معیار معرفت
معیار شناخت(Epistemology)غورو فکر اور شناخت کی اہمیت کو ملاحظہ کرتے ہوئے اور یہ کہ صحیح شناخت، انسان کے اہم ترین امتیاز ات میں سے ایک ہے، کسی چیز کی صحیح پہچان ہی اس کی معرفت ہے ہم اختصار کے ساتھ اہم بشری مکاتب اورا س کے معیار شناخت کے بارے میں بحث کریں گے اس کے بعد بعض راہ و روش اور طور طریقوں کا مقابلہ کرتے ہوئے صحیح پہچاننے کے طریقے پیش کریںگے۔ جیسا کہ فہم اور درک کی قدرو قیمت اوراس کی حقیقت وسند مختلف ادیان اور ملل کے لئے قابل قبول ہیں اس کے باوجود دانشوروں اور ہستی و جہان کے حقائق میں تحقیق کرنے والوں نے صحیح پہچان کے بارے میں متعدد طریقے اورآرائبیان کئیہیں۔
مادیوں کا مکتب(Materialistic School)مادیوںکی نظر میں حق وحقیقت تک پہنچنے کا راستہ حس و تجربہ ہے یہ لوگ کہتے ہیں وہ افکار اور آراء جو حس اور تجربہ کی نبیاد پر معین اور مشخص ہوئے ہیں وہ قابل قبول ہیں اور بس۔ لہٰذا حس و تجربہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ نظریہ کا جواب موجود ہے :ہاںبہت سے حقائق تک پہنچنے کے لئے حواس بڑا کردار ادا کرتا ہے اسی وجہ سے یہ کہاگیا ہے:’من فقَدَ حِسًا فَقَدْ فَقَدَ علمًا’؛جو حواس میں کسی ایک کو کھودے تو یقینا اس نے علم کاا یک حصہ کھودیا ہے۔بیشمار دلائل موجود ہیں جو مادیوں کے نظریہ کو باطل کرتے ہیں ہم ان میں سے بعض کو یہاں بیان کریں گے۔الف:… حواس کی خطا قطعی اور بدیہی باتوں میں سے ہے اور سب کے لئے قابل قبول ہے اسی وجہ سے خود حس، کسی میزان اور وسیلہ کی محتاج ہے۔ب:… مختلف علوم کے کلی قوانین، مثلا ریاضی ،فیزکس اور دوسرے علوم جو سب کے لئے قابل قبول ہیں لیکن اس کے باوجود ان علوم کیتمام قانون حس کے ذریعہ حاصل نہیں ہوئے۔اور حس کے ذریعہ ان کی تحقیق نہیں ہوئی ہے۔
صوفیوں کا مکتب(Sufi School Of Thought)صوفیوں کی نظر میں عقلی اور فکری اہمیت کے ساتھ بہت سے عادی مسائل میں کسی حق و حقیقت تک پہنچنے کا معیار اور ذریعہ کشف اور مکاشفہ ہے اور کہتے ہیں ‘پائے استدلالیان چوبین بود’یہ لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ انسان ہستی کے مہم حقائق کو بغیر کشف و شہود کے نہیں سمجھ سکتا لہٰذا اہل استدلال و منطق کو بہت سے مسائل میں عاجز او ر ناچار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ان حقائق تک پہنچنے کا راستہ ( طور وراء طور العقل) ہے۔ (١)ان لوگوں کے نظریہ بھی نامکمل اور خدشہ دار ہیں ۔اس بات کوپیش نظر ر کھتے ہوئے ہوسکتا ہے کشف و شہود بعض موقعوں پر حقیقت کو پالیں لیکن کسی حق و حقیقت تک پہنچنے کا معیا ر نہیں بن سکتے ہیں، کیونکہ:پہلا :بہت سے موارد میں کشف کرنے والے افراد ایک دوسرے سے اختلاف اور تضاد رکھتے ہیں اس وجہ سے صحیح اور غلط کی پہچان کے لئے مکاشفہ کے علاوہ کسی دوسرے معیار کی ضرورت ہوگی۔…………..(١) عقل کی حالت و کیفیت کے ماوراء ایک حالت کا نام ہے ۔دوسرا:احتمال پایا جاتا ہے کہ جو کچھ مکاشفہ میں مشاہدہ ہوا ہے یہ وہی ریاضت اور مکاشفہ کے مقد مہ کا اثر ہو نہ کہ حقیقت اور واقع تک پہنچنے کامعیار ، اس سلسلہ میں بہت سی مثا لیں موجود ہیں مثال کے طور پر کسی دواکے استعمال سے جواثر اور حالت پیدا ہو تی ہے یہ وہی دوا کا اثر ہے نہ کہ حقیقت اور واقع کا آشکار کرنے والا ۔(١)…………..(١)ثالثا: یہ کہ بہت سے کشف وشہود ایسے ہیں جو ہمارے یقینی و قطعی مسائل کے خلاف ہیں لہٰذا وہ معیا ر شناخت نہیں بن سکتے ۔جیس محی الدین بن عربی کا کشف ہے کہ خصوص الحکم کے فص داودیة میں کہتے ہیں:’ولہذا مات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وما نص بخلافة عنہ الی احد ولا عینہ لعلمہ ان فی امتہ من یاخذ الخلافة عن ربہ فیکون خلیفة عن اللہ مع الموافقة فی الحکم المشروع ۔ فلماعلم ذلک لم یحجر الامر.صاحب کتاب ممدالہمم ،شرح فصوص الحکم ،ص ١٤٠، پر اس عبارت کی شرح کے بعد حاشیہ میں کہتے ہیں:اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا جانشین معین کیا ہے اور وہ امیر المومنین حضرت علی ـ ہیں ۔چنانچہ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ رسول خدا نے رحلت کے وقت اپنا خلیفہ و جانشین معین نہیں کیا اس لئے کہ جب آپ ۖ نے کاغذ و قلم مانگا تو عمر نے کہا: کتاب خدا ہمارے لئے کافی ہے ( وان الرجل لیہجر) ‘یہ شخص ہذیان بک رہا ہے ‘اوریہ مسئلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے حضور میں نزاع و جھگڑے کی حد تک پہنچا جیسا کہ اس کی تفصیل فریقین (شیعہ سنی) کی کتابوں میں مذکور ہے۔جبکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ جانتے تھے کہ ان کی امت میں ایسا شخص موجود ہے کہ جو خلیفہ ہے اورحقیقت میں وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کا جانشین ہے۔اورا گر لفظ میں بہت زیادہ ثبوت وجمود کیا جائے تو کہنا چاہیئے کہ شیخ ،صاحب عصمت نہ تھے اور اول کتاب میں تصریح کے طور پر کہا ہے کہ میں رسول و نبی نہیں ہوں۔ لیکن وارث اور پاسبان آخرت ہوں۔ اور چونکہ وہ صاحب عصمت ،رسول اور نبی نہیں ہے لہٰذا اس کا کشف اس کے اعتقاد کے مطابق اورانس و الفت کے سابقہ کی بنا پر حق تعالیٰ کی جانب سے ہے جس میں اشتباہ واقع ہوا ہے۔
فلاسفہ کا مکتب(School Of Philosophy)فلاسفہ کی راہ و روش کے مطابق تنہا عقل معیار حق و حقیقت ہے اور اس مکتب میں جو کچھ بھی عقل و فکر اور دلیل سیحاصل نہ ہوں وہ معتبر نہیں ہیں اور وہ اعتبار سے ساقط ہیں، اس کو قبول نہیں کرتے ہیں ،لہٰذا یہ روش بھی پہلے والی راہ و روش کی طرح شرعی اور مکتب و حی کے مطابق مثبت اور منفی ہونے کے حوالے سے قابل ذکر نہیں ہے یعنی ایک فلسفی دلیل اور برہان کی بنیاد پرراستہ طے کرتا ہے وہ اپنی راہ و روش کے موافق اور مخالف ہونے کے نتیجہ کے بارے میںشریعت کو مورد توجہ قرار نہیں دیتا ہے اس ضمن میں اسلامی فلسفہ کے حوالے سے جو بات آتی ہے وہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔
میری نظر میںاعتراضات میںسے ایک اعتراض جو راہ و روش فلسفی کے بارے میں ہے وہ یہ کہ کہا جاتا ہے عقل جہاںبھی واقعی معنیٰ میں راہ پیدا کرے جو کچھ بھی درک کرے اور حکم کرے تو بغیرکسی چوں و چرا کے قابل قبول ہے لیکن دوسری طرف بہت سے عقلاء اور دانشوروں کی طرف سے جو حکم ،اساسی اختلاف وہ بھی تضاد کی حد تک بہت سے مہم مسائل میں جو فلسفی کتابوں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کر نے سے پتہ چلتا ہے تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عقل کو تمام مسائل میں راہ نہیں حاصل ہے اس حوالے سے عقل محدود کی شعاع سے بہت سے مہم مسائل، نور عقل کے دسترس سے خارج ہیں نیز بہت سے مسائل، جو عقل کے دائرہ میں آتے ہیں ان مراحل میں بھی عقل کا ان حقیقتوں تک پہنچنا بہت دشوار دقیق ہے،یہاں تک کہ ان حقائق تک رسائی فقظ ان عظیم المرتبہ انسان کے بس میں ہے۔لہٰذا ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عقل کا استعمال بہت ہی محدود ہے اس لحاظ سے تمام مسائل میں عقل سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے مدنظر فلسفی راہ و روش کو معیار کامل اور کافی و وافی نہیں جانا سکتا ہے۔