باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السلام

1,535

اہل بیت علیہم السلام کی ذوات مقدسہ طہارت و عصمت،منا بع نور اور معرفت کی کانیں ہیں۔اس خاندان بزرگوارو عظیم سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ وہ سن صغیر کا مالک ہویا سن کبیر کا اپنی جگہ خورشیدعصمت،طہارت،تقویٰ،ورع،شجاعت،شہامتو شوکہےجو قیامت تک خلوق خدا کے لیے سرچشمہ ہدایت ہیں۔یہ عنوان بھی ایک ایسی معصوم ہستی کے بارے میں ہے جو سن کے اعتبار سے سفینہ کربلا میں سب سے چھوٹی تھی لیکن معرفت و ولایت کے اعتبار سے اکمل تھی اور کرب و بلا اایک ایسا سفینہ ہے جس میں ہر عمر سے تعلق رکھنے افراد کے لیے نمونہ عمل موجود ہےاور اس سفینہ کے مالک و سردار کا نام امام حسین علیہ السلام ہے جن کے بارے میں رسول ‘ماینطق عن الھویٰ‘‘ کے مصداق فرماتے ہیں:’ان الحسین مصباح الھدیٰ و سفینۃ النجاۃ‘‘(۱)کربلا ظلم و ستم کے خلاف استقامت کا نام ہے۔کربلا ظلمت کی تاریکیوں میں نور کا نام ہے۔کرب و بلا سرمایہ حیات ہے۔ کرب و بلا بشریت کے لیے نجات کی ضامن ہے۔اس معصوم ہستی کے بارے میں لکھتےہوئےعاجزی دامن گیر ہے کہ کس طرح ن ہستیوں کے بارے میں لکھوں جن کی شان میں پورا قرآن ہو،جن چان کے لیے خدا وند متعال نے اپنے حبیب کو وسیلہ قرار دیا اور رسول معظم ﷺنے اپنی ظاہری حیات میں ان معصوم ہستیوں کاتعارف کروایااور اجر رسالت کے طور پہ ان سے محبت ومودت طلب کی۔’وما اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی القربیٰ‘‘(۲)بہرکیف چند الفاظ کاسہ گدائی میں رکھ کر اس معصوم باب الحوائج کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں
سر نہم بر درب خسرو،گردہند اذنِ دخول باادب باید شوم وارد حریمِ اولیاءاے خزینۂ خدائی!اے گنجینۂ الہٰی!یا بقیۃ اللہ فی خلق اللہ عزوجلاے شہنشاہِ دوران!اےامام زمان!سلام اللہ علیک وعلیٰ آبائک الطیبین الطاھرین المعصومین
آپ ہر آن مائل بہ کرم ہیں،مجھ ایسے عاصیوں کا بھی آپ ہی بھرم ہیں۔آپ کی چوکھٹ پر ایک سوالی ہے۔جو ہے،جیسا ہے آپ کا ہی نام لیوا اور موالی ہے۔اے سرزمین کرب و بلا میں ناحق بہائے جانے والے مقدس خون کے وارث!اے روئے زمین پر رؤوف و کریم خاندان کے وحید فرد!اب آپ ہیں اور یہ عاصی، نگاہ کرم کا امید وار،
والدین کا تعارفوالد کا اسم گرامی امام حسینعلیہ السلام بن علیعلیہ السلام بن ابوطالبعلیہ السلامبن عبد المطلب علیہ السلام ۔ امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں جن کے بارے میں حبیب خدا فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں:الحسین منی و انا من الحسین(۳)والدہ کا اسم گرامی جناب رباب بنت امر ءالقیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھا۔آپ کی والدہ گرامی ہند الھنود دختر ربیع بن مسعود بن مضاد بن حصن بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھیں(۴)امر ء القیس جناب رباب ؑ کے والد گرامی دوستداران اہل بیت میں سے تھےاور جانتے تھے کہ بقا ء انسان اس میں مضمر ہے کہ وقت کےامام کی معرفت اور پہچان حاصل کی جائےاور بخاطر امام ہر قسم کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔انکی تین بیٹیاں جناب محیاۃ،جناب سلمیٰ،جناب رباب تھیں انہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو وقت کے امام حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیاامام علی علیہ السلام نے اسکی ایک بیٹی جناب محیاۃ سے خود شادی کی،دوسری بیٹی جناب سلمیٰ کو امام حسن علیہ السلام کے عقد میں دے دیا اور تیسری بیٹی جناب رباب کو امام حسین علیہ السلام کے عقد میں دیا۔(۵)تینوں خواتین سرچشمہ عفت وعصمت،تقویٰ،عبادت ،علم و حلم میں دنیا وآخرت کی باکمال خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ہشام کلبی لکھتے ہیں ؛ ‘و کانت الرباب من خیار النساء و افضلھن‘‘جناب رباب سلام اللہ علیہابہترین اور افضل ترین عورتوں میں سے تھیں۔اور جناب رباب کے والد گرامی عرب کے عظیم خاندان کے اشراف میں سے تھے کہ جن کی امام کے نزدیک بھی قدر ومنزلت تھی۔( ۶)
 
ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جناب رباب (بعد از شہادت امام) کو دیگر قیدیوں کے ہمراہ شام لے جایا گیا جب واپس مدینہ پہنچیں تو اشراف قریش میں سے کئی افراد نے ان سے شادی کی خواستگاری کی لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرمایا:‘‘ ما کنت لاتخذ حمو بعد رسول اللہ’ رسولﷺ کے بعد میں کسی کو اپنا سسر نہیں بنا سکتی ۔امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک سال تک زندہ رہیں (ہر وقت نالہ وگریہ کرتی رہتیں تھیں) اور مکان کی چھت کے نیچے نہ جاتی تھیں (دھوپ میں رہتی تھیں) اسی وجہ سے بہت کمزور ہو گئیں اور رنج و غم کی حالت میں اس دنیا سے رحلت فرمائی۔امام حسین علیہ السلامکی جناب ربا ب ؑ سے دو اولادیں تھیں جناب سکیناسلام اللہ علیہا اور جناب علی اصغرؑ۔ امام علیہ السلام جناب رباب سلام اللہ علیہاسے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ امام علیہ السلامکایہ شعر اس پر دلالت کرتا ہےلعمرک اننی لاحب داراًتکون بھا سکینۃوالرباب (۷)‘‘مجھے تیری عمر کی قسم !میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب ہوں’جب جناب رباب سلام اللہ علیہااپنے رشتے داروں سے ملنے جاتیں تو حضرت سکینہسلام اللہ علیہاکو اپنے ہمراہ لے جاتیں تو حضرت امام حسین علیہ السلام ان دونوںکی مفارقت سے اداس ہو جاتے اور یہ شعر پڑھا کرتے تھےکان اللیل موصول بلیلاذا زارث سکینۃ و الرباب (۸)جب سکینہ اور رباب کسی (عزیز) سے ملنے جاتی ہیں تو راتیں متصل یعنی طویل ہو جاتی ہیں
سن مبارکاس آیت قرآنی کے نزول کے بارے میں روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض مؤرخین اور مقتل نگار جن میں فضیل بن زبیر (جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے) اور یعقوبی(۲۸۳ق م) کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے یہ فرزند بروز عاشورہ اس دنیا میں تشریف لائے۔(۹)محمد بن سعد (۲۳۰) لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے اس فرزند کا سن مبارک تین سال تھا جس کو عقبہ بن بشر اسدی نے تیر مار کر شہید کیا تھا۔(۱۰)بلعمی چوتھی صدی کا مؤرخ طفل صغیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس طفل کا سن مبارک میدان کربلا میں ایک سال تھا۔(۱۱)مشہور شاعر کسانی مروزی اور چوتھی صدی کے دوسروں شاعر اس طفل صغیر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ طفل کربلا میں ۵ ماہ کا تھاآن پنج ماهه كودك بارى چه كرد ويحككز پاى تا به تاركمجروح شد مفاجا(۱۲)مندرجہ بالا اقوال میں کوئی بھی وجہ جمعی نظر نہیں آتی لیکن مشہور قول ان اقوال کے علاوہ ہے ماہتاب امامت کی اس کران کی عمر کرب و بلا میں ۶ ماہ کی تھیاس قول کا مدرک و ماخذ فقط ایک کتا ہے لیکن گزشتہ دو صدیوں سے اس قول کی اتنی تبلیغ ہوئی کہ آج ہر محفل، مجلس اور کسی بھی پروگرام میں جہاں جناب علی اصغر علیہ السلام کا نام آتا ہےاسی قول کی شہرت ہے اور یہی مشہور ہو گیا کہ یہ شہزادہ ۱۰رجب المرجب ۶۰ہجری کے حسین دن مدینہ منورہ جیسے عظیم شہر میں یہ پھول گلشن امام حسین علیہ السلام میں کھلا جس کی خوشبو سےپورا مدینہ مہک اٹھا۔ یہ امر اس قدر رواج پا گیا کہ آج تقویم شیعہ میں بھی یہی تاریخ ثبت ہو گئی اور آج پورے عالم تشیع میں اسی تاریخ کو شہزادے کی آمدپر جشن کے اہتمام کیےجاتے ہیں (۱۳)
 
اسم مبارکمعصوم کے اسم مبارک کے بارے میں دو مختلف روایتیں ملتی ہیں۔۱۔ایک روایت کے مطابق آپکا اسم گرامی ‘‘علی’ تھا۔(۱۴)۲۔دوسری روایت کے مطابق آپ کا اسم گرامی ‘‘عبد اللہ’تھا۔(۱۵)ارباب مقاتل کے درمیان زیادہ مشہور جناب عبد اللہ ہے(۱۶)۔اس کی دو وجہیں بیان کی جاتی ہیں اولاً روایات میں یہ ملتا ہے کہ ہر مولوداگر لڑکا ہو تو اس کا نام پہلے سات دن تک محمد یا علی رکھا جائےاور مولود اگر لڑکی ہو تو اس کا نام پہلے سات دن فاطمہ رکھا جائے۔(۱۷)ثانیاًروز عاشورہ دو شہید ایسے تھے جن کا سن مبارک صغیر تھاجن میں سے ایک کا نام جناب علی اصغر علیہ السلام اور دوسرے معصوم کا نام عبد اللہ تھا ۔ بعض ارباب مقاتل نے دونوں شہزادوں کا ذکر کیا ہے(۱۸)دوسرا قول زیادہ معتبر ہے کہ شہزادہ کا اسم گرامی ‘‘عبد اللہ ‘ تھا لیکن پہلے قول کی تائید بھی کتب مقاتل میں ملتی ہے جیسے یزید ملعون نے امام زین العابدین علیہ السلام سے ان کے اسم کے بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میرا نام ‘‘علی’ ہے۔ جس پر وہ ملعون کہنے لگا وہ تو کربلا میں شہید کر دئیے گئے ہیں ۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا وہ میرے بھائی ‘‘علی بن الحسین ‘ تھے ۔ یہ ملعون کہتا ہے کہ کیا وجہ ہے آپ کے والد نے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے؟امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کیونکہ وہ اپنے والد محترم امام علی علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے جس کی وجہ سے اپنے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے۔(۱۹)اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہزادہ کا اسم گرامی علی تھا اگرچہ ارباب مقاتل کے درمیان شہرت جناب عبد اللہ کی ہے جیسا کہ امام زمانہ عجل اللہ الشریف نےزیارت قائمیہ میں اس شہزادہ کو عبد اللہ کے نام سے تعبیر کیا ہےاورتصریح فرمائی ہے کہ بعد از شہادت اس شہزادے کا خون آسمان کیطرف پھینکا گیااور شہزادے کے قاتل کا نام حرملہ ملعون تھا۔(۲۰)
سفینہ نجاتقارئین محترم حبیب خدا کی اپنے نواسے اما م حسین علیہ السلام سے محبت محض خونی رشتے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ امام حسیں علیہ السلام کے فضائل و کمالات تھے جو خدا وند متعال نے فرزند علی علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اس سفینے کا مالک و سردار یہی ذات حسین علیہ السلامتھی جنکا مختصر سا تعارف بزبان رسولﷺ کروایا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قافلہ مدینہ کیوں چھوڑ رہا ہے؟ اس سوال کو جب تاریخ میں تلاش کیا جاتا ہے تو اس طرح کی صور تحال سامنے آتی ہے کہ معاویہ لعنت اللہ علیہ کی مرگ کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بعد فاسق و فاجر بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد بنایا باپ کے بعد بیٹا تخت نشین ہو گیا اس نے عہدہ سنبھالتے ہی جہا ں مختلف بلاد کے گور نروں کو مرگ معاویہ کی خبر دی وہیں گورنر مدینہ ولید بن عتبہ بن ابو سفیان کو یہ بھی لکھا کہاما بعد فخذ حسیناً و عبد اللہ بن عمر و عبد اللہ بن زبیربا لبیعۃ اخذاً شدیداً لیست فیہ رخصۃ حتیٰ یبایعوا و السلامحسین ، عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن زبیر کو میری بیعت پر مجبور کرو جب تک بیعت نہ کر لیں انہیں ڈھیل نہ دو۔(۲۱)بعض اخبا و روایات میں یوں بھی ملتا ہےانفذ کتابی الیھم فمن لم یبایعک فا نفذ الی براسہ مع جواب کتابی ھذا والسلام (۲۲)ان کے سامنے میرا یہ خط پیش کرو ان میں سے جو بھی میری بیعت سے انکار کرے اس کا سر اس خط کے ساتھ روانہ کرو۔ولید اگرچہ نسل ابو سفیان سے تھا لیکن بے جا خون بہانے کا قائل نہیں تھا اسکے علاوہ وہ امام علیہ السلام کی شخصیت ست مرعوب بھی تھا لیکن مروان قاصد یزید عاند آل رسول تھا وہ کسی بھی رعایت کا قائل نہیں تھا۔ امام کو علم تھا کہ کہ یزید نے نامہ دے کر بھیجا ہے اگر اس کے حکم میں تاخیر ہوئی تو وہ ولید کو معزول کر کے مروان کو مدینہ کا گورنر بنا دیاجائے گا انکار بیعت کی صورت میں سر زمین مدینہ خون امام سے رنگین کر دی جائے گی لہذا ۲۸ رجب المرجب ۶۰ ہجری کو امام حسین علیہ السلام نے بقاء اسلام اور اسلام کی حیات کے لئے سفر کا آغاز کیااس سفر عظیم میں جہاں خاندان عصمت و طہارت کےدیگر افراد شامل تھےاس کاروان حریت اسلام میں جناب علی اصغر علیہ السلام بھی شامل تھے جبکہ آپ اس وقت صرف اٹھارہ دن کے تھے۔ یہ سفینہ اپنی منا زل طے کرتے ہوئےکربلاجیسے صحرا کی تقدیر بدلنے کے لئے ۲محرم ۶۱ہجری کوآ پہنچا۔ بقا ء اسلام، حیات اسلام اور تاریخ اسلام میں اس معصوم شہزادے کا خصوصی حصہ ہےجہاں پر بھی اسلام کی بات ہوگی اس معصوم کا ذکر ضرور ہو گا۔
 
شہادت جناب علی ا صغرعلیہ السلامجناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں روایات مختلف ہیں ہم ان میں سے چند کا ذکرکرتے ہیں۔جب امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحاب ،عزیزو اقارب درجہ شہادت پر فائز ہو گئے میدان کر ب و بلا میں امام حسین علیہ السلام کی ذات تنہا رہ گئی کوئی بھی یاور ، ناصر و مددگار باقی نہ رہا اس وقت زمانے کے شہنشاہ نے استغاثہ بلند کیا اور یہ بات بیا ن کرتا چلوں کہ امام کا استغاثہ بلند کرنے کا مقصدکسی دنیا دارسے مدد طلب کرنا نہیں تھا بلکہ کریم ور ووف امام حالت غربت میں بھی کرامت کا در کھلا تھا اور لوگوں کو کو صدا دے رہے تھے کہ کوئی ہے۔ جو اپنے مقدر کو مثل حر بدلنا چاہتا ہے ۔ جو اس سفینہ نجات پر سوار ہونا چاہتا ہے۔ جو اپنا خون راہ خدا میں دے کر حیات جاوداں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ھل من ناصر ینصرنا؟ ھل من ذاب یذب عن حرم رسول اللہ؟ ھل من موحد یخاف اللہ فینا؟ ھل من مغیث یرجوا اللہ باغاثتنا؟ ھل من معین یرجوا ما عند اللہ فی اعانتنا؟نواسہ رسولﷺ، میدان کربلا کے تپتے صحرا ، اصحاب و عزیز و اقارب کی لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں ۔۔ ہے کوئی جو حرم رسول کا دفاع کرے؟ ہے کوئی خدا پرست کہ ہمارے بارے میں خدا سے ڈرے؟ہے کوئی دادرس کہ خدا سے صلہ کی امید میں ہماری مدد کرے؟ ہے کوئی مددگا ر جو اس امید پر ہمارا ساتھ دے کہ ہم خدا کے حضور اس کی مدد (شفاعت) کریں؟مخدرات عصمت نے حضرت کی صدائے استغاثہ سنی تو صدائے گریہ بلند کی ۔ امام علیہ السلام خیام کی طرف تشریف لائےاور اپنی بہن جبان عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیہاسےفر مایا:’ناولنی ولدی الصغیر حتی اودعہ‘‘میرا کمسن بچہ لائیے تاکہ میں اس سے وداع کر سکوں ۔آپ نے بچے کو اٹھایا جب چاہا کہ بچے کا بوسہ لوں تو حرملہ بن کاہل اسدی نے بچے کو تیر کا نشانہ بنایا ۔ وہ تیر شہزادے کے گلوئے اقدس میں پیوست ہو گیا اور شہزادے کو ذبح کر گیا ۔ امام مظلام نے حجرت زینب سلام اللہ علیہا فرمایا :بچے کو لے لیجیے پھر اپنے ہاتھوں کو بچے کی گردن سے ٹپکتے ہوئے خون سے بھرا اور آسمان کی طرف اچھال دیا اور کہا ‘ھون علی مانزل بی انہ بعین اللہ‘‘جو بات مجھ پر آنے والی مصیبتوں کو آسان کر دیتی ہےوہ یہ ہے کہ خدا وند متعال دیکھ رہا ہے۔امام باقر علیہ السلامفرماتے ہیں کہ اس خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر واپس نہیں آیا(۲۳)سبط ابن جوزی ‘‘تذکرۃ الخواص’ میں نقل کرتے ہیں کہ جب امام علیہ السلامنے دیکھا کہ فوج اشقیا آپ کو قتل کرنے پہ مصر ہے تو آپ نے قرآن مجید کو ہاتھوں میں لیا اور کھول کر سر پہ رکھا اسی حالت میں لشکر یزید سےفرمایا:بینی و بینکم کتاب اللہ و جدی رسول اللہ ﷺ۔ یا قوم ! بم تستحلون دمی؟نواسہ رسول ﷺ فرماتے ہیں میرے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب اور میرے جد رسول خدا ﷺ حکم ہیں۔ اے لوگو!تم میرے خون کو کس طرح حلال سمجھتے ہو؟ کیا میں تمہارے پیغمبر ﷺ کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا تم لوگوں تک میرے نان کا فرمان نہین پہنچا کہ آپ نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فر مایا تھا :’ھذان سیدان شباب اھل الجنۃ‘‘بھرے مدینہ سے رسول خداﷺ جن ہستیوں کو مباہلہ کے لیے لے کر گئے تھے ان میں مولا امام حسین ؑ بھی تھے لیکن روز عاشورہ میدان کربلا میں امام ؑ فرمارہےہیں اگر تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں آتا تو جابر ، زید بن ارقم اور ابو سعید خدری سے پوچھ لو۔ جب آپ لشکر اشقیا ء سے احتجاج کر رہے تھے تو آپ کی نظر طفل صغیر پہ پڑی جو پیاس کی شدت اور گرمی کی حدت سے رو رہا تھا ۔ امام علیہ السلامنے بچے کو ہاتھوں پہ لیا اور فرمایا:’یاقوم! ان لم تر حمونی فارحموا ھذا الطفل‘‘پس فوج اشقیا ءمیں سے ایک شخص نے اس بچے کی طرف تیر چلایا اور اسے ذبح کر دیا امام مظلوم نے گریہ کیا اور کہا:اللھم احکم بیننا و بین قوم دعونا لینصرونا فقتلوناخدایا! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما کہ جہنوں نے ہمیں اس لئے بلایا کہ ہم آ پ کا ساتھ دین گے اور اب اس کے بدلے ہمیں قتل کر رہے ہیں ۔ امام ؑ کا کلام ختم ہوا کہ ندائے غیب آئی ۔فنوی من الھواء دعہ یاحسین فان لہ مرضعاً فی الجنۃاے حسین! اس بچے کو ہماری طرف بھیج دو کہ اس کے لئے بہشت میں اس کے لئے دایہ موجود ہے(۲۴)بعض نے اس طرح نقل کیا ہے کہ امام مظلوم بچے کو لے کر لشکر کے سامنے آئے اور اپنے ہاتھوں پہ بلند کر کے فرمایا:’اما ترونہ کیف یتلظیٰ عطشاً فاسقوہ شربۃ من الماء‘‘کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ بچہ پیاس کی شدت سے کس طرح تڑپ رہا ہے اسے پانی دے دولشکر اشقیاء کے بعض افراد ایک دوسرے کو سر زنش کرنے لگے اورکہنے لگے کہ کیا ہو جائے گا اگر ہم اس بچے کو پانی دے دیں؟ بچے تو بچے ہوتے ہین بچوں کا کیا قصور ہے پس لشکر کے درمیان ایک ہلچل سی مچ گئی۔ عمر سعد ملعون نے جب یہ دیکھا کہ قریب ہے کہ لشکر بغاوت کر دے تو اس نے حرملہ ملعون کو کہا : اقطع کلام الحسین یہ ملعون گھوڑے کے ساتھ ایک بلند مقام پہ آیا اور گھوڑے سے اتر کر اس نےبچے کی طرف تیر چلایا جس سے بطے نے مرغ بسمل کی طرح تڑپتے ہوئے جان دےدی۔ (۲۵)‘‘فذبح الطفل من الاذن الی الاذن’امام مظلوم نے خون علی اصغر علیہ السلامہاتھوں میں اکٹھا کر کے فضا میں اچھال دیا اور فرمایا :‘‘ثم رجع بالطفل مذبوحاً و دمہ یجری علی صدر الحسین’اے خدا ! اس قوم پہ گواہ رہنا گویا انہوں نے نذر مان رکھی ہے کہ خاندان وحی کے ایک فرد کو بھی باقی نہ چھوڑا جائےاس کے بعد آپ اس مقتول بچے کو لئے واپس چلے آئے اس حالت میں کہ بچے کے گلوئے اقدس کا خون آپ کے سینہ مبارک پر بہہ رہا تھا(۲۶)
 
سپہر مرحوم اس طرح لکھتے ہیں کہ جناب علی صغر علیہ السلامچھے ماہ کے تھے اور بھوک وپیاس کی وجہ سے مادر گرامی کے دودھ کا چشمہ بند ہو چکاتھا اور معصوم شہزادہ مسلسل گریہ کر رہے تھے ۔ امام علیہ السلامنے جب بچے کی حالت دیکھی تو کہا میرے بچے کو میرے پاس لاو تاکہ میں اس سے وداع کر لوں۔ آپ نے بچے کو ہاتھوں میں لے کر چوما۔ اس اثنا میں ھرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے تیر مار کر بچے کو ذبح کر دیا۔صاحب عوالم کی روایت کے مطابق امام مظلوم نے جناب علی اصغر علیہ السلامکے بدن کو ان نکے خون میں غلطاں کیا اور اپنے گھوڑے سے اترے اس بچے پہ نماز پڑھی اور اپنی تلوار سے زمیں میں گڑھا کھود کر بچے کو دفن کر دیا(۲۷)ایک روایت میں یوں بھی ملتا ہے کہ آپ معصوم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر لشکر اعداء کے سامنے آئے تو فرمایا:اے لوگو! تم نے میرے شیعوں اور میرے اہل بیت کو قتل کر دیا اور میرےساتھ کئے ہوئے وعدا بیعت کو توڑ دیا ۔ مجھ سے ہاتھ اٹھا لو تاکہ میں اپنے جد کے حرم مطہر کی طرف چلا جاؤں یا کم از کم مجھے پانی دے دو اب میرے سوا ان عورتوں اور بچوں کا کوئی نہیں رہا جو نیزہ و تلوا ر چلا سکے۔ویلکم اسقوا ھذا الر ضیع اما ترونہ کیف یتلظی عطشا من غیرذنب اتاہ الیکموائے ہو تم پر اس بچے کو پانی دے دو کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہے باوجود اس کے کہ اس نے تمہارا کوئی گناہ نہیں کیاامام کا کلام ابھی ختم ہی ہواتھا کہ ناگاہ حرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے امام مظلوم کی طرف تیرچلایا ۔ یہ تیر بچے کے گلوئے اقدس گیا۔(۲۸) خوازمی اس طرح لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلامگھوڑے سےاترے اور بچے کو دفن کرنے کے لئے زمین کو کھودا ۔ بچے کے بدن کو خون سے غلطاں کیا اس پر نماز پڑھی اور دفن کر دیا۔(۲۹)شوشتری مرحوم اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ بعض روایات کے مطابق امام حسین علیہ السلامنے شیر خوار بچے کے لئے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا شاید اس راز کی چند وجوہاتہوں۔۱۔ ممکن ہے کہ تنہائی کی وجہ سے بچے کو سپرس خاک کر دیا ہو۔۲۔ دوسرے شہیدوں کی طرح بچے کا سر بدن سے جدانہ ہو۔۳۔اس لئے دفن کر دیاکہ(دوسرے شہداء کی طرح) تین روز تک زمین پر برہنہ و عریاں نہ پڑارہے۔۴۔تاکہ گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال نہ ہو۔۵۔ امام علیہ السلاماور اہل حرم سکت نہیں رکھتے تھے کہ اس بچے کے بدن دوسری بار اس حالت میں دیکھیں۔(۳۰)لیکن افسوس مسلمانون نے امام مظلوم کی اس خواہش کو بھی پورا نہیں ہونے دیا ۔ ابو خلیق سے جب مختار نے پوچھا ! ملعون میدان کربلا میں تیرا دل میرے آقا امام حسین ؑ پر نہیں دکھا؟ اس نے کہا ۔ ہاں ایک موقع ایسا آیا کہ میں نے خدا سے اپنی موت مانگی تاکہ حجرت کی یہ حالت نہ دیکھ سکوں ۔ جناب مختار نے پوچھا کہ وہ کونسی حالت تھی؟ اس ملعون نے جناب علی اصغر علیہ السلامکی شہادت کا واقعہ بیان کیا اور امام مظلوم کے بچے کو دفن کرنے کا تذکرہ بھی کیا ۔ پھر کہتا ہے کہ ان ظالموں نے نے اس بچے کے بدن کو پھر بھی سلامت نہ چھورا۔ گیارہ محرم کو جب تمام شہداء کے سر فخر و مباہات کے اظہار کے لئے نیزون پر بلند کئے گئے اور انعام کے حصول کے لئے ابن زیاد کے پاس لائے گئےتو ابو ایوب غنوی جوبیلداروں کا سرکردہ تھا اس کوشہداء میں سے ایک کا سر نہ ملا تو اس نے بیلداروں کو حکم دیا کہ زمین کربلا کو کھودو اور اس بچے کی لاش تلاش کرو جب لاش جناب علی اصغر علیہ السلامبرآمد ہوئی تو ان ظالموں نے سر کو کاٹا اور نیزے پہ سوار کر کے کوفہ لےآئے۔ (۳۱)
حوالہ جات۱۔ جوادمحدثی،فرہنگعاشورہبہنقلازسفینۃالبحار،ج۱،ص۲۵۷۔۲۔سورہشوریٰ،آیتمجیدہ۲۳۔۳۔بحارالانوار،ج۴۳۔۴۔ مقاتلالطالبین،ص۸۹۔۵۔ تاریخمدینہودمشق،ج۶۹،ص۱۱۹۶۔قمقامزخار،ج۲،ص۶۵۴۔۷۔ مقاتلالطالبین،ص۹۴۔۸۔ منتخبالتواریخ،ص۲۴۳۱۔۹۔کوفیاسدی،منقتلمعالحسین،ص۱۵۰۔۱۰۔ محمدبنسعد،ترجمہالحسینومقتلہ،ص۱۸۲۔۔۱۱۔ابوعلیمحمدبلعمی،تاریخنامہطبری،ج۴،ص۷۱۰۔۱۲۔ذبیحاللہصاحبکاری،سیریدرمرثیہعاشورایی،ص۱۶۹۔۱۳۔ مقتلابومخنف،ص۱۲۹۔۱۴۔بحارالانوار،ج۴۵،ص۳۳۱۱۵۔ شیخمفید،ارشاد،ج۳،ص135. ۱۶۔اعلامالوریٰ،ص۲۵۱۔۱۷۔ وسائلالشیعہِج۱۵،ص۱۲۵۔۱۸۔مناقبابنشہرآشوب،۱۹۔الملہوف،ص۲۰۲۔۲۰۔بحارالانوار،ج۴۵،ص۴۴۔۲۱۔ تاریخطبری،ج۲،ص۱۸۸۔۲۲۔ ملہوف،ص۱۸ ۔ص۱۱۶۔۲۳۔ سیدابنطاؤوس،لہوف،۲۴۔ سبطابنجوزی،تذکرۃالخواص،ص۱۴۳۔ نفسالمہموم،ص۳۵۰۔۲۵۔ مقتلابیمخنف،ص۱۳۰۔۲۶۔ ریاضالقدس،ج۲،ص۱۱۰۔۲۷۔ ناسخالتواریخ،ج۲،ص363. ۲۸مہیجالاحزان،ص۲۴۳ِ۲۹۔ مقتلالحسینخوارزمی،ج۲،ص۳۲۔30۔الخصائصالحسینیہ،ص۲۹بابالجنائز۔۔۳۱۔ریاضالقدس،ج۲،ص۱۰۴،۱۰۵**************
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.