حضرت امام مہدی علیہ السلام عطاءو بخشش خوشحالی کادور

310

حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی عطاءو بخشش اس بات میں شک نہیں ہے عدالت اپنی تمام ترشکلوں کے ساتھ حضرت امام مہدی(علیہ السلام)کی قیادت میں مشخص ہوگی، آسمان اور زمین اپنی ساری برکتیں انڈیل دیں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ جو دیاگیا وہ پورا ہوگا اور یہ وہی مثالی حکومت ہوگی جس کی سب کو انتظار تھی، اس میں انسان ہر لحاظ سے خوشحال ہوگا، امن ہوگا، ظلم ہوگانہ فساد و غربت ہوگی نہ افلاس، ان حقائق کو درج ذیل روایات میں ملاحظہ کریں ۔درج ذیل روایات کچھ مزید حقائق کوبیان کررہی ہیںجو کہ اہل سنت کی کتب سے ماخوذ ہیں۔۱۔ ابو سعید الخدری نبی اکرم سے حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ “مہدی (علیہ السلام) کے زمانہ میں میری امت آسودہ حال ہوگی، اتنی خوشحالی کہ اس سے قبل اس طرح کی خوشحالی انہیں نصیب نہ ہوئی ہوگی، آسمان ان پر مسلسل نعمتیں بھیجے گا،زمین کسی بھی انگوری کو نہ چھوڑے گی، مگر یہ کہ اسے باہر نکال دے گی اور مال کے ڈھیر لگ جائیں گے، ایک آدمی کھڑا ہو کر سوال کرے گا یا مہدی(علیہ السلام) مجھے دیں! تو مہدی(علیہ السلام) اس سے کہیں گے جو چاہتے ہواٹھالو”۔(حوالہ جات: ابن حماد،۳۵۲حدیث ۲۹۹،البیان:۵۴۱باب۳۲، عقد الورد:۵۲۲ باب۸ الفصول المہمہ ۸۲۲،۲۲،فصل ۲۱،نور الابصار:۹۸۱باب ۲)۲۔ ابو سعید الخدری سے ہے، رسول اللہ نے فرمایا: “میری امت میں مہدی(علیہ السلام) ہوں گے، اگر تھوڑی مدت کے لئے تو سات سال ،وگرنہ نو، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوشحال اور آسودہ ہوگی کہ اس قسم کی خوشحالی اس سے پہلے نہ دیکھی ہوگی، زمین اپنی غذائیں اگل دے گی اور کچھ بھی ان سے روکے گی نہیں ، اس دور میں مال کے ڈھیر لگ جائیں گے پس ایک آدمی کھڑے ہو کر مہدی(علیہ السلام) سے مانگے گا، مہدی(علیہ السلام) اس سے کہیں گے جو چاہتے ہو لے لو‘ ‘ (حوالہ سنن ابن ماجہ ج۲ص۶۶۳۱،۱۶۳۱، حدیث نمبر۳۸۔۴، مستدرک الحاکم ج۴، برہان المتقی ۱۸،باب۱،ص۲۸ باب۱ حدیث ۶۲)۳۔ ابو سعید الخدری نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کہ” بتحقیقمیری امت میں مہدی(علیہ السلام) ہوں گے، وہ خروج کریں گے، وہ پانچ یاسات یانو سال زندگی کریں گے (بلاشک وتردید سالوں میں رواں کی طرف سے ہے) ابو سعید کہتا ہے ہم نے دریافت کیا، ان اعداد سے کیامرادہے ؟آپ نے فرمایا “اس سے سال مراد ہیں، مہدی(علیہ السلام) کے پاس آدمی آئے گا اور وہ کہے گا اے مہدی(علیہ السلام) مجھے عطاءکرو، مجھے عطاءکر دو آپ نے فرمایا: اس شخص کے واسطے کپڑا بچھا دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گاجو چاہتے ہو تم لے لو”۔(حوالہ جات :سنن الترمذی:۴/۹۳۴ باب ۳۵ حدیث ۲۳۲۲و البیان:۷۰۱ باب ۶ والعلل المتناہیة:۲/۸۵۸ حدیث ۰۴۴۱ ومشکاة المصابیح: ۳/۴۲فصل ۲حدیث ۵۵۴۵ ومقدمة ابن خلدون:۳۹۳فصل ۳۵ وعرف السیوط ¸، الحاو ¸:۲/۵۱۲ وصواعق ابن حجر:۴۶۱ باب۱۱ فصل۱وکنزالعمال:۴۱/۲۶۲حدیث ۴۵۶۸۳ ومرقاة المفاتیح: ۹/۲۵۳ومشارق الانوار:۴۱۱ فصل۲ وتحفة الاحوذ ¸:۶/۴۰۴حدیث ۳۳۳۲والتاج الجامع للاصول:۵/۲۴۳۳۴۳)۴۔جابر بن عبداللہ انصاری نے رسول اللہ سے حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا”آخری زمانہ میں خلیفہ ہوگا اس کے پاس ڈھیروں مال آئے گا کہ اسے شمار نہیں کیا جا سکے گا”۔(حوالہ: مصابیح السنہ ج۳ص۸۸۴، حدیث ۹۹۱۴، مصنف عبدالرزاق ج۱۱ ص۱۷۲ حدیث ۰۷۷۰۲ باب المہدی ؑ اسے الکافی کی ج۱ص۶۶۲سے لیاہے)۵۔ مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ “آخری زمانہ میں خلیفہ ہوگا وہ مال کی تقسیم کرے گا اور مال کو شمار تک نہ کرے گا”(صحیح مسلم بشرح النووی ج۸۱ص۹۳)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.