امام مہدی (عج) احادیث کے آینہ میں حصہ اول
(اول)مشترک موضوعات:
یہ مہدویت کے متعلق وہ موضوعات ہیں کہ جن پر شیعہ و سنی ہر دو مکتب کا اتفاق ہے ان سب کو بالترتیب فریقین کی طرف سے ایک حدیث یا علماء و بزرگان کے کلمات کی تائید کے ساتھ بیان کیا جائے گا ۔
(۱)نظریہ مہدویت:ایک موضوع کہ جس پر شیعہ اور ا ہل سنت کا اتفاق ہے وہ نظریہ مہدویت ہے یعنی تمام اسلامی امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخر الزمان میں مہدی(عج) نام کے ایک شخص کہ جو پیغمبر اسلا م کی اولاد میں سے ہوں گے ظہور فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے فریقین کے اس عقیدہ کی بنیادی وجہ پیغمبر اکرم (ص)سے منقول وہ بہت سی احادیث و روایات ہیں کہ جو متواتر (علم حدیث کی ایک اصطلاح ہے اس سے مراد حدیث یا روایت پر یقین و جزم حاصل ہوچکا ہے کہ یہ پیغمبر اکرم (ص)سے نقل ہوئی ہے )کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں اور جو بات تواتر کی حد تک پہنچ جائے وہ شک و تردید کے دائرہ سے نکل جاتی ہے جیسا کہ شہید صدر فرماتے ہیں: حضرت مہدی(عج) کا عقیدہ اس عنوان سے کہ آپ ایک امام منتظر ہیں اور دنیا کو نیک و صالح جہان میں تبدیل کریں گے یہ عقیدہ پیغمبر اکرم (ص)کی احادیث اور اھل بیت کی روایات میں واضح طور پر نقل ہوا اور بہت سی احادیث اور روایات اس موضوع پر تاکید کرتی ہیں کہ انسان کے لئے کوئی شک باقی نہیں رہتا فقط اھل سنت کے حدیثی ذرائع سے حضرت مہدی(عج) (عج)کے بارے پیغمبر اکرم (ص)سے چار سو کے قریب احادیث نقل ہوئی ہیں اور آیت کے بارے میں تمام روایات کی تعداد چھ ہزار ہے یہ بہت بڑی تعداد ہے عام طور پر کسی بھی اسلامی موضوع میں احادیث کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے (بحوث حول المہدی ص ۶۲، ۶۳)
علماء اھل سنت میں سے مثلا
۱۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں :
تواترت الاخبار بان المہدی من ھذہ الامۃ (فتح باری جلد۵ ص ۳۶۲)
تواتر کی حد تک روایات دلالت کرتی ہیں کہ امام مہدی (عج)اسی امت سے ہیں
۲، قاضی شوکانی کہتے ہیں:وھی متواترۃ بلاشک ولا شبھہ (ابراز الوھم المکنون ص۴)امام مہدی (عج)کے متعلق روایات بغیر کسی شک و شبہ کے متواتر ہیں
۳۔ابن حجر ھیثمی کہتے ہیں:والاحادیث التی جاء فیھا ذکر ظہور ا لمھدی علیہ السلام کثیرۃ متواترۃ (صواعق المحرقہ جلد ۲ص۲۱۱)وہ احادیث کہ جن میں امام مہدی (عج)کے ظہور کے بارے میں اشارہ ہوا ہے وہ بہت زیادہ اور تواتر کی حد تک ہیں
۳۔قرمانی دمشقی لکھتے ہیں کہ: اتفق العلماء علی ان المہدی ھو القائم فی آخر الزمان و قد تعاضدت الاخبار علی ظہورہ (اخبار الدول و آثار الاول جلد۱ ص ۴۶۳)
علما کا اس امر پر اتفاق ہے کہ مہدی(عج) وہی ہیں کہ جنہوں نے آخری زمانہ میں قیام کرنا ہے اور روایات و احادیث ان کے ظہور پر ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں ۔
۴۔مبارکغوری لکھتے ہیں:آپ جانئے کہ تمام زمانوں میں سب مسلمانوں میں یہ مشہور رہا ہے کہ حتمی طور پر آخری زمانہ میں اھل بیت سے ایک شخص ظہور کریں گے کہ جن کا نام مہدی(عج) ہوگا(تحفۃ الاحوزی شرح حدیث ۲۳۳۱)
(۲)امام مہدی پر عقیدہ کا واجب ہونا: امام مہدی(عج) کا ظہور غیبی امور میں سے ہے کہ جن کی وحی کے ذریعہ خبر دی گئی ہے قرآن نے اس نکتہ پر تاکید کی ہے کہ پرہیزگاروں کی ایک علامت غیب پر ایمان ہے :
ذلک الکتاب لاریب فیہ ھدی المتقین الذین یومنون بالغیب۔۔۔۔۔(بقرہ (۲))آیت ۲،۳
شیخ صدوق ان دو آیات سے تمسک کرتے ہوئے فرماتے ہیں کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ان چیزوں کا علم پیدا نہ کرے کہ جن پر ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وہ جس نے امام مہدی(عج) پر ایمان رکھا ہو اسے فائدہ نہ ہوگا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آپ کی شان و شخصیت کو نہ جان لے (کمال الدین جلد۱ ص ۹۰)
اسی لئے شیعہ و سنی روایات میں امام مہدی(عج) کے ظہور و خروج کے منکر کو کافر شمار کیا گیا ہے جابر بن عبداللہ پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں:
من انکر خروج المہدی فقد کفر بما انزل علی محمد (الحاوی للفتاوی جلد۲ ص ۸۳)جس نے بھی امام مہدی(عج) کے خروج کا انکار کیا اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی ہر چیز سے کفر کیا
امام صادق علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : پرہیزگار لوگ امام علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں اور غیب (کی ایک چیز) وہی حجت غائب ہے یعنی مہدی منتظر(عج)(کمال الدین جلد ۲ ص ۳۴)
عالم اھل سنت احمد بن محمد بن صدیق کہتے ہیں : امام مہدی(عج) کے قیام پر ایمان واجب ہے اور ان کے ظہور پر عقیدہ پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث کی بنا پر حتمی و ضروری ہے (ابراز الوھم المکنون ص ۴۳۳ حدیث ۴۳۶)
سفارینی حنبلی کہتے ہیں : امام مہدی (عج)کے قیام پر ایمان واجب ہے جب کہ اھل علم کے ہاں یہ بات ثابت ہے اور اھل سنت و جماعت کے عقائد میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے (الاذاعۃ ص ۱۴۶)
شیخ ناصر الدین البانی وھابی کہتے ہیں کہ : بلاشبہ امام مہدی (عج)کے قیام پر عقیدہ پیغمبر اکرم(ص) سے متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے کہ اس پر ایمان لانا واجب ہے کیونکہ یہ عقیدہ ان امور میں سے ہے کہ جن پر ایمان قرآن میں پرھیزگاروں کی صفات میں شمار کیا گیا ہے (مجلہ التمدن الاسلامی ۲۲ ص ۶۴۳)
۳۔امام مہدی(عج) کی عالمی دعوت اور حکومت:
یہ کہ امام مھدی(عج) کی دعوت اور حکومت عالمی ہے اس پر فریقین کا اتفاق ہے، کیونکہ بہت سی آیات و روایات اس مسئلہ کو بیان کررہی ہیں ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا:ولقد کتبا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون (انبیاء آیت ۱۰۵)
اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا: وعداللہ الذین آمنوامنکم و عملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض (نور آیت ۵۵)ان آیات کے علاوہ فریقین کی روایات بھی اس موضوع کو بیان کررہی ہیں :
سنی عالم حاکم نیشاپوری ابوسعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی اس زمانہ میں میری اولاد سے ایک شخص قیام کرے گا اور سات یا نوسال مکمل زمین کا مالک رہے گا کہ اس کے دور میں زمین عدل و انصاف سے پرہوجائے گی (مستدرک الوسائل جلد ۴ ص ۵۵۸)
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :امام مہدی(عج) ۳۰۹ سال زمین پر حکومت کریں گے جتنی مدت تک اصحاب کہف غار میں ٹھہرے رہے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے اللہ تعالی ان کے لئے دنیا کا شرق و غرب فتح کرے گا یہاں تک کہ فقط دین محمد زمین پر باقی رہے گا (بحار الانوار جلد۵۲ ص ۳۹۰)
۴۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور امام زمانہ (عج)کی اقتداء کرنا:
اسلامی روایات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدی(عج) کے قیام کے وقت حضرت عیسی ٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور نماز میں ان کی اقتدا کریں گے ابوھریرہ رسول اکرم سے نقل کرتے ہیں : اس زمانہ میں تم کیسے ہو گے کہ جب مریم کا فرزند نازل ہوگا اور امام تم لوگوں میں سے ہوگا(صحیح بخاری جلد ۳ ص ۱۲۷۲)
ابوبصیر امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور امام مہدی(عج) کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے (کمال الدین جلد۲ ص ۳۴۵)