دعا

257

تكميل روح اور قرب خدا كى بہترين عبادت اور سبب دعا ہے اسى لئے خداوند عالم نے اپنے بندوں كو دعا كرنے كى دعوت دى ہے_ قرآن مجيد ميں خدا فرماتا ہے ‘مجھ سے مانگو اور دعا كرو تا كہ ميں تمہيں عنايت كروں جو لوگ ميرى عبادت كرنے سے تكبر كرتے ہيں وہ بہت جلدى اور خوارى كى حالت ميں جہنم ميں داخل ہونگے_ (509) پھر اللہ تعالى نے فرمايا ہے ‘ تضرع اور مخفى طور سے خدا سے مانگو يقينا خدا تجاوز اور ظلم كرنے والوں كو دوست نہيں ركھتا_ (510) اور فرمايا ‘ اے ميرے بندو مجھ سے سوال كرو ان سے كہہ دو كہ ميں ان كے نزديك ہوں اگر مجھ پكاريں تو ميں ان كا جواب دونگا_ (511)پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ‘ دعا عبادت كى روح اور مغز ہے_ (512)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ دعا عبادت ہے_ خدا فرماتا ہے كہ لوگ ميرى عبادت كرنے سے تكبر كرتے ہيں_ خدا كو پكار اور يہ نہ كہہ كہ بس كام ختم ہوچكا ہے_ (513)
حضرت صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ كبھى دعا كو ترك نہ كرو كيونكہ تم ايسا عمل پيدا نہيں كرو گے جو دعا سے زيادہ تقرب كا موجب ہو يہاں تك كہ معمولى چيزوںكو كبھى خدا سے طلب كرو اور ان كے معمولى ہونے كى وجہ سے دعا كرنے كو ترك نہ كرو كيونكہ معمولى چيزوں كا مالك بھى وہى ہے جو بڑے امور كا مالك ہے_ (514)لہذا خدا كے بندے كو دعا كرنى چاہئے كيونكہ وہ تمام وجود ميں خدا كا محتاج ہے بلكہ عين احتياج اور فقر ہے اگر ايك لحظہ بھى اللہ تعالى كا فيض قطع ہو جائے تو وہ نابود ہوجائيگا_ جو كچھ بھى بندے كو پہنچتا ہے وہ خدا كى طرف سے ہوتا ہے لہذا بندے كو اس تكوينى اور طبعى احتياج كو زبان سے اظہار كرنا چاہئے اپنى احتياج اور فقر اور بندگى كو عملى طور سے ثابت كرنا چاہئے اور اس كے سوا كوئي عبادت كا اور مفہوم اور معنى نہيں ہے_ انسان دعا كرنے كى حالت ميں خدا كى ياد ميں ہوتا ہے اور اس كے ساتھ راز اور نياز كرتا ہے اور تضرع اور زارى جو عبادت كى رسم ہے غنى مطلق كے سامنے پيش كرتا ہے_دنيا جہاں سے اپنے فقر اور احتياج كو قطع كرتا ہے خيرات اور كمالات كے مركز اور منبع كے ساتھ ارتباط برقرار كرتا ہے_ عالم احتياج سے پرواز كرتا ہے اور اپنى باطنى آنكھ سے جمال حق كا مشاہدہ كرتا ہے_ اس كے لئے دعا اور راز و نياز كى حالت ايك لذيذ ترين اور بہترين حالت ہوتى ہے_ خدا كے نيك بندے اور اولياء اسے كسى قيمت پر كسى قيمت سے معاملہ نہيں كرتے صحيفہ سجاديہ اور دوسرى دعاؤں كى كتابوں كى طرف رجوع كيجئے كہ كس طرح ائمہ اطہار عليہم السلام راز و نياز كرتے تھے_ خدا سے ارتباط اور دعا كى قبوليت كى اميد دعا كرنے والے كے دل كو كس طرح آرام اور دل كو گرمى ديتى ہے_ اگر انسان مصائب اور مشكلات كے حل كے لئے خدا سے پناہ نہ مانگے تو كس طرح وہ مشكلات كا تحمل كر سكتا ہے اور زندگى كو گرم و نرم ركھ سكتا ہے؟
دعا مومن كا ہتھيار ہے كہ جس كے وسيلے سے نااميد اور ياس كا مقابلہ كرتا ہے اور مشكلات كے حل كے لئے غيب كى خدا سے پناہ نہ مانگے تو كس طرح وہ مشكلات كا تحمل كر سكتا ہے اور زندگى كو گرم و نرم ركھ سكتا ہے؟دعا مومن كا ہتھيار ہے كہ جن كے وسيلے سے نا اميدى اورپاس كا مقابلہ كرتا ہے اور مشكلات كے حل كے لئے غيب طاقت سے مدد طلب كرتا ہے_ پيغمبر اور ائمہ عليہم السلام ہميشہ اس ہٹھيار سے استفادہ كيا كرتے تھے اور مومنين كو ان سے استفادہ كرنے كى سفارش كيا كرتے تھے_امام رضا عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمايا كہ ‘ انبياء كے ہتھيار سے فائدہ حاصل كرو_ پوچھا گيا كہ انبياء كا ہتھيار كيا تھا؟ تو آپ نے فرمايا كہ دعا_ (515)امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ خدا اپنے بندوں ميں اسے زيادہ دوست ركھتا ہے جو زيادہ دعا كرتا ہے ميں تمہيں وصيت كرتا ہؤں كہ سحر كے وقت سے لے كر سورج نكلنے تك دعا كيا كرو كيونكہ اس وقت آسمان كے دروازے كھول ديئے جاتے ہيں اور لوگوں كا رزق تقسيم كيا جاتا ہے اور ان كى بڑى بڑى حاجتيں پورى كى جاتى ہيں_ (516)دعا ايك عبادت ہے بلكہ عبادت كى روح ہے اور آخرت ميں اس كا اجر ديا جاتا ہے اور مومن كى معراج ہے اور عالم قدس كى طرف پرواز ہے روح كو كامل اور تربيت ديتى ہے اور قرب خدا تك پہنچاتى ہے_
رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ‘ مومن كا ہتھيار دعا ہے اور دعا دين كا ستون اور زمين اور آسمان كا نور ہے_ (517) امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘نيك بختى اور سعدت كى چابى دعا ہے_ بہترين دعا وہ ہے _ جو پاك اور تقوى والى دل سے ہو خدا سے مناجات كرنا نجات كا سب ہوتا ہے اور اخلاص كے ذريعے نجات حاصل ہوتى ہے جب مصائب اور گرفتارى ميں شدت آجائے تو خدا اسے پناہ لينى چاہئے_ (518) لہذا دعا ايك ايسى عبادت ہے كہ اگر اس كے شرائط موجود ہوں اور درست واقع ہو تو نفس كے كمال تك پہنچنے اور قرب خدا كا موجب ہوتى ہے اور يہ اثر يقينى طور سے دعا پر مرتب ہوتا ہے_ اس لئے خدا كے بندے كو كسى حالت اور كسى شرائط ميں اس بڑى عبادت سے غافل نہيں ہونا چاہئے كيونكہ كسى وقت بھى بغير اثر كے نہيں ہوا كرتى گرچہ اس كا فورى طور سے ظاہر بظاہر اثر مرتب نہ ہو رہا ہو_ ہو سكتا ہے كہدعا كرنے والے كى خواہش اور سوال كو موخر كر ديا جائے يا دنيا ميں بالكل پورى ہى نہ كى جائے ليكن ايسا ہونا بھى بغير مصلحت كے نہ ہوگا_ كبھى مومن كى دنياوى خواہش كے قبول كرنے ميں واقعاً مصلحت نہيں ہوتى _ خداوند عالم بندے كى مصلحتوں كو اس سے زيادہ بہتر جانتا ہے ليكن بندے كو ہميشہ اپنے احتياج اور فقر كے ہاتھ كو قادر مطلق كے سامنے پھيلاتے رہنا چاہئے اور اپنى حاجتوں كو پورا كيا جائيگا ليكن خدا كبھى مصلحت ديكھتا ہے كہ اپنى بندے كى حاجت كو موخر كر دے تا كہ وہ اللہ تعالى سے زيادہ راز و نياز اور مناجات كرے اور وہ اعلى مقامات اور درجات تك جا پہنچے اور كبھى اللہ تعالى اپنے بندے كى مصلحت اس ميں ديكھتا ہے كہ اس كى حاجت كو اس دنيا ميں پورا نہ كيا جائے تا كہ ہميشہ وہ خدا كى ياد ميں رہے اور آخرت كے جہان ميں اس كو بہتر اجر اور ثواب عنايت فرمائے_رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ‘ خدا اس بندے پر اپنى رحمت نازل كرے_ جو اپنى كو خدا سے طلب كرے اور دعا كرنے ميں اصرار كرے خواہ اس كى حاجتيں پورى كى جائيں يا پورى نہ كى جائيں آپ نے اس وقت يہ آيت تلاوت كى وادعوا ربى عسى الا اكون بدعا ربى شقياً_ (519)
امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ‘ كبھى مومن اپنى حاجت كو خدا سے طلب كرتا ہے ليكن خدا اپنے فرشتوں كو حكم ديتا ہے كہ ميرى بندے كى حاجت كے پورے كئے جانے كو موخر كر دو كيونكہ دوست ركھتا ہے كہ اپنے بندے كى آواز اور دعا كو زيادہ سنتا رہے پس قيامت ميں اس سے كہے گا اے ميرے بندے تو نے مجھ سے طلب كيا تھا ليكن ميں نے تيرے قبول كئے جانے كو موخر كر ديا تھا اب اس كے عوض فلاں ثواب اور فلاں ثواب تجھے عطا كرتا ہوں اسى طرح فلانى دعا اور فلانى دعا_ اس وقت مومن آرزو كرے گا كہ كاش ميرى كوئي بھى دعا دنيا ميں قبول نہ كى جاتى يہ اس لئے تمناكرتا ہے_ جب وہ آخرت كا ثواب ديكھتا ہے_ (520) امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے _ دعا كے آداب كو حفظ كر اور متوجہ رہ كہ كس كے ساتھ بات كر رہا ہے اور كس طرح اس سے سوال كر رہا ہے اور كس لئے اس سے سوال كرتا ہے_ اللہ تعالى كى عظمت اور بزرگى كو ياد كر اور اپنے دل ميں جھانك اور مشاہدہ كر كہ جو كچھ تو دل ميں ركھتا ہے_ خدا اسے جانتا ہے اور تيرے دل كے اسرار سے آگاہ ہے تيرے دل ميں جو حق يا باطل پنہاں اور چھپا ہوا ہے اس سے مطلع ہے اپنى ہلاكت اور نجات كے راستے كو معلوم كر كہيں ايسا نہ ہو كہ خدا سے ايسى چيز كو طلب كرے كہ جس ميں تيرى ہلاكت ہو جب كہ تو خيال كرتا ہے كہ اس ميں تيرى نجات ہے_خدا قرآن مجيد ميں فرماتا ہے كہ ‘ كبھى انسان خير كى جگہ اپنے شر كو چاہتا ہے انسان اپنے كاموں ميں جلد باز اور جلدى كرنے والا ہے_ پس ٹھيك فكر كر كہ خدا سے كس كا سوال كر رہا ہے اور كس لئے طلب كر رہا ہے_ دعا اپنے دل كو پروردگار كے مشاہدے كے لئے پگھلانا ہے_ اور اپنے تمام اختيارات كو چھوڑنا اور تمام كاموں كو اللہ تعالى كے انتظار ميں نہ رہ كيونكہ خدا تيرے راز اور سب سے زيادہ مخفى راز سے بھى آگاہ اور مطلع ہے_ شايد تو خدا سے ايسى چيز طلب كر رہا ہے جب كہ تيرى نيت اس كے خلاف ہے_ (521)
———————-509_و قال ربّكم ادعونى استجب لكم انّ الذين يستكبرون عن عبادتى سيدخلون جہنم داخرين_ مؤمن/ 63510_ادعوا ربكم تضرّعاً و خفية انّہ لا يحب المعتدين_ اعراف/ 55_511_و اذا سالك عبادى عنّ فانّى قريب اجيب دعوة الداع اذا دعان_ بقرہ/ 183_512_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: الدعاء ہو العبادة قال اللہ: ‘ ان الذين يستكبرون عن عبادتى ‘ الايہ، ادع اللہ و لا تقل انّ الامر قد فرغ منہ_ كافي/ ج 2 ص 467_513_قال ابوعبداللہ عليہ السلام: عليكم بالدعاء فانّكم لاتقربون بمثلہ و لا تتركوا صغيرة لصغرہا ان تدعوا بہا، ان صاحب الصغار ہو صاحب الكبار_ كافي/ ج 2 ص 467_514_قال ابوعبداللہ عليہ السلام: عليكم بالدعاء فانّكم لاتقربون بمثلہ و لا تتركوا صغيرة لصغرہا ان تدعوا بہا، ان صاحب الصغار ہو صاحب الكبار_ كافي/ ج 2 ص 467_515_عن الرضا عليہ السلام انہ كان يقول لاصحابہ: عليكم بسلاح الانبياء فقيل و ما سلاح الانبيائ؟ قال: الدعائ_ كافي/ ج 2 ص 468_516_قال ابوجعفر عليہ السلام: انّ اللہ يحبّ من عبادہ المؤمنين كلّ عبد دعّاء فعليكم بالدعاء فى السحر الى طلوع الشمس، فانہا ساعة تفتح فيہا ابواب السماء و تقسم فيہا الارزاق و تقضى فيہا الحوائج العظام_ كافي/ ج 2 ص478_517_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: الدعاء سلام المؤمن و عمود الذين و نورالسموات و الارض_ كافي/ج 2 ص 468_518_قال اميرالمؤمنين عليہ السلام: الدعاء مفاتيح النجاح و مقاليد الفلاح و خيرالدعا ما صدر عن صدر نقيّ و قلب تقيّ و فى المناجات سبب النجاة و بالاخلاص يكون الخلاص فاذا اشتدّ الفزع فالى اللہ المفزع_ كافي/ ج 2 ص 468_519_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: رحم اللہ عبداً طلب من اللہ حاجة فالحّ فى الدعاء استجيب لہ اولم يستجب لہ و تلا ہذہ الآيہ و ادعوا ربّ عسى الّا اكون بدعاء ربّى شقيّاً_ كافي/ ج 2 ص 475_520_عن ابيعبداللہ عليہ السلام قال: ان المؤمن ليدعوا للہ فى حاجتہ فيقول اللہ تعالي: اخّروا اجابتہ شوقاً الى صوتہ و دعائہ فاذا كان يوم القيامة قال اللہ: عبدي دعوتنى فاخرت اجابتك، و ثوابك كذا و كذا و دعوتنى فى كذا و كذا فاخرت اجابتك و ثوابك كذا و كذا_ فيتمنّى المؤمن انّہ لم يستجب لہ دعوة فى الدنيا ممّا يرى من حسن الثواب_ كافي/ ج 2 ص 490_
342521_قال الصادق عليہ السلام: احفظ ادب الدعاء و انظر من تدعو و كيف تدعو و لماذا تدعو و حقّق عظمة اللہ و كبريائہ و عاين بقلبك علمہ بما فى ضميرك و اطلاعہ على سرك و ما يكنّ فيہ نجاتك قال اللہ تعالي: و يدع الانسان بالشرُ دعائة بالخير و كان الانسان عجولا و تفكر ما ذا تسال و لماذا تسال و الدعاء استجابہ لكل منك للحق و تذويب المہجة فى مشاہدة الرب و ترك الاختيار جميعا و تسليم المور كلہا ظاہرہا و باطنہا الى الہ فان لم تات بشرط الدعاء فلا تنتظر الاجابہ فانہ يعلم السر و اخفى _ فلعلك تدعوہ بشيء قد علم من نيتك بخلاف ذلك _ حقائق فيض ، ص 242_
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.