مہدى عج اور نيا آئين
سيرت مہدى(عج)
ليكن بہت سے احاديث سے يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ حضرت مہدى(عج) كى وہى سيرت ہے جو رسول خدا(ص)كى تھى آپ اس قرآن و دين سے دفاع كريں گے جو كہ آپ كے جد پر نازل ہوا تھا _ چند حديثيں ملاحظہ فرمائيں :
رسول (ص) كا ارشاد ہے :’ميرے اہل بيت ميں ايك شخص قيام كرے گا اور ميرى سنت و سيرت پر عمل كرے گا ‘ (بحارالانوار ج 51 ص 82)
نيز فرمايا: قائم ميرا ہى بيٹا ہے _ وہ ميرا ہمنام و ہم كنيت ہے _ اس كى عادت ميرى عادت ہے وہ لوگوں كو ميرى طاعت اور دين كى طرف دعوت دے گا اور قرآن كى طرف بلائے گا _ (اثبات الہداة ج 7 ص 52)
آپ كا ارشاد ہے :
‘ميرے بيٹوں ميں بارہواں ايسے غائب ہوگا كہ ديكھنے ميں نہيں آئے گا _ ايك زمانہ آئے گا كہ جس ميں اسلام كا صرف نام اور قرآن كا رسم الخط باقى رہے گا _ اس وقت خدا انھيں كى اجازت مرحمت كرے گا اور ان كے ذريعہ اسلام تجديد و تقويت پائے گا ‘ _( منتخب الاثر ص 98)
نيز فرمايا:
‘ مہدى موعود (عج) وہ مرد ہے جو ميرى عترت سے ہوگا اور ميرى سنت كيلئے جنگ كرے گا جيسا كہ ميں نے قرآن كيلئے جنگ كى ہے’ _( ينابيع المودة ج 2 ص 179)
ملاحظہ فرمايا آپ نے كہ مذكورہ احاديث كى صريح دلالت اس بات پر ہے كہ امام زمانہ كا پروگرام اور سيرت ترويج اسلام اور تجديد عظمت قرآن ہے اور پيغمبر اكرم كى سنّت كے اجراء كيلئے جنگ كريں گے_
اس بناپر اگر احاديث كے پہلے حصہ ميں كوئي اجمال ہے بھى تو وہ اسے ان احاديث كے ذريعہ برطرف كرنا چاہئے _ زمانہ غيبت ميں ، دين ميں بدعتيں داخل كردى جاتى ہيں اور اسلام و قرآن كے احكام كو اپنى خواہش كے مطابق ڈھال ليا جا تا ہے _ بہت سے حدود و احكام كو ايسے فراموش كرديا جاتا ہے جيسے ان كا اسلام سے كوئي تعلق ہى نہ تھا _ ظہور كے بعد حضرت مہدى(عج) بدعتوں كا قلع قمع كريں گے اور احكام خدا كو ايسے ہى نافذ كريں گے جيسا كہ وہ صادر ہوتے تھے _ اسلامى حدود كو سہل انگارى كے بغير جارى كريں گے ظاہر ہے ايسا پروگرام لوگوں كيلئے بالكل نيا ہوگا _
حضرت امام صادق فرماتے ہيں :
‘ظہور كرنے كے بعد قائم سيرت رسول خدا(ص)كے مطابق عمل كريں گے ليكن آثار محمد (ص) كى تفسير كريں گے ‘ _ (بحارالانوار ج 52 ص 347 2)
فضيل بن بسيار كہتے ہيں : ميں نے حضرت امام محمد (ع) باقر كو فرماتے سنا:
‘جب ہمارا قائم قيام كرے گا تو لوگ آپ (ع) كى راہ ميں مشكليں اور ركاوٹيںايجاد كريں گے كہ زمانہ جاہليت ميں اتنى ہى پيغمبر اكرم (ص) كى راہ ميں ايجاد كى گئي تھيں’ ميں نے عرض كى كيسے ؟ فرمايا: ‘ جب پيغمبر (ص) مبعوث بہ رسالت ہوئے تو اس وقت لوگ پتھر اور لكڑى كے بتوں كو پرستش كرتے تھے ليكن جب ہمارا قائم قيام كريگا تو اس وقت لوگ احكام خدا كى ، اس كے مخالف تفسير وتاويل كريں كے اور قرآن كے ذريعہ آپ (ع) پر احتجاج كريں گے _ اس كے بعد فرمايا : خدا كى قسم قائم كى عداوت انكے گھروں كے اندر ايسے ہى داخل ہوگى جيسے سردى و گرمى داخل ہوتى ہے ‘ (اثبات الہداة ج 7 ص 86)
جن لوگوں نے اسلام كے اركان و مسلم اصولوں سے چشم پوشى اور قرآن كے ظواہر پر اكتفا كرلى ہے ، نماز ، روزہ اور نجاسات سے اجتناب كے علاوہ كچھ بھى نہيں جانتے ان ميں سے بعض نے دين كو مسجد ميں محصور كرديا ہے حقيقت يہ ہے كہ اسلام ان كے اعمال و حركات ميں داخل نہيں ہے _ ان كے بازار ،گلى كوچے ، راستوں اور گھروں ميں اسلام كا نام و نشان نہيں ہے اخلاقيات اور اجتماعى دستورات كو اسلام سے جدا سمجھتے ہيں _ برى صفات كى ان كى نظروں ميں كوئي اہميت نہيں ہے اور واجبات و محرمات سے يہ كہكر الگ ہوجاتے ہيں يہ تو اختلافى ہيں ، خدا كى حرام كردہ چيزوں كو تاويلات كے ذريعہ جائز قرار ديتے ہيں _ واجب حقوق كو پورا كرنے سے پرہيز كرتے ہيں _ حسب منشا احكام دين كى تاويل كرتے ہيں _ صورى طور پر قرآن كا احترام كرتے ہيں اگر امام زمانہ ظاہر ہوجائيں اور ان سے فرمائيں حقيقت دين كو تم نے گم كردياہے _ آيات قرآن و احاديث رسول كى تم خلاف واقع تاويل كرتے ہو _ حقيقت اسلام كو تم نے كيوں چھوڑديا اور اس كے بعض ظواہر پر كيوں اكتفا كرلى ؟ اپنے اعمال و رفتار كى تم نے دين سے مطابقت نہ كى بلكہ احكام دين كى اپنى دنيا سے توجيہ كى تجويد و قرائت ميں زحمت اٹھانے كى بجائے تم احكام قرآن پر عمل كرو_ ميرے جد صرف رو لينے كيلئے شہيد نہيں ہوئے ہيں ، ميرے جد كے مقصد كو كيوں فراموش كرديا؟
اخلاقى و اجتماعى احكام كو اركان اسلام سے لو اور انھيں اپنے عملى پروگرام ميں شامل كرلو اخلاقى محرمات سے پرہيز كرو ، اپنے مالى حقوق ادا كرو _ بے جا بہانہ بازى سے مغرور نہ بنو _ واضح رہے فضائل و مصائب پڑھنے اور سننے سے خمس و زكوة اور قرض ادا نہيں ہوتا ہے اور اس سے گناہ ، سود خورى ، رشوت ستانى ، دھوكہ دھى كا جرم معاف نہيں ہوتا ہے _ مختلف بہانوں سے واجبات كو ترك نہ كرو _ تقوى و طہارت كو مسجدوں ميں محصور نہ كرو ، اجتماع ميں شركت كرو اور امر بالمعروف ، نہى عن المنكر كو انجام دو اور بدعتوں كو اسلام سے نكال دو _
ظاہر ہے ايسا دين اور اس كا پروگرام مسلمانوں كيلئے نيا ہے وہ اس سے ڈرتے ہيں بلكہ اسے اسلام ہى نہيں سمجھتے ہيں كيونكہ اسلام كو انہوں نے دوسرى طرح تصور كرليا تھا وہ يہ سمجھتے تھے اسلام كى ترقى و عظمت صرف مسجدوں كى زينت اور ان كے بڑے بڑے مينار بنانے ميں منحصر ہے _ اگر امام فرمائيں عظمت اسلام عمل صالح ، سچائي ، امانت دارى عہد پورا كرنے اور حرام سے اجتناب ميں ہے تو يہ چيز انھيں نئي معلوم ہوگى كيونكہ وہ سوچتے تھے كہ جب امام زمانہ ظہور فرمائيں گے تمام مسلمانوں كے اعمال كى اصلاح فرمائيں گے اور ان كے ساتھ گوشہ مسجد ميں مشغول عبادت ہوجائيں گے _ اگر وہ امام زمانہ كى تلوار سے خون ٹپكتا ہوا ديكھيں گے اور يہ مشاہدہ كريں گے كہ آپ لوگوں كو امر بالمعروف ، نہى عن المنكر اور جہاد كى طرف دعوت دے رہے ہيںاور ستم كيش نمازگزاروں كو قتل كررہے ہيں اور ظلم و تعدى اور رشوت كے ذريعہ جمع كئے ہوئے اموال كو ان كے وارثوں ميں تقسيم كررہے ہيں ، زكوة نہ دينے والوں كى گردن ماررہے ہيں تو يہ پروگرام ان كيلئے نياہے _
جب امام صادق (ع) نے فرمايا : جب ہمارا قائم قيام كريں گے اس وقت لوگوں كو از سر نو اسلام كى طرف دعوت ديں گے اور جس چيز سے علم لوگ دور ہوگئے ہيں اسكى طرف لوگوں كى ہدايت كريں گے _ آپ كو مہدى(عج) اس لئے كہا گيا ہے كہ آپ اس چيز كى طرف ہدايت كريں گے جس سے وہ دورہوگئے تھے اور قائم اس لئے كہا گيا ہے كہ حق كے ساتھ قيام كريں گے _ (كشف الغمہ ج 3 ص 254 ارشاد مفيد ص 343)
خلاصہ :
جعلى مہديوں اور ان كے پروگراموں اور حقيقى مہدى(عج) اور ان كے پروگرام ميں زمين آسمان كا فرق ہے چونكہ لوگوں كو ان كا پروگرام پسند نہيں آتا ہے _ اس لئے ابتداء ہى ميں متفرق ہوجاتے ہيں ليكن كوئي راہ فرار نہيں ملتى ہے اس لئے ان كے سامنے سراپا تسليم ہوجاتے ہيں _
امام صادق فرماتے ہيں : گويا ميں قائم كو ديكھ رہاہوں ، قباہٹائي ہيں اور پيغمبر كا عہد نامہ طلائي مہر لگا ہوا جيب سے نكالا، اس كى مہر كو توڑا اور لوگوں كے سامنے پڑھا تو لوگ ان كے پاس سے بھاگ كھڑے ہوئے چنانچہ گيارہ نقيب كے علاوہ كوئي باقى نہ بچا پس لوگ مصلح كى جستجو ميں ہر جگہ جاتے ہيں ليكن كوئي چارہ ساز نہيں ملتا اس لئے پھر آپ ہى كى طرف لوٹ آتے ہيں _ قسم خدا كى ميں جانتا ہوں قائم ان سے كيا كہتے ہيں _ (بحار الانوار ج 52 ص 326)(انتخاب از آفتاب عدالت از علامہ امینی رہ)