سلسلہٴ سند حدیث ثقلین
۱۔ عنقریب (موت کے لئے) بلایا گیا ھوں میں نے اس پر لبیک کھی ھے اور تمھارے درمیان دو گر نقدر چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کتاب خدا جو آسمان سے لیکر زمین تک ایک آو یز ان ریسمان ھے اور میری عترت۔ خدا وندے علیم و خبیر نے مجھ کو اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ پس دھیان رکھو کہ تم لوگ اس دوامر میں میری کس طرح سے جماعت کرتے ہو۔ ([35])۲۔در حقیقت تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ دو چیزیں قیمتی ھیں کہ جس میں سے ایک کا رتبہ دوسرے سے بلند ھے۔اور غدیر خم کے موقع پر رسول خدا(ص) نے اس فقرے کا اضافہ کیا ھے۔ (پسدھیان رکھو کہ ان دو چیزوں میں تم لوگ کس طرح سے میری مدد کرتے ہو یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے) اس کے بعد فرمایا (خدا میرا مولا ھے میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں ) اس بعد حضرت علی عليه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا جس کا میں مولا ھوں علی اس کے مولا ھیں۔ ([36])۳۔ غدیر خم میں بھی رسول نے فرمایا: اپنے اھلبیت کے بارے میں تمھیں یاد دھانی کراتا ھوں (کہ ان کے حق کا لحاظ کرنا اور ان کی پیروی کرنا) اور تین دفعہ اس جملہ کو دھرایا۔ ([37])۴۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے (جس دن آپ کی وفات ہوئی اسی دن آخری خطبہ میں) فرمایا: یقینا تمھارے درمیان دو چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے مستمک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ۱۔ کتاب خدا۔۲۔ میری عترت۔ خدائے رحیم وعلیم نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے ان دونوں کی طرح اس کے بعد دونوں ھاتھ کی انگشت شھادت کو اکھٹا کرکے فرمایا: یوں (اور انگشت شھادت اور انگشت وسطیٰ کو ملا کر فرمایا:)ان دونوں سے اپنا واسطہ جوڑ لو اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ور نہ گمراہ ہوجاوٴ گے۔ ([38])۵۔ حتمی طور پر اپنے بعد تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگران سے مستمک رہو گے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے کتاب خدا جو کہ تمھارے سامنے ھے دن و رات اس کو پڑھو اور قرآن میں وہ سب کچھ ھے جو تم چاھتے ہو اور پسند کرتے ہو۔ایک دوسرے کے رقیب نہ بنو ایک اور دوسرے سے حسد نہ کرو دشمنی نہ کرو آپس میں برادرانہ رویہ اختیار کرو کیونکہ خدا نے تمھیں اس بات کا حکم دیا ھے۔ آگاہ ہو جاٴو (ان نصیحتوں کے بعد) تمھیں اپنی آلعليهم السلام کے لئے وصیت و شفارش کررھا ھوں ۔ ([39])۶۔لھٰذا ن (قرآن و عترت) سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ ھلاکت ھے ان کو کوئی چیز نہ سکھاوٴ کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں ([40])۷۔میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ (گمراہ ہوکر) مروگے اپنے آپ کو علوم و معارف الٰھی میں ان سے بے نیاز نہ سمجھو کیونکہ تمھیں موت آنے والی ھے۔ یقینا ان کی مثال کشتی نوح کی مانند ھے جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا ھلاک ہوا۔ ان کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ ([41])کی سی ھے جو کوئی اس میں داخل ہوا خدا نے اس کو معاف کر دیا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ میری عترت میری امت کے لئے امان ھے۔پس میری عترت جس وقت چلی جائے گی تو میری امت تک وہ چیز پھنچے گی جس کا وعدہ کیا جاچکا ھے۔آگاہ ہو جاوٴ کہ خدا وند تعالیٰ نے ان کو گمراھی سے دور رکھا ھے برائی و کثافت و گناہ سے ان کو منزہ رکھا ھے اور تمام عالم پر ان کو فوقیت بخشی ھے۔ جان لو کے خدا وند کرئم نے ان کی محبت کو واجب قرار دیا ھے اور ان کی موت وپیروی کا حکم دیا ھے۔ ([42])۸۔ در حقیقت تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ ۱ کتاب خدا۔ ۲۔ میری عترت۔ جان لو کہ یہ دونوں میرے بعد تمھارے درمیان میرے جانشین ھیں اور دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([43])۹۔ یقینا تمھارے درمیان اپنے دو جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ کتاب خدا جو کہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز محشر) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([44])۱۰۔ در حقیقت امت کے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ قرآن اور میرے اھلبیتعليهم السلام۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([45])۱۱۔حقیقتاً میرے رحیم و خیبر خدا نے مجھ کو خبر دی ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اور ان دونوں کے لئے میں نے یہ خدا سے خواست کی ھے۔ لھٰذا ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا اور اپنے آپ کو بے نیاز نہ سمجھنا۔ ورنہ (گمراہ ہو کر) مرو گے اور ان کو کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں جس پر بھی مجھے اس کے آپ سے زیادہ حق ولایت واطاعت ھے علی اس کے سر پرست وولی ھیں۔ خدایا جو علی کو دوست رکھے اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ۔ ([46])۱۲۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے جحفہ میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا: کیا میں تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق نھیں رکھتا؟ سب نے یک زبان ہو کر کھا کیوں نھیں۔ یا رسول اللہ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: پس یقینا تم کو دو حقیقت و واقیعت کے بارے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں ۔ قرآن اور میری عترت۔ ([47])
[35] مسند اضمد جلد ۳ صفحہ ۱۷[36] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۰۹[37] مستدرک احمد ابن حنبل جلد ۴ صفحہ ۳۶۷[38] ینابیع المودة صفحہ ۱۱۷۔ ۱۱۶[39] ارحج المطالب صفحہ ۳۴۱[40] المعجم الکبیر جلد ۳ صفحہ ۶۳ حدیث ۲۶۸۱ کے ذیل میں۔[41] باب حطہ سے مرادار۔ یحایابیت المقدس ھے۔[42] نفحات الازھار۔ نقل ازکتاب الاربعین فی فضائل امیر امومنین مخطوطہ جلد ۱ صفحہ ۳۷۴[43] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۱۴۴[44] احیاء المیت؟؟ للسیوطی صفحہ ۶۴ طبع دارالعلوم صفحہ ۴۸ طبع بیروت[45] مجمع الزوائد صفحہ ۱۶۲[46] المعجم الکبیر للطبرانی جلد ۵ صفحہ ۱۶۷ حدیث ۴۹۷۱ کے ذیل میں۔[47] حلتیہ الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۱۶۴ حیاء المیت صفحہ۵۷۔۵۸ طبع دارلعلوم صفحہ ۳۸ طبع بیروت