معاد جسمانی اور روحانی
ان کی مشہور فلسفی اور عرفانی روش جس کو جو آخری صدی کے فلسفی اور عرفانی روش کا مرکز اور محور سمجھا جاتاہے بیان کریں گے اس میںجو کچھ قرآن اور احادیث معتبرہ سے فائدہ اٹھائیںگے اس کی مغایرت ان کی نظر میںپائیں گےآخر کار اس عظیم اور مشہور فلسفی اور عرفانی شخصیت کے بعض تاویلات کو اس بحث میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے وہ آیات اور احادیث جو خاص طور سے معاد جسمانی کے حوالے سے بیان ہوئی ہیں آپ دیکھیں گیکہ ان سے صراحت کے ساتھ استفادہ کیا جاتا ہے قیامت کے دن یہی انسانی بدن ہونگے جو دنیا میں اسی روح اورجسم کے ساتھ تھے اسی کے ساتھ محشور ہوںگے ایسا نہ ہوگا کہ قیامت میں فقط یہی روح ہوگی اور بس ۔
آیات قرآن کریم:اس بارے میںقرآنی آیات بہت زیادہ ہیں ان میں سے بعض کو یہاں بیان کیاجاتا ہے :١۔(وضرب لنا مثلاً وَّ نَسِیَ خلقہ قال من یحیی العظام وہی رمیم ئقل یحییہا الذی انشاہا اول مر ةوہو بکل خلق علیم)۔(١)…………..(١)یٰس ٧٨و٧٩۔اور ہمارے لئے مثل بیان کرتاہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے اور کہتاہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتاہے ۔(اے رسول)آپ کہہ دیجئے کہ اس کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو (جب یہ کچھ نہ تھے)پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ ہر طرح کی خلقت سے واقف ہے۔اس آیت میں صراحت کے ساتھ اسی ہڈی کو جو اس وقت مٹی اور دھول ہوچکی ہے اس کے زندہ کرنے کے بارے میں اعلان فرمارہا ہے اور قدرت خداوندی اس وقت کو یاد دلاتی ہے کہ یہ ہڈیاں نہیں تھیں تب تو انھیں خلق کردیا اور اب تو فقط موجود ہڈیوں کو جمع کرنا ہے۔٢۔( ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ)(١)کیا یہ انسان یہ خیال کرتاہے ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے۔آیت غلط سوجھ بوجھ اور فکررکھنے والے انسان اور منکر قیامت کے بارے میںہے، اور ایسے انسان کی سرزنش کر رہی ہے اور بوسیدہ ہڈیوں کیجمع کرنے کو بتاتی ہے کہ جو جمع آوری متفرع پر تفرق ہے.یہ تمام بوسیدہ ہڈیاں جو تمہارے ظاہری بدن کے اجزاء ہیں اس سر زنش کے ساتھ منکرین قیامت کو یاد دلایاگیاہے کہ ہم ان ہڈیوں کو جمع کریں گے۔٣۔( وانظر الی العظام کیف ننشزہا ثم نکسوہا لحما فلما تبین لہ قال اعلم ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر)۔(٢)پھر ان ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آوازدی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے…………..(١)قیامت: ٣(٢)بقرہ:٢٥٩یہ آیت معاد جسمانی کو اچھی طرح پیش کر تی ہے جو سوسال گزر نے بعد عزیرکی سواری کومتلاشی ہونے کے بعد دوبارہ گوشت اور پوست چڑھتے ہوئے دیکھایا او رصراحت کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ روح کا ارتباط اسی انسانی بدن کے اجزاء کے ساتھ ہے اور اس بات کوذکر کیا ہے۔٤۔(وان اللّٰہ یبعث من فی القبور )۔(١)اور اللہ قبروں سے مردوں کو اٹھانے والا ہے ۔…………..(١)حج:٧یہ بات واضح ہے کہ روحیں قبروں میں نہیں ہوتیں بلکہ وہی بوسیدہ ابدان قبر میں ہیں جنھیں زندہ کیا جائے گا۔ان قرآنی آیات کی طرح بہت سی معتبر احادیث بھی موجود ہیں جن میں سے چند احادیث ہم یہاں بیان کرتے ہیں:
احادیث شریفہ:١۔’فی الاحتجاج : عن الصادقں انہ سئل : عن الناس یحشرون یوم القیامة عراة ؟ قال ں: بل یحشرون فی اکفانہم ،قال : انی لہم بالأکفان۔ وقد بلیت ؟! قال ں: ان الذی احیا ابدانہم جدّد اکفانہم ‘۔(١)حضرت امام صادق ـ سے سوال کیا گیا کہ کیا لوگ روز قیامت ننگے محشور ہوں گے ؟ حضرت ـ نے فرمایا :بلکہ لوگ اپنے کفن کے ساتھ محشور ہونگے ،کہا گیا ان کے لئے کفن کہاں ہے؟ فرمایا جو ان کو زندہ کرے گا وہی ان کے کفن کوتازہ کرے گا۔٢۔’عن الصادق ں قال: اذا اراد اللّٰہ ان یبعث الخلق امطر السماء اربعین صباحا فاجتمعت الاوصال ونبتت اللحوم’۔(٢)حضرت امام جعفرصادقـ نے فرمایا: جب خداوند عالم لوگوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو چالیس دن تک زمین پر بارش ہوتی رہے گی ،اس وقت وہ تمام اعضاء جمع ہونگے اوران پر گوشت چڑھیںگے۔٣۔عن الصادقںقال: اتی جبرئیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہفاخذہ وفاخرجہ الی البقیع فانتہی بہ الی قبر فصوت بصاحبہ فقال : قم باذن اللّٰہ ، فخرج منہ رجل ابیض الراس واللحیة یمسح التراب عن وجہہ وہو یقول : الحمد للّٰہ واللّٰہ اکبر ، فقال جبرئیل : عدبادن اللّٰہ ، ثم انتہی بہ الی قبر اٰخر ،فقال : قم باذن اللّٰہ فخر ج منہ رجل مسود الوجہ وہو یقول : یا حسرتاہ یا ثبور اہ،ثم قال لہ جبرئیل : عدالی ماکنت باذن اللّٰہ ،فقال: یا محمد ہکذا یحشرون یوم القیامة، والمؤمنون یقولون ہذالقول ، وہؤلاء یقولون ماتری'(3)حضرت امام صادق ـ سے منقول ہے کہ جناب جبرئیل حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں تشریف لائے اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کو بقیع کی طرف لے گئے وہاں ایک قبر پر پہنچے تو صاحب قبر کو آواز دی اور کہا : خداوند کریم کی اجازت سے قبر سے اٹھ جائو !، اتنے میں ایک شخص جس کے سر کے بال اور داڑھی سفید ہوچکی تھی قبرسے باہر آیا اس کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے بدن سے مٹی کو جھاڑ رہا تھا اور کہتا تھا : الحمد للّٰہ ،واللّٰہ اکبر، جبرئیل ـنے کہا خدا وند عالم کے اذن سے دوبارہ پلٹ جائو ، اس کے بعد دوسری قبر پر لے گئے اور کہاخداوند عالم کے اذن سے اٹھ جائو، اتنے میں ایک شخص قبر سے باہر آیاجس کا چہرہ سیاہ تھا ، وہ کہہ رہا تھا ‘یا حسرتاہ یا ثبوراہ!'(ہائے افسوس ہائے ہلاکت) جبرئیل ـنے کہا : جس حالت میں تھے پلٹ جائو! اس کے بعد جبرئیل ـنے کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ ! لوگ ایسی حالت میں روز قیامت محشور ہونگے مومنین حشر کے وقت یہ کلمات زبان پر جاری کریں گے دوسرے لوگ بھی اس طرح محشور ہونگے جو کچھ آپۖ نے دوسرے صاحب قبر سے ملاحظہ کیا ۔آیات اور روایات کے مجموعہ سے (میں نے کچھ آیات اور روایات کو نمونہ کے طور پر نقل کیا )بخوبی استفادہ کیاگیا کہ روز قیامت انسانوں کی روح ، دنیوی ابدان کے ساتھ محشور ہوگی۔…………..(١) احتجاج ج٢ ص٢٤٦(٢) بحارالانوار ،کتاب العدل والمعاد با اثبات الحشر والکیفیتہ، ج٨ ،٣٣٧۔(3) بحارالانوار ،کتاب العدل والمعاد با اثبات الحشر والکیفیتہ، ج٨ ،٣٩٧۔