عیسیٰ بن مریم ہی مہدی ہیں

483

اس حدیث کو ابن ماجہ نے یونس بن عبدالاعلی سے انہوں نے شافعی سے انہوں نے محمدبن خالدجندی سے انہوں نے ابان بن صالح سے انہوں نے حسن بصری سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے پیغمبر اسلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :۔
“معاملہ سخت ہوجائے گا دنیا پیچھے کی طرف چلتی رہے گی ،لوگ کنجوس ہوتے جائیں گے اورقیامت قائم نہیں ہوگی مگربرے لوگوں کے نقصان میں اورکوئی مہدی نہیں ہے عیسیٰ بن مریم کے سوا(سنن ابی ماجہ ۲:۱۳۴۰۔۴۰۳۰، اورخود ابن ماجہ نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے۔”المھدی حق وھومن ولدفاطمة “”مہدی حق ہے اوراولاد فاطمة سے ہے۲:۱۳۶۸۔۴۰۸۶، جو گزر چکی ہے نیز ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اہل سنت میں کسی نے اسے صحیح قرار یا ہے اورکسی نے متواتر۔۔۔۔۔۔)
اس کی رد اوربطلان کے لیے کسی علمی کاوش کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ حدیث گزشتہ ساری صحیح اورمتواتر احادیث کے مخالف ہے
اوراگرمروی حدیث کے ذریعے نقص کے باوجود استدلال صحیح ہو تو علم رجال اورفن درایت ایک بازیچہ اطفال جائے گا اوراس کا مطلب جعلی احادیث کو صحیح قرار دینا ، جھوٹے راویوں کو جلیل القدر اورثقہ شمار کرنا ،مجہول احادیث کو مشہور بنانا اورناصبیوں کو سادات سمجھنا ہوگا۔
اورثقہ وقابل اعتماد کو مجروح اورمطعون کے ساتھ ملانے اچھے اوربرے کو یکجا کرنے اورناقص وکامل کے درمیان فرق نہ کرنے کی صورت میں اسلام میں کوئی بھی متواترحدیث نہیں رہی گی۔
کیاکوئی عقلمند مسلمان ایسا ہے جودجال صفت راوی محمد بن خالد جندی کی تصدیق کرسکتا ہو؟
کیونکہ یہی وہ شخص ہے جس نے حدیث جند(جندجو صنعا سے دودن کے فاصلے پر ایک مقام ہے) کونقل کیاہے کہ جس کاجعلی ہونامشہورہے اوروہ حدیث یہ ہے”چارمساجد کی طرف پالان کسے جائیں گے مسجد حرام ، میری مسجد،مسجداقصیٰ اورمسجد جند”(تہذیب التہذیب۹:۱۲۵۔۲۰۲)
دیکھئے کس طرح اس نے لوگوں کے دلوں کوجند کی چھاونی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے پہلے تین مقدس مساجد کا ذکرکیا ہے اور تعحب ابن ماجہ پر ہے کہ انہوں نے محمد بن خالد جندی کی اس عبارت ولا مھدی الا عیسیٰ بن مریم (مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہے)والی حدیث کو ذکر کیا ہے۔
حالانکہ یہی حدیث دیگر صحیح طرق سے بھی مروی ہے کہ جن میں یہ اضافہ نہیں ہے
ان میں سے ایک وہ ہے جسے طبرانی اورحاکم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابوامامہ سے بالکل انہیں الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ ولامھدی الا عیسیٰ بن مریم (مہدی وہی عیسیٰ مریم ہے )نہیں ہیں۔
اورحاکم نے اسے صحیح قراردیا ہے اورکہا ہے “یہ حدیث صحیح ہے لیکن بخاری اورمسلم نے اسے ذکر نہیں کیا”(مستدرک حاکم ۴:۴۴۰، کتاب الفتن اولماحم اورطبرانی کیالکبیر۸:۲۱۴۔۷۷۵۷)
ہاں حاکم نے بھی ابن ماجہ کی اس حدیث کو اس اضافے کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں تعجب کے لیے نقل کیا ہے نہ کہ بخاری اورمسلم پرحجة کے لیے(مستدرک حاکم ۴:۴۴۲۔۴۴۱، کتاب الفتن والملاحم)
ابن قیم نے “المنارالنیف “میں اس حدیث (ولامھدی الا عیسی ٰ بن مریم)(مہدی وہی عیسٰی بن مریم ہیں)کا ذکرکیا ہے اوراس کے متعلق علماء اہل سنت کے اقوال نقل کئے ہیں اورکہا ہے اس حدیث کو صرف محمد بن خالد جندی نے روایت کیاہے۔
اورآبری (متوفی ۳۶۳ہجری)سے نقل کیا ہے کہ محمد بن خالد علماء حدیث ودرایت کے درمیان معروف نہیں ہے اوربیقہی سے نقل کیا ہے اسے فقط محمد بن خالد نے نقل کیا ہے اورحاکم ابوعبداللہ نے کہا ہے یہ مجہول ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے پس اس سے روایت کیا گیا ہے کہ اس نے ابان بن ابو عیا ش سے اورانہوں نے مرسل حدیث پیغمبر اکرم سے نقل کی ہے
پس اس کی بازگشت بھی محمد بن خالد کی طرف ہوئی جو مجہول ہے حدیث منقطع ہے اورظہور مہدی کی احادیث زیادہ صحیح ہیں(المنارالنیف۱۲۹۔۳۲۴و۱۳۰۔۳۲۵)
اورابن حجر نے ابوعمرو اورابو الفتح ازدی کی محمد بن خالد پر تنقید پو ذکر کیاہے(تہذیب التہذیب ۹:۱۲۵۔۲۰۲)
میں کہتا ہوں حدیث:۔(ولامہدی الاعیسی بن مریم)
(مہدی وہی عیسی بن مریم) ایک ناقابل قبول روایت ہے جسے ابن ماجہ نے ذکر کیا ہے(میزان الاعتدال ۳:۵۳۵۔۷۴۷۹)
قرطبی نے کہا ہے یہ جملہ( ولامہدی الاعیسیٰ بن مریم)
اس سلسلے میں وارد دیگر احادیث کے معارض ہے پھر محمد بن خالد پر طعن کرنے والوں اوراس کی حدیث کو رد کرنے والوں کے اقوال نقل کرنے بعد کہا ہے
“حضرت امام مہدی کے ظہور اوران کی عترت اوراولاد فاطمة سلام اللہ علیھا سے ہونے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم سے صحیح احادیث موجود ہیں پس فیصلہ انہیں کے مطابق کیا جائے گا کہ اس حدیث کے مطابق”(التذکرہ ۲:۷۰۱)
ابن حجر کا کہنا ہے نسائی نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ حدیث قابل قبول نہیں ہے اوردیگر حفاظ نے قطعی طور پر کہا ہے کہ اس سے پہلے والی احادیث جو واضح طور پر کہتی ہیں کہ مہدی اولاد فاطمہ سے ہے زیادہ صحیح ہیں(الصواعق المحرقہ:۲۶۴)
ابونعیم نے حلیة الاولیاء میں اس حدیث کو غریب شمار کیا ہے اورکہا ہے “ہم نے اس کو نہیں لکھا مگرشافعی حدیث سے “(حلیۃ الاولیاء۹:۶۱)
ابن تیمیہ کا کہنا ہے وہ حدیث جس میں یہ جملہ (ولا مہدی الاعیسیٰ بن مریم)مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہیں )ہے اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اوریہ ایک ضعیف حدیث ہے جسے اس نے یونس سے اس نے شافعی سے اوراس نے یمن کے ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے۔
ایسی سند کے ساتھ توروایت حجة نہیں ہوا کرتی اوریونس اس سے روایت کی گیا ہے کہ مجھ سے بیان کیاگیا شافعی سے اور خلعیات وغیرہ میں ہے ہمیں یونس نے بتایا شافعی سے نہ ہمیں شافعی نے ان دونوں کا مطلب یہ ہے کہ خود شافعی نے نہیں بتایا پس شافعی کی طرف بھی اس کی نسبت ثابت نہیں ہے۔
پھر محمد بن خالد جندی کی حدیث کے متعلق کہتا ہے اس میں تدلیس ہے جو ا س کے ضعیف ہونے پردلالت کرتی ہے اوربعض لوگ توکہتے ہیں شافعی نے اسے روایت ہی نہیں کیا(مہناج السنة ابن تیمیہ ۴:۱۰۲۔۱۰۱)
چنانچہ محمد بن خالد جندی کے بہت زیادہ مطعون ہونے کی وجہ سے امام شافعی کے بعض حامیوں نے ان سے اس حدیث کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اورکہا ہے کہ شافعی کے شاگرد نے ان پر جھوٹ بولا ہے اوردعویٰ کیا ہے کہ شافعی نے خواب میں دیکھا تھا وہ کہہ رہے تھے “مجھ پریونس بن عبداالاعلی نے جھوٹ بولا ہے یہ میری حدیث نہیں ہے(ابن کثیر کی الفتن والملاحم ۳۲)
ابو الفیض غماری نے اس حدیث :۔(ولامہدی الا عیسیٰ مریم)مہدی وہی عیسیٰ بن مریم ہے کو آٹھ محکم ومضبوط دلیلوں سے رد کیاہے۔(ابراز الوہم المکنون :۵۳۸)
مہدویت کے سابقہ دعووں سے استدلال
لامہدویت کا ڈرامہ کرنے والوں نے آخری زمانے میں ظہورمہدی کا انکار کرنے کے لیے مہدویت کے سلسلے میں گذشتہ دعووں کودلیل بنایا ہے جیسے حسنیوں کا دعوی کہ محمد بن عبداللہ بن حسن مہدی ہے
عباسیوں کادعوی کہ مہدی عباسی مہدی ہے اور اسی طرح دوسرے دعاوی جیسے ابن تومرت یامہدی سوڈانی یا محمدبن حنفیہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی مہدویت کادعوی۔اس استدلال کی بنیاد مہدویت کے باطل دعووں پر ہے اوریوں حق باطل کے درمیان ایک دھوکہ دینے والا موازنہ قائم کرکے انہیں گڈمڈ کردیا گیا ہے جسکی وضاحت مندرجہ ذیل باتوں سے ہو جاتی ہے
اول:۔ان دعویداروں میں ظہور مہدی کی ایک علامت موجود نہیں تھی اورصحیحین کی روایات کی روشنی میں یہ بعض علامات گزر چکی ہیں۔
دوم:۔ان سب کی موت ثابت ہوچکی ہے اورکوئی مسلمان ان کے زندہ ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا۔
سوم:۔ یہ سب آخری زمانے میں نہیں تھے کہ جو ظہور مہدی کی شرط ہے اورپھر ان میں سے کسی نے زمین کو عدل وانصاف سے پر نہیں کیا
چہارم :۔سب سے اہم یہ کہ اگریہ استدلال صحیح ہو تو عدالت ختم ہو جائے گی کیونکہ فرعون مصر سے لیکن آج تک سارے طاغوتوں نے ایسے دعوے کئے ہیں۔
لہذا جاہلوں کے دعوی علم کی وجہ سے ہمیں علماء کو جاہل قرار دینا ہوگا ، بہادرکوبزدل ، سخی کو بخیل اوربردبار کو بیوقوف کیونکہ ہر اچھی صفت میں بعض لوگوں نے جھوٹے دعوی کئے ہیں ۔
ظہور مہدی کامسئلہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن سے سیاسی اہداف رکھنے والوں نے فائدہ اٹھایا ہے اسی وجہ سے بعض لوگوں نے خود اس کا دعویٰ کیا تھا اوربعض نے اپنے مفادکی خاطراس کی ترویج کی تھی ۔
اورجیسے ایک عقل مندانسان کسی غیر مستحق کے دعوی کی وجہ سے وجود حق کا انکارنہیں کرسکتا اسی طرح مہدویت کے ان باطل دعووں کی وجہ سے اس مہدی کے ظہور کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا جس کی بشارت ہمارے نبی اعظم نے دی تھی
اسی کے ساتھ ساتھ علماء اسلام نے امام مہدی کے بارے میں وارد ہونے والی بہت ساری روایات اوران کی اکثر اسناد کو صحیح قرار دیا ہے کہ جو ساری مل کر متواترہوجاتی ہیں اوربعض سے توتواترکا مسلم شمار کیاہے جیسے کہ اس کا ذکرپہلے ہوچکاہے
ان شبہات کی قلعی کھلنے اوران کے نقش بر آب ثابت ہونے کے بعد ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے اوروہ یہ کہ امام مہدی کی اسقدر طویل عمر عقل وعلم کے معیار پرپوری نہیں اترتی۔
یہ شبہ ان لوگوں کی سب بڑی دلیل ہے اورآخری فصل میں ہم حسب ضرورت اس پر بحث کریں گے تاکہ واضح ہوجائے کہ یہ عقل وعلم کے خلاف ہے اورثابت کریں گے کہ عقل کی اپنی حدودہیں اوریہ کسی شخص کی ذاتی خواہشات ، تمناوں اورمیلان سے آزاد ہے اوراس کے اپنے احکام ہیں جنہیں تمام عقلاء قبول کرتے ہیں اوران کا قبول کرنا کسی فرد کی عقل پرموقوف نہیں ہے
نیز اس بات کو روشن کریں گے کہ محال ذاتی اورممکن ذاتی میں بہت بڑافرق ہے محال ذاتی میں وقوع کسی حال میں بھی ممکن نہیں ہے حتی کہ انبیاء اوراوصیاء کے ذریعہ بھی واقع نہیں ہوسکتا جیسے نقضین کا جمع ہونااورممکن ذاتی جوعام طور پر وقوع پذیر نہیں ہوتا لیکن اس کے واقع ہونے کا امکان ہے اوریہ کہ وقوع پذیر ہونے اورنہ ہونے کے لحاظ سے محال عقلی اورمحال عادی ایک جیسے نہیں ہیں۔
لیکن ان لوگوں نے انہیں اسطرح ملاجلا کرپیش کیا ہے کہ اب عام خیال یہ بن گیا ہے کہ جوشئی بھی عام طورپروقوع پذیرنہیں ہوتی وہ محال عقلی ہے کیونکہ ان دونوں میں انہوں نے فرق نہیں کیا اورہم دلیل سے ثابت کریں گے کی ان کا یہ بہانہ عقل وعلم کی روشنی میں کسی دلیل اوربرہان کی حیثیت نہیں رکھتا۔
فصل چہارم
امام مہدی عقل اورعلم کی روشنی میں
جو لوگ حضرت امام مہدی کا انکار کرتے ہیں اورانہیں امام حسن عسکری کا بیٹا محمد نہیں مانتے وہ ایسی دلیلوں سے تمسک کرتے ہیں جن کا عقائد کے سلسلے میں اسلام کی معین کردہ روش سے دور ک بھی واسطہ نہیں ہے
اسلام کی روش جس طرح عقل ومنطق پر قائم ہے اسی طرح فطرت اورغیب پر بھی استوار ہے غیب پر ایمان مسلمان کے عقیدے کا جز ہے کیونکہ قرآن وسنت نے بار بار اس کی طرف دعوت دی ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:۔
الم ذلک الکتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب۔۔
الم یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے ان متقین کے لیے ہدایت ہے جوغیب پر ایمان رکھتے ہیں(سورة بقری آیت ۱۔۳)
نیز فرماتا ہے:۔
تلک من انباء الغیب نوھیھا الیک۔۔۔۔۔
یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی ہم تیری طرف وحی بھیجتے ہیں (سورة ہود۴۹)
اورحدیث کی کتابوں میں ایسی سینکڑوں روایات موجود ہیں جو ایمان بالغیب اورانبیاء ورسل کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کرنے پر زور دیتی ہیں اورایمان بالغیب کے انکار کے باوجود مسلمان کاعقیدہ صحیح نہیں ہوسکتا چاہے اس کو سمجھ لے اوراس کے اسرار اوررتفصیلات تک پہنچ جائییانہ جیسا کہ فرشتے ، جن عذاب قبر ، سوال منکرونکیراوردیگر وہ غیب کی خبریں جب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے انہیں ذکر کیا ہے حضرت پیغمبر نے ان کی خبردی ہے اورثقہ عادل اورامین لوگوں کے ذریعہ ہم تک نقل ہوئی ہیں انہیں میں سے اہم مسئلہ ظہور حضرت امام مہدی ہے کہ جو زمین کوعدل وانصاف سے پرکردیں گے جیسا کہ وہ ظلم وجورسے پرہوچکی ہوگی۔
پس حضرت مہدی کا انکارمسلمانوں کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جن کا ذکر صحاح اورمسایند وسنن میں موجود ہے ان کے طرق کی کثرت راویوں کی وثاقت، تاریخی دلائل اورمشاہدات کو پوری تحقیق سے ہم پیش کرچکے ہیں
منکرین چاہے مغرب کے پروپیگنڈے اورمستشرقین کے لٹریچر سے متاثر ہوئے ہوں یا اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملے تعصب میں اندھے ہوئے ہوں جب متواتر احادیث ، محکم دلیلیں اورپے درپے اعترافات کے مقابلے میں اپنے آپکو خالی ہاتھ اوربے بس دیکھتے ہیں توامت مسلمہ کو اس سے منحرف کرنے اورمرحلہ انتظار میں انہیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ نہ کرنے پرآمادہ نہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بعض پست اورباطل قسم کی قیاس آرائیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اورکہتے ہیں امام مہدی کی عمر کا اسقدر طویل ہونا اوراس کے لوازمات علم وعقل اورحقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے لیکن اللہ کی مدد اوراس کی توفیق سے عنقریب واضح ہوجائے گا کہ ان کی یہ منطق کس قدرعلمی اصول وضوابط اورصحیح معیاروں سے دور ہے ۔
شایدان کے اہم ترین شبہات یہ ہیں طول عمر کم سنی غیبت سے خود حضرت امام کو کیا فائدہ ہے اورمسلمان غائب امام سے کیسے استفادہ کرسکتے ہیں ۔
چنانچہ ہم علمی طریقے سے اورعقلی دلائل کی روشنی میں بحث کررہے ہیں ملاحظہ فرمائیے
سوال اول:۔ پانچ سال کی عمرمیں آپ کیسے امام ہو سکتے ہیں؟
جواب:۔ بیشک امام مہدی مسلمانوں کی امامت میں اپنے والد بزرگوار کے جانشین تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نہایت کم سنی میں روحانی اورفکری طور پر ایک کامل امام تھے اوربچپن کی امامت آپ سے پہلے بھی کئی اماموں کوحاصل ہو چکی تھی امام محمد تقی آٹھ سال کی عمر میں امام بنے تھے امام علی نقی نو سال اورامام مہدی کے والد امام حسن عسکری بائیس سال کی عمر میں امام تھے۔
توآپ نے ملاحظہ فرمایا کہ بچپن میں امامت والاواضح اورصریخ منصب امام مہدی اورامام محمد تقی کو حاصل ہوا۔
ہم نے اس کو واضح منصب اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ امام مہدی کے بعض آباؤ اجداد میں دیکھا گیا ہے مسلمانوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے اوراس کے مختلف علمی تجربات دیکھتے ہیں اورایک ظاہر اورواضح چیز کو ثابت کرنے کے لیے امت کے عملی تجربے سے زیادہ محکم اورواضح دلیل دوسری کوئی اورچیز نہیں ہوسکتی اس کی وضاحت مندرجہ ذیل نکات سے ہوجائے گی
۱۔ اماموں کی امامت کوئی ایسا حکومتی منصب نہیں ہے جو وراثت میں باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوتا ہے اورحکومتی سسٹم اسے سہارا دیتا ہے جیسا کہ امویین ، فاطمیین،عباسیین،میں تھا بلکہ اسلام ومسلمین کی زعامت کا معیار امام کافکری وروحانی بنیادوں پر قیادت کے لائق ہونا ہے اور امام امت کے مختلف گروہوں کو فکری اورروحانی لحاظ سے قانع کرکے اپنی امامت کا لوہا منواتے تھے۔
۲۔ ان گروہوں کی صدر اسلام میں بنیاد رکھی گئی اورحضرت امام محمد باقر وحضرت امام صادق کے زمانے میں پھولے پھلے اوران دواماموں کے زیرنظر چلنے والے مدرسے نے عالم اسلام میں ایک وسیع اورولولہ انگیز فکرپیدا کی جس نے اس وقت کے مختلف اورمعروف انسانی اوراسلامی علمی میدانوں میں سینکڑوں فقہا ، متکلمین ، علمااورمفسرین پیدا کئے۔
حسن بن علی وشاکا کہنا ہے میں نے مسجد کوفہ میں نوسو شیوخ پائے ان میں سے ہر ایک کہتا تھا مجھ سے یہ حدیث امام جعفر بن محمد نے بیان کی ہے(رجال نجاشی ۴۰۔۸۰ حسن بن علی بن زیاد وشاکاکے حالات میں)
۳۔ جن شرائط کا یہ مدرسہ میں پرچار کرتا تھا اورجنہیں یہ امامت قراردیتا تھا وہ بہت سخت تھیں کیونکہ وہ یہ نظریہ پیش کررہا تھا کہ امام علیہ السلام فقط معصوم اوراپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم ہوسکتا ہے۔
۴۔ اس مکتب اوراس کے ہم فکر لوگ امامت میں اپنے عقیدے پر پختہ رہنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیتے رہے کیونکہ اس وقت کی کوئی حکومت یہ سمجھتی تھی کہ یہ ہمارے خلاف کوئی خط تشکیل دے رہے ہیں کم از کم فکری لحاظ سے۔
لہذا اس وقت کی حکومتیں مسلسل حملے کرتی رہیں کئی قتل ہوگئے کئی قید میں بند کردیئے گے اورسینکڑوں لوگ قیدخانوں کی تاریکیوں میں جام شہادت نوش کرگئے۔
یعنی ائمۃ علیھم السلام کی امامت کے عقیدے کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی اورانہیں اس عقیدے پر اکسانے والی چیز سوائے اللہ کے قرب کے اورکوئی نہیں تھی
۵۔ ائمۃ علیھم السلام ان گروہوں سے الگ تھلک نہیں رہتے تھے اورنہ بادشاہوں کی طرح عالی شان محلوں میں زندگی گزارتے تھے اورنہ ہی مخفی رہتے تھے مگر یہ کہ خودحکومت انہیں قید یاجلاوطن کردے۔
چنانچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے آباواجداد میں سے ہر ایک کے سینکڑوں راوی اورمحدث ان کے اپنے ہم عصرلوگوں کے ساتھ خطوکتابت ان کے طویل سفر پھر عالم اسلام کی مختلف جوانب میں اپنے وکلاء کو بھیجنا اورحج کوموقع پر شیعہ کا زیارت کاعادی ہونا
یہ سب امام اور عالم اسلام کے مختلف نقاط میں آپ کے ہم فکر اورپیروی کرنے والے مختلف لوگوں کے درمیان ایک واضح اورمسلسل رابطے کی دلیل ہیں ۔
۶۔ اس دور کی حکومتیں آئمہ علیھم السلام کی اس روحانی قیادت کواپنے اقتدار کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی تھیں اسی وجہ سے اس قیادت کو ختم کرنے کی پوری کوشش تھی اوراسی لیے بڑے بڑے غلط کام سرانجام دیتیں اوراگر ضرورت محسوس کرتیں توسنگدلی اورسرکشی کے نمونے بن جاتیں اورآئمہ علیھم السلام کے خلاف قیدوبند اوردیگر محرمانہ حملے جاری رکھتیں جس کی وجہ سے مسلمان بالخصوص چاہنے والوں کو بہت دکھ ہوتا اورحکومت کے خلاف نفرت پیدا ہوتی تھی۔
ان چھ نکات کو جو تاریخی حقائق پر مشتمل ہیں اگرمدنظر رکھیں تومندرجہ ذیل نتیجے تک پہنچنا ممکن ہوجائے گا۔
بچپن میں امامت والی بات ایک کھلی حقیقت تھی کوئی وہم نہیں تھا کیونکہ بچپن میں جو بھی امام سامنے آیا اورانہوں نے مسلمانوں کے لیے اپنے آپ کو روحی اورفکری امام متعارف کرایا۔
اوروسیع وعریض دنیا میں پھیلے ہوئے آپ کے چاہنے والوں اورپیروکاروں کا آپ امام اوررہبر مان لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:۔آپ علم ومعرفت کے اعلی درجے پر فائز تھے فقہ تفسیر وعقائد وغیرہ پر پورا تسلط رکھتے تھے۔اگرایسا نہ ہوتا توممکن نہیں تھا کہ اتنے بڑے بڑے گروہ آپ کی امامت کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے۔با لخصوص اس تناظر میں کہ آپ اپنے پیروکاروں کو اپنے ساتھ رابطہ رکھنے اوراپنی شخصیت کو پرکھنے کا پورا موقع فراہم کرتے تھے کیا ممکن ہے کہ ایک بچہ اپنی امامت کا اعلان کرے اوروہ بھی علی الاعلان اوراتنے بڑے بڑے مختلف گروہوں کے سامنے۔
اوریہ سب اس کی حقیقت سے مطلع ہوئے بغیر اوراس بچے کی حیثیت کا اندازہ لگائے بغیر اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اوراس راہ میں اپنا امن اورزندگی جیسی قیمتی ترین چیز قربان کردیں ؟
اورکیا یہ ممکن ہے کہ واقعاوہ فکری اورعلمی لحاظ سے بچہ ہو لیکن اسقدر طویل رابطے کے باوجود ظاہر نہ ہو؟
فرض کریں کہ اہل بیت کی امامت کو ماننے والے حقیقت حال کو کشف کرنے پر قادر نہیں تھے توپھر حکومت کیوں خاموش رہی اوراس نے حقیقت حال کو ظاہر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی حالانکہ یہ اس کے مفاد میں تھا
اوراگرامامت کا وہ دعویدار بچہ فکروعلم میں بھی بچہ تھا توحکومت کے لیے یہ کام کس قدر آسان تھاجیسا کہ دیگر بچوں میں ہے؟
اورکس قدر اس کے لیے مفید تھا یہ اسلوب کہ بچے کو شیعوں اورغیرشیعوں کے سامنے اس طرح پیش کردیتی جیسے وہ تھا اوراس کے روحانی اورفکری بنیادوں پرا مامت کے لائق نہ ہونے کو ثابت کردیتی۔
اگرچالیس یا پچاس سالہ شخص کے امامت کے لائق نہ ہونے کو ثابت کرنا مشکل ہو توبھی بچے کے لیے یہ کام مشکل نہیں ہے چاہے وہ کتنا ہی ذہین وفطین ہو اوریہ ان سب طریقوں سے آسان تھا جوان حکومتوں نے اپنا رکھے تھے۔
پس وقت کی حکومت کی اس سلسلے میں خاموشی کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اوروہ یہ کہ اس نے درک کرلیا تھا کہ بچپن کی یہ امامت ایک کھلی اورروشن حقیقت ہے کہ کوئی جعلی اوربناوٹی شی۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے مختلف مواقع میں اس کی کوشش کرنے اوراس میں ناکام ہونے کی وجہ سے بہت نزدیک سے یہ چیز درک کرلی تھی۔
کیونکہ تاریخ ہمیں اس قسم کے کئی واقعات بتاتی ہے جن میں حکومت کی ناکامی واضح ہوتی ہے اس کے برعکس ایسا ایک بھی واقعہ نہیں ملتا جس میں بچپن کی یہ امامت لڑکھڑائی ہویا اس چبے نے اپنے سے بالاتر کا سامنا کیا ہواورلوگوں کا اس پراعتماد متزلزل ہو گیا ہو۔
اورہم نے جو کہا تھا کہ بچپن میں امامت ایک کھلی اورروشن حقیقت تھی اس سے ہماری مرادیہی تھی اوراس کی مثال خداکے رسولوں میں بھی ملتی ہے جیسے کہ یحییٰ نبی کے بارے میں خدا فرماتا ہے:۔
یا یحییٰ خذ الکتاب بقوة واتینا الحکم صبیا
اے یحییٰ کتاب کو قوت کے ساتھ پکڑلو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت عطا کی(سورہ مریم ۱۹۔۱۲اورفصل دوم کے نمبر۵، اور۸ میں ابن حجر ہیثمی شافعی اوراحمد بن یوسف قرمانی حنفی کااعتراف گزرچکا ہے کہ مہدی کو بچپن میں حکمت عطاہوئی)
اورجب یہ ثابت ہوگیا کہ بچپن کی امامت ایل بیت کہ ہاں اوریہ ایک کھلی حقیقت ہے موجود تھی توخاص طور سے امام مہدی کے بچپن میں امام بننے پر اعتراض کونا کوئی معقول بات نہیں ہے۔
دوسراسوال :۔ طول عمر
شاید سب سے اہم اعتراض کہ جس کا ہمیشہ سے پھر پور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جب مہدی ایک ایسے انسان ہیں جو مسلسل گیارہوں صدی سے زندہ ہیں توانہیں اتنی طویل عمر کہاں سے ملی اوران طبیعی قوانیں سے کیسے محفوظ رہے جس میں بڑھاپے کا مرحلہ ضروری ہے(یہ شبہہ کتب عقائد میں بہت قدیم زمانے سے زیر بحث لایا جاتا ہے اورشیعوں کے بڑے بڑے علماء نے اس کا مختلف طریقوں سے جواب دیا ہے ہم ان میں سے فقط بعض کو ذکر کریں گے)
اس شبہے کو سوال کی صورت میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ایک انسان کئی صدیوں تک زندہ رہے ؟اس سوال کے جواب کے لیے مسئلہ امکان کی بطور رتمہید وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.