طبیعی وسائل سے اسلام کی ترقی

189

  (اسلام میں جہاد کے فلسفہ کا مطالعہ فرمائیں )اسی لئے اسلا م نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے نیرنگ ،جھوٹ اورسیاسی شعبدہ بازی کا سہارا نہیں لیاہے اورانہیں صحیح نہیں جاناہے ،کیونکہ اسلام صرف یہ چاہتا ہے کہ حق زندہ ہواور باطل نابود ہو اور حق تک پہنچنے کے لئے باطل کی راہ پر گامزن ہونا ،حق کی نابودی کا سبب بنتا ہے۔خدائے متعال اپنے کلام میں فرماتا ہے:” خداظالموں ،بدکاروں اور حق کو چھپانے والوں کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے نہیں دیتا ” (١)
تبلیغ اور دعوت اسلاماسلام نے لوگوں کی ہدایت اور حق کو پھیلانے کے لئے ایک ایسے راستہ کاانتخاب کیا ہے جو انسان کی فطرت اور خلقت کے عین مطابق ہے اور وہ”تبلیغ اور دعوت کا راستہ ”ہے ،جو انسان کے لئے حقائق،حقیقت پسندانہ فطرت اور سعادت طلبی کو واضح کر کے اسے بیدار کر دیتا ہے اور آسانی کے ساتھ اسے حق کے حوالے کرتا ہے ۔یہ روش،یعنی تبلیغ ودعوت،ایک ایسی روش ہے جسے تمام انبیاء علیہم السلام نے اختیار کیاہے۔اسلام ،جو خاتم ادیان اوربھر پور صلاحیتوں کاحامل دین، میںاس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا گیا ہے اور اس راستہ کا اپنا نا مسلمانوں پر واجب کیا گیا ہے، تا کہ دین کی نشر و اشاعت میں کوتاہی نہ کریں۔خدائے متعال اپنے پیغمبرۖ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتاہے:” میرا او ر میرے پیرؤں کا راستہ یہ ہے کہ وہ مکمل بصیرت کے ساتھ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں ”(٢)…………..١۔بقرہ١٥٩و١٧٤۔٢۔ یوسف١٠٨۔
تبلیغ کا طریقہمذکورہ آیہ شریفہ سے معلوم ہوتاہے کہ دعوت و تبلیغ کا کام مکمل بصیرت سے انجام پاناچاہئے، مختصر یہ کہ مبلغ کو تبلیغ سے مربوط دینی مسائل سے آگاہ ہوناچاہئے،اور تبلیغ کے طریقہ کار، شرائط اور اس کے آداب سے پوری طرح باخبر ہونا جاہئے۔ البتہ تبلیغ کے شرائط و آداب بہت زیادہ ہیں، جیسے: خوش اخلاقی ، خندہ پیشانی، وقار و بردباری او رحق و انصاف کا احترام و غیرہ لیکن ان میں سب سے اہم علم وعمل ہے۔ کیونکہ جو شخص علم کے بغیر تبلیغ کرتاہے، چونکہ وہ حقیقت سے آگاہ نہیں ہے اس لئے باطل کی تبلیغ کرنے والوں کی طرح ، لوگوں کی حق تلفی کرنے اور انھیں گمراہ کرنے میں پروا نہیں کرتاہے اور جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، حقیقت میں وہ جو کچھ کہتاہے، اس کی اپنے عمل سے تردید کرتاہے اور جس چیز کی اپنی زبان سے تعریف کرتاہے، اس کی اپنے کردار سے، مذمت کرتا ہے جو شخص کسی چیز کی طرف دوسروں کودعوت دیتاہے، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے، جو ایک ہاتھ سے کسی چیز کو کھینچتاہے اور دوسرے ہاتھ سے اسے ڈھکیلتا ہے۔خدائے متعال اپنے کلام میں فرماتاہے:”کیا تم، لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہواور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟”(١)ہمارے آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے:”لوگوں کو اپنے گفتار و کردار سے دعوت دو، نہ صرف گفتار سے ”(٢)…………..١۔ (اتامرون النّاس بالبّر و تنسون انفسکم …) (بقرہ/ ٤٤)۔٢۔ بحار الانوار ، ج ، ص ٣٠٨۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.