اجمالی اور تفصیلی تحریف
اجمالی اور تفصیلی تحریفہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ تحریف کی دو قسمیں ہیں ۔تحریف یا تفصیلی ہے یا اجمالی ،ان دو قسموںمیں سے جو مورد بحث ہے وہ تحریف تفصیلی ہے ،یعنی کمی و بیشی جو معین طور پر واقع ہو جائے یہی مورد بحث اور محل اختلاف ہے ۔لیکن تحریف اجمالی یعنی اجمالی طور پر کوئی چیز کم یا زیادہ ہو وہ ہماری بحث سے خارج ہے ۔مثال کے طور پر قرائت کے بارے میں یا بسم اللہ کے بارے میں اختلاف ہے ،کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیات میںسے ایک آیت ہے یا نہیں؟جس کو ہم پہلے بھی تحریف اجمالی کے نام سے یاد کیا ہے ہماری بحث سے خارج ہے ،کیونکہ وہ تحریف کہ جس میں جھگڑہ ہے چاہے کمی کی صورت میںہو یا اضافہ کی،دونوں صورتوں میں معیار اور ملاک یہ ہے کہ کلام الٰہی کی حقیقت بدلنے کا سبب نہیںبنے جیسے قرائت کا اختلاف کہ جس میں شک اور شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ان قرآئتوںمیںسے کوئی ایک قرائت یقینا قرآن حقیقی کی قرائت ہے یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بارے میں کوئی شک و شبہہ نہیںہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہر سورہ کے آغاز میں تلاوت فرماتے تھے ،لیکن مسلمانوں کا آپس میںاختلاف ہے کہ بسم اللہ قرآن اور سورہ کاجزء ہے یا نہیں۔ بعض مسلمانوںکا عقیدہ ہے کہ بسم اللہ اسی سورہ کا جزء اور حقیقی قرآن ہے جسسورے کے آغاز میں بسم اللہ ہو۔لیکن دوسرے بعض مسلمانوں کانظریہ ہے کہ بسم اللہ اس کا جزء نہیںہے اس لئے کہ حقیقی قرآن نہیں ہے یہ دونوں گروہ میں سے ہر ایک اپنے نظریے کو واقع کے مطابق سمجھتا ہے اور اپنی بات کو حقیقت اور واقع کے خلاف ہونے کا احتمال تک نہیں دیتا ۔اور دونوں کا اجماع ہے کہ بسم اللہ کلام الٰہیمیں یقینا تھا اور کلام بشر اس میںداخل نہیں ہوا ہے اور اختلاف قرّاء کے مسئلہ میںبھی یہی ہے۔لہٰذا اسی بنا پر جن موارد میں تحریف اجمالی ہوئی ہے اگرچہ حقیقی کلام اور حقیقی قرائت کی تشخیص ایک مشکل امر ہے لیکن ہماری بحث سے خارج ہے ۔کیونکہ ہماری بحث ایسی تحریف کے بارے میں ہے کہ قرآن سے کسی چیز کو حذف کیا گیا ہے یا قرآن میںکسی چیز کا اضافہ کیاگیا ہے ۔
تحریف کے قائل ہونے کے لئے خبر واحد کافی نہیں ہے یعنی جس طرح قرآنی آیات کے اثبات کے لئے قطعی اور علمی دلیل کی ضرورت ہے اور صرف خبر واحد کے ذریعہ کسی آیت قرآنی کو ثابت نہیںکر سکتے اسی طرح جو لوگ تحریف کے قائل ہیں انہیںچاہیے کہ تحریف کے اثبات پر بھی قطعی دلیل اور علمی برہان پیش کریں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ جب ہم خبر واحد اوراس جیسی دوسری ادلّہ ظنّیہ (یعنی وہ دلائل جو یقینی اور قطعی نہیں ہیں ) کو اعتقادی مسائل ثابت کرنے میںکافی نہیں سمجھتے ہیں تو قرآن سے متعلق مسائل کو بھی خبر واحد سے ثابت نہیںکر سکتے ۔کیونکہ قرآن ہمارے مدارک میںسے اہم ترین مدرک ہے ،اس کے کسی مسئلہ کی نفی یا اثبات کو خبر واحد کے ذریعہ ثابت کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔لہٰذا مرحوم شیخ طوسی نے اپنی گرانبہا تفسیر ”تبیان ” کے مقدمہ اور تمہید میںفرمایا ہے کہ جتنی روایتیں تحریف پر دلالت کرتی ہیں وہ سب خبر واحد ہیں اور کیونکہ خبر واحد سے یقین اور علم حاصل نہیں ہوتا لہٰذا مسئلہ تحریف میںبھی ایسی روایتیں کفایت نہیںکرتی ہیں۔ مرحوم شیخ طوسی کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مسئلہ تحریف ان مسائل میں سے ہے کہ جس کے اثبات اور نفی کے لئے یقین اور علم ضروری ہے صرف کسی حدیث یا روایت کا پایا جانا کافی نہیں ہے ۔
قرآن میں تحریف نہ ہونے پر علماء شیعہ کا نظریہامامیہ مذہب کے عظیم علماء اور محققین اس بات کے معتقد ہیںکہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیںہوئی ہے ۔یعنی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو قرآن کریم آج ہمارے پاس موجود ہے یہ وہی قرآن ہے جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قلب مطہر پر اتارا گیا تھا جس میںکسی قسم کی کمی بیشی واقع نہیں ہوئی ہے ۔یہاںہم علمائے امامیہ میںسے ان حضرات کے نظریے جو مذہب تشیع کے ستون سمجھے جاتے ہیںاختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیںکیونکہ انہیں حضرات کی کتابوںکو مذہب تشیع کے اعتقادی اور علمی مسائل کا مدار شمار کیا جاتا ہے لیکن ان حضرات کے نظریے کو ذکر کرنے سے پہلے دو مطالب کی طرف قارئین کی توجہ کو مبذول کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ؒالف:علوم قرآن سے متعلق لکھی گئی کچھ کتابوں میںقرآن میںتحریف ہونے والے نظریہ کو شیعہ امامیہ کے علماء میںسے جو اخباری ہیں ،اور اہل سنت میںسے جو حشویہ ہیں ،ان کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔غور طلب بات یہ ہے کہ اخباری علماء کے بعض بزرگوں نے جیسے جناب حر عاملیؒ صاحب وسائل الشیعہ ،قرآن کریم میںتحریف نہ ہونے کے قائل ہیں ،اور اسی موضوع پر مستقل ایک کتابچہ تحریر فرمایا ہے ۔لہٰذا کسی کااخباری ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تحریف کا قائل ہے ب:اس میں شک نہیں کہ شیعہ امامیہ کے علماء قرآن میںتحریف یعنی کسی شی کا اضافہ نہ ہونے پر اجماع رکھتے ہیں ،لیکن تحریف یعنی قرآن میںکمی واقع ہونے کا مسئلہ اختلافی ہے ،اگرچہ اس میںبھی بعض علماء جیسے مرحوم مقدس بغدادی اپنی کتاب ”شرح وافیہ” (١)میںمرحوم شیخ کاشف الغطاء اپنی گرانبہا کتاب کشف الغطاء میںقرآن کریم میںکمی واقع نہ ہونے پر بھی تمام علماء امامیہ کا اتفاق و اجماع ہونے کادعویٰ کرتے ہیں۔علمائے امامیہ کے عظیم علماء کے نظریات اس بارے میںیوں ہیں۔١۔فضل ابن شاذان جو شیعہ امامیہ قرن سوم ہجری کے مصنفین میںسے ایک ہیں ، انہوں نے قرآن میںتحریف یعنی کمی واقع ہونے سے انکار اور اس نظریہ کے قائلین کو رد کرنے کے بعد ”کتاب ایضاح ”میںان روایات کو جو تحریف پر دلالت کرتی ہیںدوسرے مذاہب کی طرف نسبت دی ہے۔٢۔جناب شیخ جعفر کے فرزند محمد بن علی ابن بابویہ قمی شیخ صدوق کے لقب سے معروف و مشہور ہیںاور جہاںتشیع میںچوتھی صدی کے عظیم اور نامور عالم ہیں،انہوں نے اپنے ”رسالہ اعتقادات ”میںیوں تحریر فرمایا ہے:”قرآن کے بارے میںہمارا (شیعہ امامیہ عقیدہ یہ ہے کہ جو قرآن آج ہمارے پاس موجود ہے ،ہو بہو وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا تھا ،جس میں کوئی اضافہ یاکمی نہیں ہوئی ہے ۔ لہذا جو لوگ قرآن میں کمی واقع ہونے والے نظرئےے کو ہم سے منسوب کرتے ہیں جھوٹے ہیں ۔جناب مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ جو علم حدیث اور علم تاریخ اوردیگر متعدد علوم میں ماہر اور عظیم علمائے امامیہ میں سے ایک ہیں ۔ وہ تحریف کے نظرئےے کو امامیہ مذہب سے منسوب کرنے کو جھوٹ اور بہتان سے تعبیر کرتے ہیں ۔٣۔ جناب مرحوم علی ابن حسین موسوی نے جو سید مرتضی علم الہدیٰ کے لقب سے معروف ومشہور ہیں ، اورشیعہ امامیہ کے عظیم مجتہدین اور اصولی علماء میں سے ایک ہیں طرابلسیات کے سوالات کے جواب میں فرماتے ہیں: ” جس طرح دنیا میں شہروں کے وجود اورعظیم واقعات وحادثات کے رونما ہونے پر یقین وعلم حاصل ہے اسی طرح قرآن کے ہم تک بغیر کسی کمی یابیشی کے پہنچنے پر بھی یقین وعلم حاصل ہے ۔ کیونکہ مسلمانوں نے مختلف عوامل اورانگیزوں کے ساتھ قرآن کریم کی حفاظت کی تھی یعنی قرآن کریم میں کسی قسم کی کمی یابیشی واقع ہونے نہ دینے کے لئے بڑا اہتمام کیاتھا اوران کی کوشش یہی رہی ہے کہ جو قرآن پیغمبر اسلام ؐ کے دور میں مخصوص نظم وضبط کے ساتھ ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا گیا تھا وہی ہم تک پہنچا ہے جس پر واضح دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ نے ایک جماعت کو قرآن کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا تھا ، اورایک جماعت جیسے عبداللہ ابن مسعود اور ابیّ ابن کعب وغیرہ نے کئی دفعہ خود پیغمبر اسلام ؐ کے حضور میں پورے قرآن کریم کی تلاوت کی تھی ، جو حقیقت میں قرآن کی صحیح حفاظت ہونے یانہ ہونے کی تصدیق کروانا چاہتے تھے۔ لہذا مرحوم سید مرتضٰی نے اپنی گفتگو اوربحث کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ امامیہ مذہب سے منسلک ہیں ان میں سے چند نفر اور مذہب اہل سنت میں سے حشویہ اس نظریہ کے مخالف ہیں ۔ لیکن ان کے نظرئےے کاکوئی اعتبار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کچھ ضعیف روایات بیان کی ہیں اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ یہ روایات صحیح ہیں ۔(2)٤۔ مرحوم شیخ طوسی جو شیخ الطائفہ کے لقب سے مشہور ہیں اورابو جعفر محمدبن حسن کے نام سے موسوم ہیں اس بارے میں فرماتے ہیں :” قرآن کریم میں کمی وبیشی واقع ہونے کا تصور کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں کسی چیز کے اضافہ نہ ہونے پر اجماع ہے جبکہ قرآن سے کسی چیز کے حذف یاکم ہونے کو سارے مسلمان غلط اورباطل سمجھتے ہیں اور امامیہ مذہب سے منسلک علماء کاصحیح نظریہ بھی یہی ہے ۔ یہ وہ نظریہ ہے جس پربہت ساری صحیح السند روایات کی دلالت موجود ہے ، لہذا جو روایات اہل تشیع اوراہل سنت کے طریق سے نقل کی گئی ہوں ، اور وہ آیات میںسے بعض کے حذف یاکم ہونے پر دلالت کرتی ہوں وہ خبرواحد ہیں جن سے علم ویقین حاصل نہیں ہوتاہے لہذا ان کو نظر انداز کرنا چاہئےے ۔( 3 )٥۔فضل ابن حسن طبرسی جن کی کنیت ابوعلی ہے اورعظیم مفسر قرآن ، صاحب مجمع البیان ہیں ، انہوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں یوں لکھا ہے :” قرآن میں کسی آیت کے اضافہ ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط اورباطل ہونے پر امامیہ مذہب کا اجماع ہے اگرچہ کم اورحذف ہونے کے قائل علمائے امامیہ میں سے بعض اخباری علماء اورسنی مذہب میں حشویہ کی طرف نسبت دی گئی ہے لیکن اکثر علمائے امامیہ کے نزدیک یہ نظریہ صحیح نہیں ہے ۔”(4)٦۔ مرحوم سید ابن طاؤوس نے فرمایاہے : ” مذہب امامیہ قرآن میں تحریف نہ ہونے کے قائل ہیں۔ (5)ایک اور جگہ فرمایاکہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ جو قرآن آج ہمارے پاس موجود ہے وہی قرآن ہے جو پیغمبراکرم (ص) پرنازل ہواہے اور پیغمبر اکرم (ص) نے ہی اس کو جمع کرنے کا حکم دیا ، اس کے باوجود آیات میں اہل مدینہ اور مکہ یااہل کوفہ وبصرہ کے مابین اختلاف ہونے کو نقل کرکے آخر میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن اور سورہ کاجزء نہیں ہے ۔ یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف سے قرآن میں کسی قسم کی کمی وبیشی نہ ہونے کے قائل ہیں کہ جس کی تائید دلیل عقلی اورنقلی بھی کرتی ہیں اس کے باوجود بسم اللہ کو قرآن کی آیات میں سے ایک آیت اور سورہ کاجز نہ ہونے کو کیسے قبول کرسکتے ہیں ؟ (6)٧۔ جناب ملامحسن جو فیض کاشانی کے لقب سے مشہور ہیں فرماتے ہیں :” جوروایات قرآن میں تحریف ہونے پر دلالت کرتی ہیں وہ کتاب الہٰی کے مخالف ہیں لہذا ان کو ردکرنا چاہئےے یااس کی توجیہ اور تفسیر اس طرح کریں کتاب الہٰی کے مخالف نہ ہو۔(7)٨۔ جناب مرحوم محمد بہاء الدین عاملی جو شیخ بہائی کے لقب سے معروف ہیں یوں فرماتے ہیں :” صحیح اور درست نظریہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہر قسم کی کمی اوربیشی سے محفوظ ہے یعنی قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے اورجو چیز لوگوں کے مابین مشہورہے وہ علمائے امامیہ کی نظر میں صحیح نہیں ہے یعنی لوگوں کے درمیان مشہور ہے کہ کچھ آیات میں حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کانام آیا تھا اس کو حذف کردیا گیا ہے ، مثال کے طور پر آیت ” یاایھا الرسول بلغ…” کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آیت یوں تھی ” یاایھا الرسول بلغ ماانزل الیک فی علی … میں سے حضرت علی علیہ السلام کانام تھا اسے حذف کیا گیا ہے ۔ ایسا عقیدہ علمائے امامیہ کے نزدیک غلط ہے کیونکہ قرآن تحریف سے محفوظ ہے ۔”(8) ٩۔ شیخ محمد ابن حسن حرعاملی جو ہماری کتب احادیث میں سے اہم کتاب وسائل الشیعہ کے مصنف ہیں ایک کتابچہ میں قرآن کریم میں تحریف نہ ہونے کو ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” جو لوگ تاریخ اورائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کی تحقیق کریں توانہیں یقین اور علم حاصل ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم ہم تک انتہائی تواتر کے ساتھ اور ہزاروں اصحاب سے نقل ہوتے ہوئے پہنچا ہے ۔ اوراسی سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم کی پیغمبرؐ کے دور میں ہی ایک کتاب کی شکل میں تدوین کی گئی تھی ۔” (9) ١٠۔جناب شیخ جعفر کاشف الغطا جو امامیہ مذہب کے ایسے مجتہدین میں سے جن کی مثال بہت کم ملتی ہے ، اپنی گرانبہا کتاب ” کشف الغطاء ” میں فرماتے ہیں : ” قرآن کریم میں کسی چیز کے اضافہ نہ ہونے پر سارے مسلمانوں کااجماع ہے اوریہ نظریہ ایسا ہے جو ہرمذہب اور دین کی ضرورت کاتقاضا ہونے کے ساتھ خود قرآن کی صراحت اور علماء کااجماع بھی ہے ۔ یعنی قرآن ہر زمانے میں کمی وبیشی سے محفوظ اور مصون ہے لیکن ایک چھوٹے گروہ نے اس نظرئےے کے مخالف ہے جن کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔(10)ہم نے نمونہ کے طور پر جو کہ شیعہ علمائے کرام چاہے اصولی علماء ہوں یااخباری کے نظریات ذکر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تمام سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن میں تحریف ہونے کا نظریہ غلط اوربے بنیاد ہے جس کا باطل ہونا بھی واضح ہے ۔ اوربہت ہی کم تعداد پر مشتمل ایک گروہ نے کچھ روایات کو جوضعیف السند ہونے کے علاوہ خبر واحدبھی ہیںکواپنی کتابوں میں ذکر کرکے تحریف قرآن کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اوریہ نظریہ علمائے امامیہ کی نظر میں قابل اعتماد نہیں ہے ، لہذا قرآن میں تحریف کا نظریہ علمائے امامیہ کی طرف کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے ؟ کیا ایسی نسبت واضح بہتان اورجھوٹ نہیں ہے ؟ کہ جس کی حرمت سارے مسلمانوں کے یہاں مسلم ہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس فرقے کے تمام مسائل اعتقادی اور تمام افکار وتصورات کا سرچشمہ قرآن کریم ہو لوگ ان کو قرآن کریم میں تحریف کے قائل قرار دیں ؟
١۔آلاء الرحمن بلاغی ص ٢٦2۔مجمع البیان ،ج١،ص١٥3۔مقدمہ تفسیر تبیان4۔ مجمع البیان ١/١٥۔5۔سعد السعود ،ص١٤٤6 سعدا لسعود ص ١٩٣7۔تفسیر صافی ، ج١ص٥١8۔الاء الرحمن ، ص٢٦9۔اظہار الحق ،ج٢ص١٢٩10۔کشف الغطاء ، ص٢٩٩۔