ حکومت بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔ علی علیہ السلام کا افراد کی شخصیت پر اعتماد اور اطمینان اُسی طرح تھا جس طرح افراد کی شخصیت کو اعتماد عقلِ روشن، قلب ِ مہربان اور دل عشق حقیقی میں غلطاں دیتا ہے اور یہ تمام صفات علی علیہ السلام کے گرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔ اسی لئے اس اعتماد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علی علیہ السلام کا فرمان ہے:’اگر کوئی تجھ پر نیک ہونے کا گمان کرے تو تو اُس کے گمان کی (اپنے عمل سے) تصدیق کر‘‘
وہ علی علیہ السلام جنہوں نے شہر علم کے ہاں پرورش پائی ہو اور خود اس شہر علم کا دروازہ قرار دیا گیا ہو یقیناً وہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، جس طرح محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلااختلاف مذھب و ملت حقوق انسانی کی ادائيگی کے لئے امت مسلمہ کو ابھارا اور عملی طور پر اپنی کاوشوں کے ذریعے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تمہاری نجات حقوق انسانی اور حقوق العباد کی ادائیگي کے ساتھ وابستہ ہے۔ بالکل اسے طرح حضرت علیہ علیہ السلام کے اقوال و نصائح میں حقوق انسانی کی تعلیمات ملتی ہیں بلکہ مختلف مواقع پر اللہ کے بندوں کے ساتھ آپ کے کئے گئے معاملات اس بات کے عملی گواہ ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کو حقوق انسانی کے علمبردار ہونے کی حیثیت سے ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔
اسلام کی ایک انصاف پسند، مساوات پر مبنی، اور عام بہتری کے تصور پر مبنی معاشرے کے قیام کی کوشش نے عرب کی سماجی، مذہبی اور سیاسی زندگی کا رخ بدل دیا۔ مشقت کی عظمت اور سماجی خدمت اسلام کے ماننے والوں کی ایک اہم روشنی بن گئي۔ شیخ رضی لکھتے ہیں کہ ‘حضرت علی کی سخاوت اور طبیعت کی خود مختاری کا یہ عالم تھا کہ افلاس و فاقہ کے دنوں میں بھی جو کچھ وہ دن بھر کی مزدوری کے بعد حاصل کرتے تھے اس کا ایک بڑا حصہ غریب اور فاقہ کش لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور وہ کسی سائل کو اپنے در سے ناامید واپس جانے نہیں دیتے تھے۔‘‘
افق اسلام کا یہ آفتاب ولایت حقوق کی ادائیگي کے سلسلے میں لوگوں کے اعتراض کی پرواہ نہیں کرتا تھا، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے مساوات کے ساتھ بیت المال کے حقوق کی تقسیم کی۔ جب کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت علی علیہ السلام نے ان سے کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر جبر وستم کرکے حمایت حاصل کروں جن کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی ہے۔ خدا کی قسم یہ میں اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک یہ دنیا قائم ہے، جب تک چاند ستارے آسمان میں ہیں۔ اگر یہ مال و دولت میری ملکیت ہوتی تو بھی ان میں برابر تقسیم کر دیتا تو کیوں نہ اللہ کے مال کو برابر تقسیم کروں۔
حضرت علی علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی اپنی ذاتی جائیداد اور مال تمام لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کر دیتے تھے۔ وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کے مال میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا بھی حق ہے۔ ایوب بن علیہ حذا کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے سنا ہے کہ : ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کیا تو حضرت علی علیہ السلام کے حصے میں زمین آئي، آپ نے اس زمیں میں کنواں کھودا اور اس کا نام ینبع رکھا۔ لوگوں نے آپ کو اس کی مبارک باد دی تو آپ نے فرمایا اس کے اصل وارث کو بشارت دو، میں نے اسے خدا کی راہ میں حج کرنے والوں کے نام وقف کر دیا۔ یہ کبھی فروخت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جا سکتی ہے اور نہ یہ وراثت میں کسی کو حاصل ہو سکتی ہے۔‘‘
حضرت علی علیہ السلام نے حقوق انسانی کے سلسلے میں اپنے فرزند حضرت امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے جس طرح تعلیم دی ہے وہ دستور حیات اقدار بشریت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا اے فرزند، اپنے اور دوسروں کے درمیاں میں ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قرار دو۔ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے وہ دوسروں کے لئے بھی نہ چاہو۔ جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حسن سلوک ہو، یونہی دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔ دوسروں کے لئے وہ بات نہ کہو جو اپنے لئے سننا گوارا نہیں کرتے۔ اپنے کو اپنے بھائی کے لئے اس بات پر آمادہ کرو کہ جب وہ دوستی توڑے تو تم اسے جوڑو، وہ منھ پھیر لے تو تم آگے بڑھو اور لطف و مہربانی سے پیش آئو۔ وہ تمہارے لئے کنجوسی کرے تو تم اس پرخرچ کرو، وہ دوری اختیار کرے تو اس کے نزدیک ہونے کی کوشش کرو، وہ سختی کرے اور تم نرمی کرو، وہ خطا کا مرتکب ہو اور تم اس کے لئے عذر تلاش کرو۔ آپ نے ایک موقعے پر فرمایا کہ انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف وکرم سے منزلت بڑھتی ہے۔ جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ ہٹانے سے سرداری حاصل ہوتی ہے۔ پھر فرمایا دوسروں کے پسماندگان سے بھلائي کرو، تاکہ تمہارے پسماندگان پر بھی نظر شفقت پڑے۔
لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر ڈالتے ہیں تو اس کے بالکل الٹ نظر آتا ہے، ہر کوئی لوٹ کھسوٹ میں لگا ہے، سگے بھائی کو اپنے سگے کا خیال نہیں ہے، کسی کو دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں، جو طاقتور ہے وہ کمزور کے حقوق غصب کر رہا ہے، معاشرے میں عدل و انصاف نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی، ہوس ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آتی، ایک طرف بھوک و افلاس ہے تو دوسری طرف رنگینیاں اپنے عروج پر ہیں، ایک طرف دھونس، ہٹ دھرمی اور ظلم ہے تو دوسری طرف فریاد و سسکیاں ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ روشنی میں ہیں تو یہ ان کی بھول ہے، آفتاب ولایت کی کرنوں میں آنکھیں کھولو اور اپنےآپ کو فیضیاب کر لو، یہ کرنیں تمہیں راہ نجات تک راہنمائی کریں گی، کیونکہ نجات فقط اسی صورت میں ممکن ہے جب ان سے تمسک اختیار کر لو گے ۔۔۔۔ ورنہ بھٹکتے رہو گے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.