اتفاق، ہمراہي اور موافقت

190

چوتھا مرحلہاتفاق، ہمراہي اور موافقتدريچہ
ابتدائے عشق ميں جب دل، عشق ميں مجذوباور فريفۃ ہوتے ہيں تو ايک دوسرے کيخامياں اور غلطياں اچھي نظر آتي ہيں اور سوچ اور فکر کا فرق نظر نہيں آتا۔اپنا ازدواجي سفر شروع کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکيايک دوسرے ميں مجذوب، ايک دوسرے کے عاشق و دوستاور خوبصورت سپنوں کے دريا ميں غرق ہوتے ہيں۔اِس طرح کہ ان ميں سے ہر ايکاپنے شريکِ حيات کے آئينہ وجود ميںاپني ديرينہ اُميدوں اور آرزوؤں کو مجسم پاتا ہےاور اپنے محبوب کے چہرے ميں گويا اپنا ہي عکس ديکھتا ہے۔مگر کچھ ديرنہيں گزرتي کہيہ سہانے سپنے اور عاشقانہ ہم نفسي، ہم چشمي،زندگي کي حقيقت اور اپنے شريکِ حيات کي متفادت شخصيت سے مڈبھيڑ کي وجہ سےاپنا رنگ کھوبيٹھتي ہے۔زندگي کے مسائل ميںسوچ کا فرق، اندازِ بياں اور روش و طريقہ کار مختلف ہوناہر دن پہلے سے زيادہ نظر آنے لگتا ہے۔اِ س مشترکہ زندگي کي ابتدا ميںزندگي کي حقيقت و واقعيت سے صحيح طور پر نمٹنے اور درست راہ حل سےاِن نا تجربہ کار اور راستے کے نشيب و فراز سے غافل نوجوان جوڑے کي بے توجہياور لاعلمي انہيں بہت سي مشکلات سے دوچار کرسکتي ہے۔کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ لمحوں کي ناراضگي اور رنجش کے اثراتسالہا سال زندگي کو تلخ بناديتے ہيں۔يہ بہترين نوجوان شادي شدہ جوڑےتھوڑے سے تحمل و برداشت، اپني خيالي سوچ اور آئيڈيل زندگي سے دستبردار ہونے،اپنے شريکِ حيات کي حقيقي شخصيت کو من و عن قبول کرنے،اُس کي برائيوں اور خاميوں کو اس کي اچھائيوں کے ساتھ قبول کرنے،اپنے تمام وجودي اختلاف کے باوجود ايک دوسرے کو درک کرنےاور خدا کے دست غيبي کے مدد سےاپني مشترکہ زندگي کي بنياد کوپہلے سے زيادہ مضبوط مستحکم بناسکتے ہيں۔تجربات کي دھوپ ميںاِس کُہن سال سالک کي رہنما باتيں،زندگي کے نشيب و فراز والے سفر پر جانے والوں کے ليےتو شہ راہ ہيں۔جائیے مل کر زندگي کي تعمير کيجئے!امام خميني۲ نے کہا : ”جاؤ مل کے زندگي کو تعمير کرو ‘‘
ميں ايک دفعہ حضرت امام خميني۲ کي خدمت ميں شرفياب ہوا تو وہ گھر پر ايک نکاح پڑھانے کا قصد رکھتے تھے۔ انہوں نے جيسے ہي مجھے ديکھا تو کہا کہ آپ آئیے دوسري طرف سے ”نکاح‘‘ پڑھائیے۔ وہ ہماري عادت کے برخلاف کہ ہم اپني باتوں کو کافي طول ديتے ہيں ليکن وہ پہلے نکاح پڑھاتے تھے اس کے بعد دو تين نصيحت آموز جملے ارشاد فرماتے تھے۔ ميں نے ديکھا کہ نکاح پڑھانے کے بعد انہوں نے دولہا دلہن کي طرف اپنا رخ کيا اور فرمايا:”جاؤ اور مل کر زندگي کي تعمير کرو‘‘۔ميں نے سوچا کہ ہم اتني تقريريں کرتے ہيں ليکن امام خميني۲ کا کلام ايک جملے ميں خلاصہ ہوتا ہے!۔موافقت کيا ہے؟
آپ کي کوشش يہ ہوني چاہیے کہ اپني پوري زندگي اور ازدواجي زندگي خصوصاً شادي کے ابتدائي چار پانچ سال آپس ميں کامل موافقت رکھتے ہوں۔ ايسا نہ ہو کہ کوئي ايک تھوڑي سے غير موافق اور مزاج کے خلاف بات کرے يا غير ذمے داري کا ثبوت دے تو دوسرا بھي اس کے جواب ميں غير ذمے داري کا مظاہرہ کرے اور غير معقول بات کرے۔ ہر گز نہيں! دونوں کو چاہیے کہ صحيح معنوں ميں ايک دوسرے کے موافق اور ہمراہ بنيں۔ اگر آپ نے ديکھا کہ آپ کي زوجہ آپ سے تعاون نہيں کررہي ہے تو آپ کو اپنا دست تعاون بڑھانا اور اس سے سازگار حالات پيدا کرنے چاہييں يہ وہ جگہ ہے کہ جہاں مل جل کر کام کرنا، دوسرے سے موافقت کرنا اور سامنے والے کي کمي و کوتاہي کو تحمل کرنا اچھي بات ہے۔سازگاري اور موافقت کا کيا مطلب ہے؟ کيا اس سے مراد يہ ہے کہ بيوي يہ ديکھے کہ اس کا شوہر اس کا پسنديدہ اور آئيڈيل ہے لہٰذا اس کي طرف اپنا دستِ تعاون بڑھائے؟ يا شوہر يہ ديکھے کہ اس کي بيوي کامل طور پر ايک مطلوب اور آئيڈيل بيوي ہے تو اُس سے بنائے رکھے اور ہر حال ميں اس کا موافق و ہمراہ ہو؟! اگر اس کي ذرّہ برابر کوئي ايک عادت بري ہو يا وہ کوئي ايک غلط حرکت انجام دے تو وہ اُس کو ہر گز قبول نہ کرے۔ کيا يہي ہے موافقت و سازگار حالت پيدا کرنے اور تعاون کا معنيٰ؟ ہر گز نہيں! اگر اسے موافقت کہا جائے تو يہ کام تو خود بخود انجام پاتا ہے اور اس ميں آپ کے ارادے کي کوئي ضرورت نہيں ہے ۔يہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ کو موافق و ہمراہ اور سازگار حالات پيدا کرنے والا ہونا چاہیے تو اس کا مطلب يہ ہے کہ حالات جيسے بھي ہوں آپ زندگي کو بنائيں اور اس کي تعميرکريں۔ يہ ہے موافقت کا مطلب۔ يعني زندگي ميں پيش آنے والے ہر مسئلے ميں زندگي کو بگڑنے سے بچا ئيں۔جب ايسے دو انسان باہم زندگي گزاریں کہ جو ايک دوسرے سے آشنائي نہيں رکھتے ہوں اور نہ ہي انہوں نے کبھي مل کر زندگي گزاري ہو، اور تو اور اُن کي صفات و عادات، ثقافت اور آداب و رسوم بھي ايک دوسرے سے مختلف ہوں تو ممکن ہے کہ پہلے ہي قدم پر اُن کے درميان بہت سي جگہ نا اتفاقي پيش آئے۔جب ايسے دو انسان ہميشہ کيلئے ايک دوسرے کے ہونے کا عہد کرکے اپني مشترکہ زندگي شروع کريں توايسي صورتحال ميں پہلے پہل آدمي کو کچھ سجھائي نہيں ديتا۔ تھوڑي مدّت کے بعد ممکن ہے وہ زندگي ميں نا اتفاقي اور اختلافِ نظر کو محسوس کريں تو آيا ان دونوں کو ايک دوسرے سے دل کھٹے کر کے منہ موڑ لينا چاہیے اور وہ يہ کہيں کہ”يہ مرد يا عورت ميرے کسي کام کي نہيں ہے اور ميري اس سے نہيں بن سکتي؟!‘‘، نہيں! آپ کو چاہیے کہ خود کو اِس مسئلے سے مطابقت ديں اور اگر يہ قابلِ اصلاح ہے تو اُس کي اصلاح کريں اور اگر يہ ديکھيں کہ يہ قابلِ اصلاح نہيں ہے اور اس کے ليے کوئي کام نہيں کيا جاسکتا تو اسي کے ساتھ جس طرح بھي بن سکے، زندگي گزاريئے۔(1)گھر کے ماحول ميں اتفاق، تعاون اور موافقت، واجبات سے تعلق رکھتا ہے۔ مياں بيوي ہر گز يہ ارادہ نہ کريں کہ انہوں نے ”الف سے ليکر ے تک‘‘ جو کچھ کہا کہ اُسي پر عمل کيا جائے ۔ جو چيز بھي اپنے ليے پسند کرتے ہيں اور جو چيز بھي اُن کے سکون و آرام کا باعث بنتي ہے، بعينہ وہي ہو، نہيں! ايسا ہر گز نہيں ہونا چاہیے۔ آپ زندگي کي بنياد آپس ميں اتفاق، موافقت اور ہمراہي پر رکھيں اور يہ چيز بہت ضروري ہے۔ جب بھي آپ يہ ديکھيں کہ آپ کو آپ کا مقصد حاصل نہيں ہورہا ہے سوائے اس کے کہ آپ صورتحال کو برداشت کريں۔ تو آپ کو صبر و تحمل سے کام لينا چاہیے۔زندگي ميں موافقت اور اتفاق و ہمراہي دراصل بقائے زندگي کي اساس ہے۔ يہي چيز ہے جو محبت کي پيدائش کا سبب، برکاتِ الٰہي کے نزول کا باعث بنتي ہے اور دلوں کو نزديک اور رشتوں کو مستحکم بناتي ہے۔يورپ کي ايک خوبصورت تعبير
شادي عبارت ہے دو زندہ اور دھڑکتے دل کے مالک انسانوں کاباہمي تفاہم، اُنس اور اتحاد سے زندگي بسر کرنا۔ البتہ يہ ايک فطري اور طبيعي امر ہے ليکن اسلام نے شادي کے ليے قوانين، زينت اور عظمت و شوکت رکھ کر ہميشہ کيلئے اُسے برکت عطا کي ہے۔”مياں بيوي کو چاہیے کہ ايک دوسرے کو سمجھيں اور درک کريں‘‘، يہ ايک يورپي تعبير ہے ليکن بہت خوبصورت ہے۔ يعني جو بھي سامنے والے کے درد و غم، خواہش اور ضرورت کو درک کرے اور اُس سے بنا کر رکھے تو اسے کہتے ہيں درک کرنا۔ يعني بقولِ معروف، زندگي ميں ايک دوسرے کي ضرورت و خواہش کو سمجھنا اور درک کرنا چاہیے اور يہي وہ چيز ہے کہ جو محبت کو زيادہ کرتي ہے۔کوئي انسان بھي بے عيب نہيں ہے!
اگر آپ نے ديکھا کہ آپ کي شريکہ حيات ميں ذرّہ برابر عيب موجود ہے تو سب سے پہلے تو يہ جان ليئے کہ دنياميں کوئي بھي انسان بے عيب نہيں ہے۔ لہٰذا اگر آپ کے (زندگي کے ساتھي کا وہ عيب اپنے معالجے کي مدّت گزاررہا ہے تو اُس مدّت ميں اور اگر وہ ناقابلِ اصلاح ہے تو آپ کو چاہیے کہ ہميشہ کيلئے) اُسے تحمل کريں۔ کيونکہ اُسي وقت آپ کي بيوي بھي آپ کے وجود کو آپ کے عيب کے ساتھ برداشت کررہي ہے۔ انسان کو اپنا عيب نظر نہيں آتا (خواہ کتنا ہي بڑا کيوں نہ ہو) ليکن اُسے دوسرے کا (چھوٹا سا)عيب بھي نظر آجاتا ہے۔ بس آپ کو چاہیے کہ اُسے برداشت کريں۔ اگر آپ نے ديکھا کہ وہ قابل اصلاح ہے تو اُسکي اصلاح کيجئے اور اگر وہ قابلِ علاج و اصلاح نہيں تو اُسي کے ساتھ اپني زندگي کي تعمير کيجئے۔خاندان کي نابودي کا سبب
اسلام نے گھر کے اندروني ماحول کيلئے ايک اصلاحي اور تربيتي نظام مقرر کيا ہے تاکہ گھر کا اندروني اختلاف خود بخود حل ہوجائے۔ مردکو حکم ديا گيا ہے کہ وہ تھوڑے تحمل، رعايت اور توجہ سے کام لے جبکہ بيوي کے ليے حکم يہ ہے کہ وہ بھي تھوڑي برداشت، تآمُّل اور غور و فکر کو اپني زندگي ميں جگہدے۔ اگر يہ تمام چيزيں عملي صورت اختيار کرليں تو علي القاعدہ کوئي ايک گھر بھي برباد نہيں ہوگا۔اکثرخاندانوں اور گھرانوں کي بربادي کي وجہ ان تمام دستوار و احکام کو بے اہميت شمار کرنا اوراُن پر عمل نہ کرنا ہے۔ مرد ہے کہ تحمل اور رعايت کرنے کو اپني ناک کا مسئلہ بناتا ہے اور بيوي ہے کہ عقل و ہوش سے کام لينے کے بجائے ميري بات، ميرا کام، ميري مرضي کي رٹ لگائے رہتي ہے۔ گھر کا مرد بے انتہاغصے اور گرماگرمي سے گھر کے گلستان کو آگ لگاتا ہے تو خاتونِ خانہ بے صبري سے گھر کي بساط الٹتي ہے۔يہ تمام کام غلط ہيں۔ مرد کا غصہ بھي غلط ہے اور عورت کي سرکشي بھي بے بنياد اور غير منطقي۔ اگر مرد غصہ نہ کرے يا اس سے کوئي غلطي اور اشتباہ سر زد نہ ہوتو بيوي بھي سرکشي اور بے صبري نہيں کرے گي۔ انہيں چاہیے کہ ٹھنڈے دماغ، باہمي رضامندي اور تعاون سے زندگي کي تعمير کريں۔ اگر ايسا ہو تو کوئي بھي خاندان يا گھرانہ نابود ہونے کے بجائے باقي رہے گا۔دو طرفہ موافقت و ہمراہي
قديم زمانے ميں ہمارے بزرگ بيٹي کي رخصتي کے وقت يہي کہتے تھے کہ ”بيٹي تم جس گھر ميں جارہي ہو اب وہاں سے تمہارا جنازہ ہي نکلے‘‘۔ يعني وہ ہر حالت ميں شوہر کي موافق و ہمراہ ہو (خواہ حالات اُس کے موافق ہوں يا مخالف )۔ گويا وہ مرد حضرات کيلئے اِس موافقت، ہمراہي اور اتفاق کے قائل نہيں تھے، جناب يہ درست بات نہيں ہے! اسلام اس کي تائيد نہيں کرتا (کہ ساري قيد و شروط بيوي کيلئے ہوں اور شوہر اُن سب سے آزاد ہو!) بلکہ وہ يہ دستور ديتا ہے کہ رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے والے لڑکے اور لڑکي دونوں مل کر باہمي رضامندي، اتفاق اور تعاون و ہمراہي سے کام کريں اورمل کر زندگي کي تعمير کريں۔ اُن کي مشترکہ زندگي کي بنياد ايسي بات پر قائم ہوني چاہیے کہ وہ اپني گھريلو زندگي اور خانداني نظام کو سالم، کامل، آرام اور ايک دوسرے کے عشق و محبت کو درک کرنے کے ساتھ چلائيں، اس راہ پر قدم اٹھائيں اور اس کي حفاظت کريں۔ اگر وہ يہ کرنے ميں کامياب ہوگئے تو چونکہ اسلام کے بتائے ہوئے تربيتي نظام کے مطابق اس کام کو انجام دينا کوئي مشکل کام نہيں ہے تو اس صورت ميں يہ صحيح و سالم گھرانہ ہوگا کہ جسے اسلام پسند کرتا ہے۔
(1) انسان کي دسيوں اچھي صفات و عادات کے مقابلے ميں اس کي ايک بري عادت کي وجہ سے اسے چھوڑا نہيں جاسکتا۔ لہٰذا کوشش يہ ہوني چاہیے کہ اُس کي اُ س ايک بري عادت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے زندگي کي مثبت تعمير کريں۔ کيونکہ ايک بري عادت کي وجہ سے اسے چھوڑدينا اور طلاق دے دينا کہيں کي عقلمندي نہيں ہے۔ (مترجم)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.