امام زمانہ کے شکل وشمائل (دوسری فصل )

332

٦۔ ریش مبارک اور سر کے بالوں کی سیاہی پر رخ زیبا کانور غالب ہوگا۔٧۔ داہنے رخسار پر ایک تل ہوگا۔٨۔سامنے کے دندان مبارک میں (رسول خدا کی مانند ) شگاف ہوگا (جو حسن کو دوبالاکردے گا ) ۔٩ ۔ آنکھیں سیاہ وسرمئی اور سرپر ایک نشان ہوگا ۔١٠۔ بھرے اور کشادہ شانے ۔١١۔ روایت میں ہے کہ ”المھدِّ طاووس أھلَ الجَنَّةِ وجھہ کالقمر الدری علیہ جلابیب النور” امام زمانہ اہل بہشت کے لئے طائووس (مور ) کی طرح ہیں آپ کاچہرہ چاند کی طرح منور اور جسم پر نورانی لباس ہوگا ۔١٢۔ نہ دراز نہ پستہ بلکہ میا نہ قد ہوںگے ۔١٣۔ قدوقامت ایسا اعتدال وتناسب کے سانچہ میں ڈھلا ہوگا کہ چشم عالم نے اب تک نہ دیکھا ہوگا ۔”صلی اللّہ علیہ وعلی آبائہ الطاہرین ”
امام زمانہ کی غیبت صغریٰغیبت صغریٰ کا آغاز آپ کے پدر بزگوار کی شہا دت اور ان پر نماز پڑھنے کے بعد ہو ا ۔اس غیبت میں امام زمانہ نے اپنے لئے خصوصی نائب چنے جن کے ذریعہ شیعوں کی ضروریات اور ان کے سوالات کا جواب دیتے تھے کچھ دن تک چار نمایندے ایک کے بعد ایک آپ کاحکم اور جو اب لے کر شیعوں تک پہنچاتے تھے ۔امام کے پہلے نائب خاص :ابو عمر عثمان بن سعید العمری الاسدی تھے جن کی نیابت ٢٦٠ھ سے شروع ہوکر ٢٨٠ھ پر ختم ہو گئی ۔دوسرے نائب :ان کے بیٹے محمد بن عثمان العمری تھے جو باپ کے انتقال کے بعد ٢٨٠ ھ سے ٢٠٥ ھتک نائب تھے ۔تیسرے نائب :ابوالقاسم الحسین بن روح نو بختی جن کی نیابت ٣٠٥ ھ سے لے کر ٣٢٦ھ تک تھی ۔چوتھے نائب :ابو الحسن علی بن محمد سمری ٣٢٦ھ سے لے کر ٣٢٩ ھتک تھے او ر اسی سال ١٥شعبان کو انتقال کر گئے ۔ان حضرات کے نیابت کی جگہ بغداد تھی اور یہ سب بغداد میں ہی مدفون ہیں اس کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوجاتا ہے۔
امام زمانہ کی غیبت کبریٰامام زمانہ کی غیبت کبری علی بن محمد سمری کے انتقال سے چھ دن قبل امام زمانہ کی جانب سے توقیع شریف جاری ہوئی ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیمیا علیِّ بن محمّد ا لسّمری أعظم اللّہ أجر اخوانک فیک فاِنّک میت ما بینک وبین ستة أیام فاجمع أمرک ولا توص اِلیٰ أحد فیقوم مقامک بعد وفاتک فقد وقعت الغیبة التامة فلا ظہور اِلاّ بعد اِذن اللّہ تعالیٰ ذکرہ و ذلک بعد طول الأمد وقسوة القلوب وامتلاء الأرض جوراً وسیاتی من شیعتیِ مَن یدعیِ المشاھدة الا فمن ادعیٰ المشاھدة قبل خروج السّفیانیِ والصیحة فھوکذّاب مفترّ ولا حول ولا قوة اِلّا باللّہ العَلِّی العظیم.اے علی بن محمد سمری! ”خدا تمہاری موت پر تمہارے بھائیوں کو صبر اور اجر عظیم عطا کرے اب سے چھ دن کے اندر تمہارا انتقال ہوجائے گا ،لہٰذا اب تم اپنے امور کو مرتب کرلو اور آئندہ کے لئے کسی کو اپنا وصی مقرر نہ کرنا،جو تمہارے انتقال کے بعدتمہارا جانشین قرار پائے کیونکہ اب غیبت تامہ (کبری ) کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اب اس وقت ظہور ہوگا جب خدا کا حکم ہو گا اوریہ ایک طویل مدت اوردلو ں کے سخت ہوجانے اور زمین کے ظلم سے بھر جانے کے بعد ہی ہو گا ۔آئندہ زمانے میں ہمارے شیعو ں میں سے بعض اس بات کا دعوی کریں گے کہ ہم نے امام زمانہ کو دیکھا ہے لیکن جو شخص سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے مجھے دیکھنے کا دعوی کرے وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں سوائے بلند وعظیم خد اکے”۔ (١)لہٰذا اب لوگ غیبت کبری میں علماء مجتہدین کی طرف رجوع کریں جیسا کہ خود امام زمانہ نے اسحاق بن یعقوب کے مسئلہ کے جواب میں جومحمد بن عثمان بن سعید سمری کے ذریعہ امام تک پہنچاتھا ۔آپ نے فرمایا : ”وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فیھااِلیٰ رواة أحَادیثنا فأِنّھُم حُجَّتِی علیکم وأنا حُجّة اللّہِ علیھم” ا ب اگر کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوجا ئے تو اس میں راویان حدیث کی جانب رجوع کرنا کیونکہ یہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم خدا کی طرف سے ان کے لئے حجت ہیں۔”اللَّھمَّ عَجّل فَرجہ واجعلنا من أعوانہ وأنصارہ” (آمین ) (٢)…………..(١) منتھی الامال نقل از شیخ طوسی وصدوق ۔(٢)بحث امامت کی تدوین و ترتیب میں حسب ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے ؛ بحارالانوار ، حق الیقین مرحوم مجلسی ؛ اثبات الھدی، شیخ الحر عاملی ؛ المراجعات شرف الدین ، بررسی مسائل کلی امامت ابراہیم امینی اصول اعتقادرا این گونہ تدریس کنیم ، امامی ، آشتیانی ، حسنی ) کتابھا ، عقائد آقایان مکارم شیرازی ، سبحانی استادی ری شہری، قرأتی کلمة الطیب ، مرحوم طیب۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.