خدمت خلق اور احسان

321

 بلكہ اجتماعى ذمہ داريوں كو قبول كرتے ہوئے لوگوں ميں رہ كر لوگوں كے ساتھ احسان اور نيكى انجام دينا اور مومنين كے ضروريات كو پورا كرنا اور انہيں خوش كرنا محروم طبقے كا دفاع مسلمانوں كے امور ميں اہتمام كرنا اور ان كے مصائب كو دور كرنا اور خدا كے بندوں كى مدد كرنا يہ تمام اسلام كى نگاہ ميں ايك بہت بڑى عبادتيں ہيں كہ جن كا ثواب حج اور عمرے كے كئي برابر زيادہ ہوتا ہے_ اس كے متعلق سينكٹروں احاديث پيغمبر اور ائمہ اطہار عليہم السلام سے وارد ہوئي ہيں _ امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ ‘ اللہ تعالى فرماتا ہے كہ ميرى مخلوق ميرے عيال ہيں ميرے نزديك سب سے زيادہ محبوب انسان وہ ہے جو ميرى مخلوق پر مہربان ہو اور ان كے ضروريات كے بجا لانے ميں زيادہ كوشش كرلے_ (502)رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا ہے كہ ‘ لوگ اللہ كہ اہل و عيال ہيں اللہ كے نزديك سب سے زيادہ محبوب انسان وہ ہے جو اللہ كے اہل و عيال كو فائدہ پہنچائے اور ان كے دلوں كو خوشنود كرے_ (503)امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ كسى مومن كا كسى دوسرے مومن كے سامنے مسكرانا ايك حسنہ اور نيكى ہوا كرتا ہے اور اس كى تكليف اور گرفتارى كو دور كرنا بھى ايك نيكى ہے خدا كسى ايسى چيز سے عبادت نہيں گيا كہ جو اس كے نزديك مومن كے خوش كرنے سے زيادہ محبوب ہو_ (504)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ جو كسى مومن كو خوش كرے اس نے مجھے خوش كيا ہے اور جس نے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كو خوش كيا ہوا اس نے خدا كو خوش كيا ہے اور جس نے خدا كو خوش كيا ہو اور وہ جنت ميں داخل ہوگا_ (505)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ ايك مومن كى حاجت اور ضرورت كو پورا كر دينا اللہ تعالى كے نزديك بيس ايسے حج سے كہ جسميں ايك لاكھ خرچ كيا ہو زيادہ محبوب ہے_ (506)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ مسلمان كى ضرورت اور حاجت كے پورے كرنے ميں كوشش كرنا خانہ كعبہ كے ستر دفعہ طواف كرنے سے بہتر ہے_ (507)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ اللہ تعالى كے ايسے بندے ہيں جو لوگوں كو ان كى حاجات ميں پناہ گاہ بنتے ہيں يہ وہ ہيں كہ جو قيامت ميں اللہ تعالى كے عذاب سے محفوظ ہونگے_ (508)
جيسے كہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہيں كہ احسان نيكوكارى اللہ كے بندوں كى خدمت لوگوں كے مصائب دور كرنے ميں كوشش اسلام كى نگاہ ميں ايك بہت بڑى عبادت شمار ہوتے ہيں كہ اگر انسان اسے قصد قربت سے بجالائے تو يہ تكميل نفس اور اس كى تربيت اور قرب الہى كا وسيلہ بنتا ہے_ افسوس كہ اكثر لوگ صحيح اسلام كو نہ پہنچاننے كى وجہ سے اس بہت بڑى اسلامى عبادت سے غفلت برتتے ہيں اور عبادت اور قرب الہى كو فقط نماز روزہ دعا اور زيارت ذكر اور ورد ميں منحصر جانتے ہيں_
———————502_قال ابو عبداللہ عليہ السلام: قال اللہ عزّوجلّ: الخلق عيالى فاحبّہم اليّ الطفہم بہم و اسعاہم فى حوائجہم_ كافي/ ج 2 ص 199_503_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: الخلق عيال اللہ فاحبّ الخلق الى اللہ من نفع عيال اللہ و ادخل على اہل بيت سروراً_ كافي/ ج 2 ص 164_504_عن ابى جعفر عليہ السلام قال: تبسم الرجل فى وجہ اخيہ حسنة و صرف القذى عنہ حسنة و ما عبداللہ بشيء احبّ الى اللہ من ادخال السرور على المؤمن_ كافي/ ج 2 ص 188_505_قال الصادق عليہ السلام: من سرّ مؤمناً فقد سرّنى و من سرّنى فقد سرّ رسول اللہ و من سرّ رسول اللہ فقد سرّ اللہ و من سرّ اللہ ادخلہ جنتہ_ بحار/ ج 74 ص 413_506_قال ابوعبداللہ عليہ السلام: لقضاء حاجة امرى مؤمن احبّ الى اللہ من عشرين حجة كل حجة ينفق فيہا صاحبہا ماة الف_ كافي/ ج 2 ص 193_507_قال الصادق عليہ السلام: مشى المسلم فى حاجة المسلم خير من سبعين طوافاً بالبيت الحرام_ بحار/ ج 74 ص 311_508_قال الصادق عليہ السلام: انّ اللہ عباداً من خلقہ يفزع العباد اليہم فى حوائجہم اولئك ہم الآمنون يوم القيامة_ بحار/ ج 74 ص 318_

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.