نظام اسلامي کے عہدیداران امام علي عليہ السلام کے اصلي مخاطبین

156

 
نظام اسلامي کے عہدیداران امام علي عليہ السلام کے اصلي مخاطبین:زہد و پارسائي کا بلند و عالي مرتبہ اور واجب ترين مرحلہ يہ ہے کہ انسان حرام چيزوں سے پرہيز کرے اور اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دے ،ليکن جہاں حرام چيزوں سے پرہيز کرنا زہد کا بلند درجہ ہے، وہيں بقدر ضرورت حلال چيزوں سے استفادہ کرنا اور زہد و پارسائي برتنا بھي بلند درجہ کي حيثيت رکھتا ہے اگرچہ ممکن ہے بہت ہي تھوڑے لوگ زہد حلال کے مخاطب قرار پائيں وہي لوگ کہ جن کے ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتے ہيں ، جو لذّت و نعمات خداوندي سے حلال طريقہ سے بہرہ مند ہو سکتے ہيں اور اس زمانہ ميں ہر ايک اپني پوسٹ کے لحاظ سے زہد اميرالمومنين عليہ السلام کا مخاطب ہے لہذا انہيں زہد اميرالمومنين عليہ السلام ياد رکھنا چاہئے جنکے پاس کوئي حکومتي عہدہ و منصب ہے انکي زيادہ ذمہ داري بنتي ہے اور جن لوگوں کے پاس کوئي حکومتي عہدہ و ذمہ داري نہيں ہے اُن پر بھي لازم ہے کہ وہ اپني زندگي ميں زہد اپنائيں البتہ حکومت کي ذمہ داریوںکے مقابلے میں انکي ذمہ داري اتني نہيں ہے جتني کہ مسؤلين کي ذمہ داري بنتي ہے۔انہيں چاہيے کہ اسے ايک فرھنگ (کلچر)کي حيثيت سے زندگي کا جز بنائيں اسطرح نظام اسلامي پر منڈلاتے ہوئے خطرات کم سے کم ہو جائيں گے اور عدالت و زہد کي بنائ پر نظام اسلامي قوي سے قوي تر ہو جائيگا پھر اسے کوئي نقصان نہيں پہنچا سکتا۔جن لوگوں کو دنيا کي لذتيں، خواہشات نفس، فريب و دھوکہ نہ دے سکیں اور انکے ارادے ميں تزلزل ايجاد نہ کر سکيں وہي لوگ تمام دشمنوں کے مقابلے میںڈٹ سکتے ہيں وہي خطرے کے وقت اسلامي حکومت کو نجات دلا سکتے ہيں ، آج جو حکومت اسلامي پر ہر چار جانب سے يلغار ہو رہي ہے ايسے نازک موقع پر ہماري سب سے زیادہ ذمہ داري يہ بنتي ہے خصوصاً جوانوں ذمہ داران حکومت بالاخص علمائ حضرات وقوم و ملت کے مختلف افراد، اور وہ لوگ جنہيں لوگ اپنا آئيڈیل سمجھتے ہيں ان سب کي ذمہ داري ہے کہ ان دو ٢ صفات کو (عدالت و زہد) کو اپنائيں اميرالمومنين عليہ السلام نے تاريخ ميں يہ دو مشعليں روشن کيں ہيں تاکہ پوري تاريخ روشن رہے اگر اس سے کوئي شخص منہ موڑے گا تو خود اسکا نقصان ہوگا ليکن علي عليہ السلام کا نام ان کي يا د اور انکے دئيے ہوئے سبق، تاريخ کچھ نہيں بھلا سکتي يہ ہميشہ ہميشہ کے لئے تاريخ کے دامن ميں محفوظ رہيں گے۔(١)
علي عليہ السلام کي تہہ در تہہ شخصيت درس جاويداني ہے:اميرالمومنين عليہ السلام کي ذات گرامي، مختلف زمانوں ميں مختلف حيثيت سے تمام کاروان بشر کے لئے ايک نہ بھلايا جانے والا سبق اور درس جاودانگي ہے چاہے وہ انکا انفرادي عمل ہو يا محراب عبادت ميں انکي بندگي، انکي مناجات ہو يا انکا زہدوہ ياد خدا ميں غرق ہوں يا اپنے نفس اور شيطان کے مقابل انکا جہاد ہر ميدان ميں انکي زندگي ہميں درس عمل سکھاتي ہے آج بھي عالم کي فضاميں انکا يہ جملہ گونج رہا ہے ”دنيا دنيا غرّي غيري‘‘(٢) (اي دنيا کي لذتوں، اي جاذب نظر پرفريب ماّدي زرق و برق دنیا قوت و طاقت رکھنے والے انسانوں کو اپنے دام پرخطر ميں پھانسنے والي جا علي عليہ السلام کے علاوہ کسي اور کو فريب دے علي عليہ السلام تيرے دھوکہ ميںآنے والا نہيں )اس بنياد پر ہر بيدار ذہن اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي کے ايک ايک لمحات ميں خدا سے ارتباط اور معنويت و روحانيت کے لئے نابھلايا جانے والا درس حاصل کرتا ہے۔…………..١۔ ولادت اميرالمومنين عليہ السلام کي مناسبت سے معاشرے کے مختلف لوگوں سے قائد انقلاب اسلامي کاايک خطاب۔٢۔ نہج البلاغہ کلمات قصار، متن
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.